دل میں کسی غلط فہمی کی وجہ سے نفرتیں پالنا اور کینہ رکھنا انسان کو پستیوں کی طرف لے کر جاتا ہے جو لوگ ہر وقت Positivity کی باتیں کرتے ہیں وہی لوگ Nagativity کا شکار ہوتے ہیں ۔ خود کو اس غلط فہمی سے باہر نکالیے اپنے ساتھ پیش آنے والے حادثات اور رویوں کے ہم خود ذمہ دار ہوتے ہیں !
#Samar ✍️
Tuesday, November 19, 2019
Saturday, November 16, 2019
سیاہ محبت سفید محبت
سیاہ محبت کا ذکر کیا تو بات سفید محبت تک چلی گئی، سفید محبت لکھتے ہوئے کئی مقامات آئے جہاں تشنگی سی محسوس ہوئی، لیکن چونکہ موقع محل نہ تھا اس لئے بوجوہ اشاروں کنایوں سے کام لیا۔
محبت کے دیگر رنگ جو بیان کئے وہ گرچہ افلاک سے ملاتے ہیں مگر ارضی ہیں لیکن آج جس رنگ کا ذکر کررہا ہوں اس کا تعلق عرشِ بریں سے ہے اور اس رنگ کا بیان کرنا انسانی بساط و دسترس سے ماورا ہے، میں دِل پہ اُتری سوچوں کو یہ سوچ کر صفحوں پر اُتار رہا ہوں کہ شاید کسی صاحبِ رنگ و نظر کی نظر پڑ جائے اور اُن کی نظروں میں آ کر میں بھی رنگا جاؤں۔
صبغۃ اللہ ومن احسن من اللہ صبغۃ(البقرۃ 138)
اللہ کا رنگ اختیار کرو اور اللہ تعالٰی سے اچھا رنگ کس کا ہوگا۔
آج ہم سب سے بلند وبالا ارفع و اعلٰی رنگ یعنی اللہ کے رنگ کی باتیں کریں گے گو کہ ہم یہ تو نہیں جان پائیں گے کہ اللہ کا رنگ ہے کیا۔ ویسے بھی ہر بات جاننا، جاننے کی کھوج کرنا ضروری نہیں ہوتا، کچھ باتیں بس ماننے کے لئے ہوتی ہیں۔
اس عالمِ رنگ و بُو میں خدا تعالٰی نے اَن گنت رنگ نازل فرمائے ہیں، کیا خُدا کا رنگ بھی اس کائنات میں کہیں ظاہر ہے یا وہ بھی ذاتِ باری تعالٰی کی طرح پوشیدہ و پنہاں ہے۔ کچھ دوستوں کا ماننا ہے کہ سفید رنگ مجازی محبت سے تعلق نہیں رکھتا بلکہ یہ حق کا رنگ ہے، کئی لوگوں کا ماننا ہے کہ خُدا نُور ہے اور نُور سفید رنگ کا ہوتا ہے۔
جیسا کہ ارشادِ ربّانی ہے:
خدا آسمانوں اور زمین کا نور ہے۔ اس کے نور کی مثال ایسی ہے کہ گویا ایک طاق ہے جس میں چراغ ہے۔ اور چراغ ایک قندیل میں ہے۔ اور قندیل (ایسی صاف شفاف ہے کہ) گویا موتی کا سا چمکتا ہوا تارہ ہے اس میں ایک مبارک درخت کا تیل جلایا جاتا ہے (یعنی) زیتون کہ نہ مشرق کی طرف ہے نہ مغرب کی طرف۔ (ایسا معلوم ہوتا ہے کہ) اس کا تیل خواہ آگ اسے نہ بھی چھوئے جلنے کو تیار ہے (پڑی) روشنی پر روشنی (ہو رہی ہے) خدا اپنے نور سے جس کو چاہتا ہے سیدھی راہ دکھاتا ہے۔ اور خدا نے (جو مثالیں) بیان فرماتا ہے (تو) لوگوں کے (سمجھانے کے) لئے اور خدا ہر چیز سے واقف ہے
(النور-35)
اس آیتِ مُبارکہ میں اللہ تعالٰی نے اپنی ذات کو نُور ارشاد فرمایا ہے، لیکن اب بھی مجھے ابہام ہے کہ یہاں جس نُور اور روشنی کا ذکر فرمایا گیاہے کیا وہ ہماری زمینی، کائناتی روشنی کی مانند ہے یا خدا کا نُور، اس کی روشنی بھی اس ذاتِ لا ریب کی طرح ہماری سوچوں، تصورات، خیالات، مُشاہدات سے ماورا ہے۔
ہماری اس کائنات میں روشنی کے ذیادہ تر مآخذ پیلاہٹ مائل روشنی کا اخراج کرتے ہیں اور چند ایک سفید، دودھیا روشنی کے حامل ہیں۔ لیکن چونکہ پیلی روشنی میں جلالی عنصر نمایاں ہے اور چاندنی کی سفید روشنی جمالی عنصر لئے ہوتی ہے
اسی لئے جب روشنی کا ذکر ہوتا ہے، نُور کی بات کی جاتی ہے تو لا محالہ ہمارا تصور اسے سفید روشنی سے منسلک کردیتا ہے۔
اسی لئے جب سے تاریخِ انسانی مرتّب ہونا شروع ہوئی، دُنیا کے بیشتر مقامات پرسیاہی کو طاغوتی طاقتوں کا استعارہ اور سفیدی کو نُور کی علامت سمجھا گیا۔ گو کہ بیشتر افریقی اور ایشیائی مؤرخین اسے سفید چمڑی والی مغربی طاقتوں کی سازش قرار دیتے ہیں اور ان کے نزدیک سیاہ رنگ شیطان کے لئے مخصوص نہیں۔ لیکن آج بھی اکثریت کا ماننا ہے کہ سفید رنگ ہی خُدا کا رنگ ہے کیونکہ یہ خالص ترین ہے، یہ روشنیوں کا رنگ ہے، یہ عشقِ مجازی کا اوّلین رنگ ہے۔
ان سب باتوں کے باعث ہم سفید کو ہی خُدا کا رنگ قرار دے دیتے ہیں اور دیگر رنگوں کو کبھی زیرِ غور بھی نہیں لاتے۔ میں ذاتی طور پر اس رائے سے اتفاق نہیں رکھتا، اگر ہم اقوامِ عالم کا مطالعہ کریں تو دُنیا کے بیشتر مقامات اور اقوام و مذاہبِ عالم سیاہ رنگ کو گناہ کا رنگ قرار دیتی ہیں، اسے رَد ہوؤں کے سردار یعنی شیطان الرجیم سے منسوب کیا جاتا ہےلیکن ہندوستان اور افریقہ کی کئی اقوام و مذاہب سیاہ رنگ کو خُدا کا رنگ قرار دیتی ہیں اور اسے سب رنگوں سے برتر مانتی ہیں۔
سفید رنگ تمام رنگوں کے انضمام سے ظہور پذیر ہوتا ہے اس کے برعکس سیاہ رنگ تمام رنگوں کےناپید ہونے کا نام ہے، (نوٹ: پچھلے مضامین میں اپنی کم علمی کی بناء پر یہ بات بالکل اُلٹ بیان ہوگئی لیکن تصحیح فرمالیں کہ ماہرین کی اکثریت کا خیال ہے کہ جب سب رنگوں کو ملایا جاتا ہے تو سفید رنگ حاصل ہوتا ہے اور جہاں کوئی رنگ نہیں ہوتا تو سیاہ رنگ ظہور میں آتا ہے، غلطی کے لئےمعذرت خواہ ہوں)
ایک ایسا رنگ جس میں ہر رنگ اپنا آپ کھو دیتا ہے، سفید رنگ پر کسی بھی رنگ کو چڑھانا بہت آسان ہے لیکن سیاہ رنگ پر کوئی اور رنگ چڑھے یہ ناممکن نہیں لیکن مشکل ترین امر ہے۔
سفید رنگ کے خالص ہونے کی بناء پر ہم اسے خدا کے اخلاص سے منسلک کر دیتے ہیں، لیکن اپنی تمام مخلوق کو اپنے میں سمولینا بھی تو خدا کی صفت ہے جو کہ سیاہ رنگ کا وصف ہے، جس طرح صفر سے کسی بھی عدد کو ضرب دینے پر صفر ہی حاصل ہوتا ہے اسی طرح کالے سے کسی بھی رنگ کو ضرب دیں، حاصل کالا ہی ہوگا۔
کالے رنگ کے بارے میں میرے بابا جی اپنی کتاب پِیا رنگ کالا میں لکھتے ہیں:
"کالی مرچ، کالا نمک، کالا گُڑ، کالے چنے، کالا زیتون، کالی کلونجی، کالا گلاب اور مشکی گھوڑا مجھے بَھلے لگتے ہیں۔ کالے رنگ سے نسبتِ خاص رکھنے والے کے لئے رُوحانی اور باطنی علوم و اسرار جاننے سیکھنے کے لئے آسانیاں پیدا ہوجاتی ہیں۔ سیاہ رنگ کا لباس پہننے والا شیطان کی دستبرد سے بچا رہتا ہے۔ اُس میں عِجز، انکساری، خاکساری اور درویشانہ خُو، خصلت پیدا ہونا شروع
ہو جاتی ہے۔ انسان تو انسان، چرند پرند، چوپائے اور حشرات الارض تک احترام، عزت اور حفاظت کرتے ہیں۔ سیاہ لباس پہننے والا اللہ کے خوف کو محسوس کرتا ہے، عبادت و ریاضت کی جانب رغبت حاصل کرتا ہے۔ یہ رنگ اسے اپنی خواہشات اور سِفلی جذبات و خیالات کو کنٹرول کرنے میں ممدو معاون ثابت ہوتا ہے لیکن اس رنگ کے کچھ مضرّات بھی ہیں۔ قدرت نے اگر اس کے نقیض پیدا نہ کئے ہوتے تو ہر ہما شما اسے اپنا لیتا۔ آپ نے سُنا، دیکھا ہوگا کہ بہت سے گھرانوں میں خاندان کے بڑے بزرگوں کی جانب سے کالا رنگ پہننے کی اجازت نہیں ہوتی۔ کچھ لوگ اسے صرف اہلِ تشیع کا مخصوص رنگ سمجھ کر محض ضد اور جاہلیت کی بناء پہ اس سے کَد کھاتے ہیں، ویسے بِلا سوچے سمجھے ہر کسی کو اسے اپنانا بھی نہیں چاہیئے تا آنکہ کوئی صاحبِ انگ رنگ، اس رنگ کو اختیار کرنے کی اجازت نہ دے، ویسے شوقیہ طور پر پہننا اور بات ہے۔۔۔"
ان باتوں کو بیان کرنے کا مقصد یہ تھا کہ صرف سفید ہی خُدا کے رنگ کے لئے واحد امیدوار نہیں۔سفید کے ساتھ ساتھ سیاہ اوردیگر لا تعداد رنگ اس اعزاز کے دعویدار ہیں۔ زرد، نارنجی، سبز، سُرخ، طلائی، نقرئی، وغیرہ وغیرہ۔
سفید و سیاہ کے علاوہ ایک تیسرا رنگ بھی ہے ۔ ۔ ۔ "بے رنگ"۔۔۔
بعض لوگ خُدا کی روشنی کو قوسِ قزح کی سی روشنی بھی قراردیتے ہیں، ایک ایسی چمک جس میں ہر رنگ موجود ہے، ہر بندے کے لئے اس کے مزاج و ضروریات کے موافق ایک رنگ، جو تَن اُجلا ہو اسے یہ روشنی سفید دکھائی دے، جو مَن جَلا ہو اسے سیاہ نظر آئے۔
ہم اسے بے رنگ روشنی بھی کہہ سکتے ہیں،صاف شفاف اُجلے سے آئینے کی مانند، زندگی کی بُنیاد خالص پانی کی طرح کہ جس کا کوئی رنگ نہیں ہوتا، ارضی رنگوں میں کسی حد تک نقرئی رنگ کے مماثل۔
حکایت ہے کہ ایک بادشاہ نے چینی اور رُومی رنگسازوں کو بُلایا اور انکی کاریگری کا امتحان لینے کے لئے ایک مقابلے کا انعقاد کیا، اس نے رنگ ریزوں کی ان دونوں جماعتوں کو ایک دیوار پر اپنی مہارت کا جلوہ دکھانے کا حکم دیا اور ان دونوں دیواروں کے بیچ ایک پردہ لگوادیا۔
دونوں جماعتیں پسِ پردہ دی گئی دیوار پر رنگ بکھیرنے میں مصروف ہو گئیں، جب وقتِ مقررہ پر پہلے رومیوں کی تخلیق سے پردہ ہٹایا گیا تو لوگ عش عش کر اٹھے، بے شمار خوش نما رنگوں کی ایک بہار تھی اور نہایت ہی دلکش بیل بُوٹے تشکیل دیئے گئے تھے، عوام نے سوچا کہ بہت ہی مشکل ہے کہ چینی رنگ ریز اس شاہکار کو زیر کرسکیں بہر حال جب چینیوں کی تخلیق پر سے پردہ ہٹایا گیا تو جیسے پورے دربار کو سانپ سونگھ گیا، چینیوں کی دیوار پر بھی ہو بہو رومیوں کا رنگ، ان کے نقش و نگار موجود تھے، لوگ پریشان تھے کہ یہ کیا ماجرا ہوا، چینیوں نے پردے کے پیچھے سے کس طرح نقل تیار کرلی، جب ان سے پوچھا گیا تو وہ بولے کہ در اصل ہم نے اپنی دیوار پر کوئی رنگ نہیں بھرا کوئی نقش نہیں بنایا، ہم نے تو بس اسے آئینے کی طرح صیقل کردیا تاکہ جب دونوں دیواروں کے بیچ سے پردہ ہٹایا جائے تو ہماری دیوار رُومیوں کی مہارت کو بھی اپنے اند سمو لے۔
جب انسان بھی اپنے دل کو گناہوں و اغراض کی سیاہی سے بچا کر، اسے مٹا کر سفید رنگ اختیار کر لیتا ہے تو بہت خالص ہو جاتا
ہے لیکن جب وہ اس سفید رنگ کو بھی رگڑ رگڑ کر صاف کرتا ہے، اپنے مَن کومانجھ مانجھ کر آئینے کی مثل صیقل کر لیتا ہے ، بے رنگ کرلیتا ہے تو سمجھیں کہ وہ عشقِ حقیقی کی طرف سفر شروع کر لیتا ہے، سفید محبت کا اوّلین اور خالص رنگ ہے، تو سیاہ رد ہوئی، لاحاصل، ادھوری و تشنہ محبت کی علامت۔ ضروری نہیں کہ بے رنگ کا سفر سفید سے ہی شروع ہو، خُدا تعالٰی کا اذن ہو تو سیاہی سے بھی انوار پُھوٹتے ہیں۔
