Friday, June 26, 2020

اپنی زندگی کو سادہ اور آسان بنائیں


How not to remain unhappy 😊😊😊

*خوشی*

ایک وقت تھا خوشی بہت آسانی سے مل جاتی تھی۔ 
دوستوں سے ملکر، 
عزیز رشتہ داروں سے ملکر، 
نیکی کرکے، 
کسی کا راستہ صاف کرکے، 
کسی کی مدد کرکے۔ 
خربوزہ میٹھا نکل آیا، 
تربوز لال نکل آیا، 
آم لیک نہیں ھوا، 
ٹافی کھا لی، 
سموسے لے آئے، 
جلیبیاں کھا لیں، 
باتھ روم میں پانی گرم مل گیا، داخلہ مل گیا، 
پاس ھوگئے، 
میٹرک کرلیا، 
ایف اے کرلیا، 
بی اے کر لیا، 
ایم اے کرلیا، 
کھانا کھالیا، 
دعوت کرلی، 
شادی کرلی، 
عمرہ اور حج کرلیا، 
چھوٹا سا گھر بنا لیا،  
امی ابا کیلئے سوٹ لے لیا، 
بہن کیلئے جیولری لے لی، 
بیوی کیلئے وقت سے پہلے گھر پہنچ گئے، 
اولاد آگئی اولاد بڑی ھوگئی، انکی شادیاں کردیں-
 نانے نانیاں بن گئے -
دادے دادیاں بن گئے -
سب کچھ آسان تھا 
اور سب خوش تھے.

پھر ہم نے پریشانی ڈھونڈنا شروع کردی، 
بچہ کونسے سکول داخل کرانا ھے، 
پوزیشن کیا آئے، 
نمبر کتنے ہیں، 
جی پی اے کیا ھے، 
لڑکا کرتا کیا ہے، 
گاڑی کونسی ہے، 
کتنے کی ہے، 
تنخواہ کیا ہے، 
کپڑے برانڈڈ چاہیئں
 یا پھر اس کی کاپی ہو، 
جھوٹ بولنا پھر اسکا دفاع کرنا، سیاست انڈسٹری بن گئی.

*ھم سے ھمارے دور ھوگئے*

شاید ہی ہمارے بچوں کو فوج کے عہدوں کا پتہ ہو 
پر ان کو ڈی ایچ اے کونسے شہر میں ہیں، سب پتہ ہے، 
گھر کتنے کنال کا ہو، 
پھر آرچرڈ سکیمز آگیئں، 
گھر اوقات سے بڑے ہو گئے، 
اور ہم دور دور ہو گئے، 
ذرائع آمدن نہیں بڑھے پر قرضوں پر گاڑیاں، موٹر سائیکل، ٹی وی، فریج، موبائل سب آگئے، 
سب کے کریڈٹ کارڈ آگئے -
پھر ان کے بل بجلی کا بل، 
پانی کا بل، گیس کا بل، موبائل کا بل، سروسز کا بل، 
پھر بچوں کی وین، 
بچوں کی ٹیکسی، 
بچوں کا ڈرائیور، 
بچوں کی گاڑی، 
بچوں کے موبائل، 
بچوں کے کمپیوٹر، 
بچوں کے لیپ ٹاپ، 
بچوں کے ٹیبلٹ، وائی فائی، گاڑیاں، 
جہاز، 
فاسٹ فوڈ، 
باھر کھانے، 
پارٹیاں،
پسند کی شادیاں، 
دوستیاں، طلاق پھر شادیاں، بیوٹی پارلر، 
جم، 
پارک، 
اس سال کہاں جائیں گے، 
یہ سب ہم نے اختیار کئے
 اور اپنی طرف سے ہم زندگی کا مزا لے رہے ہیں -
کیا آپ کو پتہ ھے آپ نے خوشی کو کھودیا ہے۔ 
جب زندگی سادہ تھی تو خوشی کی مقدار کا تعین ناممکن تھا -
اب اسی طرح دھوم دھڑکا تو بہت ھے پر پریشانی کا بھی کوئی حساب نہیں۔

