Thursday, October 31, 2019

لکیریں

انسانی جسم کی انگلیوں میں لکیریں جب نمودار ہونے لگتی ہیں, جب انسان ماں کے شکم میں 4 ماہ تک پہنچتا ہے یہ لکیریں ایک ریڈیائی
لہر کی صورت میں گوشت پر بننا شروع ہوتی ہیں ان لہروں کو بھی پیغامات ڈی۔۔این۔۔اے دیتا ہے مگر حیرت کی بات یہ ہے کہ پڑنے والی لکیریں کسی صورت بھی اس بچے کے جد امجد اور دیگر روئے ارض پر موجود انسانوں سے میل نہیں کھاتیں گویا لکیریں بنانے والا اس قدر دانا اور حکمت رکھتا ہے کہ وہ کھربوں کی تعداد میں انسان جو اس دنیا میں ہیں اور جو دنیا میں نہیں رہے ان کی انگلیوں میں موجود لکیروں کی ساخت اور ان کے ایک, ایک ڈیزائن (نمونے) سے باخبر ہے یہی وجہ ہے کہ وہ ہر بار ایک نئے انداز کا ڈیزائن (نقشہ) اس کی انگلیوں پر نقش کر کے یہ ثابت کرتا ہے ۔۔۔۔۔
کہ ہے........
کوئی مجھ جیسا نقش کار ؟؟؟

کوئی ہے مجھ جیسا کاریگر ؟؟؟

کوئی ہے مجھ جیسا آرٹسٹ ؟؟؟

کوئی ہے مجھ جیسا مصور ؟؟؟

کوئی ہے مجھ جیسا تخلیق کار ؟؟؟
حیرانگی کی انتہاء تو اس بات پر ختم ہوجاتی ہے کہ اگر جلنے, زخم لگنے یا کسی وجوہات کی بنیاد پر یہ فنگر پرنٹ (انگلی کے نشان) مٹ بھی جائے تو دوبارہ ہو بہو وہی لکیریں جن میں ایک خلیے کی بھی کمی بیشی نہیں ہوتی ظاہر ہو جاتی ہیں ۔۔۔ پس ہم پر کھلتا ہے کہ پوری دنیا بھی جمع ہو کر انسانی انگلی پر کسی وجوہات کی بنیاد پر مٹ جانے والی ایک فنگر پرنٹ نہیں بنا سکتی تو جو چیز لاکھوں سائنسدانوں کی کوششوں سے نہیں بن پا رہی وہ خود سے کیسے بن سکتی ہے۔۔۔۔؟؟



میں تمھیں طلاق دینا چاہتا ہوں

میں تمہیں طلاق دینا چاہتا ہوں

میز پہ کھانا لگاتے ہوئے اسکا پورا دھیان پلیٹیں سجانے میں تھا اور میری آنکھیں اسکے چہرے پہ جمی تھیں۔ میں نے آہستگی سے اسکا ہاتھ تھاما تو وہ چونک سی گئی
"میں تم سے ایک ضروری بات کرنا چاہتا ہوں" کافی ہمت جتانے کے بعد بلآخر میرے منہ سے نکلا
وہ چپ چاپ کرسی پہ بیٹھ گئی، اسکی نگاہیں چاہے میز پہ مرکوز تھیں پر ان میں سے اٹھتا درد میں بخوبی محسوس کررہا تھا۔
ایک پل کے لیے میری زبان پہ تالہ سا لگ گیا پر جو میرے دماغ میں چل رہا تھا اسے بتانا بہت ضروری تھا۔
"میں تمہیں طلاق دینا چاہتا ہوں۔۔۔۔" میری آنکھیں جھک گئیں
میری امید کے برعکس اس نے کسی قسم کی حیرانی یا پریشانی کا اظہار نہ کیا بس نرم لہجے میں اتنا پوچھا
"کیوں۔۔۔۔۔؟"
میں نے اسکا سوال نظرانداز کیا۔ اسے میرا یہ رویہ گراں گزرا۔ ہاتھ میں پکڑا چمچ فرش پہ پھینک کے وہ چلانے لگی اور یہ کہہ کے وہاں سے اٹھ گئی کہ
"تم مرد نہیں ہو۔۔۔"
رات بھر ہم دونوں نے ایکدوسرے سے بات نہیں کی۔ وہ روتی رہی۔ میں جانتا تھا کہ اسکے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ آخر ہماری شادی کو ہوا کیا ہے۔۔۔ میرے پاس اس دینے کے لیے کوئی تسلی بخش جواب نہیں تھا۔ اسے کیا بتاتا کہ میرے دل میں اسکی جگہ اب کسی اور نے لے لی ہے۔۔۔ اب اسکے لیے میرے پاس محبت باقی نہیں رہی۔ مجھے اس پہ ترس تو بہت آرہا تھا اور ایک پچھتاوا بھی تھا۔ پر اب میں جو فیصلہ کر چکا تھا اس پہ ڈٹے رہنا ضروری تھا۔
طلاق کے کاغذات عدالت میں جمع کرانے سے پہلے میں نے اس کی ایک کاپی اسے تھمائی جس پہ لکھا تھا کہ وہ طلاق کے بعد گھر، گاڑی اور میرے ذاتی کاروبار کے 30 فیصد کی مالکن بن سکتی ہے۔
اس نے ایک نظر کاغذات پہ دوڑائی اور اگلے ہی لمحے اسکے ٹکڑے کرکے زمین پہ پھینک دیے۔ جس عورت کے ساتھ میں نے اپنی زندگی کے دس سال بتائے تھے وہ ایک پل میں اجنبی ہوگئی۔ مجھے افسوس تھا کہ اس نے اپنے انمول جذبات اور قیمتی لمحے مجھ پہ ضائع کیے پر میں بھی کیا کرتا میرے دل میں کوئی اور اس حد تک گھر کر چکا تھا کہ اس کھونے کا تصور ہی میرے لیے ناممکن تھا۔
بلآخر وہ ٹوٹ کے بکھری اور میرے سامنے ریزہ ریزہ ہوگئی۔ اسکی آنکھوں میں آنسوؤں کا سمندر امڈ آیا تھا۔ شائد یہی وہ چیز تھی جو اس طلاق کے بعد میں دیکھنا چاہتا تھا۔
اگلے روز پورا دن اپنی نئی محبت کے ساتھ بتا کے جب میں تھکا ہارا گھر پہنچا تو وہ میز پہ کاغذ پھیلائے کچھ لکھنے میں مصروف تھی۔ میں نے اس پہ کوئی دھیان نہ دیا اور جاتے ہی بستر پہ سو گیا۔ دیر رات جب میری آنکھ کھلی تو وہ تب بھی کچھ لکھ رہی تھی۔ اب بھی میں نے اس سے کوئی سوال نہیں کیا۔
صبح جب میں اٹھا تو اس نے طلاق کی کچھ شرائط میرے سامنے رکھ دیں۔ اسے میری دولت اور جائیداد میں سے کچھ نہیں چاہیے تھا۔ وہ بس ایک مہینہ مزید میرے ساتھ رہنا چاہتی تھی۔ اس ایک مہینے میں ہمیں اچھے میاں بیوی کی طرح رہنا تھا۔ اس شرط کی بہت بڑی وجہ ہمارا بیٹا تھا جسکے کچھ ہی دنوں میں امتحانات ہونیوالے تھے۔ والدین کی طلاق کا اسکی تعلیم پہ برا اثر نہ پڑے اس لیے میں اسکی یہ شرط ماننے کو بالکل تیار تھا۔
اسکی دوسری اور احمقانہ شرط یہ تھی کہ میں ہرصبح اسے اپنی باہوں میں اٹھا کے گھر کے دروازے تک چھوڑنے جاؤں۔ جیسا شادی کے ابتدائی دنوں میں مَیں کرتا تھا۔ وہ جب کام پہ باہر جانے لگتی تو میں خود اسے اپنی باہوں میں اٹھا کے دروازے تک چھوڑ آتا تھا۔ حالانکہ میں اسکی یہ بات ماننے کو تیار نہیں تھا لیکن ان آخری دنوں میں اسکا دل توڑنا مناسب نہیں لگ رہا تھا اس لیے میں نے یہ شرط بھی مان لی۔
اس کی ان شرائط کے بارے میں جب میں نے اپنی نئی محبت سے ذکر کیا تو وہ ہنس بولی
"وہ چاہے جو بھی کرلے ایک نہ ایک دن طلاق تو اسے ہونی ہی ہے"
میری بیوی اور میں نے اپنی طلاق کے معاملے سے متعلق کسی اور سے ذکر نہ کیا۔
شرط کے مطابق پہلے دن جب مجھے اسے اٹھا کے دروازے تک چھوڑنے جانا تھا تو وہ لمحات ہم دنوں کے لیے بے حد عجیب تھے۔ ہچکچاتے ہوئے میں نے اسے اٹھایا تو اس نے بھی اپنی آنکھیں بند کرلیں۔ اتنے میں تالیوں کی ایک گونج ہم دونوں کے کانوں میں پڑی
"پاپا نے ممی کو اٹھایا ہوا ہے۔۔۔۔۔ ہاہاہا" ہمارا بیٹا خوشی میں جھوم رہا تھا۔
اسکے الفاظوں سے میرے دل میں ایک درد سا اٹھا اور میری بیوی کی کیفیت بھی لگ بھگ میرے جیسی تھی۔
"پلیز۔۔۔ ! اسے طلاق کے بارے میں کچھ مت بتانا" وہ آہستگی سے بولی
میں نے جواباً سر ہلایا
اسے دروازے تک چھوڑ کے بعد میں اپنے آفس کی طرف نکل پڑا اور وہ بس سٹاپ کی طرف چل دی۔
اگلی صبح اسے اٹھانا میرے لیے قدرے آسان تھا، اور اسکی ہچکچاہٹ میں بھی کمی تھی۔ اس نے اپنا سر میری چھاتی سے لگا لیا۔ ایک عرصے بعد اسکے جسم کی خوشبو میرے حواس سے ٹکرائی۔ میں بغور اسکا جائزہ لینے لگا۔ چہرے کی گہری جھریاں اور سر کے بالوں میں اتری چاندی اس بات کی گواہ تھیں کہ اس نے اس شادی میں بہت کچھ کھویا ہے۔
چار دن مزید گزرے، جب میں نے اسے باہوں میں بھر کے سینے سے لگایا تو ہمارے بیچ کی وہ قربت جو کہیں کھو سی گئی تھی واپس لوٹنے لگی۔ پھر ہر گزرتے دن کے ساتھ قربت کے وہ جذبات بڑھتے گئے۔
لمحے دنوں کو پَر لگا کے اڑا لے گئے اور مہینہ پورا ہوگیا۔
اس آخری صبح میں جانے کے لیے تیار ہورہا تھا اور وہ بیڈ پہ کپڑے پھیلائے اس پریشانی میں مبتلا تھی کے آج کونسا لباس پہنے۔ کیوں کہ پرانے سارے لباس اسکے نحیف جسم پہ کھلے ہونے لگے تھے۔ اس وقت مجھے اندازہ ہوا کہ وہ کتنی کمزور ہوگئی ہے۔ شائد اسی لیے میں اسے آسانی سے اٹھا لیتا تھا۔ اسکی آنکھوں میں امڈتے درد کو دیکھ کے نہ چاہتے ہوئے بھی میں اسکے پاس چلا آیا اور اسکے کندھے پہ ہاتھ رکھا۔
"پاپا۔۔۔ ! ممی کو باہر گھمانے لے جائیں۔۔۔۔ " ہمارے بیٹے کی آواز میرے کانوں میں پڑی۔ اسکے خیال میں اس پل یہ ضروری تھا کہ میں کسی طرح اسکی ماں کا دل بہلاؤں۔
میری بیوی بیٹے کی طرف مڑی اور اسے سینے سے لگا لیا۔ یہ لمحہ مجھے کمزور نہ کردے یہ سوچ کے میں نے اپنا رخ موڑ لیا۔
آخری بار میں نے اسے اپنی باہوں میں اٹھایا اس نے بھی اپنے بازو میری گردن کے گرد حائل کردیے۔ میں نے اسے مظبوطی سے تھام لیا۔ میری آنکھوں کے سامنے شادی کا وہ دن گردش کرنے لگا جب پہلی بار میں اسے ایسے ہی اٹھا کے اپنے گھر لایا تھا اور وعدہ کیا تھا کہ مرتے دم تک ایسے ہی ہر روز اسے اپنے سینے سے لگا کے رکھوں گا۔ میرے قدم فرش سے شائد جم سے گئے تھے اسی لیے میں بامشکل دروازے تک پہنچا۔ اس نیچے اتارتے ہوئے میں نے اسکے کان میں سرگوشی کی
"شائد ہمارے درمیان قربت کی کمی تھی"
وہ میری آنکھوں میں دیکھنے لگی اور میں اسے وہیں چھوڑ کے اپنی گاڑی کی طرف بڑھا۔ تیز رفتار میں گاڑی چلاتے ہوئے بار بار ایک خوف میرے دل میں گھر کررہا تھا کہ کہیں میں کمزور نہ پڑ جاؤں، اپنا فیصلہ بدل نہ دوں۔ میں نے اس گھر کے دروازے پہ بریک لگائی جہاں نئی منزل میرا انتظار کررہی تھی۔ دروازہ کھلا اور وہ مسکراتے ہوئے میرے سامنے آئی
"مجھے معاف کردو۔ میں اپنی بیوی کو طلاق نہیں دے سکتا" میرے منہ سے نکلے یہ الفاظ اسکے لیے کسی دھماکے سے کم نہیں تھے۔ وہ میرے پاس آئی اور ماتھے پہ ہاتھ رکھ کے بولی
"شائد تمہاری طبیعت ٹھیک نہیں ہے یا پھر تم مذاق کررہے ہو"
"نہیں ۔۔۔ ! میں مذاق نہیں کررہا۔ شائد ہماری شادی شدہ زندگی بے رنگ ہوگئی ہے پر میرے دل میں اسکے لیے محبت اب بھی زندہ ہے۔ بس اتنا ہوا ہم ہر وہ چیز بھول گئے جو اس ساتھ کے لیے ضروری تھی۔ دیر سے سہی پر مجھے سب یاد آگیا ہے۔ اور ساتھ نبھانے کا وہ وعدہ بھی یاد ہے جو شادی کے پہلے دن میں نے اس سے کیا تھا"
نئے ہر بندھن کو توڑ کے بعد میں پرانے بندھن کو دوبارہ جوڑنے کے لیے واپس لوٹا۔ میرے ہاتھ میں پھولوں کا ایک گلدستہ تھا جس میں موجود پرچی پہ لکھا تھا
"میں ہر روز ایسے ہی تمہیں اپنی باہوں میں اٹھا کے دروازے تک چھوڑنے آؤں گا۔ صرف موت ہی مجھے ایسا کرنے سے روک سکتی ہے"
میں اپنے گھر میں داخل ہوا اور دوڑتے ہوئے سیڑھیاں چڑھنے لگا۔ میرے پاس اپنے بیوی کو دینے کے لیے زندگی کا سب سے بڑا تحفہ تھا۔
میں جب اس سے چند لمحوں کی دوری پہ تھا تبھی زندگی کی ڈور اسکے ہاتھوں سے سرک گئی۔
کئی مہینوں تک کینسر کی بیماری سے لڑتے لڑتے وہ ہار چکی تھی۔ نہ اس نے کبھی اپنی تکلیف کا مجھ سے ذکر کیا اور نہ ہی مصروف زندگی نے مجھے اس سے پوچھنے کا موقع دیا۔ جب اسے میری سب سے زیادہ ضرورت تھی تب میں کسی اور کے دل میں اپنے لیے محبت کھوج رہا تھا۔
وہ جانتی تھی کے اسکے پاس زیادہ وقت نہیں ہے۔ کہیں ایسا نہ ہو کے اسکی موت سے قبل طلاق کا اثر ہمارے بیٹے کے دل میں میرے لیے نفرت کا بیج بو دے۔ اس لیے بیتے ایک مہینے میں اس نے بیٹے کے سامنے انتہائی محبت کرنیوالے شوہر کا میرا روپ نقش کردیا۔۔۔ جو حقیقی تو نہیں تھا پر دائمی ضرور بن
یہ کہانی ان لوگوں کے لیے ہے جو اپنے بے رنگ رشتوں میں رنگ بھرنے کی بجائے ان سے دور بھاگنے کی کوشش کرتے ہیں۔
کئی بار یہ سمجھنے میں ہم دیر کر دیتے ہیں کہ نئے رشتے قائم کرنا زیادہ صحیح ہے یا پھر پرانے رشتوں میں رنگ بھرے جائیں۔۔۔۔؟ اسکا فیصلہ آپکے ہاتھ میں ضرور ہے لیکن ایسا نہ ہو کہ آپ وقت پہ فیصلہ نہ کر سکیں اور اس تاخیر میں ہاتھ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے خالی رہ جائیں۔ تو دیر مت کیجئے۔





زندگی کی حقیقت

پروفیسر نے ایک
 married
لڑکی کو کھڑا کیا
اور کہا کہ آپ بلیک بورڈ پہ ایسے 25- 30 لوگوں کے نام لکھو جو تمہیں سب سے زیادہ پیارے ہوں.
لڑکی نے پہلے تو اپنے خاندان کے لوگوں کے نام لکھے، پھر اپنے سگے رشتہ دار، دوستوں، پڑوسی اور ساتھیوں کے نام لکھ دیے ...
اب پروفیسر نے اس میں سے کوئی بھی کم پسند والے 5 نام مٹانے کے لیے کہا ...
لڑکی نے اپنے دوستوں کے نام مٹا دیے ..
پروفیسر نے اور 5 نام مٹانے کے لیے کہا ...
لڑکی نے تھوڑا سوچ کر اپنے پڑوسيو کے نام مٹا دیے ...
اب پروفیسر نے اور 10 نام مٹانے کے لیے کہا ...
لڑکی نے اپنے سگے رشتہ داروں کے نام مٹا دیے ...
اب بورڈ پر صرف 4 نام بچے تھے جو اس کے ممي- پاپا، شوہر اور بچے کا نام تھا ..
اب پروفیسر نے کہا اس میں سے اور 2 نام مٹا دو ...لڑکی کشمکش میں پڑ گئی بہت سوچنے کے بعد بہت دکھی ہوتے ہوئے اس نے اپنے ممي- پاپا کا نام مٹا دیا ...
تمام لوگ دنگ رہ گئے لیکن پرسکون تھے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ یہ کھیل صرف وہ لڑکی ہی نہیں کھیل رہی تھی بلکی ان کے دماغ میں بھی یہی سب چل رہا تھا.
اب صرف 2 ہی نام باقی تھے ..... شوہر اور بیٹے کا ...
پروفیسر نے کہا اور ایک نام مٹا دو ...
لڑکی اب سہمی سی رہ گئی ........ بہت سوچنے کے بعد روتے ہوئے اپنے بیٹے کا نام کاٹ دیا ...
پروفیسر نے اس لڑکی سے کہا تم اپنی جگہ پر جا کر بیٹھ جاؤ ... اور سب کی طرف غور سے دیکھا ..... اور پوچھا: کیا کوئی بتا سکتا ہےکہ ایسا کیوں ہوا کہ صرف شوہر کا ہی نام بورڈ پر رہ گیا.
سب خاموش رہے .
پھر پروفیسر نے اسی لڑکی سے پوچھا کہ اسکی کیا وجہ ھے؟
اس نے جواب دیا کہ میرا شوہر ہی مجھے میرے ماں باپ، بہن بھائی، حتا کے اپنے بیٹے سے بھی زیادہ عزیز ھے. وہ میرے ھر دکھ سکھ کا ساتھی ھے، میں اس ھر وہ بات شیئر کر سکتی ھوں جو میں اپنے بیٹے یا کسی سے بھی شیئر نہیں کر سکتی،
میں اپنی زندگی سے اپنا نام مٹا سکتی ھوں مگر اپنے شوہر کا نام کبھی نہیں مٹا سکتی.