یہ مختلف رنگوں کی محبتیں مختلف دریاؤں، ندی، نالوں کی مانند ہیں اور عشقِ حقیقی گہرا سمندر۔ دریا بھلے وہ صاف شفاف، اجلے میٹھے، خالص پانی کا ہو یا غلاظتوں، آلائشوں سے گدلایا ہوا ہو۔ اگر سمت ٹھیک ہو تو گرنا تو سمندر میں ہی ہوتا ہے، البتّہ خالص پانی کا سفر ذرا تیزاور سُبک ہوتا ہے اور گدلا پانی بہت آہستگی سے اپنی منزل کی طرف بڑھتا ہے اور اسی بناء پر خالص پانی کے سمندر تک پہنچ جانے کے امکانات گدلے پانی کی بہ نسبت زیادہ ہوتے ہیں، لیکن کئی دفعہ مشاہدے میں یہ آیا ہے کہ گدلا پانی تو آہستہ آہستہ عجز و انکساری سے چلتا، اپنی آلائشوں و غلاظتوں پر کُڑھتا واصلِ سمندر ہوکر بارش کی بوندوں سا پاک صاف ہوجاتا ہے لیکن شفاف پانی بجائے اس کے کہ سمندر میں ڈُوبتا اسے اپنی صفائی و شفافی کا غرور لے ڈُوبا اور وہ راستے میں ہی کہیں رُک کر پہلے جھیل اور پھر کھڑے کھڑے گندے جوہڑ میں تبدیل ہوا۔
القصہ مختصر میں نے خُدا کے نُور کو بے رنگ جانا ہے، ہم کسی روشنی کے رنگ کا اندازہ اس کے مآخذ کو دیکھ کر لگاتے ہیں لیکن نُورِ لَم یزل
کا منبع و مآخذ لوگوں کی نظر سے پوشیدہ ہے، میرے جیسے عام عوام کے لئے تو کائنات کا ہر ذرّہ خدائی ذرّہ ہے اور اس کائنات کے چپّے چپّے، ذرّے ذرّے سے نُور کا نکاس و انعکاس ہو رہا ہے۔
جس طرح خُدا کہیں نہیں ہے اور ہر جگہ ہے، وہ اپنا کوئی وجود نہیں رکھتا اور ہر چیز میں موجود ہے
اسی طرح اس ذات کا کوئی رنگ نہیں اور ہر رنگ اسی کا ہے۔
محبت کے دیگر رنگ جو بیان کئے وہ گرچہ افلاک سے ملاتے ہیں مگر ارضی ہیں لیکن آج جس رنگ کا ذکر کررہا ہوں اس کا تعلق عرشِ بریں سے ہے اور اس رنگ کا بیان کرنا انسانی بساط و دسترس سے ماورا ہے، میں دِل پہ اُتری سوچوں کو یہ سوچ کر صفحوں پر اُتار رہا ہوں کہ شاید کسی صاحبِ رنگ و نظر کی نظر پڑ جائے اور اُن کی نظروں میں آ کر میں بھی رنگا جاؤں۔
صبغۃ اللہ ومن احسن من اللہ صبغۃ(البقرۃ 138)
اللہ کا رنگ اختیار کرو اور اللہ تعالٰی سے اچھا رنگ کس کا ہوگا۔
آج ہم سب سے بلند وبالا ارفع و اعلٰی رنگ یعنی اللہ کے رنگ کی باتیں کریں گے گو کہ ہم یہ تو نہیں جان پائیں گے کہ اللہ کا رنگ ہے کیا۔ ویسے بھی ہر بات جاننا، جاننے کی کھوج کرنا ضروری نہیں ہوتا، کچھ باتیں بس ماننے کے لئے ہوتی ہیں۔
اس عالمِ رنگ و بُو میں خدا تعالٰی نے اَن گنت رنگ نازل فرمائے ہیں، کیا خُدا کا رنگ بھی اس کائنات میں کہیں ظاہر ہے یا وہ بھی ذاتِ باری تعالٰی کی طرح پوشیدہ و پنہاں ہے۔ کچھ دوستوں کا ماننا ہے کہ سفید رنگ مجازی محبت سے تعلق نہیں رکھتا بلکہ یہ حق کا رنگ ہے، کئی لوگوں کا ماننا ہے کہ خُدا نُور ہے اور نُور سفید رنگ کا ہوتا ہے۔
جیسا کہ ارشادِ ربّانی ہے:
خدا آسمانوں اور زمین کا نور ہے۔ اس کے نور کی مثال ایسی ہے کہ گویا ایک طاق ہے جس میں چراغ ہے۔ اور چراغ ایک قندیل میں ہے۔ اور قندیل (ایسی صاف شفاف ہے کہ) گویا موتی کا سا چمکتا ہوا تارہ ہے اس میں ایک مبارک درخت کا تیل جلایا جاتا ہے (یعنی) زیتون کہ نہ مشرق کی طرف ہے نہ مغرب کی طرف۔ (ایسا معلوم ہوتا ہے کہ) اس کا تیل خواہ آگ اسے نہ بھی چھوئے جلنے کو تیار ہے (پڑی) روشنی پر روشنی (ہو رہی ہے) خدا اپنے نور سے جس کو چاہتا ہے سیدھی راہ دکھاتا ہے۔ اور خدا نے (جو مثالیں) بیان فرماتا ہے (تو) لوگوں کے (سمجھانے کے) لئے اور خدا ہر چیز سے واقف ہے
(النور-35)
اس آیتِ مُبارکہ میں اللہ تعالٰی نے اپنی ذات کو نُور ارشاد فرمایا ہے، لیکن اب بھی مجھے ابہام ہے کہ یہاں جس نُور اور روشنی کا ذکر فرمایا گیاہے کیا وہ ہماری زمینی، کائناتی روشنی کی مانند ہے یا خدا کا نُور، اس کی روشنی بھی اس ذاتِ لا ریب کی طرح ہماری سوچوں، تصورات، خیالات، مُشاہدات سے ماورا ہے۔
ہماری اس کائنات میں روشنی کے ذیادہ تر مآخذ پیلاہٹ مائل روشنی کا اخراج کرتے ہیں اور چند ایک سفید، دودھیا روشنی کے حامل ہیں۔ لیکن چونکہ پیلی روشنی میں جلالی عنصر نمایاں ہے اور چاندنی کی سفید روشنی جمالی عنصر لئے ہوتی ہے
اسی لئے جب روشنی کا ذکر ہوتا ہے، نُور کی بات کی جاتی ہے تو لا محالہ ہمارا تصور اسے سفید روشنی سے منسلک کردیتا ہے۔
اسی لئے جب سے تاریخِ انسانی مرتّب ہونا شروع ہوئی، دُنیا کے بیشتر مقامات پرسیاہی کو طاغوتی طاقتوں کا استعارہ اور سفیدی کو نُور کی علامت سمجھا گیا۔ گو کہ بیشتر افریقی اور ایشیائی مؤرخین اسے سفید چمڑی والی مغربی طاقتوں کی سازش قرار دیتے ہیں اور ان کے نزدیک سیاہ رنگ شیطان کے لئے مخصوص نہیں۔ لیکن آج بھی اکثریت کا ماننا ہے کہ سفید رنگ ہی خُدا کا رنگ ہے کیونکہ یہ خالص ترین ہے، یہ روشنیوں کا رنگ ہے، یہ عشقِ مجازی کا اوّلین رنگ ہے۔
ان سب باتوں کے باعث ہم سفید کو ہی خُدا کا رنگ قرار دے دیتے ہیں اور دیگر رنگوں کو کبھی زیرِ غور بھی نہیں لاتے۔ میں ذاتی طور پر اس رائے سے اتفاق نہیں رکھتا، اگر ہم اقوامِ عالم کا مطالعہ کریں تو دُنیا کے بیشتر مقامات اور اقوام و مذاہبِ عالم سیاہ رنگ کو گناہ کا رنگ قرار دیتی ہیں، اسے رَد ہوؤں کے سردار یعنی شیطان الرجیم سے منسوب کیا جاتا ہےلیکن ہندوستان اور افریقہ کی کئی اقوام و مذاہب سیاہ رنگ کو خُدا کا رنگ قرار دیتی ہیں اور اسے سب رنگوں سے برتر مانتی ہیں۔
سفید رنگ تمام رنگوں کے انضمام سے ظہور پذیر ہوتا ہے اس کے برعکس سیاہ رنگ تمام رنگوں کےناپید ہونے کا نام ہے، (نوٹ: پچھلے مضامین میں اپنی کم علمی کی بناء پر یہ بات بالکل اُلٹ بیان ہوگئی لیکن تصحیح فرمالیں کہ ماہرین کی اکثریت کا خیال ہے کہ جب سب رنگوں کو ملایا جاتا ہے تو سفید رنگ حاصل ہوتا ہے اور جہاں کوئی رنگ نہیں ہوتا تو سیاہ رنگ ظہور میں آتا ہے، غلطی کے لئےمعذرت خواہ ہوں)
ایک ایسا رنگ جس میں ہر رنگ اپنا آپ کھو دیتا ہے، سفید رنگ پر کسی بھی رنگ کو چڑھانا بہت آسان ہے لیکن سیاہ رنگ پر کوئی اور رنگ چڑھے یہ ناممکن نہیں لیکن مشکل ترین امر ہے۔
سفید رنگ کے خالص ہونے کی بناء پر ہم اسے خدا کے اخلاص سے منسلک کر دیتے ہیں، لیکن اپنی تمام مخلوق کو اپنے میں سمولینا بھی تو خدا کی صفت ہے جو کہ سیاہ رنگ کا وصف ہے، جس طرح صفر سے کسی بھی عدد کو ضرب دینے پر صفر ہی حاصل ہوتا ہے اسی طرح کالے سے کسی بھی رنگ کو ضرب دیں، حاصل کالا ہی ہوگا۔
کالے رنگ کے بارے میں میرے بابا جی اپنی کتاب پِیا رنگ کالا میں لکھتے ہیں:
"کالی مرچ، کالا نمک، کالا گُڑ، کالے چنے، کالا زیتون، کالی کلونجی، کالا گلاب اور مشکی گھوڑا مجھے بَھلے لگتے ہیں۔ کالے رنگ سے نسبتِ خاص رکھنے والے کے لئے رُوحانی اور باطنی علوم و اسرار جاننے سیکھنے کے لئے آسانیاں پیدا ہوجاتی ہیں۔ سیاہ رنگ کا لباس پہننے والا شیطان کی دستبرد سے بچا رہتا ہے۔ اُس میں عِجز، انکساری، خاکساری اور درویشانہ خُو، خصلت پیدا ہونا شروع
ہو جاتی ہے۔ انسان تو انسان، چرند پرند، چوپائے اور حشرات الارض تک احترام، عزت اور حفاظت کرتے ہیں۔ سیاہ لباس پہننے والا اللہ کے خوف کو محسوس کرتا ہے، عبادت و ریاضت کی جانب رغبت حاصل کرتا ہے۔ یہ رنگ اسے اپنی خواہشات اور سِفلی جذبات و خیالات کو کنٹرول کرنے میں ممدو معاون ثابت ہوتا ہے لیکن اس رنگ کے کچھ مضرّات بھی ہیں۔ قدرت نے اگر اس کے نقیض پیدا نہ کئے ہوتے تو ہر ہما شما اسے اپنا لیتا۔ آپ نے سُنا، دیکھا ہوگا کہ بہت سے گھرانوں میں خاندان کے بڑے بزرگوں کی جانب سے کالا رنگ پہننے کی اجازت نہیں ہوتی۔ کچھ لوگ اسے صرف اہلِ تشیع کا مخصوص رنگ سمجھ کر محض ضد اور جاہلیت کی بناء پہ اس سے کَد کھاتے ہیں، ویسے بِلا سوچے سمجھے ہر کسی کو اسے اپنانا بھی نہیں چاہیئے تا آنکہ کوئی صاحبِ انگ رنگ، اس رنگ کو اختیار کرنے کی اجازت نہ دے، ویسے شوقیہ طور پر پہننا اور بات ہے۔۔۔"
ان باتوں کو بیان کرنے کا مقصد یہ تھا کہ صرف سفید ہی خُدا کے رنگ کے لئے واحد امیدوار نہیں۔سفید کے ساتھ ساتھ سیاہ اوردیگر لا تعداد رنگ اس اعزاز کے دعویدار ہیں۔ زرد، نارنجی، سبز، سُرخ، طلائی، نقرئی، وغیرہ وغیرہ۔
سفید و سیاہ کے علاوہ ایک تیسرا رنگ بھی ہے ۔ ۔ ۔ "بے رنگ"۔۔۔
بعض لوگ خُدا کی روشنی کو قوسِ قزح کی سی روشنی بھی قراردیتے ہیں، ایک ایسی چمک جس میں ہر رنگ موجود ہے، ہر بندے کے لئے اس کے مزاج و ضروریات کے موافق ایک رنگ، جو تَن اُجلا ہو اسے یہ روشنی سفید دکھائی دے، جو مَن جَلا ہو اسے سیاہ نظر آئے۔
ہم اسے بے رنگ روشنی بھی کہہ سکتے ہیں،صاف شفاف اُجلے سے آئینے کی مانند، زندگی کی بُنیاد خالص پانی کی طرح کہ جس کا کوئی رنگ نہیں ہوتا، ارضی رنگوں میں کسی حد تک نقرئی رنگ کے مماثل۔
حکایت ہے کہ ایک بادشاہ نے چینی اور رُومی رنگسازوں کو بُلایا اور انکی کاریگری کا امتحان لینے کے لئے ایک مقابلے کا انعقاد کیا، اس نے رنگ ریزوں کی ان دونوں جماعتوں کو ایک دیوار پر اپنی مہارت کا جلوہ دکھانے کا حکم دیا اور ان دونوں دیواروں کے بیچ ایک پردہ لگوادیا۔
دونوں جماعتیں پسِ پردہ دی گئی دیوار پر رنگ بکھیرنے میں مصروف ہو گئیں، جب وقتِ مقررہ پر پہلے رومیوں کی تخلیق سے پردہ ہٹایا گیا تو لوگ عش عش کر اٹھے، بے شمار خوش نما رنگوں کی ایک بہار تھی اور نہایت ہی دلکش بیل بُوٹے تشکیل دیئے گئے تھے، عوام نے سوچا کہ بہت ہی مشکل ہے کہ چینی رنگ ریز اس شاہکار کو زیر کرسکیں بہر حال جب چینیوں کی تخلیق پر سے پردہ ہٹایا گیا تو جیسے پورے دربار کو سانپ سونگھ گیا، چینیوں کی دیوار پر بھی ہو بہو رومیوں کا رنگ، ان کے نقش و نگار موجود تھے، لوگ پریشان تھے کہ یہ کیا ماجرا ہوا، چینیوں نے پردے کے پیچھے سے کس طرح نقل تیار کرلی، جب ان سے پوچھا گیا تو وہ بولے کہ در اصل ہم نے اپنی دیوار پر کوئی رنگ نہیں بھرا کوئی نقش نہیں بنایا، ہم نے تو بس اسے آئینے کی طرح صیقل کردیا تاکہ جب دونوں دیواروں کے بیچ سے پردہ ہٹایا جائے تو ہماری دیوار رُومیوں کی مہارت کو بھی اپنے اند سمو لے۔
جب انسان بھی اپنے دل کو گناہوں و اغراض کی سیاہی سے بچا کر، اسے مٹا کر سفید رنگ اختیار کر لیتا ہے تو بہت خالص ہو جاتا