*اپنی زندگی کو سادہ بنائے*

 تعلق بحال کیجئے، 
دوست بنایئے، 
دعوت گھر پر کیجئے،  
بے شک چائے پر بلائیں، 
یا پھر مولی والے پراٹھوں کا ناشتہ ساتھ کیجئے، 
دور ھونے والے سب چکر چھوڑ دیجئے، 
واٹس ایپ، فیس بک، ٹویٹر، لنکڈ ان، 
ٹی وی،خبریں، ڈرامے، میوزک، 
یہ سب دوری کے راستے ھیں آمنے سامنے بیٹھئیے، 
دل کی بات سنیئے اور سنائیے، مسکرائیے۔ 
یقین کیجئے خوشی بہت سستی مل جاتی ہے -
بلکہ مفت، 
اور پریشانی تو بہت مہنگی ملتی ہے 
جس کیلئے ہم اتنی محنت کرتے ہیں، 
اور پھر حاصل کرتے ھیں۔ 
خوشی ہرگز بھی چارٹر طیارے میں سفر کرنے میں نہیں ھے۔ کبھی نئے جوتے پہن کر بستر پر رھیئے پاوں نیچے رکھے تو جوتا گندا ھوجائے گا۔ 
بس محسوس کرنے کی بات ہے ،
چائے میں بسکٹ ڈبو کر تو دیکھئے -
ٹوٹ کر گر گیا تو کونسی قیامت آجائے گی ۔
ہمسائے کی بیل تو بجائیے  -
ملئے مسکرائیے، 
بس مسکراھٹ واپس آجائے گی، دوستوں سے ملئے دوستی کی باتیں کیجئے
 ان کو دبانے کیلئے ڈگریاں، کامیابیاں، فیکٹریوں کا ذکر ھرگز مت کیجئے۔ 
پرانے وقت میں جایئے جب ایک ٹافی کے دوحصے کرکے کھاتے تھے
،فانٹا کی بوتل آدھی آدھی پی  ، میلوڈی، آبپارہ  مl ۔ سب اپنی پرانی جگہوں پر بلائیے.
ہم نے کیا کرنا چائے خانہ کا جہاں پچاس قسم کی چائے ہے۔ 
آو وہاں چلیں جہاں سب کیلئے ایک ہی چائے بنتی ھے ملائی مارکے، چینی ہلکی پتی تیز۔

آؤ پھر سے خوش رھنا شروع کرتے ھیں۔

Thursday, June 25, 2020

My Lovely Cats 💕

مجھے کبھی جانور پالنے کا اتفاق نہیں ہوا تھا کیونکہ مجھے یہ سب چیزیں دور سے ہی پسند تھیں پاس جانا تو دور کی بات ہے اسی دوران مجھے میری ایک دوست نے بتایا کہ اس کے پاس پرشئن بلیاں ہیں اور انھوں نے بچے دیئے ہیں باتوں باتوں میں اس نے مجھے کہا کہ ایک جوڑا تمھیں دوں گی تو میں نے اسے کہا اچھا گھر پوچھ کر بتاؤں گی پہلے تو بھائی سے بات کی اس نے کہا لے لو پھر اچانک کچھ ایسا ہوا کہ اس کا موڈ بدل گیا اور میں نے بھی دوست کو منع کر دیا پھر اچانک اس سے رابطہ بھی ٹوٹ گیا پھر نہ جانے کتنے مہینوں بعد کسی نے کہا کہ وہ تمھارا پوچھ رہی تھی میں نے کہا اس کا نمبر مجھے دے دو پھر اس کا نمبر ایڈ کر کے اس سے بات کی تو اس نے پہلی بات ہی یہ کی کہ تمھاری بلیاں رکھی ہوئی ہیں جب چاہے لے لو پھر میں نے گھر میں بات کی تو سارے بچوں نے شور مچا دیا کہ ہم نے بلیاں لینی ہیں جو کہ کرونا کی چھٹیوں کی وجہ سے ہمارے گھر آئے ہوئے تھے بہن ، بھائیوں کے بچے ، پھر کیا تھا ٹائم سیٹ ہوا اور جگہ کا تعین کہ کرونا کی وجہ سے کسی کے گھر جا بھی نہی سکتے تھے میں اپنے بھتیجوں کو لیا اور پہنچ گئی بلیاں لینے پہلی بار سڑک پہ دوست سے مل کر خوشی بھی ہوئی اور کرونا کے بعد ملنے کا کہہ کر ہم بلیاں لے کر گھر پہنچے ، بچوں کو جیسے کھلونے مل گئے ہوں چینگ اور شانتی کی صورت میں چینگ چائنیز نام ہے اور بلی کو  ۔ معصوم ہونے کی وجہ سے شانتی نام سے پکارا جاتا تھا۔ پہلے دن سب نے اس کی کیئر کی میں نے دور سے ہی بس دیکھا مگر دوسرے دن وہ میرے پاؤں میں ایسے لیٹ رہی تھیں کہ جیسے کب سے مجھے جانتی ہوں میرا بھی شوق بڑھا اور اس سے مانوس ہونے لگی اپنے پاس گود میں بٹھا کر انھیں پیار کیا میرا ڈر نہ جانے کہاں گیا تھا مجھے سمجھ ہی نہی آئی اتنا پیارا تحفہ ملنے پر میں اپنی دوست کی بہت شکر گزار تھی اور بلیوں کی وجہ سے میرا وقت بھی اچھا گزرنے لگا اب وہ اتنی شرارتی ہیں کہ آپس میں لاڈ بھی کرتے ہیں اور خوب لڑتے بھی ہیں اور میں ان کے خوبصورت لمحات کو کیمرے کی آنکھ میں save کر لیتی ہوں 
ماشاءاللہ بہت پیارا جوڑا ہے اللہ نظر بد سے بچائے آمین 