کشمیری مجاہد کا آخری پیغام

#کشمیری_مجاہدکاآخری_پیغام
گھر کی چھوٹی سی چاردیواری کے اس پار کوئی چہل پہل ہو رہی تھی سب لوگ دم سادھے جاگ رہے تھے رات کے گیارہ بج کر 32 منٹ پہ بنافشے کے گھر کے صحن میں کوئی پتھر آ کر گھرا تھا
اسکی ماں جائے نماز سنبھالے بیٹھی تھی بابا صبح ہی کہیں روانہ ہو گئے تھے
"یا اللہ خیر"
اس کا دل دہل کر رہ گیا
پچھلے چار دنوں سے وہ. مکمل طور پہ گھروں میں بند تھے انتہائی ضرورت کی اشیاء کے لیے بھی باہر نہ جا سکتے تھے
یہ مقبوضہ کشمیر کا ایک قصبہ تھا اور بنافشے کے بابا ایک مقامی کالج میں پروفیسر تھے
لیکن . اس وقت وہ ماں بیٹی دونوں گھر میں اکیلی تھیں
"یا اللہ"
کچھ دیر بعد دوسرا کنکر پھینکا گیا
اس نے اپنے دونوں ہاتھوں سے اپنے سینے میں موجود یہ گوشت کا لوتھڑا قابو کرنے کی کوشش کی
ساتھ ہی بنا آواز کے چلتی دروازے کی جانب آئی ماں ابھی تک نماز میں سجدے کی حالت میں تھی
اس نے لوہے کا. بیلچہ نما اوزار اٹھا لیا جو سردیوں میں برف ہٹانے کے کام آتا تھا اور گرمیوں میں یونہی دیوار پہ لٹکا رہتا
(میں مر جاوں گی لیکن ان درندوں کو بھی زندہ نہیں چھوڑوں گی)
اس نے خود سے عہد کیا
"بنافشے"
کسی نے دبی آواز میں اسکا نام. پکارا
" رحیم¿"
اسکے لبوں سے بے اختیار پھسلا
"دروازہ کھولو"
دبی آواز میں حکم صادر کیا گیا
چند پل میں دروازہ کھل. کر. بند ہو چکا تھا اور رحیم اور بنافشے چاند کی مدھم روشنی میں برآمدے کی چھت تلے کھڑے تھے اندر جلتے چراغ کی ہلکی سی لو بھی باہر کا اندھیرا مٹانے میں ناکام تھی
"کیا ہوا تم ڈر گئی تھیں" اکیس سالہ. رحیم. کے تفکر زدہ. چہرے پہ. حیرت بھری مسکان دوڑ گئی
بنافشے بہت ڈری ہوئی لگ رہی تھی
ورنہ وہ تو شیر جیسا مزاج رکھتی تھی
ڈر اسکی گھٹی میں نہ تھا
مگر اب حالات ویسے نہ رہے تھے
"نن نہیں وہ بابا بھی گھر نہیں تھے تو اس لیے" وہ وضاحت بھی دے پائی
" ہاں صبح سنا تھا کہ وہ نکل گئے ہیں"
رحیم کو بھی اطلاع تھی
"کہاں گئے ہوں گے¿"
بنافشے لاعلم. تھی اسی لیے رحیم سے پوچھا وہ دونوں برآمدے کی سیڑھیوں پہ ایک فٹ پہ فاصلے پہ بیٹھ چکے تھے
"مرکز گئے ہوں گے"
رحیم نے ٹھنڈے لہجے میں جواب دیا
" تم تو یہی ہو نا"
پتہ. نہیں اس نے پوچھا تھا یا تسلی کرنی. چاہی
"نہیں میں بھی ابھی نکل رہا ہوں "
وہ اسے آخری. دفعہ. دیکھنے کے لیے آیا تھا
"کیا مطلب کیا تم. بھی جا رہے ہو¿"
یہ. بات حیران. ہونے والی. نہیں تھی مگر پھر بھی وہ حیران ہوئی بابا کے جانے کے بعد سے وہ صبح سے خود کو تسلیاں دے رہی تھی کہ کوئی بات نہیں بابا نہیں تو رحیم تو ہے نا وہ. کسی بری صورتحال میں انکی مدد کو ضرور پہنچے گا
"ہاں میں بھی جا رہا ہوں،، یہاں رکنے کا بھی تو فائدہ نہی"
وہ مایوسی سے سر جھٹک کر. بولا
"تو سید صاحب کے گھر میں کون. ہو گا"
رحیم. چند دوسرے مقامی. مجاہدین کے ساتھ سید صاحب کی. حفاظت پہ مامور دستے میں تھا اور وہ لوگ پچھلے کئ دنوں سے انکے گھر کے آس پاس ہی تھے تاکہ بوقت ضرورت موقع پہ پہنچ سکیں
" ہاں اب وہاں ضرورت نہیں ہے زیادہ لوگوں کی،،، یہ مردود انھیں گھر سے نکلنے نہیں دیں گے،،، پہلے ہمیں شک تھا کہ کہیں انھیں گرفتار نہ کر لیا جائے لیکن اب انکے گھر کے آگے ڈیڑھ دو سو سے زیادہ نفری کھڑی ہے اور وہ لوگ قریبی چوکی پہ اپنا سامان بھی لے آئے ہیں،، تو امید یہی ہے کہ انھیں ابھی گھر پر ہی نظر بند رکھا جائے گا"
اسکی آواز میں تھکاوٹ اور مایوسی تھی
" تو اب تم بھی چلے جاو گے¿
نا چاہتے ہوئے بھی آنسو اسکی آنکھوں میں جگمگانے لگے "
" ہاں ظاہری بات ہے یہاں بیٹھے رہنے کا کوئی فائدہ تو نہیں،، چند لڑکے ہیں یہاں ضرورت پڑنے پہ وہ پیغام پہنچا دیں گے"
" لیکن فون انٹرنیٹ تو بند ہے" بیرونی دنیا سے رابطہ کا کوئی زریعہ نہ تھا لینڈ لائن سے بھی شاذو نادر ہی کوئی کال. مل رہی تھی
" "ہاں اللہ کوئی نا کوئی بندو بست کر دے گا"
مطلب انکے پاس کوئی متبادل طریقہ تھا
وہ دانستہ اسے دیکھنے سے گریز کر رہا تھا
گلابی رنگت میں فکر کی زردیاں کھنڈی تھیں یہ چہرہ کبھی جدوجہد آزادی کی لگن سے چمکتا تھا اور رحیم اسے دیکھ کر سرشار ہو جاتا تھا آج اس جنت نظیر وادی کا ہر بچہ بچہ فکر مند تھا آنے والی رات پچھلی راتوں سے زیادہ سیاہ ہونے والی تھی یہ بات وہ جانتے تھے
"رحیم کیا ہم اسی طرح ختم ہوتے جائیں گے،، ہماری نسلیں یونہی تنہا لڑتے لڑتے دم. توڑ دیں گی"
رحیم. نے نگاہ کا زاویہ موڑ کر اسے دیکھا وہ اسے ہی دیکھ رہی تھی
رحیم نے مسکرانے کی کوشش کی مگر ناکام رہا
پچھلے چار دنوں میں ان گنت لوگ دفنائے جا چکے تھے اب تو جنازوں کا جلحساب بھی نہ لگایا جا رہا تھا
آزادی کی اس جدوجہد. کو روزانہ سیروں خون پہنچایا جا رہا تھا
"نہیں پگلی آج سے کشمیر کو آئینی طور پہ بھارت کا حصہ بنا دیا گیا،، اگلے چند مہینوں یا زیادہ سے زیادہ سالوں میں یہاں سہولیات اور رزق اس قدر وافر پہنچایا جائے گا کہ ہماری اگلی نسلیں آرام. پرست ہو جائیں گی پھر انھیں آزادی سے زیادہ زندگی سے پیار ہو گا،، وہ ہر قیمت پہ زندہ رہنا چا



اللہ نے مرد کی پسلی سے عورت کو پیدا کیا

‏مرد کی پسلی سے عورت کو بنا کے اللہ نے مرد کو اپنی اس حکمت کااشارہ دیا کہ میں نے عورت کی تخلیق فرشتوں کی لائی مٹی سے نھیں کی,میں نے اسے تمھارے جسم کے حصے سے اس لیے نکالا کہ عورت کا تقدس اورپردہ قائم رہے,فرشتوں کوبھی خبرنہ ہونے پائے کہ زمین کی لائی ہوئی کس مٹی سے عورت کی تخلیق ہوئی‏ یعنی عورت کے تقدس کی حد تو دیکھیں کہ فرشتوں سے بھی اسکی بناوٹ کا پردہ لازمی قرار دیا گیا ۔ اور پہلی عورت اسی مرد کی پسلی سے نکلی جس کی وہ منکوحہ کہلائی ۔ اب بات آتی پسلی کی کہ عورت پسلی سے ہی کیوں نکلی کیا ٹیڑھا پن وہاں سے ملا ؟ نہیں یہاں بھی حکمت سے خالی بات نہیں انسانی جسم میں‏ دل اور بہت سے نازک پارٹس پسلی کے پیچھے چھپے ہوئے ہیں یعنی پسلی ایک ڈھال ہے ان نازک پارٹس کے لیے ۔ تو اللہ پاک نے عورت کو پسلی سے نکال کے یہ نہیں بتایا کہ عورت میں ٹیڑھا پن ہے بلکہ اس نے عورت کی پسلی سے تخلیق کر کے یہ بات سمجھا دی کہ عورت وقت پڑنے پہ ڈھال بھی بن سکتی ہے...


Wednesday, October 30, 2019

اپریل فول کی درد ناک حقیقت

اپریل فول کی درد ناک حقیقت

جب عیسائی افواج نے اسپین کو فتح کیا تو اس وقت اسپین کی زمیں پر مسلمانوں کا اتنا خون بہا یا گیا کہ فاتح فوجکے گھوڑے جب گلیوں سے گزرتے تھے تو ان کی ٹانگیں گھٹنوں تک مسلمانوں کے خون میں ڈوبی ہوتے تھیں جب قابض افواج کو یقین ہوگیا کہ اب اسپین میں کوئی بھی مسلمان زندہ نہیں بچا ہے تو انہوں نے گرفتار مسلمان فرما روا کو یہ موقع دیا کہ وہ اپنے خاندان کےساتھ واپس مراکش چلا جائے جہاں سے اسکے آباؤ اجداد آئے تھے ،قابض افواج غرناطہ سے کوئی بیس کلومیٹر دور ایک پہاڑی پر اسے چھوڑ کر واپس چلی گئی جب عیسائی افواج مسلمان حکمرانوں کو اپنے ملک سے نکال چکیں تو حکومتی جاسوس گلی گلی گھومتے رہے کہ کوئی مسلمان نظر آئے تو اسے شہید کر دیا جائے ، جو مسلمان زندہ بچ گئے وہ اپنے علاقے چھوڑ کر دوسرے علاقوں میں جا بسے اور وہاں جا کر اپنے گلوں میں صلیبیں ڈال لیں اور عیسائی نام رکھ لئے، اب بظاہر اسپین میں کوئی مسلمان نظر نہیں آرہا تھا مگر اب بھی عیسائیوں کو یقین تھا کہ سارے مسلمان قتل نہیں ہوئے کچھ چھپ کر اور اپنی شناخت چھپا کر زندہ ہیں اب مسلمانوں کو باہر نکالنے کی ترکیبیں سوچی جانے لگیں اور پھر ایک منصوبہ بنایا گیا ۔ پورے ملک میں اعلان ہوا کہ یکم اپریل کو تمام مسلمان غرناطہ میں اکٹھے ہوجائیں تاکہ انہیں انکے ممالک بھیج دیا جائے جہاں وہ جانا چاہیں۔ اب چونکہ ملک میں امن قائم ہوچکا تھا اور مسلمانوں کو خود ظاہر ہونے میں کوئی خوف محسوس نہ ہوا ، مارچ کے پورے مہینے اعلانات ہوتے رہے ، الحمراء کے نزدیک بڑے بڑے میدانوں میں خیمے نصب کردیئے گئے جہاز آکر بندرگاہ پر لنگرانداز ہوتے رہے ، مسلمانوں کو ہر طریقے سے یقین دلایا گیا کہ انہیں کچھ نہیں کہا جائے گا جب مسلمانوں کو یقین ہوگیا کہ اب ہمارے ساتھ کچھ نہیں ہوگا تو وہ سب غرناطہ میں اکٹھے ہونا شروع ہوگئے اسی طرح حکومت نے تمام مسلمانوں کو ایک جگہ اکٹھا کرلیا اور انکی بڑی خاطر مدارت کی۔ یہ کوئی پانچ سو برس پہلے یکم اپریل کا دن تھا جب تمام مسلمانوں کو بحری جہاز میں بٹھا یا گیامسلمانوں کو اپنا وطن چھوڑتے ہوئے تکلیف ہورہی تھی مگر اطمینان تھا کہ چلو جان تو بچ جائے گی جان بچھی تو لاکھوں پاے، دوسری طرف عیسائی حکمران اپنے محلات میں جشن منانے لگے ،جرنیلوں نے مسلمانوں کو الوداع کیا اور جہاز وہاں سے چلے دیئے ، ان مسلمانوں میں بوڑھے، جوان ، خواتین ، بچے اور کئی ایک مریض بھی تھے جب جہاز سمندر کے عین وسط میں پہنچے تو منصوبہ بندی کے تحت انہیں گہرے پانی میں ڈبو دیا گیا اور یوں وہ تمام مسلمان سمندر میں ابدی نیند سو گئے۔ اس کے بعد اسپین میں خوب جشن منایا گیا کہ ہم نے کس طرح اپنے دشمنوں کو بیوقوف بنایا۔ پھر یہ دن اسپین کی سرحدوں سے نکل کر پورے یورپ میں فتح کا عظیم دن بن گیا اور اسے انگریزی میں First April Fool کا نام دیدیا گیا یعنی یکم اپریل کے بیوقوف ۔آج بھی عیسائی دنیا اس دن کی یاد بڑے اہتمام سے منائی جاتی ہے اور لوگوں کو جھوٹ بول کر بیوقوف بنایا جاتا ہے۔ اس رسم کے درج ذیل نقصانات ہیں

1.۔ دشمنوں کی خوشی میں شرکت کرنا
2.۔ نفاق میں ڈوب جاتا
3.۔ جھوٹ بولنا اور ہلاکت پانا
4.۔ اللہ کی ناراضگی پانا
5.۔ مسلمان بہن بھائیوں کی تباہی و بربادی کی خوشی منانا
6.۔ مسلمان بہن بھائیوں کو مصیبت میں ڈالنا
7.۔ دنیا و آخرت میں تباہی ہی تباہی ہے۔

اللہ آپ کو پڑھنے کی اور مجھے لکھنے کا جزا دیں آمین، —
کارکن اینی صفیں باندھ لیں پوسٹ ملتے ھی شئیر کر دیا کریں آپ کا Share  ہمارا پیغام لوگوں تک پہچانے میں بہت کاریگر ثابت ہوتی ہے.

مجھ سے کون اپنی لڑکی کا نکاح کر سکتا ہے !

حضرت شاہ شجاع کرمانی رحمتہ الله علیہ

شاہ کرمان نے آپ کی صاحبزادی کے ساتھ نکاح کرنے کا پیغام بھیجا تو آپ نے تین یوم کی مہلت طلب کی -

اور تین دنوں میں مسجد کے اطراف اس نیت سے چکر کاٹتے رہے کہ کوئی درویش کامل مل جائے تو میں اس سے اپنی  صاحبزادی کا نکاح کر دوں -

چنانچہ  تیسرے دن ایک بزرگ خلوص قلب کے ساتھ مسجد میں نماز ادا کرتے ہوئے مل گئے - تو آپ نے دریافت کیا کہ کیا تم نکاح کے خواہشمند ہو ؟

انھوں نے کہا کہ میں تو بہت مفلوک الحال ہوں -
مجھ سے کون اپنی لڑکی کا نکاح کر سکتا ہے -

لیکن آپ نے فرمایا کہ میں اپنی لڑکی تمہارے نکاح میں دیتا ہوں چنانچہ باہمی رضامندی سے نکاح ہوگیا -

اور صاحبزادی جب اپنے شوہر کے گھر پہنچیں تو دیکھا کہ ایک کونے میں پانی اور ایک ٹکڑا سوکھی ہوئے روٹی کا رکھا ہوا ہے

اور جب شوہر سے پوچھا کہ یہ کیا ہے تو انھوں نے کہا آدھا پانی اور آدھی روٹی کل کھا لی تھی اور آدھی آج کے لیے بچا رکھی تھی -

یہ سن کر جب بیوی نے اپنے والدین کے ہاں جانے کی خواھش کی تو شوھر نے کہا کہ میں تو پہلے ہی جانتا تھا کہ شاہی خاندان کی لڑکی  فقیر کے ساتھ گزارا نہیں کر سکتی -

لیکن بیوی نے جواب دیا کے یہ بات نہیں بلکہ میں تو اپنے والد کے ساتھ شکایت کرنا چاہتی ہوں کہ انھوں نے مجھ سے دعوه کیا تھا کہ میں تیرا نکاح  متقی سے کر رہا ہوں مگر اب مجھے معلوم ہوا کہ میرا نکاح تو ایسے شخص سے کر دیا گیا ہے جو خدا پر قانع نہیں اور دوسرے دن کا کھانا بچا کے رکھتا ہے

جو توکل کے قطعاً منافی ہے  لہٰذا اس گھر میں یا تو میں رہونگی یا روٹی رہے گی -

از حضرت شیخ فریدالدین عطار تذکرۃ الاولیاء صفحہ ١٩٥


محافظ


ساری بات ہی یہی ہے کہ  مختصراً
دیکھیں دشمن 3 چیزیں ہمارے دل و دماغ سے ختم کرنا چاہتا ہے اور اس کے لیے وہ اربوں ڈالر خرچ کر رہا ہے۔ کیوں اسے پتا ہے کہ یہ 3 چیزیں پاکستانیوں کے دلوں سے نکلیں گی تب ہی ہم پاکستان کو آسانی سے توڑ سکیں گے،یا پاکستانیوں کو برباد کر سکیں گے۔۔ (لیبیا، شام، عراق، فلسطین کی طرح)
1:- نظریہ پاکستان ہمارے دماغ سے نکالنا چاہتا ہے۔۔خاص کر نئی جنریشن کے دماغ سے۔ اور قوم پرستی بھرنا چاہتا ہے۔کیوں کہ یہی نظریہ ہمیں گلگت، کشمیر سے گوادر تک جوڑے ہوئے ہے۔
2:- افواج پاکستان سے دور کرنا چاہتا ہے۔ تاکہ یہ اپنی ہی فوج کے خلاف ہو جائیں تو پھر ان کو تباہ کرنا بہت آسان ہو جائے گا۔
3:- اتحاد ختم کرنا چاہتا ہے۔ توڑنا چاہتا ہے۔ صوبائیت لسانیت فرقہ پرستی اور قوم پرستی کو فروغ دینا چاہتا ہے۔ تاکہ یہ قوم آپس میں لڑ پڑے ریزہ ریزہ ہو جائے ایک دوسرے سے نفرت کرے تو پھر انہیں تباہ کرنا آسان تر ہو جائے گا۔۔۔
اور وہ مایوسی میں مبتلا کرنا چاہتا ہے پاکستانی قوم کو۔
یہ 3 کام وہ کچھ قوم پرستوں، کچھ سیاستدانوں اور کچھ ملاوں، کچھ صحافیوں کو خرید کر ان کے ذریعے کر کر رہا ہے۔ اور باقی سب سے زیادہ کام وہ سوشل میڈیا کے ذریعہ کر رہا ہے۔۔۔
ہم نے دشمن کے ان تینوں ٹارگٹس کے خلاف کام کرنا ہے۔
وہ۔نفرتیں بڑھانا چاہتا ہے ہمارے درمیان، ہم نے جواب میں محبتیں بانٹنی ہیں۔سارے گلے شکوے اختلافات بھلا کر ہر پاکستانی کو گلے لگانا ہے۔ ایک دوسرے کی غلط فہمیاں دور کرنی ہیں جو دشمن کی پیدا کردا ہیں۔
وہ نظریہ پاکستان ختم کرنا چاہتا ہے۔ہم نے جواب میں ہر در و دیوار پر نظریہ پاکستان کا پرچار کرنا ہے۔ سکولوں کالجوں میں نظریہ پاکستان پر باقاعدہ لیکچر دینے ہیں، ہر چھوٹی بڑی محفل میں نظریہ پاکستان اجاگر کرتے رہنا ہے۔کیوں صرف اسی نظریہ نے ہمیں گلگت سے لے کر گوارد تک آپس میں بھائیوں کی طرح جوڑ رکھا ہے۔
وہ جھوٹے پروپیگنڈے اور الزامات سے ہمارے دلوں سے افواج پاکستان کی محبت نکالنے کی کوشش میں ہے۔ ہم نے ہر جگہ پاک فوج سے یکجہتی اور محبت کا اظہار کرنا ہے۔کیوں کہ ہر مشکل وقت میں اللہ کے فضل سے پاک فوج نے ہی پاکستانیوں کی مدد کی اور حفاظت کی۔ دشمن ہماری گلی محلوں میں پہنچ چکا تھا جگہ جگہ دھماکے ہوتے تھے۔ ان فوجی جوانوں نے اپنے خون سے وہ آگ بجھائی اور آج ہم سکھ کا سانس لے رہے ہیں۔ اس کے علاوہ بھی قدم قدم پر فوج کے احسانات ہیں ہم پر۔
اور مایوسی گناہ ہے۔ ہم نے عوام کو مایوس نہیں ہونے دینا۔ ہر بری خبر کو چھپانا ہے۔ اور اچھی خبر کو بڑھا کر بیان کرنا ہے۔
رحمت خزانوں میں دیر ضرور ہے لیکن اندھیر نہیں ۔کبھی بھی رحمت کے دروازے کھل سکتے ہیں ہم پر۔۔
اللہ ہم سب کا پاک فوج کا اور پاکستان کا حامی و ناصر ہو ۔۔آمین!
اسلام اور پاکستان ہمیشہ زندہ باد۔


چھوٹی چھوٹی خوشیاں

* چند دن قبل میرے ایک جاننے والے کا ٹچ موبائل سواریوں والی گاڑی میں رہ گیا. انہوں نے کسی سے موبائل لے کر اپنے نمبر پر کال کی تو ڈرائیور نے کال ریسیو کی اور موبائل ایک دکان پر رکھوا دیا. انہوں نے جا کر وہاں سے لے لیا.