ہے لیکن جب وہ اس سفید رنگ کو بھی رگڑ رگڑ کر صاف کرتا ہے، اپنے مَن کومانجھ مانجھ کر آئینے کی مثل صیقل کر لیتا ہے ، بے رنگ کرلیتا ہے تو سمجھیں کہ وہ عشقِ حقیقی کی طرف سفر شروع کر لیتا ہے، سفید محبت کا اوّلین اور خالص رنگ ہے، تو سیاہ رد ہوئی، لاحاصل، ادھوری و تشنہ محبت کی علامت۔ ضروری نہیں کہ بے رنگ کا سفر سفید سے ہی شروع ہو، خُدا تعالٰی کا اذن ہو تو سیاہی سے بھی انوار پُھوٹتے ہیں۔
یہ مختلف رنگوں کی محبتیں مختلف دریاؤں، ندی، نالوں کی مانند ہیں اور عشقِ حقیقی گہرا سمندر۔ دریا بھلے وہ صاف شفاف، اجلے میٹھے، خالص پانی کا ہو یا غلاظتوں، آلائشوں سے گدلایا ہوا ہو۔ اگر سمت ٹھیک ہو تو گرنا تو سمندر میں ہی ہوتا ہے، البتّہ خالص پانی کا سفر ذرا تیزاور سُبک ہوتا ہے اور گدلا پانی بہت آہستگی سے اپنی منزل کی طرف بڑھتا ہے اور اسی بناء پر خالص پانی کے سمندر تک پہنچ جانے کے امکانات گدلے پانی کی بہ نسبت زیادہ ہوتے ہیں، لیکن کئی دفعہ مشاہدے میں یہ آیا ہے کہ گدلا پانی تو آہستہ آہستہ عجز و انکساری سے چلتا، اپنی آلائشوں و غلاظتوں پر کُڑھتا واصلِ سمندر ہوکر بارش کی بوندوں سا پاک صاف ہوجاتا ہے لیکن شفاف پانی بجائے اس کے کہ سمندر میں ڈُوبتا اسے اپنی صفائی و شفافی کا غرور لے ڈُوبا اور وہ راستے میں ہی کہیں رُک کر پہلے جھیل اور پھر کھڑے کھڑے گندے جوہڑ میں تبدیل ہوا۔
القصہ مختصر میں نے خُدا کے نُور کو بے رنگ جانا ہے، ہم کسی روشنی کے رنگ کا اندازہ اس کے مآخذ کو دیکھ کر لگاتے ہیں لیکن نُورِ لَم یزل
کا منبع و مآخذ لوگوں کی نظر سے پوشیدہ ہے، میرے جیسے عام عوام کے لئے تو کائنات کا ہر ذرّہ خدائی ذرّہ ہے اور اس کائنات کے چپّے چپّے، ذرّے ذرّے سے نُور کا نکاس و انعکاس ہو رہا ہے۔
جس طرح خُدا کہیں نہیں ہے اور ہر جگہ ہے، وہ اپنا کوئی وجود نہیں رکھتا اور ہر چیز میں موجود ہے
اسی طرح اس ذات کا کوئی رنگ نہیں اور ہر رنگ اسی کا ہے۔
Saturday, November 9, 2019
جاہل معاشرے کی چند جھلکیاں
سیرت النبیﷺ 💕۔
جاہل معاشرے کی چند جھلکیاں
پروفیسر عبدالحمید صدیقی اپنی کتاب " لائف آف محمد" (صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم) میں لکھتے ہیں کہ جب عرب تاجر اپنے تجارتی کارواں لےکر روم و ایران و شام اور ہندستان تک جاتے وہ واپسی پر عیش پرستی اور تمام بری عادات لے کر لوٹتے، شام و عراق سے لڑکیاں درآمد کی جاتیں جنہیں عیش پرستی کے لیے استعمال کیا جاتا، شھوانی خواہشات کے اس چٹخارے نے عربوں کو بلا کا اوباش اور نفس پرست بنا دیا تھا اور ان کے ہاں بدکاری اتنی رچ بس گئی تھی کہ اگر کوئی صالح شخص ان بدکاریوں اور بری عادات سے اجتناب برتتا تو اس کا مذاق اڑایا جاتا اور اسے کمینہ، کنجوس اور غیر ملنسار قرار دے دیا جاتا۔
عرب معاشرے کی اخلاق باختگی کا ایک اور تاریک پہلو خاندانی نظام کی گراوٹ تھا، عرب کے متمول طبقے میں تو پھر بھی حالت کچھ بہتر تھی، مگر عمومی طور پر مرد عورت کا اختلاط سواۓ فحاشی اور بدکاری کے اور کچھ نہیں تھا، ایک ہی وقت میں کئی کئی عورتوں کو اپنے حرم میں داخل کرلیا جاتا، دو سگی بہنوں سے بیک وقت نکاح کرلینا اور باپ کے مرنے کے بعد سوتیلی ماں کو اپنی زوجیت میں لے لینے میں کوئی عار نہ تھا، دس دس لوگ ایک ہی عورت سے تعلقات قائم کرلیتے، جگہ جگہ رنڈیوں اور طوائفوں کے گھر زنا اور بدکاری کے اڈے تھے، شراب نوشی اور جواء عام تھا۔
ان کی بے حیائی کا یہ عالم تھا کہ ان کی بیٹیاں تک نیم عریاں لباس میں قبائلی مخلوط مجالس میں شریک ہوتیں جہاں ان کے جسمانی اعضاء پر نہایت فحش شعر پڑھے جاتے، دنیا کی شاید ہی کوئی برائی ہو جو عربوں میں موجود نہ تھی، لہو و لعب، فسق و فجور اور قتل و غارتگری کے دلدادہ، زنا و بدکاری کے رسیا اور شراب نوشی اس قدر کہ جیسے ہر گھر ایک شراب خانہ تھا۔
عرب نہایت شقی القلب اور سنگدل تھے، جانوروں کو درختوں سے باندھ کر نشانہ بازی کی مشق کی جاتی، زندہ جانور کا کوئی حصہ کاٹ کر کھا جاتے، اسیران جنگ کے ساتھ غیر انسانی سلوک کیا جاتا، ایک ایک عضو کاٹ کر موت کے گھاٹ اتارا جاتا، دشمنوں کا جگر نکال کر کچا چبا لیا جاتا، ان کے کاسۂ سر میں شراب ڈال کر پی جاتی، مجرموں کو حد درجہ وحشیانہ سزائیں دی جاتیں۔
درحقیقت یہ اسلام کی حقانیت و سچائی کا ایک منہ بولتا ثبوت ہے کہ ایسی وحشی و جاہل قوم کو بدل کر تمام اقوام عالم کا پیشوا بنا دیا اور ان کو اخلاقی طور پر فرشتوں کے جیسا پاکیزہ بنا دیا، تاہم اخلاقی طور پر پستی اور گراوٹ کی اتھاہ گہرایوں میں ڈوبے اس معاشرے میں ایسے سلیم فطرت صالح انسان موجود تھے جو ان قبیح حرکات سے الگ تھلگ تھے۔
دوسری طرف جب انہی بدکار و بے حیا عربوں میں کچھ ایسی اخلاقی اچھائیاں بھی پائی جاتی تھیں جو ان عربوں کے لیے وجہ امتیاز تھیں۔ شجاعت عربوں میں اپنی معراج پر تھی، ان کی بہادری درحقیقت سفاکی کے درجہ تک پہنچی ہوئی تھی، کسی عرب کے لیے میدان جنگ میں تلوار کی دھار پر کٹ مرنا عزت اور شرافت کی بات تھی اور بستر پر ناک رگڑ رگڑ مرنا ذلت اور گالی سمجھا جاتا، نہ صرف مرد بلکہ عورتیں بھی میدان جنگ میں مردوں کے دوش بدوش حصہ لیتیں۔
سخاوت میں ان کا کوئی ثانی نہ تھا، کبھی کبھی تو اپنے پاس کا آخری روپیہ تک سائل کے حوالے کردیا جاتا، مہمان نواز اس درجے کے تھے کہ اگر کسی کے پاس صرف ایک اونٹ گزر بسر کے لیے ہوتا تو اگر مہمان آ جاتے تو اسے ذبح کرکے مہمانوں کو کھلا دیا جاتا..
عرب آزادی کے دلدادہ تھے اور اپنی آزادی برقرار رکھنے میں کسی قربانی سے دریغ نہ کرتے تھے، یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ روم و ایران کی عظیم سلطنتوں کے بیچ میں ہونے کے باوجود کوئی ان کو محکوم نہ بنا سکا۔
عرب آخر درجے کے وفا پیشہ تھے، عہد و پیمان کی پابندی کو فرض سمجھا جاتا تھا اور ایفاۓ عہد میں اپنی جان و مال اور اولاد تک کو قربان کردیا جاتا تھا، جب کسی کو پناہ دے دیتے تو اپنی جان قربان کردیتے مگر اپنی پناہ میں آۓ شخص پر ایک آنچ نہ آنے دیتے۔
شاید عرب قوم کی یہ امتیازی صفات ہی تھیں کہ جن کی وجہ سے اللہ نے اس قوم کو اسلام کی داعی قوم کے طور پر فضیلت بخشی، بلاشبہ عرب قوم بدکاری و بے حیائی کی دلدل میں مکمل طور ڈوبی ہوئی تھی، مگر یہ سب وہ بری صفات تھیں جو ان کی فطرت میں شامل نہ تھیں اور انہیں ختم بھی کیا جاسکتا تھا اور اسلام کے ظہور کے بعد ختم ہو بھی گئیں، مگر کسی قوم کو نہ تو کوشش سے بہادر بنایا جاسکتا ہے نہ ہی امانت دار اور نہ ہی حریت و آزادی کا متوالا، یہ وہ صفات ہیں جن سے عرب قوم کو اللہ نے خوب خوب نواز رکھا تھا۔
جاہل معاشرے کی چند جھلکیاں
پروفیسر عبدالحمید صدیقی اپنی کتاب " لائف آف محمد" (صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم) میں لکھتے ہیں کہ جب عرب تاجر اپنے تجارتی کارواں لےکر روم و ایران و شام اور ہندستان تک جاتے وہ واپسی پر عیش پرستی اور تمام بری عادات لے کر لوٹتے، شام و عراق سے لڑکیاں درآمد کی جاتیں جنہیں عیش پرستی کے لیے استعمال کیا جاتا، شھوانی خواہشات کے اس چٹخارے نے عربوں کو بلا کا اوباش اور نفس پرست بنا دیا تھا اور ان کے ہاں بدکاری اتنی رچ بس گئی تھی کہ اگر کوئی صالح شخص ان بدکاریوں اور بری عادات سے اجتناب برتتا تو اس کا مذاق اڑایا جاتا اور اسے کمینہ، کنجوس اور غیر ملنسار قرار دے دیا جاتا۔
عرب معاشرے کی اخلاق باختگی کا ایک اور تاریک پہلو خاندانی نظام کی گراوٹ تھا، عرب کے متمول طبقے میں تو پھر بھی حالت کچھ بہتر تھی، مگر عمومی طور پر مرد عورت کا اختلاط سواۓ فحاشی اور بدکاری کے اور کچھ نہیں تھا، ایک ہی وقت میں کئی کئی عورتوں کو اپنے حرم میں داخل کرلیا جاتا، دو سگی بہنوں سے بیک وقت نکاح کرلینا اور باپ کے مرنے کے بعد سوتیلی ماں کو اپنی زوجیت میں لے لینے میں کوئی عار نہ تھا، دس دس لوگ ایک ہی عورت سے تعلقات قائم کرلیتے، جگہ جگہ رنڈیوں اور طوائفوں کے گھر زنا اور بدکاری کے اڈے تھے، شراب نوشی اور جواء عام تھا۔
ان کی بے حیائی کا یہ عالم تھا کہ ان کی بیٹیاں تک نیم عریاں لباس میں قبائلی مخلوط مجالس میں شریک ہوتیں جہاں ان کے جسمانی اعضاء پر نہایت فحش شعر پڑھے جاتے، دنیا کی شاید ہی کوئی برائی ہو جو عربوں میں موجود نہ تھی، لہو و لعب، فسق و فجور اور قتل و غارتگری کے دلدادہ، زنا و بدکاری کے رسیا اور شراب نوشی اس قدر کہ جیسے ہر گھر ایک شراب خانہ تھا۔
عرب نہایت شقی القلب اور سنگدل تھے، جانوروں کو درختوں سے باندھ کر نشانہ بازی کی مشق کی جاتی، زندہ جانور کا کوئی حصہ کاٹ کر کھا جاتے، اسیران جنگ کے ساتھ غیر انسانی سلوک کیا جاتا، ایک ایک عضو کاٹ کر موت کے گھاٹ اتارا جاتا، دشمنوں کا جگر نکال کر کچا چبا لیا جاتا، ان کے کاسۂ سر میں شراب ڈال کر پی جاتی، مجرموں کو حد درجہ وحشیانہ سزائیں دی جاتیں۔
درحقیقت یہ اسلام کی حقانیت و سچائی کا ایک منہ بولتا ثبوت ہے کہ ایسی وحشی و جاہل قوم کو بدل کر تمام اقوام عالم کا پیشوا بنا دیا اور ان کو اخلاقی طور پر فرشتوں کے جیسا پاکیزہ بنا دیا، تاہم اخلاقی طور پر پستی اور گراوٹ کی اتھاہ گہرایوں میں ڈوبے اس معاشرے میں ایسے سلیم فطرت صالح انسان موجود تھے جو ان قبیح حرکات سے الگ تھلگ تھے۔
دوسری طرف جب انہی بدکار و بے حیا عربوں میں کچھ ایسی اخلاقی اچھائیاں بھی پائی جاتی تھیں جو ان عربوں کے لیے وجہ امتیاز تھیں۔ شجاعت عربوں میں اپنی معراج پر تھی، ان کی بہادری درحقیقت سفاکی کے درجہ تک پہنچی ہوئی تھی، کسی عرب کے لیے میدان جنگ میں تلوار کی دھار پر کٹ مرنا عزت اور شرافت کی بات تھی اور بستر پر ناک رگڑ رگڑ مرنا ذلت اور گالی سمجھا جاتا، نہ صرف مرد بلکہ عورتیں بھی میدان جنگ میں مردوں کے دوش بدوش حصہ لیتیں۔
سخاوت میں ان کا کوئی ثانی نہ تھا، کبھی کبھی تو اپنے پاس کا آخری روپیہ تک سائل کے حوالے کردیا جاتا، مہمان نواز اس درجے کے تھے کہ اگر کسی کے پاس صرف ایک اونٹ گزر بسر کے لیے ہوتا تو اگر مہمان آ جاتے تو اسے ذبح کرکے مہمانوں کو کھلا دیا جاتا..
عرب آزادی کے دلدادہ تھے اور اپنی آزادی برقرار رکھنے میں کسی قربانی سے دریغ نہ کرتے تھے، یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ روم و ایران کی عظیم سلطنتوں کے بیچ میں ہونے کے باوجود کوئی ان کو محکوم نہ بنا سکا۔
عرب آخر درجے کے وفا پیشہ تھے، عہد و پیمان کی پابندی کو فرض سمجھا جاتا تھا اور ایفاۓ عہد میں اپنی جان و مال اور اولاد تک کو قربان کردیا جاتا تھا، جب کسی کو پناہ دے دیتے تو اپنی جان قربان کردیتے مگر اپنی پناہ میں آۓ شخص پر ایک آنچ نہ آنے دیتے۔
شاید عرب قوم کی یہ امتیازی صفات ہی تھیں کہ جن کی وجہ سے اللہ نے اس قوم کو اسلام کی داعی قوم کے طور پر فضیلت بخشی، بلاشبہ عرب قوم بدکاری و بے حیائی کی دلدل میں مکمل طور ڈوبی ہوئی تھی، مگر یہ سب وہ بری صفات تھیں جو ان کی فطرت میں شامل نہ تھیں اور انہیں ختم بھی کیا جاسکتا تھا اور اسلام کے ظہور کے بعد ختم ہو بھی گئیں، مگر کسی قوم کو نہ تو کوشش سے بہادر بنایا جاسکتا ہے نہ ہی امانت دار اور نہ ہی حریت و آزادی کا متوالا، یہ وہ صفات ہیں جن سے عرب قوم کو اللہ نے خوب خوب نواز رکھا تھا۔
Thursday, November 7, 2019
آئی ایس آئی کا حصہ کیسے بنیں ؟
آئی ایس آئی کا حصہ کیسے بنیں؟
یہ سوال میرے خیال میں ایک ایسا سوال ہے جو آج اب تک مجھ سے سب سے ذیادہ پُوچھا گیا ہے بلکہ پُوچھا جاتا ہے۔
جب بھی ہمارے سامنے آئی ایس آئی کا نام آتا ہے تو ہمارے ذہن میں ایک فلم سی چل پڑتی ہے جیسے آپ نےجیمز بانڈ مُوویز دیکھی ہوں گی کہ ایک ایجنٹ ہے اسکی بڑی دہشت ہے اسکے پاس بڑی پاور ہے ،کسی کو مارتا پھرتا ہے کبھی ایک ملک کبھی دُوسرے ملک، کام کا کام اور عیش کی عیش، دولت کے انبار ہیں، دُنیا جہاں کی بہترین گاڑیاں ہیں، سب کچھ اس کے پاس ہے اور بس لائف فٹ ہے اسکی واہ واہ ہورہی ہے اور دنیا اسکے کارناموں پہ حیران ہے.
نہیں پیارے ایسا نہیں ہے وہ مووی ہے ایک اسکرپٹڈ اور مکمل طور پر محفوظ ماحول میں بنائی گئی لیکن حقیقی زندگی میں ایسا نہیں ہوتا.
حقیقی زندگی میں سب کچھ اس کے برعکس ہوتا ہےیہاں نہ ٹھاٹھ باٹ ہے، نہ دکھاوا ،نہ واہ واہ نہ شوبازی کچھ بھی نہیں ہے.
میں جب کبھی کسی گمنام سپاہی سے متعلق لکھتا ہوں تو اسکے بعد انباکس میں اکثر پوچھا جاتا ہے کہ ہم کیسے جوائن کریں آئی ایس آئی۔
مجھے لکھنے میں شاید چند گھنٹے اور آپکو پڑھنے میں چند منٹ لگتے ہیں لیکن حقیقت میں ایسا نہیں حقیقت بڑی تلخ اور بڑی کربناک ہے۔جو لکھنے والے اور پڑنے والوں کے رُونگھٹےکھڑے کردےسوچیں تو جس پہ گزرتی ہے اس کا کیا حال ہوتا ہوگا۔
ہم مووی میں دیکھتے ہیں کہ ایک ایجنٹ بڑی شاندار گاڑی سے بہترین سُوٹ ، بُوٹ میں ملبوس اترتا ہے آگے پیچھے اُسکے گارڈ ہوتے ہیں واہ کمال ہے لائف ہوتو ایسی۔ لیکن رُکیے بھئی وہ مووی ہے ہُوش کی دُنیا میں آئیےحقیقت میں ایسا ہرگز نہیں ہوتا حقیقت کا یہ عالم ہے کہ آپکی ہستی مستی جب تک خاک نہ ہوجائے آپ کٌندن نہیں بن سکتے۔
کہیں یہ فقیر، کہیں ملنگ گندے میلے کچیلے کپڑوں میں ملبوس ایسی حالت میں ملیں گے کہ ان کو دیکھ کر آپکو گھن آئے گی، مکھیاں انکے اُوپر بھنبھنارہی ہونگی، سڑک کنارے کبھی کچرے کے ڈھیر پر، کبھی کیچڑ میں لت پت، کہیں سبزی فروش تو کہیں تپتی دھوپ میں منوں وزن اپنے کاندھوں پہ اٹھائے، کہیں مسجد کے باہر بھیک مانگتے تو کہیں دردر کی ٹویکریں کھاتے لوگوں کی گالیاں اورطعنے سہتے، نہ گرمی کی خبر نہ سردی کا ہوش، بھوک پیاس کی شدت، تپتی ہو ٹھٹھرتی زمین پرجلتے جسم، کہیں گلیوں میں کُوڑا چنتے، کہیں دن بھر کاندھے پہ سامان اٹھائے گلی گلی پھرتے، یہ جاگتے ہیں انکا چین نہیں ان کا آرام نہیں، کب کھاتے ہیں کب پیتے ہیں کس کے بیٹے ہیں کس کے بھائی ہیں کس کے باپ ہیں کس کے سرکا تاج ہیں کچھ خبر نہیں
یہ اپنے ملک میں بھی عیش وعشرت کی زندگی تیاگ دیتےہیں ، معلوم نہیں کب سے یہ لوگ اپنے گھروں کے پاس ہوتے ہوئے بھی اپنے گھراپنےوالدین سےدور، اپنے بہن بھائی، بچوں سے دُور ہوتے ہیں کیا کبھی آپ نے سُوچا عید کے دن جب ساری دُنیا کے مسلمان نئے کپڑے پہن کراپنی اپنی فیملز کے ساتھ عید کی
خوشیاں منانےمیں مگن ہوتے ہیں تو دوسری طرف کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو بذاتِ خود اور جن کا خاندان ہماری ان خوشیوں کی وجہ بنتے ہیں جس وقت ہم اپنے والدین کے گلے لگ کرعید منارہے ہوتے ہیں وہاں اس پاک وطن کی دھرتی پہ کچھ بچے کچھ والدین ایسے بھی ہوتے ہیں جن کے بچے عید کے
دن بھی اپنے والد کی راہ تکتے اور آنکھوں میں آنسو لیے عید گزارتے ہیں۔
وہ ماں عید کا دن بھی دروازے کو تکتے گزاردیتی ہےکہ شاید اس کا لاڈلہ بیٹا عید کے دن اسے گلے لگالے، وہ باپ جو عید کا دن اس حسرت سے گزار دیتا ہےکہ کاش عید کے دن تو اس کا بیٹا آکے اُس کاسینہ ٹھنڈا کردیتا.
کہیں اپنی عید کی خوشیاں ہماری خوشیوں پہ قربان کرکے عید کے دن بھی گلیوں کی خاک چھان کر اپنے بچوں کی یاد میں بس دل ہی دل میں یہ سُوچ کراپنی ساری حسرتیں دبالیتا ہے کہ ایک اُسکے بچے اپنے باپ، اسکے والدین عید کے دن اپنے ایک بیٹے سے محروم رہیں گے لیکن پاک وطن کے کروڑوں لوگ اپنی
اولادوں اپنے بچوں کے ساتھ عید منائیں
بہن بھائی دستِ شفقت کے منتظرمگر وہ بیٹا دور گے،عید گزر جاتی ہے ہم خوشیاں منا کرشکر ادا کرتے ہیں کہ عید بڑی اچھی گزری کیسے اچھی گزری کبھی نہیں سُوچتے کسی نے ہماری عید کو خوبصوررت اور پرسکون بنا نے کے اپنی عید قربان کی اپنے گھروالوں کی
عید اور خوشیاں قربان کیں۔
ایسے بھی دیوانے ہیں کہ جب ہم اس پاک دھرتی پر خوشی سے قہقہہ لگاتے ہیں وہاں دشمن کے عقوبت خانے ہمارے اس قہقہے کی قیمت اس پاک وطن کے بیٹے سے وصول کرتے ہیں اور عقوبت خانے اس قیمت سے لرز اٹھتے ہیں.
جن کی مائیں جن کی سہاگن انکے منتظر ہیں وہ بیٹے وہ سہاگ کہیں کسی تاریک کوٹھڑی میں لت پت پڑا تڑپ رہا ہوتا ہے تاکہ اسکے وطن کی ماؤں کی گود ہری بھری رہے، وطن کی بہنوں بیٹیوں کا سہاگ سلامت رہے۔
کتنے ہی پاک وطن کے عظیم بیٹے ہیں جن کا آج نام ونشان تک نہیں ، جو عقوبت خانوں میں زندہ ہیں انکا حال صرف اللہ جانتا ہے۔ یہ وہ عظیم لوگ ہیں جنکی قبروں کے نشان تک نہیں ملتے کس گلی، کس نگر، کس کوچے میں زندگی کی آخری شام ہو جائے یہ نہیں جانتے۔
اپنے گھروں کو دُوبارہ دیکھ بھی پائیں گے یا نہیں یہ نہیں جانتے۔ایسے کئی بیٹے آج کے دن بھی اس پاک دھرتی پہ قربان ہوئے ہونگے لیکن ہم نہیں جانتے، ہزاروں والدین ایسے ہونگےجنہیں اپنے بیٹوں کا آخری دیدار بھی نہیں نصیب نہیں ہوا ہوگا، ہزاروں بچے آج بھی اس کشمکش میں بڑےہورہے ہونگےکہ وہ
سکول کالج کے فارم میں خود کو باپ کے زیرِ کفالت لکھیں یا یتیم ۔ یہ آئی ایس آئی کی داستان ہے۔جو طاقت ورکےساتھ بڑی درناک و دلخراش بھی ہے۔
آئی ایس آئی نام سننے میں بڑا دلکش اور بڑا پرکشش لگتا ہےلیکن یہ ایک درد ایک کرب اور لازوالی قربانیوں پر کھڑا ایک ایسا قلعہ ہے جس کے
محافظوں کی کوئی پہچان کوئی نام نہیں کسی کو علم نہیں ،ان پہ کیا گزرتی ہے کوئی نہیں جانتا ، وہ ہر درد، ہر جدائی سہہ کر اپنے عزم پر قائم رہتے ہیں تب ہی یہ قلعہ اپنی پوری آب وتاب سے قائم اودائم اور اپنے زیرِ سایہ سرزمین کا محافظ ہے۔
آج تک 70 سال گزرنے کو ہیں لیکن کسی شخص نے نہیں دیکھا کہ آئی ایس آئی میں کام کرنے والے کیسے ہیں کون ہیں؟ہوسکتا ہےکہ آپکا کوئی دُوست ،رشتہ دار بھی آئی ایس آئی کا حصہ ہولیکن آپ کبھی نہیں جان پائیں گے۔
ان ساری ساری باتوں کا نچوڑ ایک ہی بات نکلتی ہے کہ آئی ایس آئی ایک ایسی خوشبو ہے کہ جس سے سارا جہاں تو معطر ہے لیکن ہم دیکھ نہیں سکتے اس خوشبو کا وجود نہیں بالکل ایسے ہی ائی ایس آئی ہے۔
نہ نام نہ دکھاوا نہ شہرت نہ واہ واہ نہ تمغے نہ ایوارڈز نہیں کچھ بھی نہیں۔ ہر شعبہ میں آپکا نام بنتا ہے آپکی قابلیت کےچرچےہوتے ہیں آپکو تمغوں سے نوازا جاتاہےلیکن آئی ایس آئی میں ایسا نہیں ہے یہاں بس کام ہے اور خاموشی ہے۔isi کی موجودگی کاعلم اسکی آواز سے نہیں دشمن کے شورسےہوتاہے
اس ساری تحریرکا مقصد اب شاید آپکے سامنے واضح ہوجائے کہ آئی ایس آئی میں موجود افراد بھی کسی کو نہیں بتاسکتے، کس کو نہیں جتاسکتے، کسی پہ دھونس یا دکھاوانہیں کرسکتے کہ میں آئی ایس آئی ہوں یہ ہوں وہ ہوں، نہیں یہ سب آئی ایس آئی میں نہیں چلتا.
توکیا 22 کروڑ عوام ساری کی ساری آئی ایس آئی میں جانے کی خواہش کرے تو اب کیا کیا جائے؟ اس کا بڑا آسان سا حل ہےآئی ایس آئی کا مقصد بھی دکھاوا اور نام کمانا نہیں صرف اسلام اور پاکستان ہےتو یہ سب کرنے کے لیے آئی ایس آئی میں جاناضروری ہے کیا؟
نہیں بالکل نہیں اگر کوئی خوش قسمت آئی ایس آئی کے ادارے کاحصہ بن بھی جاتا ہے تو آپ کیوں مایوس کے ہم نہیں جاسکتے اللہ کے بندو آپ جس شعبہ سے تعلق رکھتے ہیں آپ اگر اسی میں رہ کر بھی اپنے ملک کےکام آئیں تو آپ کا مقصد بھی وہی ہوا جو آئی ایس آئی کا مقصد ہے۔
سُوشل میڈیا پہ ہیں تو دشمن کے پروپگنڈہ کا جواب دیں.