* میرا اپنا موبائل ایک دفعہ گم ہو گیا تھا. دوسرے نمبر سے کال کی تو ایک بندے نے کال ریسیو کی اور جگہ بتائی. وہاں جا کر ان سے موبائل وصول کر لیا.

* تقریباً بیس سال پہلے کی بات ہے کہ بارہ تیرہ سال کے تین بچوں کو کھیلتے ہوئے ایک انگوٹھی ملی. گھر جا کر دکھائی تو پتہ چلا کہ سونے کی اور اچھی بھلی قیمت کی ہے. والدین نے آس پاس کے گھروں میں بات کی تو مالک کا پتہ چل گیا. اسے انگوٹھی لوٹا دی. ( وہ بچے میں اور میرے دو کزن تھے. )

* تیرہ سال قبل کی بات ہے کہ میرا کمپیوٹر کا کچھ سامان رکشے میں رہ گیا. رکشے والے کو گھر نہ مل سکا تو اس نے وہ سامان اس دکان پر پہنچا دیا جس دکان سے میں نے کمپیوٹر اور سامان رکشے پر رکھا تھا.

* پچھلے سال میں کالج کے طلباء کے ساتھ ٹور پر اسلام آباد گیا. وہاں ایک مسجد میں نماز پڑھی تو ہمارے ایک ساتھی کی تقریباً چالیس ہزار کی قیمتی گھڑی وضو کرتے ہوئے وہاں رہ گئی. کافی وقت کے بعد اسے یاد آیا. ہم فورًا واپس گئے. ادھر کسی نے گھڑی اٹھا کر امام صاحب کو دے دی تھی. امام صاحب نے ہم سے نشانی پوچھ کر گھڑی ہمارے حوالے کر دی.

* ایک دفعہ میرا لیپ ٹاپ والا بیگ ایک دکان پر رہ گیا. تقریباً پچپن ہزار کا لیپ ٹاپ تھا. میں واپس گیا تو دکاندار نے بیگ سنبھال کر رکھا ہوا تھا.

* میں ایک دفعہ صبح صبح اپنی گاڑی مکینک کے پاس چھوڑ آیا. جب دوپہر جو گاڑی واپس لینے گیا تو اس نے صرف تین سو روپے مانگے. حالانکہ کام کی نوعیت دیکھتے ہوئے میرا اندازہ تھا کہ کم از کم تین چار ہزار کا بل بنے گا. جب میں نے حیرانگی سے پوچھا تو اس نے بتایا کہ معمولی سا نقص تھا اور صبح ہی تھوڑی دیر میں دور ہو گیا تھا. میں اس کی امانتداری سے بڑا متاثر ہوا کہ اگر وہ چاہتا تو دھوکہ دے کر تین چار ہزار روپے لے سکتا تھا.

* رات گیارہ بجے کے لگ بھگ بائیک اور ڈیمپر آمنے سامنے ٹکرا گئے. بائیک والا شدید زخمی ہو گیا. لوگوں نے فوراً اٹھایا اور ہسپتال لے گئے. بندے کی جان بچ گئی. ڈاکٹرز نے بتایا کہ اگر مریض کو لانے میں مزید کچھ دیر ہو جاتی اور خون مزید نکل جاتا تو مریض نہ بچ پاتا. یہ لورہ چوک ہری پور کا واقعہ ہے.

* دو بائیکس آمنے سامنے ٹکرا گئیں اور چار بندے شدید زخمی ہو گئے. لوگ انہیں فوراً اٹھا کر ہسپتال لے گئے. ان پر پاس سے خرچہ بھی کیا اور خون کی ضرورت پڑی تو خون بھی دیا. چاروں کی جان بچ گئی.

* ایک بندہ حادثے میں شدید زخمی ہو گیا. لوگ اٹھا کر ہسپتال لے گئے مگر انہوں نے دیکھنے سے انکار کر دیا. وہ لوگ اسے دوسرے شہر ایبٹ آباد لے گئے. پاس سے اچھا بھلا خرچہ بھی کیا، کافی سارا وقت بھی دیا اور اپنا خون تک دیا. حالانکہ ان میں سے کوئی بھی زخمی کو نہیں جانتا تھا.

* آخری رمضان کی بات ہے. گلگت سے اسلام آباد جاتی ہوئی کار کا سرائے صالح ہری پور میں حادثہ ہو گیا. گاڑی بالکل ٹوٹ گئی مگر اللہ نے سواریوں کو بچا لیا. مقامی سات آٹھ افراد اس وقت تک ان کی مدد میں لگے رہے، جب تک ان کے سارے معاملات حل نہیں ہو گئے.

* میرے ایک جاننے والے کا اپنی غلطی سے حادثہ ہو گیا. دو دن بعد ہوش آیا. ڈاکٹروں نے بتایا کہ آپ کو کچھ لوگ بروقت ہسپتال لے آئے تھے اور آپ کے علاج کے لیے بیس ہزار روپے بھی دے گئے. میرے جاننے والے کی بعد میں اپنے ان محسنوں سے کبھی بھی ملاقات تک نہیں ہوئی.

* بائیک گاڑی سے ٹکرا گئی. گاڑی والے کی کوئی غلطی بھی بھی نہیں تھی. مگر اس نے اپنی قیمتی گاڑی ادھر ہی چھوڑی اور بائیک والے کو دوسری گاڑی میں ڈال کر ہسپتال لے گیا. زخمی بہت سیریس تھا. مگر بروقت طبی امداد ملنے سے اس کی جان بچ گئی. اسے تقریباً دس دن بعد ہوش آیا. اس دوران گاڑی والے بندے مسلسل اس کے ساتھ رہے اور اس کا لاکھوں روپے کا خرچہ بھی برداشت کیا. حالانکہ ان بیچاروں کی کسی قسم کی کوئی غلطی نہیں تھی. اور نہ ہی کسی نے انہیں ایسا کرنے پر مجبور کیا تھا. انہوں نے یہ سب محض انسانی ہمدردی سے کیا.

یقین مانیں کہ یہ ان ہزاروں میں سے صرف چند واقعات ہیں جن سے میں خود ذاتی طور پر واقف ہوں. ایسے سینکڑوں واقعات پاکستان میں روزانہ رونما ہوتے ہیں مگر ان کو کبھی بھی نمایاں نہیں کیا جاتا. ان کی کوئی کوریج بھی نہیں ہوتی. اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم اور ہمارا میڈیا صرف منفی کو دیکھنے، سننے اور بولنے کے اتنے عادی ہو چکے ہیں کہ ہمیں مثبت میں بھی منفی نظر آنے لگتا ہے.

ہمارے میڈیا نے پاکستان کی عوام کے صرف منفی پہلو دکھا دکھا کر لوگوں کے دل و دماغ میں منفیت بھر دی ہے، لہذا ہم ہر چیز کو اسی منفیت کی عینک سے دیکھتے ہیں اور دنیا بھی یہی سمجھتی ہے کہ یہ ہر خوبی سے محروم قوم ہے. حالانکہ جتنا دوسروں کی مدد کا جذبہ اس قوم میں ہے شاید ہی کسی دوسری قوم میں ہو. بس انہیں شعور دلانے، حوصلہ افزائی کرنے اور صحیح رخ پر چلانے کی ضرورت ہے.

مجھے معلوم ہے کہ بعض اوقات اس کے برعکس واقعات بھی وقوع پذیر ہوتے ہیں مگر میں ان کا ذکر نہیں کر رہا. کیونکہ ان کا دن رات اور ہر وقت ذکر کرنے کے لیے ہمارا میڈیا اور دیگر بہت سارے حضرات پہلے سے ہی موجود ہیں.




وادی ء نلتر

وادیء نلتر
آل ان ون
ایک کمپلیٹ پیکج
یہ وادی گلگت بلتستان کےشمال مغربی حصے پر مشتمل ہےجس میں نلتر پائین، بِژگیری، نلتر بالا اور بنگلہ کے خوبصورت گاؤں، مقامات ہیں ۔ یہ علاقہ چھدرے جنگلات، برفیلی چوٹیوں، تندوتیز شور مچاتےچشموں اور پانچ دلکش جھیلوں کی سر زمین ہے۔  یہاں کی جنگلی حیات کی خصوصیت یہاں کے snow leopard اور مارخور ہیں ۔   یہاں پر گلگت بلتستان کی سب سے بڑی چئیر لفٹ اور بہترین ski slope موجود ہے جہاں 2016 میں ایک انٹرنیشنل اسکیٹنگ کپ قراقرم الپائن سکای کپ کے نام سے منعقد ہو چکا ہے۔ یہاں کی ski slope مالم جبہ کی سلوپ کے بعد پاکستان میں دوسرے  نمبر پر ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ فار فلنگ ایریا ہونے کے باوجود یہاں کا لٹریسی ریٹ 94% ہے۔
سطح سمندر سے تقریباً 15348 ft بلند نلتر ویلی میں ست رنگی جھیل، پری جھیل، فیروزہ جھیل، بلیو لیک اور برو لیک اپنے منفرد حسن کے ساتھ جلوہ گر ہیں اور ہر سال اپنے سحر سے ہزاروں قومی اور بین الاقوامی ٹؤرسٹس کو اپنی اور  کھینچتی دکھائی پڑتی ہیں ۔ شانی پیک کا گلیشئر جس کو khal peak بھی کہتے ہیں Kotty ایریا میں برو لیک بناتا ہے اور اس سے پھر دوسری لیکس معرضِ وجود میں آتی ہیں ۔ اس کے علاوہ Palo peak اور twin peaks یہاں کی بلند ترین چوٹیاں ہیں ۔ یہاں پر وخی،  گجر اور منگول نسل کے لوگ آباد ہیں جو کہ شنا اور گجری زبان بولتے ہیں ۔ ان لوگوں کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے گوجرانوالہ، سوہاواہ اور لاہور کے گجروں کے مقابلہ میں  اپنے گجری کلچر اور زبان کو بہتر انداز میں محفوظ رکھا ہوا ہے۔  گلگت شہر سے شاہراہ قراقرم پر نومل گاؤں اور پھر دشوار گزار جیپ ٹریک پر اکثروبیشتر خطرناک لینڈ سلائیڈنگ ہوتی رہتی ہے جسے ہم نے بھی بونگ سلائی پل کے نزدیک ہوتے دیکھا اس لئے خراب موسم میں  مقامی لوگ اس ٹریک پر سفر کرنے سے منع کر دیتے ہیں ۔لیکن یہ تمام خطرات فطری حسن کے دیوانوں کا راستہ  نہیں روک پاتے۔


پاکستان کا ایک گمنام ہیرو

پاکستان کا ایک گمنام ہیرو

یہ 1984ء کی بات ہے کہ سردار نصیر ترین امریکہ سے پاکستان پہنچے۔ پشین،بلوچستان میں جنم لینے والے یہ بلوچ 1959ء میں امریکہ چلے گئے تھے۔ وہاں انہوں نے فلم سازی کا کورس کیا اور دستاویزی فلمیں بنانے لگے۔ 1984ء میں انہوں نے فیصلہ کیا کہ بلوچستان پہ دستاویزی فلم بنائی جائے۔ یوں وہ زرخیز بلوچ تہذیب وثقافت کو امریکہ ویورپ میں متعارف کرانا چاہتے تھے۔ اس زمانے میں پاکستان مارشل لا کی گرفت میں تھا۔ چنانچہ فلم بنانے کے لیے فوجی حکومت کی اجازت درکار تھی۔

 سردار نصیر نے درخواست دی مگر کوئی سرکاری افسر اسے داب کر بیٹھ گیا۔مجبوراً سردار صاحب نے بلوچستانی حکومت سے رجوع کیا۔ وہاں سے جواب ملا کہ پہلے بلوچستانی جنگلی حیات پہ دستاویزی فلم بنائو۔ وہ عمدہ ہوئی، تو دیگر فلمیں بھی بن سکیں گی۔ سردار نصیر نے ہامی بھرلی ۔ بلوچستانی حکومت نے صوبے کی جنگلی حیات سے متعلق کئی پمفلٹ اور تصاویر پاکستانی نژاد امریکی فلم ساز کو دیں۔ لیکن مختلف علاقوں کا دورہ کرنے پر انہیں احساس ہوا کہ بیشتر بلوچ چرند پرند سرکاری فائلوں ہی میں زندہ ہیں…حقیقتاً حد سے زیادہ شکار اور جنگلی رقبے میں کمی کے باعث وہ اپنے علاقوں میں نایاب ہوچکے۔

سردار نصیر کو خوش قسمتی سے بلوچی ضلع ،قلعہ سیف اللہ میں واقع سلسلہ ہائے کوہ توبہ کاکڑ کے تورغرپہاڑوں میں چند مارخور اور اڑیال مل گئے۔یوں وہ مناسب دستاویزی فلم بنانے میں کامیاب رہے۔ اس فلم کی تیاری کے دوران ہی سردار نصیر کو احساس ہوا کہ اگر ان قیمتی جانوروں کو تحفظ نہ دیا گیا، تو وہ جلد معدوم ہوجائیں گے۔ لہٰذا انہوں نے فیصلہ کیا کہ اس ضمن میں ٹھوس اقدامات کرنے ضروری ہیں۔

یہ واضح رہے کہ مارخور پاکستان کا قومی جانور ہے۔ یہ دنیا کا سب سے بڑا جنگلی بکرا ہے۔ 26 تا 45 انچ اونچا ، 52 تا 73 انچ لمبا اور 32 تا 110کلووزنی ہوتا ہے۔مارخور کی خصوصیت اس کے بڑے سینگ ہیں ۔ وہ نرمیں 64 انچ (5فٹ) تک لمبے ہوتے ہیں۔ مارخور کی تین اقسام ہیں: استور مارخور، بخارا مارخور اور کابلی مار خور۔ تورغرپہاڑوں میں کابلی مارخور ملتا ہے۔ یہ وہاں سلیمانی مارخور بھی کہلاتا ہے۔ یہ دیگر اقسام سے یوں ممتاز ہے کہ اس کے سینگ بالکل سیدھے ہوتے ہیں۔

اڑیال کا شمار بھی بڑی جنگلی بھیڑوں میں ہوتا ہے۔ یہ 31سے 35 انچ اونچی اور 26 انچ تک لمبی ہوتی ہے۔ اس کے لہریے دار سینگ 39انچ (سواتین فٹ) تک لمبے ہوتے ہیں۔ اڑیال کی افغانی، بلوچی، پنجابی اور لداخی اقسام پاکستان میں ملتی ہیں۔

 1985ء میں سردار نصیر نے اندازہ لگایا تھا کہ تورغر پہاڑوں پہ صرف 56مارخور اور 85اڑیال زندہ بچے ہیں۔

ان بچے کھچے قیمتی جانوروں کو محفوظ کرنے کی خاطر وہ مقامی کاکڑ قبیلے کے سربراہ ، نواب تیمور شاہ جوگیزئی سے ملے۔ نواب صاحب نے سردار نصیر کو بتایا کہ انہوں نے حکومت بلوچستان سے بارہا درخواست کی ہے کہ یہاں محافظ متعین کیے جائیں تاکہ وہ جانوروں کو غیرقانونی شکارسے بچا سکیں۔ لیکن وہ ان کی ایک نہیں سنتی۔ مایوس ہوکر سردار نصیر واپس امریکہ چلے گئے ۔ تاہم کچھ تحقیق کے بعد آشکار ہوا کہ قلعہ سیف اللہ نیم قبائلی علاقہ ہے اور وہاں حکومت زیادہ عمل دخل نہیں رکھتی۔ لہٰذا وہ جلد واپس پاکستان پہنچے اور نواب تیمور سے ملاقات کی۔ انہوں نے نواب صاحب پہ زور دیا کہ علاقے میں قبائلی محافظ متعین کیے جائیں۔

سردار نصیر کا جوش وجذبہ اور اصرار دیکھ کر آخر نواب تیمور نے ہامی بھرلی۔ یہی نہیں انہوں نے اپنے بیٹے، نواب زادہ محبوب جوگیزئی کو ان کا معاون بنادیا۔ یوں 1985ء کے اواخر میں علاقہ تورغر میں آباد مارخور اور اڑیال بچانے کی خاطر سردار نصیر نے مقامی قبائلیوں کے تعاون سے ایک غیرسرکاری تنظیم’’تورغر تحفظ منصوبہ ‘‘(Torghar Conservation Project) کی بنیاد رکھی۔ چونکہ نیت نیک تھی لہٰذا سردار نصیر کو ابتدا ہی ایک بڑی کامیابی ملی۔ ہوا یہ کہ نواب زادہ محبوب جوگیزئی نے اعلان کیا کہ آئندہ وہ مارخور یا اڑیال کا شکار نہیں کریں گے۔ اس اعلان سے دیگر قبائیلیوں کو بھی تحریک ملی کہ وہ اپنی بندوقیں گرادیں۔ ساتھ ہی علاقے میں قبائلی محافظ بھی متعین ہوگئے۔

 تورغرتحفظ منصوبے کو کامیابی ملی اور آج علاقے میں 2540 مارخور جبکہ 3145اڑیال موجود ہیں۔ دونوں شاہانہ مزاج جانوروں کی اتنی بڑی تعداد پاکستان ہی نہیں دنیا کے کسی اور خطے میں نہیں پائی جاتی۔ علاقے میں تقریباً95 محافظ ان جانوروں کی حفاظت کرتے ہیں۔ اب غیرملکی علاقے میں آتے اور لاکھوں روپے دے کر محدود تعداد میں مارخور یا اڑیال کا شکار کرتے ہیں۔

اس آمدن سے قبائلی محافظوں کو تنخواہیں ملتی اور علاقے میں ترقیاتی منصوبے انجام پاتے ہیں۔ اب علاقے کے لوگوں کو بھی احساس ہوچکا کہ جانور نہ صرف ماحول کا حصہ ہیں بلکہ وہ کسی نہ کسی طرح انسانوں کو فوائد بھی پہنچاتے ہیں۔ اسی لیے اب کوئی معدوم ہونے کے خطرے سے دوچار چرند پرند کا شکار نہیں کرتا۔ یہ سردار نصیر کا جذبہ ہمدردی ہے کہ انہوں نے امریکہ کی پرآسائش زندگی تج دی اور پاکستانی حیوانیات کو تحفظ دینے پہاڑوں پر چلے آئے۔