پاکستان کے خلاف، اسلام کے خلاف، پاک فوج کے خلاف چلنے والی آئی ڈیز، گروپس اور پیجز کو رپورٹ کرکے بند کروائیں تاکہ پاکستان کے خلاف نظریا تی جنگ کا بھی توڑ کیا جاسکے۔ دشمن کو شکست دی جاسکے۔
آج کل فزیکل جنگ سے ذیادہ مشکل جنگ نفسیاتی جنگ ہے۔ آئی ایس آئی کامقصد بھی پاکستان کی خدمت ہےاپنے لوگوں کی خدمت ہے یہی بیڑہ آپ بھی اٹھا لیں کے جب تک آئی ایس آئی میں نہیں جاپاتا تب تک ہی سہی۔
اگر آئی ایس آئی میں نہیں جاسکا تو یہیں بیٹھ کے اپنے شعبے میں بیٹھ کے ایمانداری سے اس ملک کی خدمت کریں۔اگر طالبعلم ہیں، کہیں جاب کرتے ہیں فیلڈ میں کام کرتے ہیں تو سُوشل میڈیا کی جنگ تو ہمیشہ جاری رہتی ہے۔ سُوشل میڈیا پر آپ کا نام نہیں ہوگا شاید دُنیا آپکانام نہیں جان پائے گی،
آپکی واہ واہ نہیں ہوگی،لیکن آپکا کام وہی ہوگا جو آئی ایس آئی کا ہے، آپکا مقام وہی ہوگا جو آئی ایس آئی کا ہے۔
دشمن یہی کہےگا کہ ہمارا پروپگنڈہ آئی ایس آئی کے ایجنٹوں نے نام بنایا ہے۔
ہم سے ہی اٹھ کرگئے ہیں اور آئی ایس آئی کو جوائن کرنے کا طریقہ تو آپکو کسی بھی ڈیفنس فورم پر مل جائے آپ گوگل کریں ہزاروں جگہ شاید مل جائےمگر آپکو یہ کوئی نہیں کہے گا کہ آپ جہاں بھی ہوں آپ آئی ایس آئی کا حصہ ہیں۔
واللہ کل جب غزوہِ ہند کے شہیدوں اور غازیوں کا نام پکارا جائے گا تو ان لوگوں کا بھی نام آئے گا جنہوں نے مجاہدوں کے حوصلے بڑھائے تھے، ان پر بھونکنے والی زبانیں بند کی تھیں۔
غزوہِ ہند کے لیے راہ ہموار کی تھی یہ سب کچھ آئی ایس آئی ہی کا کام تو ہے جو آپ کہیں بھی بیٹھ کرکرسکتے ہیں وہ بھی اپنی فیملی کے ساتھ خوش باش ہوکر۔میں کسی کو مایوس نہیں کررہا بلکہ ان دوستوں کو ایک موٹیویشن دے رہا ہوں
جن کا مقصدشہرت نہیں، واہ واہ نہیں صرف پاکستان ہے کہ وہ بھی وہی کام کریں جو آئی ایس آئی کررہی ہے ان شاءاللہ انکے نتائج بھی ویسے ہی پاکستان کو فائدہ پہنچائیں گے جیسے آئی ایس آئی کے۔
آپ اُستاد ہیں طالبعلموں کو دل سے محنت سے پڑھائیں ایک بہترین نسل تیار کریں انہیں پاکستانیت اور اسلام سے محبت اور وفاداری کا درس دیں۔ آپ عالم ہیں لوگوں کو تفرقے سے نکال کرمتحد کریں انہیں حقیقی جہاد اور اسلام اور پاکستان کا درس دیں ، انہیں وطن اور مذہب کا آپس میں تعلق پڑھائیں۔
آپ کاروبار کرتے ہیں باقاعدگی سے ٹیکس دیں ملکی ترقی کا حصہ بنیں، آپ کہیں جاب کرتے ہیں ایمانداری سے جاب کریں دیکھیں اس کا پاکستان کی بہتری میں اثر پڑتا ہے یانہیں، آپ صاحبِ اختیار ہیں لوگوں کی خدمت کریں دیکھیں کتنے لوگ پاکستان کی طرف،پاکستان کی بہتری کے لیے کام کرتے ہیں۔
ہر وہ کام ہروہ مقصد جو پاکستان کو ترقی کی طرف بہتری کی طرف لے جائے وہ آئی ایس آئی کا ہی کام ہے۔
شاید میری باتیں کچھ دوستوں کے لیے مایوس کُن ہوں لیکن نہ آئی ایس آئی نظر آتی ہے نہ آپ نظر آئیں گے
لیکن مقصد پسِ پردہ دونوں کا ایک ہوگا تو کتنا آسان ہے نہ آئی ایس آئی کا حصہ بننا۔
پھر جس کو اللہ پاک موقع دے ذہانت دے آگے بڑھیں راستے کھلے ہیں آئی ایس آئی میں جائیں آرمی میں جائیں لیکن تب تک انتطار نہ کریں خود ہی پاکستان کے لیے کچھ کرنے کی ٹھان لیں آپ آئی ایس آئی ہی ہوں گے۔
کوئی بھی بات بُری لگی ہو معذرت چاہتا ہوں لیکن آپ اس نظریہ سے آگے بڑھیں گے خدا کی قسم آپ جہاں بھی ہوں گے جس شعبہ جس انداز میں بھی کام کریں گے آپ خود کو آئی ایس آئی کا حصہ ہی محسوس کریں گےکہ دنیا نہیں دیکھ رہی مگر میرا مقصد میرا کام میرے ملک کے کام آرہا ہے۔
پھرکون کون دُوست ہے جو آج سے ہی آئی ایس آئی ایجنٹ بن رہا ہے؟ :-) فزیکلی آئی ایس آئی کی شمیولیت میں تو تعلیم اور عمر کی قید بھی ہوتی ہے لیکن یہ تحریر 22 کروڑ پاکستانیوں کے لیے ہے نہ تعلیم کی قید نہ عمر کی مرد خواتین سب کے لیے یکساں اور لاتعداد مواقعے
میں اکثر ایک فقرہ کہتا ہوں کہ آئی ایس آئی ایک ادارے کا نہیں بلکہ ایک ارادے کا نام ہے اداروں کو جوائن کیا جاتا ہے جبکہ ارادوں کا ساتھ دیاجاتا ہے۔
از طرف میرے پیارےوطن کے ایک جانباز،گمنام کی سپاہی جانب سے
تمت بالخیر
"ملنگ" 🙂
یہ سوال میرے خیال میں ایک ایسا سوال ہے جو آج اب تک مجھ سے سب سے ذیادہ پُوچھا گیا ہے بلکہ پُوچھا جاتا ہے۔
جب بھی ہمارے سامنے آئی ایس آئی کا نام آتا ہے تو ہمارے ذہن میں ایک فلم سی چل پڑتی ہے جیسے آپ نےجیمز بانڈ مُوویز دیکھی ہوں گی کہ ایک ایجنٹ ہے اسکی بڑی دہشت ہے اسکے پاس بڑی پاور ہے ،کسی کو مارتا پھرتا ہے کبھی ایک ملک کبھی دُوسرے ملک، کام کا کام اور عیش کی عیش، دولت کے انبار ہیں، دُنیا جہاں کی بہترین گاڑیاں ہیں، سب کچھ اس کے پاس ہے اور بس لائف فٹ ہے اسکی واہ واہ ہورہی ہے اور دنیا اسکے کارناموں پہ حیران ہے.
نہیں پیارے ایسا نہیں ہے وہ مووی ہے ایک اسکرپٹڈ اور مکمل طور پر محفوظ ماحول میں بنائی گئی لیکن حقیقی زندگی میں ایسا نہیں ہوتا.
حقیقی زندگی میں سب کچھ اس کے برعکس ہوتا ہےیہاں نہ ٹھاٹھ باٹ ہے، نہ دکھاوا ،نہ واہ واہ نہ شوبازی کچھ بھی نہیں ہے.
میں جب کبھی کسی گمنام سپاہی سے متعلق لکھتا ہوں تو اسکے بعد انباکس میں اکثر پوچھا جاتا ہے کہ ہم کیسے جوائن کریں آئی ایس آئی۔
مجھے لکھنے میں شاید چند گھنٹے اور آپکو پڑھنے میں چند منٹ لگتے ہیں لیکن حقیقت میں ایسا نہیں حقیقت بڑی تلخ اور بڑی کربناک ہے۔جو لکھنے والے اور پڑنے والوں کے رُونگھٹےکھڑے کردےسوچیں تو جس پہ گزرتی ہے اس کا کیا حال ہوتا ہوگا۔
ہم مووی میں دیکھتے ہیں کہ ایک ایجنٹ بڑی شاندار گاڑی سے بہترین سُوٹ ، بُوٹ میں ملبوس اترتا ہے آگے پیچھے اُسکے گارڈ ہوتے ہیں واہ کمال ہے لائف ہوتو ایسی۔ لیکن رُکیے بھئی وہ مووی ہے ہُوش کی دُنیا میں آئیےحقیقت میں ایسا ہرگز نہیں ہوتا حقیقت کا یہ عالم ہے کہ آپکی ہستی مستی جب تک خاک نہ ہوجائے آپ کٌندن نہیں بن سکتے۔
کہیں یہ فقیر، کہیں ملنگ گندے میلے کچیلے کپڑوں میں ملبوس ایسی حالت میں ملیں گے کہ ان کو دیکھ کر آپکو گھن آئے گی، مکھیاں انکے اُوپر بھنبھنارہی ہونگی، سڑک کنارے کبھی کچرے کے ڈھیر پر، کبھی کیچڑ میں لت پت، کہیں سبزی فروش تو کہیں تپتی دھوپ میں منوں وزن اپنے کاندھوں پہ اٹھائے، کہیں مسجد کے باہر بھیک مانگتے تو کہیں دردر کی ٹویکریں کھاتے لوگوں کی گالیاں اورطعنے سہتے، نہ گرمی کی خبر نہ سردی کا ہوش، بھوک پیاس کی شدت، تپتی ہو ٹھٹھرتی زمین پرجلتے جسم، کہیں گلیوں میں کُوڑا چنتے، کہیں دن بھر کاندھے پہ سامان اٹھائے گلی گلی پھرتے، یہ جاگتے ہیں انکا چین نہیں ان کا آرام نہیں، کب کھاتے ہیں کب پیتے ہیں کس کے بیٹے ہیں کس کے بھائی ہیں کس کے باپ ہیں کس کے سرکا تاج ہیں کچھ خبر نہیں
یہ اپنے ملک میں بھی عیش وعشرت کی زندگی تیاگ دیتےہیں ، معلوم نہیں کب سے یہ لوگ اپنے گھروں کے پاس ہوتے ہوئے بھی اپنے گھراپنےوالدین سےدور، اپنے بہن بھائی، بچوں سے دُور ہوتے ہیں کیا کبھی آپ نے سُوچا عید کے دن جب ساری دُنیا کے مسلمان نئے کپڑے پہن کراپنی اپنی فیملز کے ساتھ عید کی
خوشیاں منانےمیں مگن ہوتے ہیں تو دوسری طرف کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو بذاتِ خود اور جن کا خاندان ہماری ان خوشیوں کی وجہ بنتے ہیں جس وقت ہم اپنے والدین کے گلے لگ کرعید منارہے ہوتے ہیں وہاں اس پاک وطن کی دھرتی پہ کچھ بچے کچھ والدین ایسے بھی ہوتے ہیں جن کے بچے عید کے
دن بھی اپنے والد کی راہ تکتے اور آنکھوں میں آنسو لیے عید گزارتے ہیں۔
وہ ماں عید کا دن بھی دروازے کو تکتے گزاردیتی ہےکہ شاید اس کا لاڈلہ بیٹا عید کے دن اسے گلے لگالے، وہ باپ جو عید کا دن اس حسرت سے گزار دیتا ہےکہ کاش عید کے دن تو اس کا بیٹا آکے اُس کاسینہ ٹھنڈا کردیتا.
کہیں اپنی عید کی خوشیاں ہماری خوشیوں پہ قربان کرکے عید کے دن بھی گلیوں کی خاک چھان کر اپنے بچوں کی یاد میں بس دل ہی دل میں یہ سُوچ کراپنی ساری حسرتیں دبالیتا ہے کہ ایک اُسکے بچے اپنے باپ، اسکے والدین عید کے دن اپنے ایک بیٹے سے محروم رہیں گے لیکن پاک وطن کے کروڑوں لوگ اپنی
اولادوں اپنے بچوں کے ساتھ عید منائیں
بہن بھائی دستِ شفقت کے منتظرمگر وہ بیٹا دور گے،عید گزر جاتی ہے ہم خوشیاں منا کرشکر ادا کرتے ہیں کہ عید بڑی اچھی گزری کیسے اچھی گزری کبھی نہیں سُوچتے کسی نے ہماری عید کو خوبصوررت اور پرسکون بنا نے کے اپنی عید قربان کی اپنے گھروالوں کی
عید اور خوشیاں قربان کیں۔
ایسے بھی دیوانے ہیں کہ جب ہم اس پاک دھرتی پر خوشی سے قہقہہ لگاتے ہیں وہاں دشمن کے عقوبت خانے ہمارے اس قہقہے کی قیمت اس پاک وطن کے بیٹے سے وصول کرتے ہیں اور عقوبت خانے اس قیمت سے لرز اٹھتے ہیں.
جن کی مائیں جن کی سہاگن انکے منتظر ہیں وہ بیٹے وہ سہاگ کہیں کسی تاریک کوٹھڑی میں لت پت پڑا تڑپ رہا ہوتا ہے تاکہ اسکے وطن کی ماؤں کی گود ہری بھری رہے، وطن کی بہنوں بیٹیوں کا سہاگ سلامت رہے۔
کتنے ہی پاک وطن کے عظیم بیٹے ہیں جن کا آج نام ونشان تک نہیں ، جو عقوبت خانوں میں زندہ ہیں انکا حال صرف اللہ جانتا ہے۔ یہ وہ عظیم لوگ ہیں جنکی قبروں کے نشان تک نہیں ملتے کس گلی، کس نگر، کس کوچے میں زندگی کی آخری شام ہو جائے یہ نہیں جانتے۔
اپنے گھروں کو دُوبارہ دیکھ بھی پائیں گے یا نہیں یہ نہیں جانتے۔ایسے کئی بیٹے آج کے دن بھی اس پاک دھرتی پہ قربان ہوئے ہونگے لیکن ہم نہیں جانتے، ہزاروں والدین ایسے ہونگےجنہیں اپنے بیٹوں کا آخری دیدار بھی نہیں نصیب نہیں ہوا ہوگا، ہزاروں بچے آج بھی اس کشمکش میں بڑےہورہے ہونگےکہ وہ
سکول کالج کے فارم میں خود کو باپ کے زیرِ کفالت لکھیں یا یتیم ۔ یہ آئی ایس آئی کی داستان ہے۔جو طاقت ورکےساتھ بڑی درناک و دلخراش بھی ہے۔
آئی ایس آئی نام سننے میں بڑا دلکش اور بڑا پرکشش لگتا ہےلیکن یہ ایک درد ایک کرب اور لازوالی قربانیوں پر کھڑا ایک ایسا قلعہ ہے جس کے
محافظوں کی کوئی پہچان کوئی نام نہیں کسی کو علم نہیں ،ان پہ کیا گزرتی ہے کوئی نہیں جانتا ، وہ ہر درد، ہر جدائی سہہ کر اپنے عزم پر قائم رہتے ہیں تب ہی یہ قلعہ اپنی پوری آب وتاب سے قائم اودائم اور اپنے زیرِ سایہ سرزمین کا محافظ ہے۔
آج تک 70 سال گزرنے کو ہیں لیکن کسی شخص نے نہیں دیکھا کہ آئی ایس آئی میں کام کرنے والے کیسے ہیں کون ہیں؟ہوسکتا ہےکہ آپکا کوئی دُوست ،رشتہ دار بھی آئی ایس آئی کا حصہ ہولیکن آپ کبھی نہیں جان پائیں گے۔
ان ساری ساری باتوں کا نچوڑ ایک ہی بات نکلتی ہے کہ آئی ایس آئی ایک ایسی خوشبو ہے کہ جس سے سارا جہاں تو معطر ہے لیکن ہم دیکھ نہیں سکتے اس خوشبو کا وجود نہیں بالکل ایسے ہی ائی ایس آئی ہے۔
نہ نام نہ دکھاوا نہ شہرت نہ واہ واہ نہ تمغے نہ ایوارڈز نہیں کچھ بھی نہیں۔ ہر شعبہ میں آپکا نام بنتا ہے آپکی قابلیت کےچرچےہوتے ہیں آپکو تمغوں سے نوازا جاتاہےلیکن آئی ایس آئی میں ایسا نہیں ہے یہاں بس کام ہے اور خاموشی ہے۔isi کی موجودگی کاعلم اسکی آواز سے نہیں دشمن کے شورسےہوتاہے
اس ساری تحریرکا مقصد اب شاید آپکے سامنے واضح ہوجائے کہ آئی ایس آئی میں موجود افراد بھی کسی کو نہیں بتاسکتے، کس کو نہیں جتاسکتے، کسی پہ دھونس یا دکھاوانہیں کرسکتے کہ میں آئی ایس آئی ہوں یہ ہوں وہ ہوں، نہیں یہ سب آئی ایس آئی میں نہیں چلتا.
توکیا 22 کروڑ عوام ساری کی ساری آئی ایس آئی میں جانے کی خواہش کرے تو اب کیا کیا جائے؟ اس کا بڑا آسان سا حل ہےآئی ایس آئی کا مقصد بھی دکھاوا اور نام کمانا نہیں صرف اسلام اور پاکستان ہےتو یہ سب کرنے کے لیے آئی ایس آئی میں جاناضروری ہے کیا؟
نہیں بالکل نہیں اگر کوئی خوش قسمت آئی ایس آئی کے ادارے کاحصہ بن بھی جاتا ہے تو آپ کیوں مایوس کے ہم نہیں جاسکتے اللہ کے بندو آپ جس شعبہ سے تعلق رکھتے ہیں آپ اگر اسی میں رہ کر بھی اپنے ملک کےکام آئیں تو آپ کا مقصد بھی وہی ہوا جو آئی ایس آئی کا مقصد ہے۔
سُوشل میڈیا پہ ہیں تو دشمن کے پروپگنڈہ کا جواب دیں.