 افسوس کہ حکومت پاکستان نے ان کی خدمات وقربانیوں کا اعتراف نہیں کیا، تاہم انہیں غیر ممالک سے اعزاز مل چکے۔
 ہالینڈ نے انہیں آرڈر آف دی گولڈن آرک کے نائٹ ہڈ سے نوازا۔
فرانسیسی حکومت نے لاآرڈر نیشنل عطا کیا۔
جبکہ ملکہ برطانیہ کے شوہر، ڈیوک آف ایڈن برگ نے سرٹیفکیٹ آف میرٹ دیا۔
حال ہی میں انٹرنیشنل کونسل فار گیم اینڈ وائلڈ لائف کنزرویشن نے تورغرتحفظ منصوبہ کو مارخور کنزرویشن ایوارڈ سے نوازا۔
 غرض سردار نصیر ترین ان پاکستانیوں میں شامل ہیں جنہوں نے اپنے کارناموں سے عالمی سطح پہ ملک وقوم کا نام روشن کر دیا۔ وہ وطن عزیز کے ایک گمنام ہیرو ہیں  ۔۔
⚔️🇵🇰⚔️💯⚔️💚⚔️



Tuesday, October 29, 2019

بابا فرید گنج شکر رحمتہ اللہ علیہ

ﺍﯾﮏ ﺩﻓﻌﮧ حضرت ﺑﺎﺑﺎ ﻏﻼﻡ ﻓﺮﯾﺪ گنج شکر ﺭﺣﻤﺘﮧ اللہ ﻋﻠﯿﮧ ﮐﻮ ﺟﻨﮕﻞ ﻣﯿﮟ ﭘِﮭﺮﺗﮯ ﭘِﮭﺮﺗﮯ ﭘﺎﻧﯽ ﮐﯽ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﮨﻮﺋﯽ ﺍِﺗﻔﺎﻗﺎً ﻭﮨﺎﮞ ﮐُﻨﻮﺍﮞ ﻣِﻞ ﮔﯿﺎ آﭖ ﺭﺣﻤﺘﮧ ﺍللہ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﺱ ﮐﮯ ﮈﻭﻝ ﺍﻭﺭ ﺭﺳّﯽ ﮐﮯ ﻣﺘﻼﺷﯽ ﮨﻮﺋﮯ ﺗﺎﮐﮧ ﭘﺎﻧﯽ ﻧِﮑﺎﻻ ﺟﺎ ﺳﮑﮯ ﺍِﺳﯽ ﺍﺛﻨﺎﺀ ﻣﯿﮟ ﮨﺮﻥ ﺑﮭﯽ ﺍﺱ ﮐُﻨﻮﯾﮟ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺩﻭﮌﮮ ﮨﻮﺋﮯ ﭼﻠﮯ ﺁﺋﮯ ﻗﺪﺭﺕِ ﺍِﻟٰﮩﯽ ﺳﮯ ﭘﺎﻧﯽ ﮐُﻨﻮﯾﮟ ﮐﺎ ﮐﻨﺎﺭﮦ ﺗﮏ ﺁ ﮔﯿﺎ ﺟﺲ ﮐﻮ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺧﻮﺷﯽ ﺳﮯ ﭘﯽ ﮐﺮ ﭘِﮭﺮ ﺍﭘﻨﺎ ﺭﺍﺳﺘﮧ ﻟﯿﺎ ﺁﭖ ﺭﺣﻤﺘﮧ ﺍللہ ﻋﻠﯿﮧ ﯾﮧ ﻣﺎﺟﺮﺍ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﭘﺎﻧﯽ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺗﯿﺎﺭ ﮨﻮﺋﮯ ﻣﮕﺮ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﮨﯽ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﻭﮦ ﭘﺎﻧﯽ ﻧﯿﭽﮯ ﭼﻼ ﮔﯿﺎ۔ﭘِﮭﺮ ﺁﭖ ﺭﺣﻤﺘﮧ ﺍللہ ﻋﻠﯿﮧ ﻧﮯ ﮐﻤﺎﻝِ ﻋﺠﺰ ﺳﮯ ﺟﻨﺎﺏِ ﺑﺎﺭﯼ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻣﯿﮟ عرض کی ﺍﮮ ﺧﺪﺍﻭﻧﺪ ﻣﯿﺮﺍ ﻗﺪ ﻧﻔﺴﺎﻧﯿﺖ ﮐﯽ ﺷﺎﻣﺖ ﺳﮯ ﮨﺮﻧﻮﮞ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﮐﻢ ﮨُﻮﺍ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﭘﺎﻧﯽ ﻣِﻼ ﺍﻭﺭ ﻣﺠﮭﮯ ﻧﮧ ﻣِﻼ ﭘِﮭﺮ ﻏﯿﺐ ﺳﮯ ﻧِﺪﺍ ﺁﺋﯽ ﮐﮧ ﺍﮮ ﻣﺤﻤّﺪ ﻣﺴﻌﻮﺩ ﺍﻟﺪﯾﻦ ﺗﻢ ﺗﻮﮐّﻞ ﮈﻭﻝ ﺍﻭﺭ ﺭﺳّﯽ ﮐﺎ ﺭﮐﮭﺘﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﮨﺮﻥ ﺻﺮﻑ ﻣﯿﺮﮮ ﺗﻮﮐّﻞ ﭘﺮ ﺁﺋﮯ ﺗﮭﮯ۔ﺍِﺱ ﻟﯿﮯ
ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺑﮯ ﺳﺒﺐ ﭘﺎﻧﯽ ﻣِﻼ ﺁﭖ ﻧﮯ ﺍﺳﯽ ﮐﻨﻮﯾﮟ ﭘﮧ ﻧﻤﺎﺯِ ﻣﻌﮑﻮﺱ ﺍﺩﺍ ﮐﯽ ﺟﺐ ﺁﭖ ﺭﺣﻤﺘﮧ ﺍللہ ﻋﻠﯿﮧ ﮐُﻨﻮﯾﮟ ﺳﮯ ﺑﺎﮨﺮ ﺗﺸﺮﯾﻒ ﻻﺋﮯ ﺗﻮ ﺧﺎﮎ ﭘﺮ ﮨﺎﺗﮫ ﮈﺍﻝ ﮐﺮ ﺍﻓﻄﺎﺭ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﻣﻨﮧ ﻣﯿﮟ ﮈﺍﻟﯽ ﺗﻮ ﻭﮦ ﺧﺎﮎ ﮐﮯ ﺫﺭّﮮ ﺷَﮑﺮ ﮐﯽ ﻣﺎﻧﻨﺪ ﻣﯿﭩﮭﮯ ﺗﮭﮯ ﺁﭖ ﺭﺣﻤﺘﮧ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻧﮯ ﺳﻤﺠﮭﺎ ﮐﮧ ﺷﺎﯾﺪ ﺷﯿﻄﺎﻧﯽ ﺍﺛﺮ ﮐﯽ ﺑِﻨﺎ ﭘﺮ ﻧﮧ ﮨﻮ ﺍِﺱ ﻟﯿﮯ ﺁﭖ
ﺭﺣﻤﺘﮧ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻧﮯ ﻻﺣﻮﻝ ﭘﮍﮬﺎ ﭘِﮭﺮ ﺩﻭﺑﺎﺭﮦ ﺍﺳﯽ ﻣﺠﺎﮨﺪﮦ
ﻣﯿﮟ ﻣﺸﻐﻮﻝ ﮨﻮﻧﮯ ﻟﮕﮯ ﺗﻮ ﻧِﺪﺍ ﺁﺋﯽ ﮐﮧ ﺁﭖ ﮐﺎ ﯾﮧ ﻣﺠﺎﮨﺪﮦ ﻣﻨﻈﻮﺭ ﻭ ﻣﻘﺒﻮﻝ ﮨُﻮﺍ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﻟﯿﮯ ﮔَﻨﺞ ﺳﮯ ﺷَﮑﺮ ﮨﮯ ﻭﺳﻮﺳﮧ
ﺷﯿﻄﺎﻧﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺍﺳﯽ ﺭﻭﺯ ﺳﮯ ﺁﭖ ﮐﺎ ﻟﻘﺐ ﮔَﻨﺞ ﺷَﮑﺮ ﻣﺸﮩﻮﺭ ﮨُﻮﺍ

 ﺩﯾﻮﺍﻥِ ﻓﺮﯾﺪ ﺻﻔﺤﮧ 187 188

ﻧﺎﻡ ﮐﺘﺎﺏ ﺷﺮﺡ ﺩﯾﻮﺍﻥ ﻓﺮﯾﺪ ﮔﻨﺞ ﺷﮑﺮ ﺭﺣﻤﺘﮧ ﺍللہ ﻋﻠﯿﮧ
ﺍﻟﻤﻌﺮﻭﻑ ﻓﯿﻀﺎﻥ ﺍﻟﻔﺮﯾﺪ ﺭﺣﻤﺘﮧ ﺍللہ ﻋﻠﯿﮧ ﺻﻔﺤﮧ  558


نماز میں سارا ذکر ہی انسان کا ہے

نماز میں سارا ذکر انسان کا ہے ، الحمداللہ رب العالمین الرحمن الرحیم مالک یوم الدین یہ اللہ کی تعریف ہو گئی ،
  پھر ایاک نعبد و ایاک نستعین اھدنا الصراط المستقیم یہ درخواست ہو گئی انعام والے لوگوں کے راستے کی _ صراط الذین انعمت علیھم یہاں انسانوں کا ذکر آگیاہے ۔
 پہلے خدا تھااور اب کیا ذکر آگیا ؟ انسان!
  تو انعمت علیھم والے بندے ڈھونڈے جائیں کہ یہ کون انسان ہیں !
  یعنی کہ آدمیوں کی راہ ، خدا کی راہ ہے ۔

   خدا کہتا ہے کہ میرا راستہ ، ان انسانوں کا راستہ ہے جن پر میرا انعام ہوا یعنی انعمت علیھم ۔
  پھر غیر المغضوب علیھم اور وہ لوگ بھی ہیں جن پر اُس کا غضب ہوا ۔ اور اس کے بعد التحیات شروع کر دو التحیات اللہ والصلوٰت والطیبات السلام علیک ایھاالنبی ۔۔۔
   تو نماز میں اللہ کے ساتھ حضورپاکﷺ کا ذکر ہو رہا ہے ۔ وہ لوگ کہیں گے کہ نماز اللہ کی ، اور ذکر غیر اللہ کا ۔ مگر یہ غیر نہیں ہے ، بلکہ یہی نماز ہے ۔ کہ السلام علینا وعلیٰ عباد اللہ الصالحین ۔
  اور اب نماز میں عباد الصالحین ، نیک بندے بھی شامل ہو گئے ۔

    اپنا بھی احترام تیری بندگی کے ساتھ

یہ کئی بندے ہونگے جنہیں صالحین کہا جا سکتا ہے ۔
 اشھدان لا الہ اللہ واشھدان محمداً عبدہ ورسولہ

  یہاں پھر ایک بار حضورپاکﷺ نام آگیا ۔ اور یہ نماز کے اندر آیا ہے ، یعنی کہ خدا کی نماز میں انسان کا نام ۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے ؟
 الھم صل علی محمد و علی اٰل محمد ۔
 یہ اٰل محمد کیا ہے ؟ یہ بھی انسان ہیں ۔ کما صلیت علی ابراھیم وعلی اٰل ابراھیم انک حمید مجید
حضرت ابراھیمؑ انسان اور آپ کی اٰل انسان ۔
الھم بارک علی محمد و علی آل محمد کما بارکت علی ابراھیم وعلی آل ابراھیم  انک حمید مجید

   یہ سارا انسان کا ذکر ہے ۔ پھر
رب اجعلنی مقیم الصلوٰة و من ذریتی ربنا و تقبل دعا ۔

  تو اس میں آپ اور ذریّت ، اور اولاد سارے آگئے ۔ بیٹے بیٹیاں ، نواسے نواسیاں ، پوتے پوتیاں ۔ سارے آگئے ۔

   کیونکہ پندرہ بیس سال میں آپکی ذریّت کچھ اور بن جائےگی ۔

اور کبھی آپ سوچو کہ اگر دو سو سال بعد آپ واپس آؤ تو آپ کی ذریّت جو ہے وہ کم از کم ایک شہر بنائے بیٹھے ہونگے ۔

 اور اگر پانچ سو سال بعد آ جاؤ تو آپکی ذریّت میں لاکھوں کروڑوں بندے ہونگے ۔
  تو ذریّت ، اولاد بڑھتی جائے گی ۔

 ربنا وتقبل دعاء ربنا اغفرلی ولوالدی وللمومنین یوم یقوم الحساب ۔
  میرے رب میری دعا قبول فرما، تُو مجھے بھی معاف کر اور میرے والدین کو بھی معاف فرما اور والدین کے اوپر جو قبیلہ ہے ، ان سب کی مغفرت فرما ۔

  تو نماز میں آپ خدا کی بات کر رہے تھے اور یہ غیر کہاں سے آگئے ؟ تو غیر کا ذکر اللہ کریم نے آپ کو سکھایا ہے ۔

 بس یہی خاص بات ہے اور یہی راز ہے کہ آپ عبادت میں داخل ہو جائیں ۔
    اور عبادت کے یہ الفاظ ہیں جو اللہ نے آپ کو سکھائے ہیں  کہ یااللہ ہمارے والدین کو بخش دے ۔

  تو بات یہ ہے کہ اللہ نے خود آپکو الفاظ سکھا کر بتایا ہے کہ تم والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرنا ۔

 پھر یہ دعا سکھائی کہ میری اولاد کو بھی نماز کا پابند بنا ۔

 تو آپ نے خود ان کو نماز کا پابند بنانا ہے مگر آپ اللہ سے مدد مانگتے ہیں اور حضورپاکﷺ کے حوالے سے مدد مانگتے ہیں ۔

  جو کچھ بتایا گیا ہے آپ ، وہ کام کریں۔ اسی کو آپ نے کرنا ہے اور یہی بات میں آپ کو بتا رہا  تھا۔
   یہ نہ کرنا کہ اللہ سے یہ کہو کہ

   اھدنا الصراط المستقیم صراط الذین انعمت علیھم
 کہ جن پر تیرا انعام ہوا انکا راستہ دکھا اور جب ، اس انعام والا شخص ملے ، تو آپ اسے نماز کے آداب سکھانے لگ جاؤ ، حالانکہ  وہ انعمت علیھم والوں میں شامل ہے ۔ اور اس پر اللہ کا انعام ہو گیا ہے ۔
 تو اب آپ بھی وہ راستہ ڈھونڈو     اور آپ اس کو قرآن نہ سکھانا شروع کر دینا ، کیونکہ وہ تو آپ کے لئے راستہ بن کر آگیا ہے ۔

   تو اللہ کی راہ کون سی ہے ؟ انسانوں کی راہ ،  کون سے انسان ؟
  جن پر اللہ کا انعام ہوا ۔ تو آپ اس راز کو دریافت کرو ۔


داستانِ ابلیس


ﺩﺍﺳﺘﺎﻥ ﺍﺑﻠﯿﺲ

ﺍﺑﻠﯿﺲ ﺗﻤﺎﻡ ﻓﺮﺷﺘﻮﮞ ﮐﺎ ﺳﺮﺩﺍﺭ ﺗﮭﺎ ﺁﺳﻤﺎﻥ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﺍﺑﻠﯿﺲ ﻧﮯ ﺍﯾﮏﮨﺰﺍﺭ ﺳﺎﻝ ﺗﮏ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﻋﺒﺎﺩﺕ ﮐﯽ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﻋﺎﺑﺪﮨﻮﺍ ۔ ﺩﻭﺳﺮﮮﺁﺳﻤﺎﻥ ﭘﺮ ﺍﯾﮏ ﮨﺰﺍﺭ ﺳﺎﻝ ﺗﮏ ﻋﺒﺎﺩﺕ ﮐﯽ ﺗﻮ ﺯﺍﮨﺪ ﺑﻨﺎ , ﭘﮭﺮ ﺗﯿﺴﺮﮮﺁﺳﻤﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﻋﺎﺭﻑ , ﭼﻮﺗﮭﮯ ﻣﯿﮟ ﻭﻟﯽ , ﭘﺎﻧﭽﻮﯾﮟ ﻣﯿﮟ ﺗﻘﯽ , ﭼﮭﭩﮯﻣﯿﮟ ﺧﺎﺷﻊ ﺍﻭﺭ ﺳﺎﺗﻮﯾﮟ ﻣﯿﮟ ﻋﺰﺍﺯﯾﻞ ﻧﺎﻡ ﮨﻮﺍ , ﻣﮕﺮ ﻟﻮﺡ ﻣﺤﻔﻮﻅ ﭘﺮ ﺍﺱﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﺍﺑﻠﯿﺲ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﻭﮦﺍپنےﺍﻧﺠﺎﻡ ﺳﮯ ﺑﮯ ﺧﺒﺮ ﺗﮭﺎ ﺟﺐ ﺍﻟﻠﮧ ﻧﮯﺣﻀﺮﺕ ﺁﺩﻡ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﮐﻮ ﺳﺠﺪﮦ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﺎ ﺣﮑﻢ ﺩﯾﺎ ﺗﻮ ﺳﺐ ﻓﺮﺳﺘﻮﮞﺳﮯ ﺳﺠﺪﮦ ﮐﯿﺎ

ﻣﮕﺮ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﻧﮑﺎﺭ ﮐﺮﺩﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺑﮍﺍ ﺧﯿﺎﻝ ﮐﯿﺎﺍﻭﺭ ﻧﻔﺮﺕ ﺍﻭﺭ ﺗﮑﺒﺮ ﺳﮯ ﺣﻀﺮﺕ ﺁﺩﻡ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﭘﯿﭩﮫﮐﺮﻟﯽ , ﺍﻭﺭ ﺍﮐﮍ ﮐﺮ ﮐﮭﮍﺍ ﮨﻮﮔﯿﺎ , ﺁﺧﺮ ﮐﺎﺭ ﻓﺮﺷﺘﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﻣﺪﺕ ﺗﮏﺳﺠﺪﮦ ﮐﺌﮯ ﺭﮐﮭﺎ ﺟﺐ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺳﺮ ﺍﭨﮭﺎﯾﺎ ﺗﻮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮐﮧ ﺍﺑﻠﯿﺲ ﻧﮯﺳﺠﺪﮦ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺳﺠﺪﮦ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﺗﻮﻓﯿﻖ ﻣﻞ ﮔﺌﯽ ﺗﻮ ﻓﺮﺷﺘﻮﮞﻧﮯ ﺩﻭﺑﺎﺭﮦ ﺳﺠﺪﮦ ﺷﮑﺮ ﺍﺩﺍ ﮐﯿﺎ ۔ ﯾﮧ ﺑﺪ ﺑﺨﺖ ﺍﮐﮍﺍ , ﺍﻥ ﺳﮯ ﻣﻨﮫﭘﮭﯿﺮﮮ ﮐﮭﮍﺍ ﺗﮭﺎ ۔ ﻧﮧ ﮨﯽ ﺍﻃﺎﻋﺖ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺩﮬﯿﺎﻥ ﺩﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﻧﮧ ﮨﯽﻧﺎﻓﺮﻣﺎﻧﯽ ﭘﺮ ﻧﺎﺩﻡ ﮨﻮﺍ , ﺗﻮ ﺍﺏ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ ﭼﻮﭘﺎﺋﮯ ﮐﯽ ﺷﮑﻞﺩﮮ ﺩﯼ ﺍﻭﺭ ﺧﻨﺰﯾﺮ ﺑﻨﺎ ﺩﯾﺎ , ﺍﺱ ﮐﺎ ﺳﺮ ﺍﻭﺭ ﺳﯿﻨﮧ ﺑﮍﮮ ﺍﻭﻧﭧ ﺟﯿﺴﺎﮐﺮﺩﯾﺎ , ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﮐﺎ ﭼﮩﺮﮦ ﺑﻨﺪﺭ ﺟﯿﺴﺎ ﮨﻮﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﮑﮭﯿﮟ ﻟﻤﺒﻮﺗﺮﯼ ﭘﮭﭩﯽﭘﮭﭩﯽ ﻧﻈﺮ ﺁﺗﯽ ﺗﮭﯿﮟ , ﺍﺱ ﮐﮯ ﻧﺘﮭﻨﮯ ﮐﮭﻠﮯ ﺑﻨﺎ ﺩﯾﺌﮯ ﺍﺱ ﮐﮯﮨﻮﻧﭧ ﺑﯿﻞ ﮐﮯ ﮨﻮﻧﭩﻮﮞ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺩﺍﮌﮨﯽ ﺧﻨﺰﯾﺮ ﮐﮯ ﺩﺍﻧﺘﻮﮞﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺑﺎﮨﺮ ﮐﻮ ﻧﮑﻠﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﮐﺮﺩﯼ , ﭘﮭﺮ ﺩﺍﮌﮨﯽ ﻣﯿﮟ ﺳﺎﺕ ﺑﺎﻝ ﺭﮐﮫﺩﯾﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﺑﮩﺸﺖ ﺑﺪﺭ ﮐﺮﺩﯾﺎ , ﺑﻠﮑﮧ ﺁﺳﻤﺎﻥ ﺍﻭﺭ ﺁﺑﺎﺩ ﺯﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺩﻭﺭ ﮐﺮﮐﮯﻭﯾﺮﺍﻧﻮﮞ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺑﮭﮕﺎ ﺩﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﻗﯿﺎﻣﺖ ﺗﮏ ﻟﻌﻨﺖ ﻭ ﭘﮭﭩﮑﺎﺭ ﮐﺮﺩﯼ ﻭﮦﻣﻠﻌﻮﻥ ﻭ ﮐﺎﻓﺮ ﮨﻮﭼﮑﺎ ۔ ﯾﮧ ﺣﺎﻟﺖ ﺟﺐ ﺣﻀﺮﺕ ﺟﺒﺮﺍﺋﯿﻞ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﺍﻭﺭﺣﻀﺮﺕ ﻣﯿﮑﺎﺋﯿﻞ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﻧﮯ ﺩﯾﮑﮭﯽ ﺗﻮ ﺭﻭ ﭘﮍﮮ ) ﺑﺎﻭﺟﻮﺩ ﻗﺪﺭﺕﮐﮯ ﮐﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﻮ ﮨﺮ ﭼﯿﺰ ﮐﺎ ﻋﻠﻢ ﮨﮯ )ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﮔﯿﺎ ﮐﯿﻮﮞ ﺭﻭﺗﮯ ﮨﻮ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﮯ “

ﮨﻢﺗﯿﺮﯼ ﻃﺮﻑ ﺳﮯ ﻟﻌﻨﺖ ﻭ ﺑﺪﺑﺨﺘﯽ ﺁﺟﺎﻧﮯ ﭘﺮ ﺍﭘﻨﮯ ﺁﭖ ﮐﻮ ﻣﺤﻔﻮﻅﺧﯿﺎﻝ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ “ﺍﺭﺷﺎﺩ ﮨﻮﺍ ” ﺍﯾﺴﮯ ﺭﮨﻮ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﺮﯼ ﻃﺮﻑ ﺳﮯ ﺑﮯ ﻓﮑﺮﯼ ﺍﺧﺘﯿﺎﺭ ﻧﮧ ﮐﺮﻭ”ﺍﺏ ﺍﺑﻠﯿﺲ ﻧﮯ ﺁﻭﺍﺯ ﺩﯼ ﮐﮧ ” ﺍﮮ ﺍﻟﻠﮧ ! ﺗﻮﻧﮯ ﺁﺩﻡ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯﻣﺠﮭﮯ ﺟﻨﺖ ﺳﮯ ﻧﮑﺎ ﻝ ﺩﯾﺎ ﺍﺏ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﻥ ﭘﺮ ﻣﺴﻠﻂ ﮐﺮ “ﺍﺭﺷﺎﺩ ﮨﻮﺍ ” ﺗﻮ ﻣﺴﻠﻂ ﮨﮯ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺍﻭﻻﺩ ﭘﺮ ﺳﻮﺍﺋﮯ ﺍﻧﺒﯿﺎﺀ ﮐﮯ “ﺍﺑﻠﯿﺲ ﺑﻮﻻ “ﺍﻭﺭ ﺗﺴﻠﻂ ﺩﮮ ﺩﯾﺠﺌﮯ “ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ” ﺍﻥ ﮐﮯ ﮨﺎﮞ ﺍﯾﮏ ﺑﭽﮧ ﮨﻮﮔﺎ ﺗﯿﺮﮮ ﺩﻭ ﮨﻮﻧﮕﮯ “ﺑﻮﻻ ﺍﻭﺭ ﺗﺴﻠﻂ ﺩﯾﺠﺌﮯﺍﺭﺷﺎﺩ ﮨﻮﺍ “

ﺍﻥ ﮐﮯﺳﯿﻨﮯ ﻣﯿﺮﺍ ﻣﺴﮑﻦ ﮨﻮﮞ ﺟﺐ ﮐﮧ ﺗﻮ ﺧﻮﻥ ﮐﯽ ﻃﺮﺡﺑﺪﻥ ﻣﯿﮟ ﭘﮭﺮﮮ ﮔﺎ “ﺍﺱ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﺍﻭﺭ ﺩﯾﺠﺌﮯﺍﺭﺷﺎﺩ ﮨﻮﺍ ” ﺗﻮ ﺍﻥ ﭘﺮ ﺍﭘﻨﮯ ﭘﯿﺎﺭﻭﮞ ﭼﯿﻠﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺳﻮﺍﺭﻭﮞ ﮐﯿﺴﺎﺗﮫ ﮨﻮ ﺟﺎﯾﺎﮐﺮﮮ ﮔﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﮨﺮ ﻏﻠﻂ ﺣﺮﺍﻡ ﺍﻭﺭ ﺑﺪ ﻋﻤﻞ ﭘﺮ ﺁﻣﺎﺩﮦ ﮐﺮﺗﺎ ﺭﮨﮯ ﮔﺎ “ﺍﺏ ﺣﻀﺮﺕ ﺁﺩﻡ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﻧﮯ ﻋﺮﺽ ﮐﯿﺎ ” ﯾﺎ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻮﻧﮯ ﺍﺑﻠﯿﺲ ﮐﻮﻣﯿﺮﯼ ﺍﻭﻻﺩ ﭘﺮ ﻣﺴﻠﻂ ﮐﺮﺩﯾﺎ ﺍﺏ ﺗﯿﺮﯼ ﻣﺪﺩ ﮐﮯ ﺑﻐﯿﺮ ﺍﺱ ﺳﮯ ﮐﯿﺴﮯﺑﭽﺎ ﺟﺎﺋﯿﮕﺎ “ﺍﺭﺷﺎﺩ ﮨﻮﺍ ” ﺗﯿﺮﮮ ﮨﺎﮞ ﺟﻮ ﺑﭽﮧ ﮨﻮﮔﺎ

ﺍﺱ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻣﺤﺎﻓﻆ ﻓﺮﺷﺘﮧ ﺑﮭﯽﮨﻮﮔﺎ “ﻋﺮﺽ ﮐﯿﺎ ” ﻣﺰﯾﺪ ﻋﻄﺎ ﮐﯿﺠﺌﮯ “ﺍﺭﺷﺎﺩ ﮨﻮﺍ ” ﺟﺐ ﺗﮏ ﺑﻨﯽ ﺁﺩﻡ ﮐﯽ ﺍﺭﻭﺍﺡ ﺑﺪﻥ ﻣﯿﮟ ﮨﻮﻧﮕﯽ ﺗﻮﺑﮧ ﮐﺎ ﺩﺭﻭﺍﺯﮦﺍ ﻥ ﭘﺮ ﺑﻨﺪ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﮔﺎ “ﻋﺮﺽ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﻋﻄﺎ ﮐﯿﺠﺌﮯﺍﺭﺷﺎﺩ ﮨﻮﺍ ” ﻣﯿﮟ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﻣﻌﺎﻑ ﮐﺮﺗﺎ ﺭﮨﻮﮞ ﮔﺎ ﭼﺎﮨﮯ ﺟﺲ ﻗﺪﺭ ﮔﻨﺎﮦ ﮔﺎﺭﮨﻮﮞ “ﺣﻀﺮﺕ ﺁﺩﻡ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﻧﮯ ﻋﺮﺽ ﮐﯿﺎ ” ﯾﺎ ﺍﻟﻠﮧ ﺍﺏ ﮐﺎﻓﯽ ﮨﮯ۔“

“ﺍﻣﺎﻡ ﻏﺰﺍﻟﯽ ﺭﺣﻤﺖ ﺍللہ ﻋﻠﯿﮧ ﮐﯽ ﮐﺘﺎﺏ ﻣﮑﺎشفتہ ﺍﻟﻘﻠﻮﺏ ﺳﮯ ﺍﻗﺘﺒﺎﺱ


قابل رشک تربیت


💫 *قابل رشک تربیت*💫
ایک شخص کہتا ھے ۔۔۔
💞میری امی جب بھی مجھے نماز پڑھنے کا کہتیں
 ساتھ ہی میرے لئے دعا بھی کرتی جاتیں اور کہتیں :

 🤲🏻 *نماز پڑھو اللہ تمہیں عزت دیں ۔*
*اللہ تمہیں نماز کی حلاوت  نصیب کریں ،*
*اللہ تمہیں توفیق دیں ۔*

💫اسی لئے بچپن سے ہی میرے اندر نماز  کی  محبت پیدا ہو گئی ،
 مجھے نماز  پڑھنا اچھا لگنے لگا ،
💦 اور میں اپنی ماں کی اپنے لئے  دعائیں سننے کے لئے  نماز کا انتظار کرتا رہتا ۔
میں اپنی ماں کو دیکھتا تھا
وہ ہر نماز کے بعد اللہ سے دعا مانگتیں :

🤲🏻 *اے اللہ ! میرے بیٹے کو  نماز سے لطف اندوز ہونے والوں میں شامل فرما ،*
🤲🏻 *اے اللہ۔۔۔! نماز کو میرے بیٹے کی آنکھوں کی ٹھنڈک بنا دے ۔*
وہ اسی طرح دعائیں مانگتی رہیں ۔
 اور جب میں بڑا ہو گیا تو میری زندگی کے سب سے خوبصورت لمحات وہی ہوتے تھے
💞 جب میں اپنے رب کے سامنے کھڑا ہوتا تھا ۔
 مجھے نماز سے بہت محبت تھی ۔

🍃اپنے بچوں سے صرف ایک لفظ
*" نماز پڑھو "*
  یہ کہنا کافی نہیں ہوتا ،
 بلکہ انہیں ساتھ یہ بتانا بھی ضروری ہے
💦 کہ نماز کیوں پڑھی جائے ؟
 نماز پڑھنے سے کیا ہوگا ؟
جیسے قرآن پاک میں اللہ تعالی نے جب حضرت آدم و حواء علیہما السلام سے یہ فرمایا
🌱  *کہ اس درخت کے قریب نہ جانا*
 تو ساتھ اسکی وجہ بھی بیان کی ۔

*قال اللہ تبارک و تعالی :

🌾 _*{لاَ تَقرَبا هذِهِ الشَّجَرَةَ فَتَكونَا   مِنَ الظَّالِمِين}*_
*اس درخت کے قریب نہ جانا*
🥀 *ورنہ تم دونوں ظالموں میں سے ہو جاؤ گے ۔*

جب بھی اپنے بچوں کو کسی کام کا حکم کریں
 ساتھ اسکی وجہ بھی بتائیں
🌷 *جیسے نماز پڑھنے سے اللہ راضی ہوتے ہیں ۔*
🌷 *تم بھی نماز پڑھو*
 *تاکہ اللہ تم سے راضی ہو جائیں ۔* اور
🌷 *خشوع و خضوع سے نماز پڑھو کیونکہ اللہ ایسی نماز قبول کرتے ہیں ۔*
اور اسی طرح 
🌷 *وضو اچھی طرح کرو تاکہ تمہارے سارے گناہ جھڑ جائیں ۔*

ہمیشہ مسکرا کر اپنے بچے کو اپنے ساتھ نماز کے لئے بلائیں ۔

ایک منظر جو میں آج تک نہیں بھولا ۔۔۔ 
🍃 *میرے والد جب بھی نماز کا  وقت آتا وضو کرنے کے لئے اپنی آستین اوپر چڑھاتے ہوئے  ہمارے پاس سے گزرتے اور  فرماتے ۔۔۔* 
🏮 *"مومن اور کافر کے درمیان فرق نماز سے ہے" ۔*

یہی وجہ ہے کہ  نماز میری زندگی کا ایک ایسا جزو بن گیا
🍃 جس کے بغیر میری زندگی ممکن ہی نہیں ۔

💞 _*" رَبِّي اجْعَلْنِي مُقِيمَ الصّلاةِ وَ مِن ذُرِّيَّتِي " ۔*_

📝 *آج کے اس دور میں بچوں کی ایسی تربیت کی بہت ضرورت ھے بچوں کی آخرت کی فکر بھی والدین کو ایسے ہی کرنی چاھئیے جیسے اپنی آخرت کی فکر کرتے ہیں اللہ تعالٰی ہمیں حسن عمل کی توفیق عطاء فرمائیں آمین ثم آمین  یارب العالمین

💰💰 صدقہ جاریہ کے طور پر آگے شیئر کر دیں...



اپنی خامیوں پہ نظر رکھو


ایک شخص نے آئینہ دیکھا تو معلوم ہوا کہ اس نے قمیض الٹی پہنی ہوئی ہے اور ناک پر سیاہی لگی ہوئی ہے۔
آئینے کا کام تھا دکھانا سو اس نے دکها دیا۔۔۔
اب کیا وہ شخص آئینے پر خفا ہو گا کہ اس نے کیوں اس کی خامیوں سے آگاہ کیا؟
نہیں بلکہ وہ فورا اپنی بگڑی ہوئی حالت کو درست کرنے کی فکر میں لگ جائے گا...

یہی مثال ان لوگوں کی ہے جو ہمیں ہمارے عیبوں سے آگاہ کرتے ہیں پهر ہم ان پر کیوں ناراض ہوتے ہیں؟
وہ بهی تو درحقیقت ہمیں ہماری روح کا آئینہ دکها رہے ہوتے ہیں۔
بجائے ان پر غصہ ہونے کے ہمیں ان کا شکر گزار ہونا چاہیے کہ ان کے دکهائے گئے آئینے کی بدولت ہمیں اپنی غلطیوں کی اصلاح کا موقع مل رہا ہے۔“



ایک خوبصورت واقعہ

شاید اس جیسا واقعہ اس سے قبل آپ نے نہ پڑھا ہو...

مسجد نبوی میں بچے کھیلیں یا شور مجائیں تو انہیں کوئی نہیں روکتا ۔۔۔ پاکستان کا ایک فوجی افسر عمرہ کرنے کیلئے ایک مہینے کی چھٹی پر یہاں آیا تھا۔ مسجد نبوی میں اس نے دیکھا کہ بچے شور مچا رہے ہیں۔ اسے بے حد غصہ آیا، کہنے لگا، "یہ سراسر بے ادبی ہے"۔ اس نے بچوں کو ڈانٹا۔ اس پر اس کے ساتھی نے جو مدینہ منورہ کی ڈسپنسری کا ڈاکٹر تھا۔ اس کو منع کیا کہ بچوں کو نہ دانٹے۔ افسر نظم و نسق کا متوالہ تھا۔ اس نے ڈاکٹر کی سنی ان سنی کردی۔ رات کو اس موضوع پر دونوں میں بحث چھڑ گئی۔ ڈاکٹر نے کہا حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم یہ پسند نہیں کرتے کہ بچوں کو ڈانٹا جائے"۔
"اسی رات افسر نے خواب دیکھا۔ حضور اعلیٰ صلی اللہ علیہ و سلم خود تشریف لائے، خشمگیں لہجے مین فرمایا، "اگر آپ مسجد مین بچوں کی موجودگی پسند نہیں کرتے تو مدینہ سے چلے جائیے""۔ اگلے روز پاکستان کے فوجی ہیڈ کوارٹرز سے ایک تار موصول ہوا جس مین اس افسر کی چھٹی منسوخ کر دی گئی تھی اور اسے فورا” ڈیوٹی پر حاضر ہونے کا حکم دیا گیا تھا۔

"آپ کو اس واقعہ کا کیسے پتہ چلا"؟ میں نے اپنے دوست قدرت اللہ سے پوچھا۔
"مجھے ڈسپنسری کے ڈاکٹر نے بتایا جس کے پاس وہ افسر ٹھہرا ہوا تھا"۔ صلی اللہ علیہ والہ وصحبہ وازواجہ وبارک وسلم کثیراً کثیرا,

یا اللہ تو ہمیں بار بار دیدار حرمین نصیب فرما۔
امین

(ماخوذ از گوشہ ادب)




حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رح

#شیخ_عبد_القادر_جیلانی

 (پیدائش: 17 مارچ 1078ء— وفات: 12 فروری 1166ء)
 جنہیں محی الدین، محبوبِ سبحانی، غوث الثقلین اور غوث الاعظم کے القابات سے بھی جانا جاتا ہے۔ جو سُنّی حنبلی طریقہ کے نہایت اہم صوفی شیخ اور سلسلہ قادریہ کے بانی ہیں۔
آپ کا شجرہ سید ابو صالح موسی جنگی دوست بن عبد اللہ الجیلی بن سید یحییٰ زاہدبن سید محمد مورث بن سید داؤد بن سید موسی ثانی بن سید موسی الجون بن سید عبد اللہ ثانی بن سیدعبداللہ المحض بن سید حسن المثنیٰ بن سیدنا امام حسن بن سیدنا علی کرم اللہ وجہ سے ملتا ہے۔

ایامِ طفولیت

تمام علما و اولیاء اس بات پر متفق ہیں کہ سیدنا عبد القادر جیلانی مادرزاد یعنی پیدائشی ولی ہیں۔ آپ کی یہ کرامت بہت مشہور ہے کہ آپ ماہِ رمضان المبارک میں طلوعِ فجر سے غروبِ آفتاب تک کبھی بھی دودھ نہیں پیتے تھے اور یہ بات گیلان میں بہت مشہور تھی۔

*ولد للاشراف ولد لایرضع فی رمضان*
یعنی سادات کے گھر انے میں ایک بچہ پیدا ہوا ہے جو رمضان میں دن بھر دودھ نہیں پیتا۔

کھیل کود سے لاتعلقی

بچپن میں عام طور سے بچے کھیل کود کے شوقین ہوتے ہیں لیکن آپ بچپن ہی سے لہو و لہب سے دور رہے۔ آپ کا ارشاد ہے کہ

*کلما ھممت ان العب مع الصبیان اسمع قائلا یقول الی یا مبارک*
ترجمہ: یعنی جب بھی میں بچوں کے ساتھ کھیلنے کا ارادہ کرتا تو میں سنتا تھا کہ کوئی کہنے والا مجھ سے کہتا تھا اے برکت والے، میری طرف آ جا۔

ولایت کا علم

ایک مرتبہ بعض لوگوں نے سید عبد القادر جیلانی سے پوچھا کہ آپ کو ولایت کا علم کب ہوا؟ تو آپ نے جواب دیا کہ دس برس کی عمر میں جب میں مکتب میں پڑھنے کے لیے جاتا تو ایک غیبی آواز آیا کرتی تھی جس کو تمام اہلِ مکتب بھی سُنا کرتے تھے کہ

*افسحوا لولی اللہ*
ترجمہ: اللہ کے ولی کے لیے جگہ کشادہ کر دو۔

پرورش وتحصیلِ علم

آپ کے والد کے انتقال کے بعد ،آپ کی پرورش آپ کی والدہ اور آپ کے نانا نے کی۔ شیخ عبد القادر جیلانی کا شجرہء نسب والد کی طرف سے حضرت امام حسن اور والدہ کی طرف سے حضرت امام حسین سے ملتا ہے اور یوں آپ کا شجرہء نسب حضرت محمدصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے جا ملتا ہے۔ اٹھارہ ( 18) سال کی عمر میں شیخ عبد القادر جیلانی تحصیل ِ علم کے لیے بغداد (1095ء) تشریف لے گئے۔ جہاں آپ کو فقہ کے علم میں حضرت ابو سعید مبارک مخزومی رحمتہ اللہ علیہ، علم حدیث میں ابوبکر بن مظفر اور تفسیرکے لیے ابومحمد جعفر جیسے اساتذہ میسر آئے۔.