پاکستان کے خلاف، اسلام کے خلاف، پاک فوج کے خلاف چلنے والی آئی ڈیز، گروپس اور پیجز کو رپورٹ کرکے بند کروائیں تاکہ پاکستان کے خلاف نظریا تی جنگ کا بھی توڑ کیا جاسکے۔ دشمن کو شکست دی جاسکے۔
آج کل فزیکل جنگ سے ذیادہ مشکل جنگ نفسیاتی جنگ ہے۔ آئی ایس آئی کامقصد بھی پاکستان کی خدمت ہےاپنے لوگوں کی خدمت ہے یہی بیڑہ آپ بھی اٹھا لیں کے جب تک آئی ایس آئی میں نہیں جاپاتا تب تک ہی سہی۔
اگر آئی ایس آئی میں نہیں جاسکا تو یہیں بیٹھ کے اپنے شعبے میں بیٹھ کے ایمانداری سے اس ملک کی خدمت کریں۔اگر طالبعلم ہیں، کہیں جاب کرتے ہیں فیلڈ میں کام کرتے ہیں تو سُوشل میڈیا کی جنگ تو ہمیشہ جاری رہتی ہے۔ سُوشل میڈیا پر آپ کا نام نہیں ہوگا شاید دُنیا آپکانام نہیں جان پائے گی،
آپکی واہ واہ نہیں ہوگی،لیکن آپکا کام وہی ہوگا جو آئی ایس آئی کا ہے، آپکا مقام وہی ہوگا جو آئی ایس آئی کا ہے۔
دشمن یہی کہےگا کہ ہمارا پروپگنڈہ آئی ایس آئی کے ایجنٹوں نے نام بنایا ہے۔
ہم سے ہی اٹھ کرگئے ہیں اور آئی ایس آئی کو جوائن کرنے کا طریقہ تو آپکو کسی بھی ڈیفنس فورم پر مل جائے آپ گوگل کریں ہزاروں جگہ شاید مل جائےمگر آپکو یہ کوئی نہیں کہے گا کہ آپ جہاں بھی ہوں آپ آئی ایس آئی کا حصہ ہیں۔
واللہ کل جب غزوہِ ہند کے شہیدوں اور غازیوں کا نام پکارا جائے گا تو ان لوگوں کا بھی نام آئے گا جنہوں نے مجاہدوں کے حوصلے بڑھائے تھے، ان پر بھونکنے والی زبانیں بند کی تھیں۔
غزوہِ ہند کے لیے راہ ہموار کی تھی یہ سب کچھ آئی ایس آئی ہی کا کام تو ہے جو آپ کہیں بھی بیٹھ کرکرسکتے ہیں وہ بھی اپنی فیملی کے ساتھ خوش باش ہوکر۔میں کسی کو مایوس نہیں کررہا بلکہ ان دوستوں کو ایک موٹیویشن دے رہا ہوں
جن کا مقصدشہرت نہیں، واہ واہ نہیں صرف پاکستان ہے کہ وہ بھی وہی کام کریں جو آئی ایس آئی کررہی ہے ان شاءاللہ انکے نتائج بھی ویسے ہی پاکستان کو فائدہ پہنچائیں گے جیسے آئی ایس آئی کے۔
آپ اُستاد ہیں طالبعلموں کو دل سے محنت سے پڑھائیں ایک بہترین نسل تیار کریں انہیں پاکستانیت اور اسلام سے محبت اور وفاداری کا درس دیں۔ آپ عالم ہیں لوگوں کو تفرقے سے نکال کرمتحد کریں انہیں حقیقی جہاد اور اسلام اور پاکستان کا درس دیں ، انہیں وطن اور مذہب کا آپس میں تعلق پڑھائیں۔
آپ کاروبار کرتے ہیں باقاعدگی سے ٹیکس دیں ملکی ترقی کا حصہ بنیں، آپ کہیں جاب کرتے ہیں ایمانداری سے جاب کریں دیکھیں اس کا پاکستان کی بہتری میں اثر پڑتا ہے یانہیں، آپ صاحبِ اختیار ہیں لوگوں کی خدمت کریں دیکھیں کتنے لوگ پاکستان کی طرف،پاکستان کی بہتری کے لیے کام کرتے ہیں۔
ہر وہ کام ہروہ مقصد جو پاکستان کو ترقی کی طرف بہتری کی طرف لے جائے وہ آئی ایس آئی کا ہی کام ہے۔
شاید میری باتیں کچھ دوستوں کے لیے مایوس کُن ہوں لیکن نہ آئی ایس آئی نظر آتی ہے نہ آپ نظر آئیں گے
لیکن مقصد پسِ پردہ دونوں کا ایک ہوگا تو کتنا آسان ہے نہ آئی ایس آئی کا حصہ بننا۔
پھر جس کو اللہ پاک موقع دے ذہانت دے آگے بڑھیں راستے کھلے ہیں آئی ایس آئی میں جائیں آرمی میں جائیں لیکن تب تک انتطار نہ کریں خود ہی پاکستان کے لیے کچھ کرنے کی ٹھان لیں آپ آئی ایس آئی ہی ہوں گے۔
کوئی بھی بات بُری لگی ہو معذرت چاہتا ہوں لیکن آپ اس نظریہ سے آگے بڑھیں گے خدا کی قسم آپ جہاں بھی ہوں گے جس شعبہ جس انداز میں بھی کام کریں گے آپ خود کو آئی ایس آئی کا حصہ ہی محسوس کریں گےکہ دنیا نہیں دیکھ رہی مگر میرا مقصد میرا کام میرے ملک کے کام آرہا ہے۔
پھرکون کون دُوست ہے جو آج سے ہی آئی ایس آئی ایجنٹ بن رہا ہے؟ :-) فزیکلی آئی ایس آئی کی شمیولیت میں تو تعلیم اور عمر کی قید بھی ہوتی ہے لیکن یہ تحریر 22 کروڑ پاکستانیوں کے لیے ہے نہ تعلیم کی قید نہ عمر کی مرد خواتین سب کے لیے یکساں اور لاتعداد مواقعے
میں اکثر ایک فقرہ کہتا ہوں کہ آئی ایس آئی ایک ادارے کا نہیں بلکہ ایک ارادے کا نام ہے اداروں کو جوائن کیا جاتا ہے جبکہ ارادوں کا ساتھ دیاجاتا ہے۔
از طرف میرے پیارےوطن کے ایک جانباز،گمنام کی سپاہی جانب سے
تمت بالخیر
"ملنگ" 🙂
سرورِ کائنات صل اللہ علیہ وآلہ وسلم
سر ورِ کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم ______!!!
حضور اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو اﷲ تعالیٰ نے جس طرح کمال سیرت میں تمام اولین و آخرین سے ممتاز اور افضل و اعلیٰ بنایا اسی طرح آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو جمالِ صورت میں بھی بے مثل و بے مثال پیدا فرمایا۔ ہم اور آپ حضورِ اکرم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی شانِ بے مثال کو بھلا کیا سمجھ سکتے ہیں ؟ حضرات صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم جو دن رات سفر و حضر میں جمال نبوت کی تجلیاں دیکھتے رہے انہوں نے محبوب خدا صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے جمالِ بے مثال کے فضل و کمال کی جو مصوری کی ہے اس کو سن کر یہی کہنا پڑتا ہے جو کسی مداحِ رسول نے کیا خوب کہا ہے کہ
اَبَدًا وَّ عِلْمِيْ اَنَّهٗ لَا يَخْلُقُ لَمْ يَخْلُقِ الرَّحْمٰنُ مِثْلَ مُحَمَّدٍ
یعنی اﷲ تعالیٰ نے حضرت محمد صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کا مثل پیدا فرمایا ہی نہیں اور میں یہی جانتا ہوں کہ وہ کبھی نہ پیدا کرے گا۔________
صحابی رسول اور تاجدار دو عالم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے درباری شاعر حضرت حسان بن ثابت رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے اپنے قصیدۂ ہمزیہ میں جمال نبوت کی شان بے مثال کو اس شان کے ساتھ بیان فرمایا کہ
وَ اَجْمَلَ مِنْكَ لَمْ تَلِدِ النِّسَآءُ وَ اَحْسَنَ مِنْكَ لَمْ تَرَقَطُّ عَيْنِيْ !
_____
یعنی یا رسول اﷲ ! (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) آپ سے زیادہ حسن و جمال والا میری آنکھ نے کبھی کسی کو دیکھا ہی نہیں اور آپ سے زیادہ کمال والا کسی عورت نے جنا ہی نہیں۔
كَاَنَّكَ قَدْ خُلِقْتَ کَمَا تَشَآءُ خُلِقْتَ مُبَرَّئً مِّنْ کُلِ عَيْبٍ !
_____
(یا رسول اﷲ ! صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) آپ ہر عیب و نقصان سے پاک پیدا کئے گئے ہیں گویا آپ ایسے ہی پیدا کئے گئے جیسے حسین و جمیل پیدا ہونا چاہتے تھے۔
حضرت علامہ بوصیری رحمۃ اﷲ تعالیٰ علیہ نے اپنے قصیدۂ بردہ میں فرمایا کہ
فَجَوْهَرُ الْحُسْنِ فِيْهِ غَيْرُ مُنْقَسِمٖ مُنَزَّهٌ عَنْ شَرِيْكٍ فِيْ مَحَاسِنِهٖ
یعنی ____حضرت محبوب خدا صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم اپنی خوبیوں میں ایسے یکتا ہیں کہ اس معاملہ میں ان کا کوئی شریک ہی نہیں ہے۔ کیونکہ ان میں جو حسن کا جوہر ہے وہ قابل تقسیم ہی نہیں۔
اعلیٰ حضرت مولانا احمد رضا خان صاحب قبلہ بریلوی قدس سرہ العزیز نے بھی اس مضمون کی عکاسی فرماتے ہوئے کتنے نفیس انداز میں فرمایا ہے کہ
ترے خُلق کو حق نے عظیم کہا تری خَلق کو حق نے جمیل کیا
کوئی تجھ سا ہوا ہے نہ ہو گا شہا ترے خالق حسن و ادا کی قسم
بہر حال اس پر تمام امت کا ایمان ہے کہ تناسب ِ اعضاء اور حسن و جمال میں حضور نبی آخر الزمان صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم بے مثل و بے مثال ہیں۔ چنانچہ حضرات محدثین و مصنفین سیرت نے روایات صحیحہ کے ساتھ آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے ہر ہر عضو شریفہ کے تناسب اور حسن و جمال کو بیان کیا ہے۔ ہم بھی اپنی اس مختصر کتاب میں ” حلیۂ مبارکہ ” کے ذکر جمیل سے حسن و جمال پیدا کرنے کے لئے اس عنوان پر حضرت مولانا محمد کامل صاحب چراغ ربانی نعمانی ولید پوری رحمۃ اﷲ تعالیٰ علیہ کے منظوم حلیہ مبارکہ کے چند اشعار نقل کرتے ہیں تاکہ اس عالم کامل کی برکتوں سے بھی یہ کتاب سرفراز ہو جائے۔ حضرت مولانا موصوف نے اپنی کتاب ” پنجہ نور ” میں تحریر فرمایا کہ
-: حلیۂ مقدسہ
حلیہ نورِ خدا میں کیا لکھوں روحِ حق کا میں سراپا کیا لکھوں
جلوہ گر ہو گا مکانِ قبر میں پر جمالِ رحمۃٌ للعالمین
مختصر لکھ دوں جمالِ بے مثال اس لئے ہے آگیا مجھ کو خیال
اور اس کی یاد بھی آسان ہو تاکہ یاروں کو مرے پہچان ہو
پر سپید و سرخ تھا رنگ بدن تھا میانہ قد و اوسط پاک تن
تھے حسین و گول سانچے میں ڈھلے چاند کے ٹکڑے تھے اعضاء آپ کے
چاند میں ہے داغ وہ بے داغ تھی تھیں جبیں روشن کشادہ آپ کی
اور دونوں کو ہوا تھا اِتصال دونوں ابرو تھیں مثالِ دو ہلال
یاکہ ادنیٰ قرب تھا “قوسین” کا اِتصال دو مہ “عیدین” تھا
دیکھ کر قربان تھیں سب حور عیں تھیں بڑی آنکھیں حسین و سرمگیں
ساتھ خوبی کے دہن بینی بلند کان دونوں خوب صورت ارجمند
صورت اپنی اس میں ہر اک دیکھتا صاف آئینہ تھا چہرہ آپ کا
خوب تھی گنجان مو ، رنگ سیاہ تابہ سینہ ریش محبوبِ الٰہ
ہو ازار و جبہ یا پیر ہن تھا سپید اکثر لباسِ پاک تن
پر کبھی سود و سپید و صاف تھا سبز رہتا تھا عمامہ آپ کا
دونوں عالم میں نہیں ایسا کوئی میں کہوں پہچان عمدہ آپ کی
صل اللہ علیہ وآلہ وسلم
حضور اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو اﷲ تعالیٰ نے جس طرح کمال سیرت میں تمام اولین و آخرین سے ممتاز اور افضل و اعلیٰ بنایا اسی طرح آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو جمالِ صورت میں بھی بے مثل و بے مثال پیدا فرمایا۔ ہم اور آپ حضورِ اکرم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی شانِ بے مثال کو بھلا کیا سمجھ سکتے ہیں ؟ حضرات صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم جو دن رات سفر و حضر میں جمال نبوت کی تجلیاں دیکھتے رہے انہوں نے محبوب خدا صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے جمالِ بے مثال کے فضل و کمال کی جو مصوری کی ہے اس کو سن کر یہی کہنا پڑتا ہے جو کسی مداحِ رسول نے کیا خوب کہا ہے کہ
اَبَدًا وَّ عِلْمِيْ اَنَّهٗ لَا يَخْلُقُ لَمْ يَخْلُقِ الرَّحْمٰنُ مِثْلَ مُحَمَّدٍ
یعنی اﷲ تعالیٰ نے حضرت محمد صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کا مثل پیدا فرمایا ہی نہیں اور میں یہی جانتا ہوں کہ وہ کبھی نہ پیدا کرے گا۔________
صحابی رسول اور تاجدار دو عالم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے درباری شاعر حضرت حسان بن ثابت رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے اپنے قصیدۂ ہمزیہ میں جمال نبوت کی شان بے مثال کو اس شان کے ساتھ بیان فرمایا کہ
وَ اَجْمَلَ مِنْكَ لَمْ تَلِدِ النِّسَآءُ وَ اَحْسَنَ مِنْكَ لَمْ تَرَقَطُّ عَيْنِيْ !
_____
یعنی یا رسول اﷲ ! (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) آپ سے زیادہ حسن و جمال والا میری آنکھ نے کبھی کسی کو دیکھا ہی نہیں اور آپ سے زیادہ کمال والا کسی عورت نے جنا ہی نہیں۔
كَاَنَّكَ قَدْ خُلِقْتَ کَمَا تَشَآءُ خُلِقْتَ مُبَرَّئً مِّنْ کُلِ عَيْبٍ !