ریاضت و مجاہدات

تحصیل ِ علم کے بعد شیخ عبد القادر جیلانی نے بغدادشہر کو چھوڑا اور عراق کے صحراؤں اور جنگلوں میں 25 سال تک سخت عبادت و ریاضت کی
1127ء میں آپ نے دوبارہ بغداد میں سکونت اختیار کی اور درس و تدریس کا سلسلہ شروع کیا۔ جلد ہی آپ کی شہرت و نیک نامی بغداد اور پھر دور دور تک پھیل گئی۔ 40 سال تک آپ نے اسلا م کی تبلیغی سرگرمیوں میں بھرپورحصہ لیا نتیجتاً ہزاروں لوگ مشرف بہ اسلام ہوئے۔ اس سلسلہ تبلیغ کو مزید وسیع کرنے کے لیے دور دراز وفود کو بھیجنے کا سلسلہ شروع کیا۔ خود شیخ عبد القادر جیلانی نے تبلیغِ اسلام کے لیے دور دراز کے سفر کیے اور برِصغیر تک تشریف لے گئے اور ملتان (پاکستان) میں بھی قیام پزیر ہوئے۔

حلیہ

جسم نحیف قد متوسط، رنگ گندمی، آواز بلند، سینہ کشادہ، ڈاڑھی لمبی چوڑی، چہرہ خوبصورت، سر بڑا، بھنوئیں ملی ہوئی۔

القابات

غوثِ اعظم
پیران ِ پیردستگیر
محی الدین
شیخ الشیوخ
سلطان الاولیاء
سردارِ اولیاء
قطب ِ ربانی
محبوبِ سبحانی
قندیل ِ لامکانی
میر محی الدین
امام الاولیاء
السید السند،
قطب اوحد،
شیخ الاسلام،
زعیم العلماء،
سلطان الاولیاء،
قطب بغداد
بازِ اشہب،
ابوصالح،
حسنی اَباً،
حسینی اُماً،
حنبلی مذہبا ً

شیخ عبد القادر جیلانی نے طالبین ِ حق کے لیے گرانقدر کتابیں تحریرکیں، ان میں سے کچھ کے نام درج ذیل ہیں:

غنیۃ الطالبین
الفتح الربانی والفیض الرحمانی
ملفوظات
فتوح الغیب
جلاء الخاطر
ورد الشیخ عبد القادر الجیلانی
بہجۃ الاسرار
الحدیقۃ المصطفویہ
الرسالۃ الغوثیہ
آدابِ سلوک و التوصل الی ٰ منازل ِ سلوک
جغرافیۃ الباز الاشہب

شیخ عبد القادر جیلانی کا انتقال 1166ء کو ہفتہ کی شب (8 ربیع الاوّل561 ہجری) کو نواسی (89) سال کی عمر میں ہوا اور آپ کی تدفین،آپ کے مدرسے کے احاطہ میں ہوئی


دو مسافر

دو مسافر  ہتھیار سے لیس گھوڑوں پر سوار کہیں سے گذر رہے تھے،ایک شمال کو جا رہا تھا تو دوسرا جنوب کو دونوں کے سامنے ایک بڑا سا درخت آگیا ، ایک نے کہا واہ اتنا چوڑا لال تنا، دوسرا بولا کہ چوڑا تو واقعی ہے پر لال نہیں بھورا ہے۔۔۔۔۔اپنے اپنے دانشورانہ مؤقف کی تائید میں دونوں  مباحثہ کرتے جھگڑے پر اتر آئے ۔
ایک عمر رسیدہ خاتون یہ سب خاموشی سے دیکھ  رہی تھیں ۔۔۔جھگڑا اس حد تک بڑھا کہ دونوں نے ایک دوسرے کو اپنے نیزے مار کر ختم کر دیا۔۔۔۔بوڑھی خاتون یہ دیکھ کر دل مسوس کر رہ گئیں کہ کاش یہ دونوں اپنی اپنی جگہ بدل کر دوسرے کے زاویے سے دیکھ لیتے تو جان لیتے دونوں ہی اپنی جگہ درست ہیں؛ تو یہ نوبت ہی نہ آتی۔
کہانی ختم شد۔
مگر اصل زندگی میں ایسی کہانی کیونکر ختم ہو سکتی ہے بھلا؟
اس کہانی کے مرکزی  کردار گو کہ دو  بے حکمت بے صبرے  مسافر جتائے جا رہے ہیں ،مگر اصل منفی کردار محترمہ بوڑھی خاتون کا ہے جو ملائم گرم سمجھوتے کی چادر سے اپنے ہاتھ پاؤں اور مونہہ  باندھے دو لوگوں کو جھگڑتے دیکھتی رہیں کہ پرائے پھڈے میں کون پڑے۔
گو کہ انجام دونوں مسافروں کا بہت برا دکھ رہا ہے لیکن محترمہ بوڑھی خاتون کہیں شدید خسارے میں پڑ گئ ہیں کہ اپنی مصلحت کوشی میں عاقبت اندیشی کو ہی کھودیا۔
اب یہاں ان کے ساتھ  دو باتیں ہو سکتی ہیں ، پہلی یہ کہ ساری زندگی محترمہ بوڑھی خاتون بس ہل ہل کر قرآن پڑھ پڑھ کر خود کو اللہ والی سمجھتی رہی ہوں  یا سرے سے قرآن  پڑھا ہی نہ ہو  کہ یہ والی ڈیوٹی تو ان کے مرنے کے بعد انکے عزیزوں کو نبھانی ہوگی ۔یا پھر غالب گمان یہی ہے کہ محترمہ بوڑھی خاتون مسلمان ہی نہ تھیں ورنہ اپنے نام پر تو کوئ بھی جاندار چونک کر متوجہ ہوتا ہے،خاص کر جب اسکا مالک پکارے۔ 
 يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُونُوا قَوَّامِينَ بِالْقِسْطِ شُهَدَاءَ لِلَّـهِ وَلَوْ عَلَىٰ أَنفُسِكُمْ أَوِ الْوَالِدَيْنِ وَالْأَقْرَبِينَ ۚ إِن يَكُنْ غَنِيًّا أَوْ فَقِيرًا فَاللَّـهُ أَوْلَىٰ بِهِمَا ۖ فَلَا تَتَّبِعُوا الْهَوَىٰ أَن تَعْدِلُوا ۚ وَإِن تَلْوُوا أَوْ تُعْرِضُوا فَإِنَّ اللَّـهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرًا ﴿١٣٥﴾اے لوگو جو ایمان لائے ہو، انصاف کے علمبردار اور "خدا واسطے" کے گواہ بنو اگرچہ تمہارے انصاف اور تمہاری گواہی کی زد خود "تمہاری اپنی ذات پر" یا "تمہارے والدین" اور "رشتہ داروں" پر ہی کیوں نہ پڑتی ہو "فریق معاملہ خواہ مالدار ہو یا غریب"، "اللہ تم سے زیادہ اُن کا خیر خواہ ہے" لہٰذا "اپنی خواہش نفس کی پیروی میں عدل سے باز نہ رہو" اور اگر تم نے "لگی لپٹی بات" کہی یا "سچائی سے پہلو بچایا" تو جان رکھو کہ جو کچھ تم کرتے ہو اللہ کو اس کی خبر ہے (135) النساء
 آج محترمہ بوڑھی خاتون  کے جیسے کتنے ہی مصلحت کوشوں کے سبب فلاح اور خیر کے کام صرف اس لیے رک جاتے ہیں کہ، وہ کونوا قوامین بالقسط پر عمل کی خود پر فرضیت و اہمیت ہی نہیں جانتے،تنازعہ نہ تو سلجھاتے ہیں نہ معاملہ ٹھنڈا کرواتے ہیں،نہ ہی انصاف سے کام لیتے ہیں جھگڑے بڑھتے اور صحتیں گرتی جاتی ہیں، معاملات ہمارے ہاں صرف کورٹ کچہری ہی میں طوالت کا شکار نہیں ہو تے بلکہ ، بال جس کے کورٹ میں آجائے وہی کورٹ مارشل کا  سچا پکا حقدار  بیٹھتا ہے۔


دلچسپ واقعہ

"ایک دلچسپ واقعہ"
.
.
لکھنؤ بازار میں ایک غریب درزی کی دکان تھی جو ہر جنازے میں شرکت کے لئے دکان بند کر دیا کرتا تھا۔ لوگوں نے کہا کہ
"اِس طرح روز روز جنازے پر جانے سے آپ کے کاروبار کا حرج ہوتا ہوگا۔۔؟؟"
کہنے لگا کہ
"علماء سے سنا ہے کہ جب کوئی شخص کسی مسلمان کے جنازے پر جاتا ھے تو کل کو اِس کے جنازے پر بھی لوگوں کا ہجوم ہوگا۔ میں غریب ہوں، نہ زیادہ لوگ مجھے جانتے ہیں تو میرے جنازے پر کون آئے گا- اس لیے ایک تو مسلمان کا حق سمجھ کر پڑھتا ہوں اور دوسرا یہ کہ شاید کل کو مجھے بھی کوئی کاندھا دینے والا مل جائے...!"
.
"اللہ پاک کی شان دیکھیں کہ 1902ء میں مولانا عبدالحئ لکھنوی صاحب کا انتقال ہوا۔ ریڈیو پر بتلایا گیا، اخبارات میں جنازے کی خبر دی گئی، جنازے کے وقت لاکھوں کا مجمع تھا، پھر بھی بہت سے لوگ اُن کا جنازہ پڑھنے سے محروم رہ گئے۔ جب جنازہ گاہ میں ان کی نمازِ جنازہ ختم ہوئی تو اسی وقت جنازہ گاہ میں ایک دوسرا جنازہ داخل ہوا۔ اور اعلان ہوا کہ
"ایک اور عاجز مسلمان کا بھی جنازہ پڑھ کر جائیں...!"

دوستو...! یہ دوسرا جنازہ اس درزی کا تھا۔ مولانا کے جنازے کے سب لوگ بڑے بڑے اللہ والے، علمائے کرام سب نے اس درزی کا جنازہ پڑھا اور پہلے جنازے سے جو لوگ رہ گئے تھے وہ بھی اس میں شامل ہو گئے۔ اس غریب درزی کا جنازہ تو مولانا کے جنازہ سے بھی بڑھ کر نکلا، اللہ پاک نے اس درزی کی بات پوری کر کے اس کی لاج رکھی۔
کسی نے سچ کہا ہے کہ
"آج تم کسی کا خیال کرو گے تو کل کو لوگ تمہارا خیال کریں گے..."
.اے اللہ پوری امت مسلمہ کے گناہوں کی بخشش و ہدایت عطا فرما اور ہم پر اپنی رحمتوں کا نزول فرما...
آمین




Monday, October 28, 2019

سبق آموز کہانیاں

✍🤕 سبق آموز کہانیاں 🎭🤔​​​​​​​​

*یورپ میں نوکری، عورت اور موسم کا کوئی اعتبار نہیں ہوتا ۔ــــــ۔۔۔*

جوزف رافیل سے میری ملاقات ایک لائف ٹائم تجربہ تھا۔ جوزف ایمسٹرڈیم میں فاسٹ فوڈ کی سب سے بڑی کمپنی کا مالک تھا، شہر میں اس کے پچاس سے زیادہ ریستوران تھے، وہ دن میں آدھ گھنٹہ کیلئے اپنے کسی ریستوران پر جاتا، اپنے کارکنوں سے ملتا، ان کے ساتھ گپ شپ لگاتا اور اگلے ریستوران کی طرف نکل جاتا، شام کو وہ ’’ڈیم سکوائر‘‘ کے ایک ریستوران میں بیٹھتا ٗ کافی پیتا ٗ اپنے دوستوں کے ساتھ گپ لگاتا اور گھر چلا جاتا ٗ یہ اس کا معمول تھا ۔
میرا ایک دوست اس کے ریسٹورنٹ میں کام کرتا تھا ٗ میرا یہ دوست 1990ء میں ہالینڈ گیا تھا ٗ اس نے جوزف کے پاس نوکری شروع کی تھی اور اس کے بعد اس نے 16 سال جوزف کے ساتھ گزار دئیے ٗ میں اس کی مستقل مزاجی پر حیران تھا، یورپ میں ایک ہی ادارے اور ایک ہی نوکری سے چپکے رہنے کو نفسیاتی مرض سمجھا جاتا ہے ٗ یورپ کے بارے میں کہا جاتا ہے وہاں نوکری ٗ عورت اور موسم کا کوئی اعتبار نہیں ہوتا لیکن میرے اس دوست نے یورپ کے اس فلسفے کو بدل دیا ٗ اس نے 16 سال ایک ہی ریستوران کے کاؤنٹر پر گزار دئیے ٗ میں نے ایک دن اس سے اس کی وجہ پوچھی ٗوہ مسکرا کر بولا ’’صرف جوزف کی وجہ سے‘‘ مجھے بڑی حیرت ہوئی ٗ میرے دوست نے اپنی بات جاری رکھی’’صرف میں نہیں بلکہ آج تک جس شخص نے بھی جوزف کو جوائن کیا وہ اسے چھوڑ کر نہیں گیا‘‘ میرے لئے یہ بات بھی حیران کن تھی ٗ میں نے اپنے دوست سے وجہ پوچھی ٗ وہ مسکرا کر بولا ’’جوزف ہر شام ہمارے ریستوران میں آتا ہے‘‘ کافی پیتا ہے اور دوستوں کے ساتھ گپ شپ کرتا ہے ٗ میں آج اس کے ساتھ تمہاری ملاقات طے کر دیتا ہوں ٗ تم اس سے خود پوچھ لینا۔‘‘ میں نے فوراً حامی بھر لی۔ جوزف کے ساتھ میری ملاقات طے ہو گئی ٗ شام چھ بجے جوزف وہاں آ گیا ٗ وہ ایک کٹڑ یہودی تھا ٗ اس کی ناف تک لمبی داڑھی تھی ٗ سر پر سیاہ ہیٹ اور گھٹنوں تک لمبا کوٹ تھا ٗ اس کے ہاتھ میں قیمتی پتھروں کی چھوٹی سی تسبیح تھی اور وہ وقفے وقفے سے عبرانی زبان میں کچھ بڑبڑاتا تھا ٗمیرے دوست نے مجھے اس کے سامنے بٹھا دیا ٗ میں نے جوزف کا غور سے جائزہ لیا ٗ مجھے اس کی شخصیت میں ایک ان دیکھی کشش محسوس ہوئی ٗ وہ دھلا دھلایا سا نرم مزاج شخص تھا ٗ اس نے میرے ساتھ گپ شپ شروع کر دی ٗ وہ مختلف موضوعات پر سوال کرتا اور میرے جوابوں میں سے نئے سوال نکالتا ٗ سوال و جواب کے اس سلسلے کے دوران میں نے اس کے ملازمین کا حوالہ دیا اور اس سے پوچھا ’’آپ کے ملازم آپ کو چھوڑتے کیوں نہیں؟‘‘ وہ مسکرایا ’’میں ملازمین کا انتخاب بڑی احتیاط سے کرتا ہوں ٗمیرا اپنا کرائیٹریا ہے اور جو شخص اس کرائیٹریا پر پورا نہیں اترتا میں اسے ملازم نہیں رکھتا‘‘ میں خاموشی سے سنتا رہا ٗ وہ بولا ’’جب کوئی شخص میرے پاس نوکری کے لئے آتا ہے تو میں اس سے پوچھتا ہوں ٗکیا تم عبادت کرتے ہو ٗ اگر وہ ہاں میں جواب دے تو وہ میرا پہلا امتحان پاس کر جاتا ہے‘‘ میں نے اسے ٹوک کر پوچھا ’’عبادت سے تمہاری کیا مراد ہے‘‘ اس نے مسکرا کر جواب دیا ’’اگر وہ مسلمان ہے تو کیا وہ نماز پڑھتا ہے ٗوہ عیسائی ہے تو کیا وہ چرچ جاتا ہے ٗ یہودی ہے تو سیناگوگا ٗ ہندو ہے تو مندر اور بدھ ہے تو کیا وہ ٹمپل جاتا ہے ٗ وہ کسی مذہب کا ماننے والا ہو میں صرف یہ دیکھتا ہوں کیا اس کا مذہب کے ساتھ تعلق قائم ہے‘‘ میں نے ہاں میں سر ہلا دیا ٗ وہ بولا ’’میں اس سے پوچھتا ہوں وہ اپنے خاندان ٗ بیوی اور بچوں کو کتنا وقت دیتا ہے ٗ اگر اس کا جواب روزانہ چار گھنٹے اور ہفتے میں دو دن ہو تو میں اسے ملازم رکھ لیتا ہوںٗ میں طلاق یافتہ اور مطلقہ لوگوں کو ملازمت نہیں دیتا ٗ اگر کوئی کنوارہ شخص میرے ادارے میں ملازم ہو جائے تو وہ سال کے اندر اندر شادی کا پابند ہوتا ہے‘‘ میرے لئے یہ شرط بھی عجیب تھی لیکن میں خاموش رہا ٗ وہ بولا ’’میں یہ دیکھتا ہوں کیا وہ سال میں ایک مہینے چھٹیاں لیتا ہے اور کیا وہ یہ چھٹیاں اپنے بیوی بچوں کے ساتھ کسی اچھے مقام پر گزارتا ہے ٗمیں یہ دیکھتا ہوں وہ اوور ٹائم تو نہیں لگاتا اور وہ ہفتے اور اتوار کی چھٹی اپنے خاندان ٗ اپنے دوستوں کے ساتھ گزارتا ہے ٗ اگر مجھے معلوم ہو وہ سارا سال کام کرتا ہے ٗ وہ اوور ٹائم لگاتا ہے یا وہ ہفتے اور اتوار کے دن بھی کام کرتا ہے تو میں اسے ملازم نہیں رکھتا ٗ ‘‘ میں خاموش رہا ٗ وہ بولا ’’میں اس سے پوچھتا ہوں کیا وہ ہفتے میں کم از کم پانچ دن ایکسرسائز کرتا ہے ٗ کیا وہ واک ٗ جاگنگ ٗ سائیکلنگ اور ویٹ ٹریننگ کرتا ہے ٗ اگر اس کا جواب ناں میں ہو تو میں فوراً معذرت کر لیتا ہوں‘‘ میں اس کی بات غور سے سنتا رہا ٗ وہ بولا ’’اور میں اس سے آخری سوال پوچھتا ہوں ٗکیا وہ باقاعدگی سے مطالعہ کرتا ہے ٗکیا وہ اخبارات ٗ رسائل یا کتابیں پڑھتا ہے اور کیا اس کے دوستوں میں کوئی پڑھا لکھا شخص موجود ہے ٗ اگر وہ ہاں کہہ دے تو میں اسے نوکری دے دیتا ہوں‘‘ وہ خاموش ہو گیا۔ میں نے جوزف سے کہا’’یہ ساری چیزیں تو ذاتی ہیں ٗ ان کا کام کے ساتھ کوئی تعلق نہیں اور یہ ملازمت کے مروجہ اصولوں کے بھی خلاف ہیں‘‘ اس نے قہقہہ لگایا اور میرا ہاتھ دبا کر بولا ’’مجھے معلوم تھا تم مجھ سے یہی کہو گے‘‘ وہ تھوڑی دیر رکا ٗ اس نے ہیٹ اتار کر سر پر ہاتھ پھیرا اور مسکرا کر بولا ’’ان تمام چیزوں کا تعلق ذات سے نہیں بلکہ وفاداری سے ہے ٗ میں سمجھتا ہوں جو شخص اپنے ساتھ وفادار نہیں وہ دنیا کے کسی شخص کے ساتھ وفادار نہیں ہو سکتا ٗ جو شخص اپنے رب کی اطاعت نہیں کرتا وہ دنیا کے کسی شخص کی اطاعت نہیں کرتا ٗ جو شخص اپنے آرام کا خیال نہیں رکھتا وہ کسی شخص کو آرام نہیں پہنچا سکتا ٗجو شخص اپنے خاندان کو وقت نہیں دے سکتا وہ دنیا کے کسی شخص کو وقت نہیں دیتا ٗ جو شخص اپنی صحت اور سلامتی کا خیال نہیں رکھتا وہ شخص کسی شخص کی سلامتی اور صحت کا خیال نہیں رکھ سکتا اور جو شخص پڑھتا نہیں وہ شخص زندگی میں سیکھتا نہیں اور جو شخص زندگی میں سیکھتا نہیں وہ کسی ادارے کسی کمپنی کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتا‘‘ میرا فلسفہ ہے جو شخص اپنے ساتھ وفادار نہیں وہ کسی ادارے ٗ کسی کمپنی اور کسی شخص کے ساتھ وفادار نہیں ہو سکتا لہٰذا میں ہمیشہ اپنے لئے وفادار لوگوں کا انتخاب کرتا ہوں ‘‘ اس کی بات میرے لئے بالکل نئی تھی ٗ میں نے سوچا ’’واقعی وفاداری کا آغاز انسان کی اپنی ذات سے ہوتا ہے جو شخص اپنے ساتھ بےوفا ہو وہ دوسروں کے ساتھ وفاداری کیسے کر سکتا ہے ٗ جو شخص اپنے اللہ کے ساتھ دھوکہ کر رہا ہو ٗ جو اپنی ذات کے ساتھ دغا کر رہا ہو ٗ جس نے اپنے خاندان ٗ اپنے وجود اور اپنے ذہن کو محروم کر رکھا ہو وہ دوسروں کے ذہن ٗ وجود اور خاندان کو کیسے نواز سکتا ہے، وہ ان کا بھلا کیسے سوچ سکتا ہے‘‘ میں نے اس یہودی کا ہاتھ تھاما ٗ اسے سیلوٹ کیا اور باہر آ گیا اور فٹ پاتھ پر کھڑا ہو کر سوچنے لگا ’’میں بھی ان لوگوں میں شمار ہوتا ہوں جو روز اپنے ساتھ بے وفائی کرتے ہیں ٗ جو اپنے آپ کو دھوکہ دیتے ہیں اور انہوں نے اس دھوکے کو پروفیشن ٗ جاب اور مصروفیت کا نام دے رکھا ہے‘‘ میں نے اسی وقت اپنا تھیلا کندھے پر رکھا اور فٹ پاتھ پر جوگنگ شروع کر دی ٗ میں نے وفاداری کے میدان میں پہلا قدم رکھ دیا

✍🤕 🎭🤔​​​​​


محبت دل نہیں مانگتی !

‏ﻣﺤﺒﺖ __ ﺩﻝ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﺎﻧﮕﺘﯽ !!!
ﺍﻟﺒﺘﮧ ﺩﻝ ﮐ
ﻣﺤﺒﺖ __ ﺍﺧﺘﯿﺎﺭ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﺎﻧﮕﺘﯽ !!!
ﺍﻟﺒﺘﮧ ﺁﭘﮑﮯ ﺍﺧﺘﯿﺎﺭ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﭼﮭﭙﺎ " ﺍﻋﺘﺒﺎﺭ " ﺿﺮﻭﺭ ﻣﺎﻧﮓ ﻟﯿﺘﯽ ﮨﮯ __
. ﻣﺤﺒﺖ __ ﭘﯿﺎﺭ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﺎﻧﮕﺘﯽ !!!
ﻣﮕﺮ ﺍﺱ ﭘﯿﺎﺭ ﮐﮯ ﭘﺮﻭﮞ ﮐﺎ ﺳﻮﺍﺭ ﺿﺮﻭﺭ ﻣﺎﻧﮓ ﻟﯿﺘﯽ ﮨﮯ __
ﻣﺤﺒﺖ _ ﺁﭖ ﺳﮯ ﻧﯿﻨﺪ ﮐﺒﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﺎﻧﮕﮯ ﮔﯽ ، ﺧﻮﺍﺏ ﻣﺎﻧﮕﮯ ﮔﯽ !
ﻣﺤﺒﺖ __ ﺳﻮﺍﻝ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﯽ
ﮨﻤﯿﺸﮧ " ﺟﻮﺍﺏ " ﻣﺎﻧﮕﮯ ﮔﯽ
ﺍﻭﺭ ﮐﺒﮭﯽ ﺁﭖ ﺳﮯ ﯾﮧ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮩﮯ ﮔﯽ
ﮐﮧ ﺻﺮﻑ " ﻣﯿﺮﮮ " ﮨﻮ ﮐﮯ ﺭﮨﻮ ﻣﮕﺮ ﮐﺴﯽ ﺍﻭﺭﮐﺎ ﮨﻮﻧﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﮮ ﮔﯽ __
محبت ایک تتلی ہے آزاد رہتی ہے تو خوش ،خوبصورت اور رنگوں سے بھرپور رہتی ہے لیکن ہم انسان اسے اپنے ہاتھ میں قید کرنے کی کوشش کرتے ہیں جس سے اس کے رنگین پر ہمارے ہاتھ پر رنگ چھوڑ کر ختم ہوجاتے ہیں ۔ پھرناخوبصورتی رہتی ہےنا خوشی،نا زندگی اور نا ہی وہ خوبصورت تتلی ۔





ایک حیران کُن ریسرچ

انسانی عادتوں کے ماہرین نے ڈیٹا کی بنیاد پر ریسرچ کی ہے اور معلوم ہوا دنیا میں 99 فیصد غلط فیصلے دن دو بجے سے چار بجے کے درمیان ہوتے ہیں‘ یہ ڈیٹا جب مزید کھنگالا گیا تو پتا چلا دنیا میں سب سے زیادہ غلط فیصلے دن دو بج کر 50 منٹ سے تین بجے کے درمیان کیے جاتے ہیں۔

یہ ایک حیران کن ریسرچ تھی‘ اس ریسرچ نے ”ڈسین میکنگ“ (قوت فیصلہ) کی تمام تھیوریز کو ہلا کر رکھ دیا‘ ماہرین جب وجوہات کی گہرائی میں اترے تو پتا چلا ہم انسان سات گھنٹوں سے زیادہ ایکٹو نہیں رہ سکتے‘ ہمارے دماغ کو سات گھنٹے بعد فون کی بیٹری کی طرح ”ری چارجنگ“ کی ضرورت ہوتی ہے اور ہم اگر اسے ری چارج نہیں کرتے تو یہ غلط فیصلوں کے ذریعے ہمیں تباہ کر دیتا ہے‘ ماہرین نے ڈیٹا کا مزید تجزیہ کیا تو معلوم ہوا ہم لوگ اگر صبح سات بجے جاگیں تو دن کے دو بجے سات گھنٹے ہو جاتے ہیں۔

ہمارا دماغ اس کے بعد آہستہ آہستہ سن ہونا شروع ہو جاتا ہے اور ہم غلط فیصلوں کی لائین لگا دیتے ہیں چناں چہ ہم اگر بہتر فیصلے کرنا چاہتے ہیں تو پھر ہمیں دو بجے کے بعد فیصلے بند کر دینے چاہئیں اور آدھا گھنٹہ قیلولہ کرنا چاہیے‘ نیند کے یہ30 منٹ ہمارے دماغ کی بیٹریاں چارج کر دیں گے اور ہم اچھے فیصلوں کے قابل ہو جائیں گے‘ یہ ریسرچ شروع میں امریکی صدر‘ کابینہ کے ارکان‘ سلامتی کے بڑے اداروں اور ملٹی نیشنل کمپنیوں کے سی ای اوز کے ساتھ شیئر کی گئی۔

یہ اپنے فیصلوں کی روٹین تبدیل کرتے رہے‘ ماہرین نتائج نوٹ کرتے رہے اور یہ تھیوری سچ ثابت ہوتی چلی گئی‘ ماہرین نے اس کے بعد ”ورکنگ آوورز“ کو تین حصوں میں تقسیم کر دیا‘آفس کے پہلے تین گھنٹے فیصلوں کے لیے بہترین قرار دے دیے گئے‘ دوسرے تین گھنٹے فیصلوں پر عمل کے لیے وقف کر دیے گئے اور آخری گھنٹے فائل ورک‘ کلوزنگ اوراکاؤنٹس وغیرہ کے لیے مختص کر دیئے گئے‘ سی آئی اے نے بھی اس تھیوری کو اپنے سسٹم کا حصہ بنا لیا۔

مجھے جنرل احمد شجاع پاشا نے ایک بار بتایا تھا‘ امریکی ہم سے جب بھی کوئی حساس میٹنگ کرتے تھے تو یہ رات کے دوسرے پہر کا تعین کرتے تھے‘ میں نے محسوس کیا یہ میٹنگ سے پہلے ہمارے تھکنے کا انتظار کرتے ہیں چناں چہ ہم ملاقات سے پہلے نیند پوری کر کے ان کے پاس جاتے تھے۔میں نے برسوں پہلے ایک فقیر سے پوچھا تھا ”تم لوگ مانگنے کے لیے صبح کیوں آتے ہو اور شام کے وقت کیوں غائب ہو جاتے ہو“ فقیر نے جواب دیا تھا ”لوگ بارہ بجے تک سخی ہوتے ہیں اور شام کو کنجوس ہو جاتے ہیں‘ ہمیں صبح زیادہ بھیک ملتی ہے“ ۔

مجھے اس وقت اس کی بات سمجھ نہیں آئی تھی لیکن میں نے جب دو بجے کی ریسرچ پڑھی تو مجھے فقیر کی بات سمجھ آ گئی‘ آپ نے بھی نوٹ کیا ہوگا آج سے پچاس سال پہلے لوگ زیادہ خوش ہوتے تھے‘ یہ شامیں خاندان کے ساتھ گزارتے تھے‘ سپورٹس بھی کرتے تھے اور فلمیں بھی دیکھتے تھے‘کیوں؟ کیوں کہ پوری دنیا میں اس وقت قیلولہ کیا جاتا تھا‘ لوگ دوپہر کو سستاتے تھے مگر انسان نے جب موسم کو کنٹرول کر لیا‘ یہ سردی کو گرمی اور گرمی کو سردی میں تبدیل کرنے میں کام یاب ہو گیا تو اس نے قیلولہ بند کر دیا چناں چہ لوگوں میں خوشی کا مادہ بھی کم ہو گیا اور ان کی قوت فیصلہ کی ہیت بھی بدل گئی۔

ریسرچ نے ثابت کیا ہم اگر صبح سات بجے اٹھتے ہیں تو پھر ہمیں دو بجے کے بعد ہلکی نیند کی ضرورت پڑتی ہے اور ہم اگر دو سے تین بجے کے دوران تھوڑا سا سستا لیں‘ ہم اگر نیند لے لیں تو ہم فریش ہو جاتے ہیں اور ہم پہلے سے زیادہ کام کر سکتے ہیں‘ پوری دنیا میں فجر کے وقت کو تخلیقی لحاظ سے شان دارسمجھا جاتا ہے‘ کیوں؟ ہم نے کبھی غور کیا‘ اس کی دو وجوہات ہیں‘ ہم بھرپور نیند لے چکے ہوتے ہیں لہٰذا ہمارے دماغ کی تمام بیٹریاں چارج ہو چکی ہوتی ہیں اور دوسرا فجر کے وقت فضا میں آکسیجن کی مقدار زیادہ ہوتی ہے اور آکسیجن ہمارے دماغ کے لیے اکسیر کاد رجہ رکھتی ہے۔

یہ ذہن کی مرغن غذا ہے چناں چہ ماہرین کا دعویٰ ہے آپ اگر بڑے فیصلے کرنا چاہتے ہیں تو آپ یہ کام صبح بارہ بجے سے پہلے نمٹا لیں اور آپ کوشش کریں آپ دو سے تین بجے کے درمیان کوئی اہم فیصلہ نہ کریں کیوں کہ یہ فیصلہ غلط ہو گا اور آپ کو اس کا نقصان ہو گا.







بات کیجیئے خاموش مت رہیئے !

اپنے احساسات اپنے قریبی افراد کو بتانا بہت اہم ہے ساتھ ہی جب کوئی ہمیں اپنے احساسات بتائے تو ان کو سنجیدگی سے سمجھنا بھی اہم ہے. یہ بہت بڑی غلط فہمی ہے کہ

*۔۔ دوسرا بغیر کہے ہمارے احساسات سمجھ سکتا ہے۔۔

*۔۔ یا سمجھنا اس کی ذمہ داری ہے.

*۔۔یا ہم دوسرے کے احساسات بغیر کہے سمجھ سکتے ہیں,

اس غلط فہمی کی وجہ سے ہم اپنے بہت سے مخلص رشتوں سے متنفر ہو جاتے ہیں.
اس غلط فہمی کا سب سے زیادہ شکار والدین ہوتے ہیں وہ ہمیشہ سمجھتے ہیں کہ ہم بغیر کہے اولاد کی بات سمجھ لیتے ہیں یا اولاد کو بغیر کہے ہماری قربانیوں کو سمجھنا چاہئیے. یہ غلط فہمی درمیان میں کمیونیکیشن گیپ پیدا کر دیتی ہے جو بڑھتے بڑھتے ناقابلِ حل مسائل پیدا کر دیتا ہے کیوں کہ ان مسائل کا حل بھی بات چیت میں چھپا ہوتا ہے.

بات کیجئے خاموش مت رہیئے!

عزازیل سے ابلیس تک کا سفر

عزازیل سے ابلیس تک کا سفر
ابلیس جس کو شیطان کہا جاتا هـے, یہ فرشتہ نہیں تھا بلکہ جن تھا جو آگ سے پیدا ہوا تھا, لیکن یہ فرشتوں کے ساتھ ساتھ ملا جلا رہتا تھا اور دربارِ خداوندی میں بہت مقرب اور بڑے بڑے بلند درجات و مراتب سے سرفراز تھا, تفاسیر میں هــے کہ ابلیس سب سے پہلـے جن یعنی تمام جنات کے باپ "مارج" کے پوتے کا بیٹا تھا
حضرت کعب احبار رضی اللہ عنہ کا بیان هــے کہ ابلیس چالیس ہزار برس تک جنت کا خزانچی رہا اور اَسّی ہزار برس تک ملائکہ کا ساتھی رہا اور بیس ہزار برس تک ملائکہ کو وعظ سنا تا رہا اور تیس ہزار برس تک مقربین کا سردار رہا اور ایک ہزار برس تک روحانین کی سرداری کے منصب پر رہا اور چودہ ہزار برس تک عرش کا طواف کرتا رہا اور پہلے آسمان میں اس کا نام عابد, اور دوسرے آسمان میں زاہد, اور تیسرے آسمان میں عارف, اور چوتھے آسمان میں ولی, اور پانچویں آسمان میں تقی, اور چھٹے آسمان میں خازن, اور ساتویں آسمان میں عزازیل تھا اور لوح محفوظ میں اس کا نام ابلیس لکھا ہوا تھا اور یہ اپنـے انجام سے غافل اور خاتمہ سے بے خبر تھا, (تفسیر صاوی، ج۱،ص۵۱،پ۱، البقرۃ : ۳۴، تفسیر جمل ،ج۱ ص ۶۰ )
,
لیکن جب اللہ تعالیٰ نـے حضرت آدم علیہ السلام کو سجدہ کرنـے کا حکم دیا تو ابلیس نـے  انکار کردیا اور حضرت آدم علیہ السلام کی تحقیر اور اپنی بڑائی کا اظہار کر کے تکبر کیا اسی جرم کی سزا میں خداوند ِ عالم نـے اس کو مردود ِ بارگاہ کر کے دونوں جہان میں ملعون فرما دیا اور اس کی پیروی کرنـے والوں کو جہنم میں عذاب ِنار کا سزاوار بنادیا, چنانچہ قرآن مجید میں ارشاد ربانی ہوا کہ:- (سورہ اعراف:12۔18)
ترجمہ قرآن پاک:۔ فرمایا کس چیز نـے تجھـے روکا کہ تو نـے سجدہ نہ کیا جب میں نـے تجھـے حکم دیا تھا بولا میں اس سے بہتر ہوں تو نـے مجھـے آگ سے بنایا اور اسے مٹی سے بنایا, فرمایا تو یہاں سے اتر جا تجھـے نہیں پہنچتا کہ یہاں رہ کر غرور کرے نکل تو هــے ذلت والوں میں بولا مجھـے فرصت دے اس دن تک کہ لوگ اٹھائـے جائیں فرمایا تجھـے مہلت هــے بولا تو قسم اس کی کہ تو نـے مجھـے گمراہ کیا میں ضرور تیرے سیدھے راستہ پر ان کی تاک میں بیٹھوں گا پھر ضرور میں ان کے پاس آؤں گا ان کے آگے اور پیچھـے اور داہنے اوربائیں سے اور تو ان میں اکثر کو شکر گزار نہ پائے گا فرمایا یہاں سے نکل جا رد کیا گیا راندہ ہوا ضرور جو ان میں سے تیرے کہے پر چلا میں تم سب سے جہنم بھر دوں گا۔
درسِ ہدایت:۔ قرآن مجید کے اس عجیب واقعہ میں عبرتوں اور نصیحتوں کی بڑی بڑی درخشندہ اور تابندہ تجلیاں ہیں اسی لئے اس واقعہ کو خداوند قدوس نـے مختلف الفاظ میں اور متعدد طرز بیان کے ساتھ قرآن مجید کے سات مقامات میں بیان فرمایا هــے یعنی سورة بقرہ, سورة اعراف, سورة حجر, سورة بنی اسرائیل, سورة کہف, سورة طٰہٰ, سورة ص میں اس دل ہلا دینـے والـے واقعہ کا تذکرہ مذکور هــے جس سے مندرجہ ذیل حقائق کا درس ہدایت ملتا هــے۔
(۱)اس سے ایک بہت بڑا درس ہدایت تو یہ ملتا هــے کہ کبھی ہرگز ہرگز اپنی عبادتوں اور نیکیوں پر گھمنڈ اور غرور نہیں کرنا چاہیے اور کسی گنہگار کو اپنی مغفرت سے کبھی مایوس نہیں ہونا چاہیے کیونکہ انجام کیا ہو گا اور خاتمہ کیسا ہو گا عام بندوں کو اس کی کوئی خبر نہیں هــے اور نجات و فلاح کا دارومدار درحقیقت خاتمہ بالخیر پر ہی هــے بڑے سے بڑا عابد اگر اس کا خاتمہ بالخیر نہ ہوا تو وہ جہنمی ہو گا اور بڑے سے بڑا گنہگار اگر اس کا خاتمہ بالخیر ہو گیا تو وہ جنتی ہو گا دیکھ لو ابلیس کتنا بڑا عبادت گزار اور کس قدر مقرب بارگاہ تھا اور کیسے کیسے مراتب و درجات کے شرف سے سرفراز تھا, مگر انجام کیا ہوا ؟ کہ اس کی ساری عبادتیں غارت و اکارت ہو گئیں اور وہ دونوں جہان میں ملعون ہو کر عذاب ِ جہنم کا حق دار بن گیا, کیونکہ اس کو اپنی عبادتوں اور درجات کی بلندی پر غرور اور تکبر ہو گیا تھا مگر وہ اپنـے انجام اور خاتمہ سے بالکل بے خبر تھا۔
حدیث شریف میں هــے کہ ایک بندہ اہل جہنم کے اعمال کرتا رہتا هــے حالانکہ وہ جنتی ہوتا هــے اور ایک بندہ اہل جنت کے عمل کرتا رہتا هــے حالانکہ وہ جہنمی ہوتا هــے۔ اِنَّمَاالْاَعْمَالُ بِالْخَوَاتِیْم یعنی عمل کا اعتبار خاتموں پر هــے۔ (مشکوٰۃالمصابیح،کتاب الایمان،باب الایمان بالقدر، الفصل الاول، ص ۲۰ )
,
خداوندکریم ہر مسلمان کو خاتمہ بالخیر کی سعادت نصیب فرمائـے  اور برے انجام اور برے خاتمہ سے محفوظ رکھے, آمین
(۲)اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ عالم ہو یا جاہل متقی ہو یا گنہگار ہر آدمی کو زندگی بھر شیطان کے وسوسوں سے ہوشیار اور اس کے فریبوں سے بچتـے رہنا چاہیے, کیونکہ شیطان نـے قسم کھا کر اللہ کے حضور میں اعلان کردیا هــے کہ میں آگے پیچھـے اور دائیں بائیں سے وسوسہ ڈال کر تیرے بندوں کو صراط مستقیم سے بہکاتا رہونگا اور بہت سے بندوں کو اللہ کا شکر گزار ہونـے سے روک دوں گا
اللہ تعالی ہمیں شیطان کے شر سے محفوظ فرمائـے اور مرتـے وقت کلمہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کی توفیق عطاء فرمائــے , ثمہ یا رب العالمین