_____
(یا رسول اﷲ ! صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) آپ ہر عیب و نقصان سے پاک پیدا کئے گئے ہیں گویا آپ ایسے ہی پیدا کئے گئے جیسے حسین و جمیل پیدا ہونا چاہتے تھے۔
حضرت علامہ بوصیری رحمۃ اﷲ تعالیٰ علیہ نے اپنے قصیدۂ بردہ میں فرمایا کہ
فَجَوْهَرُ الْحُسْنِ فِيْهِ غَيْرُ مُنْقَسِمٖ مُنَزَّهٌ عَنْ شَرِيْكٍ فِيْ مَحَاسِنِهٖ
یعنی ____حضرت محبوب خدا صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم اپنی خوبیوں میں ایسے یکتا ہیں کہ اس معاملہ میں ان کا کوئی شریک ہی نہیں ہے۔ کیونکہ ان میں جو حسن کا جوہر ہے وہ قابل تقسیم ہی نہیں۔
اعلیٰ حضرت مولانا احمد رضا خان صاحب قبلہ بریلوی قدس سرہ العزیز نے بھی اس مضمون کی عکاسی فرماتے ہوئے کتنے نفیس انداز میں فرمایا ہے کہ
ترے خُلق کو حق نے عظیم کہا تری خَلق کو حق نے جمیل کیا
کوئی تجھ سا ہوا ہے نہ ہو گا شہا ترے خالق حسن و ادا کی قسم
بہر حال اس پر تمام امت کا ایمان ہے کہ تناسب ِ اعضاء اور حسن و جمال میں حضور نبی آخر الزمان صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم بے مثل و بے مثال ہیں۔ چنانچہ حضرات محدثین و مصنفین سیرت نے روایات صحیحہ کے ساتھ آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے ہر ہر عضو شریفہ کے تناسب اور حسن و جمال کو بیان کیا ہے۔ ہم بھی اپنی اس مختصر کتاب میں ” حلیۂ مبارکہ ” کے ذکر جمیل سے حسن و جمال پیدا کرنے کے لئے اس عنوان پر حضرت مولانا محمد کامل صاحب چراغ ربانی نعمانی ولید پوری رحمۃ اﷲ تعالیٰ علیہ کے منظوم حلیہ مبارکہ کے چند اشعار نقل کرتے ہیں تاکہ اس عالم کامل کی برکتوں سے بھی یہ کتاب سرفراز ہو جائے۔ حضرت مولانا موصوف نے اپنی کتاب ” پنجہ نور ” میں تحریر فرمایا کہ
-: حلیۂ مقدسہ
حلیہ نورِ خدا میں کیا لکھوں روحِ حق کا میں سراپا کیا لکھوں
جلوہ گر ہو گا مکانِ قبر میں پر جمالِ رحمۃٌ للعالمین
مختصر لکھ دوں جمالِ بے مثال اس لئے ہے آگیا مجھ کو خیال
اور اس کی یاد بھی آسان ہو تاکہ یاروں کو مرے پہچان ہو
پر سپید و سرخ تھا رنگ بدن تھا میانہ قد و اوسط پاک تن
تھے حسین و گول سانچے میں ڈھلے چاند کے ٹکڑے تھے اعضاء آپ کے
چاند میں ہے داغ وہ بے داغ تھی تھیں جبیں روشن کشادہ آپ کی
اور دونوں کو ہوا تھا اِتصال دونوں ابرو تھیں مثالِ دو ہلال
یاکہ ادنیٰ قرب تھا “قوسین” کا اِتصال دو مہ “عیدین” تھا
دیکھ کر قربان تھیں سب حور عیں تھیں بڑی آنکھیں حسین و سرمگیں
ساتھ خوبی کے دہن بینی بلند کان دونوں خوب صورت ارجمند
صورت اپنی اس میں ہر اک دیکھتا صاف آئینہ تھا چہرہ آپ کا
خوب تھی گنجان مو ، رنگ سیاہ تابہ سینہ ریش محبوبِ الٰہ
ہو ازار و جبہ یا پیر ہن تھا سپید اکثر لباسِ پاک تن
پر کبھی سود و سپید و صاف تھا سبز رہتا تھا عمامہ آپ کا
دونوں عالم میں نہیں ایسا کوئی میں کہوں پہچان عمدہ آپ کی
صل اللہ علیہ وآلہ وسلم
تین طرح کے لوگ
دنیا میں تین طرح کے لوگ ہیں لو کلاس ، مڈل کلاس، ہائی کلاس
سب ہی کسی نہ کسی ڈپریشن اور پریشانیوں میں مبتلا رہتے امیرانہ طبقہ میں سب کچھ ہونے کے باوجود بے سکونی اور ڈپریشن پایا جاتا ہے ، لو اور مڈل کلاس اپنے آنے والے کل سے زیادہ اپنے آج کے لیے زیادہ فکر مند پائے جاتے ہیں مگر سوتے سکون سے ہیں وہ جانتے ہیں کہ اللہ رزاق ہے ہر کسی کو رزق دیتا ہے اور وہ کہاں کہاں سے انتظام کرتا ہے یہ کسی کے گمان میں بھی نہیں ہوتا رزق انسان کو تلاش کرتا ہوا انسان تک پہنچتا ہے ۔ زیادہ طمعہ انسان کو لالچ کے سوا کچھ نہیں دیتا اپنے آج کو جینا سیکھیں اور پرسکون زندگی
گذاریں اور اگر رب نے آپ کو نوازا ہے مال و دولت اور نعمت سے تو دوسروں کے کام آنے کی کوشش کریں تاکہ سب کی آخرت سنور سکے
#Samar✍️
سب ہی کسی نہ کسی ڈپریشن اور پریشانیوں میں مبتلا رہتے امیرانہ طبقہ میں سب کچھ ہونے کے باوجود بے سکونی اور ڈپریشن پایا جاتا ہے ، لو اور مڈل کلاس اپنے آنے والے کل سے زیادہ اپنے آج کے لیے زیادہ فکر مند پائے جاتے ہیں مگر سوتے سکون سے ہیں وہ جانتے ہیں کہ اللہ رزاق ہے ہر کسی کو رزق دیتا ہے اور وہ کہاں کہاں سے انتظام کرتا ہے یہ کسی کے گمان میں بھی نہیں ہوتا رزق انسان کو تلاش کرتا ہوا انسان تک پہنچتا ہے ۔ زیادہ طمعہ انسان کو لالچ کے سوا کچھ نہیں دیتا اپنے آج کو جینا سیکھیں اور پرسکون زندگی
گذاریں اور اگر رب نے آپ کو نوازا ہے مال و دولت اور نعمت سے تو دوسروں کے کام آنے کی کوشش کریں تاکہ سب کی آخرت سنور سکے
#Samar✍️
چوکھٹ
ایک پرانے اور بوسیده مکان میں ایک غریب مزدور رهتا تھا _مکان کیا تھا،بس آثار قدیمہ کا کھنڈر ہی تھا__ غریب مزدور جب سرشام گھر لوٹتا اس کی بیوی معصومیت سے کہتی:
" اب تو گھر کا دروازه لگوادیں، کب تک اس لٹکے پردے کے پیچھے رہنا پڑے گا__
اور ہاں! اب تو پرده بھی پرانا ہو کر پھٹ گیا ہے مجھے خوف ہے کہیں چور ہی گھر میں نہ گھس جائے"
شوہر مسکراتے هوئے جواب دیتا : میرے ہوتے ہوئے بھلا تمهیں کیا خوف؟ فکر نہ کرو میں ہوں نا تمهاری چوکھٹ" _______
غرض کئی سال اس طرح کے بحث ومباحثے میں گزر گئے، ایک دن بیوی نے انتہائی اصرار کیا کہ گھر کا دروازه لگوادو__
بالآخر شوہر کو ہار ماننا پڑی اور اس نے ایک اچھا سا درازه لگا دیا.اب بیوی کا خوف کم ہوا اور شوہر کے مزدوری پر جانے کے بعد گھر میں خود کو محفوظ تصور کرنے لگی___
ابھی کچھ سال گزرے تھے کہ اچانک شوہر کا انتقال ہوگیا
اور گھر کا چراغ بجھ گیا، عورت گھر کا دروازه بند کیے پورا دن کمرے میں بیٹھی رہتی،
ایک رات اچانک چور دیوار پھلانگ کر گھر میں داخل ہو گیا اس کے کودنے کی آواز پر عورت کی آنکھ کھل گئی،اس نے شور مچایا.محلے کے لوگ آگئے،اور چور کو پکڑ لیا.جب دیکھا تو معلوم ہوا کہ وه چور پڑوسی ہے _____
اس وقت عورت کو احساس ہوا کہ چور کے آنے میں اصل رکاوٹ دروازه نہیں میرا شوہر تھا اس چوکھٹ سے زیاده مضبوط وه چوکھٹ(شوہر) تھی ____!
شوہر میں لاکھ عیب ہوں لیکن حقیقت بھی ہے کہ مضبوط چوکھٹ یهی شوہر ہی ہیں ، شادی شده ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کو چاہئیے کہ ان چوکھٹوں کی خوب دیکھ بھال کیا کریں ____
اور الله کا شکر ادا کیا کریں..
" اب تو گھر کا دروازه لگوادیں، کب تک اس لٹکے پردے کے پیچھے رہنا پڑے گا__
اور ہاں! اب تو پرده بھی پرانا ہو کر پھٹ گیا ہے مجھے خوف ہے کہیں چور ہی گھر میں نہ گھس جائے"
شوہر مسکراتے هوئے جواب دیتا : میرے ہوتے ہوئے بھلا تمهیں کیا خوف؟ فکر نہ کرو میں ہوں نا تمهاری چوکھٹ" _______
غرض کئی سال اس طرح کے بحث ومباحثے میں گزر گئے، ایک دن بیوی نے انتہائی اصرار کیا کہ گھر کا دروازه لگوادو__
بالآخر شوہر کو ہار ماننا پڑی اور اس نے ایک اچھا سا درازه لگا دیا.اب بیوی کا خوف کم ہوا اور شوہر کے مزدوری پر جانے کے بعد گھر میں خود کو محفوظ تصور کرنے لگی___
ابھی کچھ سال گزرے تھے کہ اچانک شوہر کا انتقال ہوگیا
اور گھر کا چراغ بجھ گیا، عورت گھر کا دروازه بند کیے پورا دن کمرے میں بیٹھی رہتی،
ایک رات اچانک چور دیوار پھلانگ کر گھر میں داخل ہو گیا اس کے کودنے کی آواز پر عورت کی آنکھ کھل گئی،اس نے شور مچایا.محلے کے لوگ آگئے،اور چور کو پکڑ لیا.جب دیکھا تو معلوم ہوا کہ وه چور پڑوسی ہے _____
اس وقت عورت کو احساس ہوا کہ چور کے آنے میں اصل رکاوٹ دروازه نہیں میرا شوہر تھا اس چوکھٹ سے زیاده مضبوط وه چوکھٹ(شوہر) تھی ____!
شوہر میں لاکھ عیب ہوں لیکن حقیقت بھی ہے کہ مضبوط چوکھٹ یهی شوہر ہی ہیں ، شادی شده ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کو چاہئیے کہ ان چوکھٹوں کی خوب دیکھ بھال کیا کریں ____
اور الله کا شکر ادا کیا کریں..
Wednesday, November 6, 2019
بادشاہ کے کُتے
کسی زمانے میں ایک بادشاہ تھا جس نے دس جنگلی کتے پالے ہوئے تھے, اس کے وزیروں میں سے جب بھی کوئی وزیر غلطی کرتا بادشاہ اسے ان کتوں کے آگے پھنکوا دیتا کتے اس کی بوٹیاں نوچ نوچ کر مار دیتے-
ایک بار بادشاہ کے ایک خاص وزیر نے بادشاہ کو غلط مشورہ دے دیا جو بادشاہ کو بلکل پسند نہیں آیا اس نے فیصلہ سنایا کہ وزیر کو کتوں کے آگے پھینک دیا جائے-
وزیر نے بادشاہ سے التجا کی کہ حضور میں نے دس سال آپ کی خدمت میں دن رات ایک کئے ہیں اور آپ ایک غلطی پر مجھے اتنی بڑی سزا دے رہے ہیں, آپ کا حکم سر آنکھوں پر لیکن میری بےلوث خدمت کے عوض مجھے آپ صرف دس دنوں کی مہلت دیں پھر بلاشبہ مجھے کتوں میں پھنکوا دیں-
بادشاہ یہ سن کر دس دن کی مہلت دینے پر راضی ہو گیا-
وزیر وہاں سے سیدھا رکھوالے کے پاس گیا جو ان کتوں کی حفاظت پر مامور تھا اور جا کر کہا مجھے دس دن ان کتوں کے ساتھ گزارنے ہیں اور ان کی مکمل رکھوالی میں کرونگا, رکھوالا وزیر کے اس فیصلے کو سن کر چونکا لیکن پھر اجازت دے دی-
ان دس دنوں میں وزیر نے کتوں کے کھانے پینے, اوڑھنے بچھونے, نہلانے تک کے سارے کام اپنے ذمے لیکر نہایت ہی تندہی کے ساتھ سر انجام دیئے-
دس دن مکمل ہوئے بادشاہ نے اپنے پیادوں سے وزیر کو کتوں میں پھنکوایا لیکن وہاں کھڑا ہر شخص اس منظر کو دیکھ کر حیران ہوا کہ آج تک نجانے کتنے ہی وزیر ان کتوں کے نوچنے سے اپنی جان گنوا بیٹھے آج یہی کتے اس وزیر کے پیروں کو چاٹ رہے ہیں-
بادشاہ یہ سب دیکھ کر حیران ہوا اور پوچھا کیا ہوا آج ان کتوں کو ؟
وزیر نے جواب دیا, بادشاہ سلامت میں آپ کو یہی دکھانا چاہتا تھا میں نے صرف دس دن ان کتوں کی خدمت کی اور یہ میرے ان دس دنوں میں کئے گئے احسانات بھول نہیں پا رہے, اور یہاں اپنی زندگی کے دس سال آپ کی خدمت کرنے میں دن رات ایک کر دیئے لیکن آپ نے میری ایک غلطی پر میری ساری زندگی کی خدمت گزاری کو پس پشت ڈال دیا......!
بادشاہ کو شدت سے اپنی غلطی کا احساس ہوا,
.
.
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
.