Sunday, October 27, 2019

استغفار کے فوائد

استغفار کے فوائد 👇

حضرت حسن البصری رحمۃ اللہ علیہ اپنے شاگردوں کے ساتھ بیٹھے تھے کہ ایک شخص آپ کے پاس آیا اور کہا کہ میری کھیتی سوکھ رہی ہے آپ بارش کی دعا کریں۔ حضرت نے فرمایا اللہ سبحان وتعالیٰ سے مغفرت طلب کرو۔ وہ شخص چلا گیا۔ کچھ دیر بعد دوسرا شخص حضرت کے پاس آیا اور کہا میں بے اولاد ہوں‘ دعا کریں کہ میرے ہاں اولاد ہوجائے۔ حضرت نے فرمایا اللہ سبحان و تعالیٰ سے مغفرت طلب کرو وہ شخص چلا گیا۔
کچھ دیر بعد تیسرا شخص حضرت کے پاس آیا اور کہا میں مسکین اور فقیر اور ضرورت مند ہوں دعا کریں کہ میں مالدار ہو جاؤں۔
حضرت نے فرمایا اللہ سبحانہٗ و تعالیٰ سے مغفرت طلب کرو وہ شخص چلا گیا۔ حضرت کے شاگردوں نے سوال کیا کہ آپ نے تمام حاجت مندوں کو ایک جیسا جواب کیوں دیا؟
حضرت نے جواب دیا: پہلے شخص کی کھیتی سوکھ رہی تھی اور بارش کی ضرورت تھی اللہ سبحانہٗ و تعالیٰ فرماتے ہیں:۔

فَقُلْتُ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّکُمْ اِنَّہٗ کَانَ غَفَّارًا ﴿نوح۱۰﴾ ترجمہ:تو میں نے کہا اپنے رب سے معافی مانگو بے شک وہ بڑا معاف فرمانے والا ہے۔
ا
س کا نتیجہ

یُّرْسِلِ السَّمَآءَ عَلَیْکُمْ مِّدْرَارًا ﴿نوح۱۱﴾
ترجمہ: وہ تم پرآسمان سے موسلادھار مینہ برسائے گا۔

اس کا نتیجہ
وَّ یُمْدِ دْکُمْ بِاَمْوٰلٍ وَّ بَنِیْنَ وَ یَجْعَلْ لَّکُمْ جَنّٰتٍ وَّ یَجْعَلْ لَّکُمْ اَنْہٰرًا ﴿نوح۱۲﴾

ترجمہ: اور مال اور بیٹوں سے تمہاری مدد کرے گااور تمہارے لئے باغ بنادے گا اور تمہارے لئے نہریں بنائے گا ۔
اللہ سبحان وتعالیٰ سے استغفار (معافی )مانگنے کے فوائد:
1۔ استغفار سے گناہوں اور خطاؤں کی معافی ہو جاتی ہے۔
2۔استغفار سے بارش برستی ہے۔
3۔ استغفار سے اولاد اور مال عطا ہوتا ہے۔
4۔استغفار سے بلاؤں اور مصیبتوں سے نجات ملتی ہے۔
5۔استغفار سے انسان کو طاقت اور توانائی عطا ہوتی ہے۔

محرم

‏جو محرم نہیں ، اس سے تنہائی میں ملنے کی اجازت میرے رب نے نہیں دی ، چاہے وہ تنہائی ٹیلی فونک گفتگو تک ہو یا کسی پروفیسر کے آفس میں جاکر اس سے ملنے کی حد تک سب مرد ایک سے نہیں ہوتے مگر فارمولا سب پر ایک ہی اپلائی ہوتا ہے ۔ جو محرم ہے ، وہ مرد آپ کے لیے اچھا ہے اور جو محرم نہیں ہے، وہ چاہے آپ کو جس رشتے سے بھی پکارے، وہ آپ کے لیے اچھا نہیں ہو سکتا۔۔۔ !


وفات سے تین روز قبل

آپ سے گزارش کہ آپ اسے پورا سکون و اطمینان کے ساتھ پڑھیئے آپ کا ایمان تازہ ہوجاۓ گا ۔

وفات سے 3 روز قبل جبکہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ام المومنین حضرت میمونہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے گھر تشریف فرما تھے، ارشاد فرمایا کہ
"میری بیویوں کو جمع کرو۔"
تمام ازواج مطہرات جمع ہو گئیں۔
تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا:
"کیا تم سب مجھے اجازت دیتی ہو کہ بیماری کے دن میں عائشہ (رضی اللہ عنہا) کے ہاں گزار لوں؟"
سب نے کہا اے اللہ کے رسول آپ کو اجازت ہے۔
پھر اٹھنا چاہا لیکن اُٹھ نہ پائے تو حضرت علی ابن ابی طالب اور حضرت فضل بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما آگے بڑھے اور نبی علیہ الصلوة والسلام کو سہارے سے اٹھا کر سیدہ میمونہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے حجرے سے سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے حجرے کی طرف لے جانے لگے۔
اس وقت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس (بیماری اور کمزوری کے) حال میں پہلی بار دیکھا تو گھبرا کر ایک دوسرے سے پوچھنے لگے
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کو کیا ہوا؟
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کو کیا ہوا؟
چنانچہ صحابہ مسجد میں جمع ہونا شروع ہو گئے اور مسجد شریف میں ایک رش لگ ہوگیا۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کا پسینہ شدت سے بہہ رہا تھا۔
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے اپنی زندگی میں کسی کا اتنا پسینہ بہتے نہیں دیکھا۔
اور فرماتی ہیں:
"میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے دست مبارک کو پکڑتی اور اسی کو چہرہ اقدس پر پھیرتی کیونکہ نبی علیہ الصلوة والسلام کا ہاتھ میرے ہاتھ سے کہیں زیادہ محترم اور پاکیزہ تھا۔"
مزید فرماتی ہیں کہ حبیب خدا علیہ الصلوات والتسلیم
سے بس یہی ورد سنائی دے رہا تھا کہ
"لا إله إلا الله، بیشک موت کی بھی اپنی سختیاں ہیں۔"
اسی اثناء میں مسجد کے اندر آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے بارے میں خوف کی وجہ سے لوگوں کا شور بڑھنے لگا۔
نبی علیہ السلام نے دریافت فرمایا:
"یہ کیسی آوازیں ہیں؟
عرض کیا گیا کہ اے اللہ کے رسول! یہ لوگ آپ کی حالت سے خوف زدہ ہیں۔
ارشاد فرمایا کہ مجھے ان پاس لے چلو۔
پھر اُٹھنے کا ارادہ فرمایا لیکن اُٹھ نہ سکے تو آپ علیہ الصلوة و السلام پر 7 مشکیزے پانی کے بہائے گئے، تب کہیں جا کر کچھ افاقہ ہوا تو سہارے سے اٹھا کر ممبر پر لایا گیا۔
یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا آخری خطبہ تھا اور آپ علیہ السلام کے آخری کلمات تھے۔
فرمایا:
" اے لوگو ! شاید تمہیں میری موت کا خوف ہے؟"
سب نے کہا:
"جی ہاں اے اللہ کے رسول"
ارشاد فرمایا:
"اے لوگو !
تم سے میری ملاقات کی جگہ دنیا نہیں، تم سے میری ملاقات کی جگہ حوض (کوثر) ہے، خدا کی قسم گویا کہ میں یہیں سے اسے (حوض کوثر کو) دیکھ رہا ہوں،
اے لوگو !
مجھے تم پر تنگدستی کا خوف نہیں بلکہ مجھے تم پر دنیا (کی فراوانی) کا خوف ہے، کہ تم اس ( کے معاملے) میں ایک دوسرے سے مقابلے میں لگ جاؤ جیسا کہ تم سے پہلے (پچھلی امتوں) والے لگ گئے، اور یہ (دنیا) تمہیں بھی ہلاک کر دے جیسا کہ انہیں ہلاک کر دیا۔"
پھر مزید ارشاد فرمایا:
"اے لوگو ! نماز کے معاملے میں اللہ سے ڈرو، اللہ سےڈرو ۔ نماز کے معاملے میں اللہ سے ڈرو، اللہ سے ڈرو۔"
(یعنی عہد کرو کہ نماز کی پابندی کرو گے، اور یہی بات بار بار دہراتے رہے۔)
پھر فرمایا:
"اے لوگو ! عورتوں کے معاملے میں اللہ سے ڈرو، عورتوں کے معاملے میں اللہ سے ڈرو، میں تمہیں عورتوں سے نیک سلوک کی وصیت کرتا ہوں۔"
مزید فرمایا:
"اے لوگو ! ایک بندے کو اللہ نے اختیار دیا کہ دنیا کو چن لے یا اسے چن لے جو اللہ کے پاس ہے، تو اس نے اسے پسند کیا جو اللہ کے پاس ہے"
اس جملے سے حضور صلی اللہ علیہ و سلم کا مقصد کوئی نہ سمجھا حالانکہ انکی اپنی ذات مراد تھی۔
جبکہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ وہ تنہا شخص تھے جو اس جملے کو سمجھے اور زارو قطار رونے لگے اور بلند آواز سے گریہ کرتے ہوئے اٹھ کھڑے ہوئے اور نبی علیہ السلام کی بات قطع کر کے پکارنے لگے۔۔۔۔
"ہمارے باپ دادا آپ پر قربان، ہماری مائیں آپ پر قربان، ہمارے بچے آپ پر قربان، ہمارے مال و دولت آپ پر قربان....."
روتے جاتے ہیں اور یہی الفاظ کہتے جاتے ہیں۔
صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم (ناگواری سے) حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی طرف دیکھنے لگے کہ انہوں نے نبی علیہ السلام کی بات کیسے قطع کردی؟ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا دفاع ان الفاظ میں فرمایا:
"اے لوگو ! ابوبکر کو چھوڑ دو کہ تم میں سے ایسا کوئی نہیں کہ جس نے ہمارے ساتھ کوئی بھلائی کی ہو اور ہم نے اس کا بدلہ نہ دے دیا ہو، سوائے ابوبکر کے کہ اس کا بدلہ میں نہیں دے سکا۔ اس کا بدلہ میں نے اللہ جل شانہ پر چھوڑ دیا۔ مسجد (نبوی) میں کھلنے والے تمام دروازے بند کر دیے جائیں، سوائے ابوبکر کے دروازے کے کہ جو کبھی بند نہ ہوگا۔"
آخر میں اپنی وفات سے قبل مسلمانوں کے لیے آخری دعا کے طور پر ارشاد فرمایا:
"اللہ تمہیں ٹھکانہ دے، تمہاری حفاظت کرے، تمہاری مدد کرے، تمہاری تائید کرے۔
اور آخری بات جو ممبر سے اترنے سے پہلے امت کو مخاطب کر کے ارشاد فرمائی وہ یہ کہ:
"اے لوگو ! قیامت تک آنے والے میرے ہر ایک امتی کو میرا سلام پہنچا دینا۔"
پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دوبارہ سہارے سے اٹھا کر گھر لے جایا گیا۔
اسی اثناء میں حضرت عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ خدمت اقدس میں حاضر ہوئے اور ان کے ہاتھ میں مسواک تھی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسواک کو دیکھنے لگے لیکن شدت مرض کی وجہ سے طلب نہ کر پائے۔ چنانچہ سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دیکھنے سے سمجھ گئیں اور انہوں نے حضرت عبدالرحمن رضی اللہ عنہ سے مسواک لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے دہن مبارک میں رکھ دی، لیکن حضور صلی اللہ علیہ و سلم اسے استعمال نہ کر پائے تو سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مسواک لے کر اپنے منہ سے نرم کی اور پھر حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کو لوٹا دی تاکہ دہن مبارک اس سے تر رہے۔
فرماتی ہیں:
" آخری چیز جو نبی کریم علیہ الصلوة والسلام کے پیٹ میں گئی وہ میرا لعاب تھا، اور یہ اللہ تبارک و تعالٰی کا مجھ پر فضل ہی تھا کہ اس نے وصال سے قبل میرا اور نبی کریم علیہ السلام کا لعاب دہن یکجا کر دیا۔"
أم المؤمنين حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا مزید ارشاد فرماتی ہیں:
"پھر آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی بیٹی فاطمہ تشریف لائیں اور آتے ہی رو پڑیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اُٹھ نہ سکے، کیونکہ نبی کریم علیہ السلام کا معمول تھا کہ جب بھی فاطمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا تشریف لاتیں حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم انکے ماتھے پر بوسہ دیتےتھے۔
حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا اے فاطمہ! "قریب آجاؤ۔۔۔"
پھر حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے ان کے کان میں کوئی بات کہی تو حضرت فاطمہ اور زیادہ رونے لگیں، انہیں اس طرح روتا دیکھ کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا اے فاطمہ! "قریب آؤ۔۔۔"
دوبارہ انکے کان میں کوئی بات ارشاد فرمائی تو وہ خوش ہونے لگیں۔
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد میں نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالی عنھا سے پوچھا تھا کہ وہ کیا بات تھی جس پر روئیں اور پھر خوشی اظہار کیا تھا؟
سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالی عنھا کہنے لگیں کہ
پہلی بار (جب میں قریب ہوئی) تو فرمایا:
"فاطمہ! میں آج رات (اس دنیا سے) کوچ کرنے والا ہوں۔
جس پر میں رو دی۔۔۔۔"
جب انہوں نے مجھے بےتحاشا روتے دیکھا تو فرمانے لگے:
"فاطمہ! میرے اہلِ خانہ میں سب سے پہلے تم مجھ سے آ ملو گی۔۔۔"
جس پر میں خوش ہوگئی۔۔۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالی عنھا فرماتی ہیں:
پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سب کو گھر سے باھر جانے کا حکم دیکر مجھے فرمایا:
"عائشہ! میرے قریب آجاؤ۔۔۔"
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زوجۂ مطہرہ کے سینے پر ٹیک لگائی اور ہاتھ آسمان کی طرف بلند کر کے فرمانے لگے:
مجھے وہ اعلیٰ و عمدہ رفاقت پسند ہے۔ (میں الله کی، انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین کی رفاقت کو اختیار کرتا ہوں۔)
صدیقہ عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں:
"میں سمجھ گئی کہ انہوں نے آخرت کو چن لیا ہے۔"
جبرئیل علیہ السلام خدمت اقدس میں حاضر ہو کر گویا ہوئے:
"یارسول الله! ملَکُ الموت دروازے پر کھڑے شرف باریابی چاہتے ہیں۔ آپ سے پہلے انہوں نے کسی سے اجازت نہیں مانگی۔"
آپ علیہ الصلوة والسلام نے فرمایا:
"جبریل! اسے آنے دو۔۔۔"
ملَکُ الموت نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کے گھر میں داخل ہوئے، اور کہا:
"السلام علیک یارسول الله! مجھے اللہ نے آپ کی چاہت جاننے کیلئےبھیجا ہے کہ آپ دنیا میں ہی رہنا چاہتے ہیں یا الله سبحانہ وتعالی کے پاس جانا پسند کرتے ہیں؟"
فرمایا:
"مجھے اعلی و عمدہ رفاقت پسند ہے، مجھے اعلی و عمدہ رفاقت پسند ہے۔"
ملَکُ الموت آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کے سرہانے کھڑے ہوئے اور کہنے لگے:
"اے پاکیزہ روح۔۔۔!
اے محمد بن عبدالله کی روح۔۔۔!
الله کی رضا و خوشنودی کی طرف روانہ ہو۔۔۔!
راضی ہو جانے والے پروردگار کی طرف جو غضبناک نہیں۔۔۔!"
سیدہ عائشہ رضی الله تعالی عنہا فرماتی ہیں:
پھر نبی کریم صلی الله علیہ وسلم ہاتھ نیچے آن رہا، اور سر مبارک میرے سینے پر بھاری ہونے لگا، میں سمجھ گئی کہ آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کا وصال ہو گیا۔۔۔ مجھے اور تو کچھ سمجھ نہیں آیا سو میں اپنے حجرے سے نکلی اور مسجد کی طرف کا دروازہ کھول کر کہا۔۔
"رسول الله کا وصال ہوگیا۔۔۔! رسول الله کا وصال ہوگیا۔۔۔!"
مسجد آہوں اور نالوں سے گونجنے لگی۔
ادھر علی کرم الله وجہہ جہاں کھڑے تھے وہیں بیٹھ گئے پھر ہلنے کی طاقت تک نہ رہی۔
ادھر عثمان بن عفان رضی الله تعالی عنہ معصوم بچوں کی طرح ہاتھ ملنے لگے۔
اور سیدنا عمر رضی الله تعالی عنہ تلوار بلند کرکے کہنے لگے:
"خبردار! جو کسی نے کہا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم وفات پا گئے ہیں، میں ایسے شخص کی گردن اڑا دوں گا۔۔۔! میرے آقا تو الله تعالی سے ملاقات کرنے گئے ہیں جیسے موسی علیہ السلام اپنے رب سے ملاقات کوگئے تھے، وہ لوٹ آئیں گے، بہت جلد لوٹ آئیں گے۔۔۔۔! اب جو وفات کی خبر اڑائے گا، میں اسے قتل کر ڈالوں گا۔۔۔"
اس موقع پر سب زیادہ ضبط، برداشت اور صبر کرنے والی شخصیت سیدنا ابوبکر صدیق رضی الله تعالی عنہ کی تھی۔۔۔ آپ حجرہ نبوی میں داخل ہوئے، رحمت دو عالَم صلی الله علیہ وسلم کے سینۂ مبارک پر سر رکھ کر رو دیئے۔۔۔
کہہ رہے تھے:
وآآآ خليلاه، وآآآ صفياه، وآآآ حبيباه، وآآآ نبياه
(ہائے میرا پیارا دوست۔۔۔! ہائے میرا مخلص ساتھی۔۔۔!ہائے میرا محبوب۔۔۔! ہائے میرا نبی۔۔۔!)
پھر آنحضرت صلی علیہ وسلم کے ماتھے پر بوسہ دیا اور کہا:
"یا رسول الله! آپ پاکیزہ جئے اور پاکیزہ ہی دنیا سے رخصت ہوگئے۔"
سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ باہر آئے اور خطبہ دیا:
"جو شخص محمد صلی الله علیہ وسلم کی عبادت کرتا ہے سن رکھے آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کا وصال ہو گیا اور جو الله کی عبادت کرتا ہے وہ جان لے کہ الله تعالی شانہ کی ذات ھمیشہ زندگی والی ہے جسے موت نہیں۔"
سیدنا عمر رضی الله تعالی عنہ کے ہاتھ سے تلوار گر گئی۔۔۔
عمر رضی الله تعالی عنہ فرماتے ہیں:
پھر میں کوئی تنہائی کی جگہ تلاش کرنے لگا جہاں اکیلا بیٹھ کر روؤں۔۔۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی تدفین کر دی گئی۔۔۔
سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
"تم نے کیسے گوارا کر لیا کہ نبی علیہ السلام کے وجودِ اطہر پر مٹی ڈالو۔۔۔؟"
پھر کہنے لگیں:
"يا أبتاه، أجاب ربا دعاه، يا أبتاه، جنة الفردوس مأواه، يا أبتاه، الى جبريل ننعاه."
(ہائے میرے پیارے بابا جان، کہ اپنے رب کے بلاوے پر چل دیے، ہائے میرے پیارے بابا جان، کہ جنت الفردوس میں اپنے ٹھکانے کو پہنچ گئے، ہائے میرے پیارے بابا جان، کہ ہم جبریل کو ان کے آنے کی خبر دیتے ہیں۔)

اللھم صل علی محمد کما تحب وترضٰی۔