اس نے وزیر کو اٹھوا کر مگرمچھوں کے تالاب میں پھنکوا دیا-
ایک بار بادشاہ کے ایک خاص وزیر نے بادشاہ کو غلط مشورہ دے دیا جو بادشاہ کو بلکل پسند نہیں آیا اس نے فیصلہ سنایا کہ وزیر کو کتوں کے آگے پھینک دیا جائے-
وزیر نے بادشاہ سے التجا کی کہ حضور میں نے دس سال آپ کی خدمت میں دن رات ایک کئے ہیں اور آپ ایک غلطی پر مجھے اتنی بڑی سزا دے رہے ہیں, آپ کا حکم سر آنکھوں پر لیکن میری بےلوث خدمت کے عوض مجھے آپ صرف دس دنوں کی مہلت دیں پھر بلاشبہ مجھے کتوں میں پھنکوا دیں-
بادشاہ یہ سن کر دس دن کی مہلت دینے پر راضی ہو گیا-
وزیر وہاں سے سیدھا رکھوالے کے پاس گیا جو ان کتوں کی حفاظت پر مامور تھا اور جا کر کہا مجھے دس دن ان کتوں کے ساتھ گزارنے ہیں اور ان کی مکمل رکھوالی میں کرونگا, رکھوالا وزیر کے اس فیصلے کو سن کر چونکا لیکن پھر اجازت دے دی-
ان دس دنوں میں وزیر نے کتوں کے کھانے پینے, اوڑھنے بچھونے, نہلانے تک کے سارے کام اپنے ذمے لیکر نہایت ہی تندہی کے ساتھ سر انجام دیئے-
دس دن مکمل ہوئے بادشاہ نے اپنے پیادوں سے وزیر کو کتوں میں پھنکوایا لیکن وہاں کھڑا ہر شخص اس منظر کو دیکھ کر حیران ہوا کہ آج تک نجانے کتنے ہی وزیر ان کتوں کے نوچنے سے اپنی جان گنوا بیٹھے آج یہی کتے اس وزیر کے پیروں کو چاٹ رہے ہیں-
بادشاہ یہ سب دیکھ کر حیران ہوا اور پوچھا کیا ہوا آج ان کتوں کو ؟
وزیر نے جواب دیا, بادشاہ سلامت میں آپ کو یہی دکھانا چاہتا تھا میں نے صرف دس دن ان کتوں کی خدمت کی اور یہ میرے ان دس دنوں میں کئے گئے احسانات بھول نہیں پا رہے, اور یہاں اپنی زندگی کے دس سال آپ کی خدمت کرنے میں دن رات ایک کر دیئے لیکن آپ نے میری ایک غلطی پر میری ساری زندگی کی خدمت گزاری کو پس پشت ڈال دیا......!
بادشاہ کو شدت سے اپنی غلطی کا احساس ہوا,
.
.
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
.
اس نے وزیر کو اٹھوا کر مگرمچھوں کے تالاب میں پھنکوا دیا-
Friday, November 1, 2019
آسمان کی آفتیں
آسمان کی آفتیں
خلیفہ ہارون الرشید عباسی خاندان کا پانچواں خلیفہ تھا‘ عباسیوں نے طویل عرصے تک اسلامی دنیا پر حکومت کی لیکن ان میں سے شہرت صرف ہارون الرشید کو نصیب ہوئی۔ ہارون الرشید کے دور میں ایک بار بہت بڑا قحط پڑ گیا۔ اس قحط کے اثرات سمرقند سے لے کر بغداد تک اور کوفہ سے لے کر مراکش تک ظاہر ہونے لگے۔ ہارون الرشید نے اس قحط سے نمٹنے کیلئے تمام تدبیریں آزمالیں‘اس نے غلے کے گودام کھول دئیے‘ٹیکس معاف کر دئیے‘ پوری سلطنت میں سرکاری لنگر خانے قائم کر دئیے اور تمام امراءاور تاجروں کو متاثرین کی مدد کیلئے متحرک کر دیا لیکن اس کے باوجود عوام کے حالات ٹھیک نہ ہوئے۔ ایک رات ہارون الرشید شدید بہت پریشانی کے عالم میں تھا‘ اسے نیند نہیں آ رہی تھی‘ پریشانی کے اس عالم میں اس نے اپنے وزیراعظم یحییٰ بن خالد کو طلب کیا‘ یحییٰ بن خالد ہارون الرشید کےاستاد بھی تھے۔اس نے بچپن سے بادشاہ کی تربیت کی تھی۔ ہارون الرشید نے یحییٰ خالد سے کہا ”استادمحترم آپ مجھے کوئی ایسی کہانی‘ کوئی ایسی داستان سنائیں جسے سن کر مجھے قرار آ جائے“ یحییٰ بن خالدمسکرائے اور عرض کیا ”بادشاہ سلامت میں نے اللّٰہ کے کسی نبی کی حیات طیبہ میں ایک داستان پڑھی تھی‘ یہ داستان مقدر‘ قسمت اور اللّٰہ کی رضا کی سب سے بڑی اور شاندار تشریح ہے۔ آپ اگر ۔۔اجازت دیں تو میں وہ داستان آپ کے سامنے دہرادوں“ بادشاہ نے بے چینی سے فرمایا ”یا استاد فوراً فرمائیے۔ میری جان حلق میں اٹک رہی ہے“ یحییٰ خالد نے عرض کیا ” کسی جنگل میں ایک بندریا سفر کیلئے روانہ ہونے لگی‘ اس کا ایک بچہ تھا‘ وہ بچے کو ساتھ نہیں لے جا سکتی تھی چنانچہ وہ شیر کے پاس گئی اور اس سے عرض کیا ”جناب آپ جنگل کے بادشاہ ہیں‘ میں سفر پر روانہ ہونے لگی ہوں‘ میری خواہش ہےکہ آپ میرے بچے کی حفاظت اپنے ذمے لے لیں“ شیر نے حامی بھر لی‘بندریا نے اپنا بچہ شیر کے حوالے کر دیا‘ شیر نے بچہ اپنے کندھے پر بٹھا لیا‘ بندریا سفر پر روانہ ہوگئی‘ اب شیر روزانہ بندریا کے بچے کو کندھے پر بٹھاتا اور جنگل میں اپنے روزمرہ کے کام کرتا رہتا۔ ایک دن وہ جنگل میں گھوم رہا تھا کہ اچانک آسمان سے ایک چیل نے بچے پر جھپٹنے کی غرض سے زرا نیچے اڑن بھری‘ شیر کے قریب پہنچی‘ بندریا کا بچہ اٹھایا اور آسمان میں گم ہو گئی‘ شیر جنگل میں بھاگا دوڑا لیکن وہ چیل کو نہ پکڑ سکا“یحییٰ خالدرکے‘ انہوں نے سانس لیا اور خلیفہ ہارون الرشید سے عرض کیا ”بادشاہ سلامت چند دن بعد بندریا واپس آئی اور شیر سے اپنے بچے کا مطالبہ کر دیا۔ شیر نے شرمندگی سے جواب دیا‘تمہارا بچہ تو چیل لے گئی ہے‘ بندریا کو غصہ آگیا اور اس نے چلا کر کہا ”تم کیسے بادشاہ ہو❓‘ تم ایک امانت کی حفاظت نہیں کر سکے‘ تم اس سارے جنگل کا نظام کیسے چلاﺅ گے❓“ شیر نے افسوس سے سر ہلایا اور بولا ”میں زمین کا بادشاہ ہوں‘اگر زمین سے کوئی آفت تمہارے بچے کی طرف بڑھتی تو میں اسے روک لیتا لیکن یہ آفت آسمان سے اتری تھی اور آسمان کی آفتیں صرف اور صرف آسمان والا روک سکتا ہے“۔ یہ کہانی سنانے کے بعد یحییٰ بن خالد نے ہارون الرشید سے عرض کیا ”بادشاہ سلامت قحط کی یہ آفت بھی اگر زمین سے نکلی ہوتی تو آپ اسے روک لیتے‘ یہ آسمان کا عذاب ہے‘ اسے صرف اللّٰہ تعالیٰ ہی روک سکتا ہے چنانچہ آپ اسے رکوانے کیلئے بادشاہ نہ بنیں‘ فقیر بنیں‘ یہ آفت رک جائے گی“۔دنیا میں آفتیں دو قسم کی ہوتی ہیں‘ آسمانی مصیبتیں اور زمینی آفتیں۔ آسمانی آفت سے بچے کیلئے اللّٰہ تعالیٰ کا راضی ہونا ضروری ہوتا ہے جبکہ زمینی آفت سے بچاﺅ کیلئے انسانوں کامتحد ہونا‘ وسائل کا بھر پور استعمال اور حکمرانوں کا اخلاص درکار ہوتا ہے۔یحییٰ بن خالد نے ہارون الرشید کو کہا تھا ”بادشاہ سلامت آسمانی آفتیں اس وقت تک ختم نہیں ہوتیں جب تک انسان اپنے رب کو راضی نہیں کر لیتا‘آپ اس آفت کامقابلہ بادشاہ بن کر نہیں کر سکیں گے چنانچہ آپ فقیر بن جائیے۔ اللّٰہ کے حضور گر جائیے‘ اس سے توبہ کیجئے‘ اس سے مدد مانگیے“۔ دنیا کے تمام مسائل اوران کے حل کے درمیان صرف اتنا فاصلہ ہوتا ہے جتنا ماتھے اور جائے نماز میں ہوتا ہے لیکن افسوس ہم اپنے مسائل کے حل کیلئے سات سمندر پار تو جا سکتے ہیں لیکن ماتھے اور جائے نماز کے درمیان موجود چند انچ کا فاصلہ طے نہیں کر سکتے۔
خلیفہ ہارون الرشید عباسی خاندان کا پانچواں خلیفہ تھا‘ عباسیوں نے طویل عرصے تک اسلامی دنیا پر حکومت کی لیکن ان میں سے شہرت صرف ہارون الرشید کو نصیب ہوئی۔ ہارون الرشید کے دور میں ایک بار بہت بڑا قحط پڑ گیا۔ اس قحط کے اثرات سمرقند سے لے کر بغداد تک اور کوفہ سے لے کر مراکش تک ظاہر ہونے لگے۔ ہارون الرشید نے اس قحط سے نمٹنے کیلئے تمام تدبیریں آزمالیں‘اس نے غلے کے گودام کھول دئیے‘ٹیکس معاف کر دئیے‘ پوری سلطنت میں سرکاری لنگر خانے قائم کر دئیے اور تمام امراءاور تاجروں کو متاثرین کی مدد کیلئے متحرک کر دیا لیکن اس کے باوجود عوام کے حالات ٹھیک نہ ہوئے۔ ایک رات ہارون الرشید شدید بہت پریشانی کے عالم میں تھا‘ اسے نیند نہیں آ رہی تھی‘ پریشانی کے اس عالم میں اس نے اپنے وزیراعظم یحییٰ بن خالد کو طلب کیا‘ یحییٰ بن خالد ہارون الرشید کےاستاد بھی تھے۔اس نے بچپن سے بادشاہ کی تربیت کی تھی۔ ہارون الرشید نے یحییٰ خالد سے کہا ”استادمحترم آپ مجھے کوئی ایسی کہانی‘ کوئی ایسی داستان سنائیں جسے سن کر مجھے قرار آ جائے“ یحییٰ بن خالدمسکرائے اور عرض کیا ”بادشاہ سلامت میں نے اللّٰہ کے کسی نبی کی حیات طیبہ میں ایک داستان پڑھی تھی‘ یہ داستان مقدر‘ قسمت اور اللّٰہ کی رضا کی سب سے بڑی اور شاندار تشریح ہے۔ آپ اگر ۔۔اجازت دیں تو میں وہ داستان آپ کے سامنے دہرادوں“ بادشاہ نے بے چینی سے فرمایا ”یا استاد فوراً فرمائیے۔ میری جان حلق میں اٹک رہی ہے“ یحییٰ خالد نے عرض کیا ” کسی جنگل میں ایک بندریا سفر کیلئے روانہ ہونے لگی‘ اس کا ایک بچہ تھا‘ وہ بچے کو ساتھ نہیں لے جا سکتی تھی چنانچہ وہ شیر کے پاس گئی اور اس سے عرض کیا ”جناب آپ جنگل کے بادشاہ ہیں‘ میں سفر پر روانہ ہونے لگی ہوں‘ میری خواہش ہےکہ آپ میرے بچے کی حفاظت اپنے ذمے لے لیں“ شیر نے حامی بھر لی‘بندریا نے اپنا بچہ شیر کے حوالے کر دیا‘ شیر نے بچہ اپنے کندھے پر بٹھا لیا‘ بندریا سفر پر روانہ ہوگئی‘ اب شیر روزانہ بندریا کے بچے کو کندھے پر بٹھاتا اور جنگل میں اپنے روزمرہ کے کام کرتا رہتا۔ ایک دن وہ جنگل میں گھوم رہا تھا کہ اچانک آسمان سے ایک چیل نے بچے پر جھپٹنے کی غرض سے زرا نیچے اڑن بھری‘ شیر کے قریب پہنچی‘ بندریا کا بچہ اٹھایا اور آسمان میں گم ہو گئی‘ شیر جنگل میں بھاگا دوڑا لیکن وہ چیل کو نہ پکڑ سکا“یحییٰ خالدرکے‘ انہوں نے سانس لیا اور خلیفہ ہارون الرشید سے عرض کیا ”بادشاہ سلامت چند دن بعد بندریا واپس آئی اور شیر سے اپنے بچے کا مطالبہ کر دیا۔ شیر نے شرمندگی سے جواب دیا‘تمہارا بچہ تو چیل لے گئی ہے‘ بندریا کو غصہ آگیا اور اس نے چلا کر کہا ”تم کیسے بادشاہ ہو❓‘ تم ایک امانت کی حفاظت نہیں کر سکے‘ تم اس سارے جنگل کا نظام کیسے چلاﺅ گے❓“ شیر نے افسوس سے سر ہلایا اور بولا ”میں زمین کا بادشاہ ہوں‘اگر زمین سے کوئی آفت تمہارے بچے کی طرف بڑھتی تو میں اسے روک لیتا لیکن یہ آفت آسمان سے اتری تھی اور آسمان کی آفتیں صرف اور صرف آسمان والا روک سکتا ہے“۔ یہ کہانی سنانے کے بعد یحییٰ بن خالد نے ہارون الرشید سے عرض کیا ”بادشاہ سلامت قحط کی یہ آفت بھی اگر زمین سے نکلی ہوتی تو آپ اسے روک لیتے‘ یہ آسمان کا عذاب ہے‘ اسے صرف اللّٰہ تعالیٰ ہی روک سکتا ہے چنانچہ آپ اسے رکوانے کیلئے بادشاہ نہ بنیں‘ فقیر بنیں‘ یہ آفت رک جائے گی“۔دنیا میں آفتیں دو قسم کی ہوتی ہیں‘ آسمانی مصیبتیں اور زمینی آفتیں۔ آسمانی آفت سے بچے کیلئے اللّٰہ تعالیٰ کا راضی ہونا ضروری ہوتا ہے جبکہ زمینی آفت سے بچاﺅ کیلئے انسانوں کامتحد ہونا‘ وسائل کا بھر پور استعمال اور حکمرانوں کا اخلاص درکار ہوتا ہے۔یحییٰ بن خالد نے ہارون الرشید کو کہا تھا ”بادشاہ سلامت آسمانی آفتیں اس وقت تک ختم نہیں ہوتیں جب تک انسان اپنے رب کو راضی نہیں کر لیتا‘آپ اس آفت کامقابلہ بادشاہ بن کر نہیں کر سکیں گے چنانچہ آپ فقیر بن جائیے۔ اللّٰہ کے حضور گر جائیے‘ اس سے توبہ کیجئے‘ اس سے مدد مانگیے“۔ دنیا کے تمام مسائل اوران کے حل کے درمیان صرف اتنا فاصلہ ہوتا ہے جتنا ماتھے اور جائے نماز میں ہوتا ہے لیکن افسوس ہم اپنے مسائل کے حل کیلئے سات سمندر پار تو جا سکتے ہیں لیکن ماتھے اور جائے نماز کے درمیان موجود چند انچ کا فاصلہ طے نہیں کر سکتے۔
Subscribe to:
Posts (Atom)