Thursday, January 23, 2020

بھارت کا نیا سمیدھان

‏🧅بھارت کا نیا سمیدھان🧅
از: موہن بھاگوت،

(1)  سمیدھان کی آتما(روح)

(١) بھارت کا یہ نیا سمیدھان ہندو دھرم کے مطابق ہے،

(٢) اس سمیدھان کے مطابق بھارت کو ایک ہندو راشٹر گھوشت کیا جاتا ہے، اب بھارت کے لئے صرف ہندوستان لفظ ہی کا استعمال کیا جاۓگا،
(٣) ہندو دھرم کا عقیدہ ہے کہ ہر ایک انسان مرتبہ کے اعتبار سے دوسرے انسان سے الگ الگ ہیں، اس لئے ہر ایک آدمی کو برابر کا ناگرک قرار نہیں دیا جا سکتا ہے، ناگرکتا کا ادھیکار دھرم ہی ہو گا،
(٤) آج کل بہت ساری ذاتیاں اور دھرم ہو گیے ہیں اس لئے ان سب کو ایک ستر(دھاگے) میں پرونا بہت ضروری ہیں،

(٥) ہندو دھرم کے مطابق انسانوں میں چار طبقات ہیں.
اس سمیدھان میں تمام ذاتیوں اور دھرموں کو ان ہی چار طبقات میں بانٹا گیا ہے،
(٦) سرکاری نوکریوں میں پدوں کی تقسیم،لوک سبھا اور ودان سبھاؤں میں ممبروں کا انتخاب ان ہی چار طبقات کے ادھار پر ہی کیا جائے گا،
(٧) کسی بھی جرم کی سزا کا قانون بھی ہندو دھرم کے طبقہ وادی قانون کے مطابق ہی نافذ کیا جائے گا،
(٨) بھگوان نے عورت کو صرف بچے پیدا کرنے کے لئے بنایا ہے،اس لئے اس کے تمام ادھیکار ہندو دھرم کے مطابق ختم کیا جارہاہے،
(٩) بھارت کا راشٹریہ گانا وندے ماترم اور راشٹریہ جھنڈا بھگوا ہو گا،
(١٠) اس سمیدھان کے مطابق برہمن کو سب سے پوتر (پاک) انسان اور گاۓکو سب سے پوتر جانور قرار دیا جا تا ہے،
(١١) یہ نیا سمیدھان ٢١, مارچ ٢٠٢٠ء(ہندو کیلنڈر کا نیا سال) سے لاگو ہو گا،

(2) ناگرکتا؟

ہندو دھرم کے ادھار کے مطابق چار قسم کے ناگرک بناۓ جا ئیں گے،
(١) first class citizens,
پہلے نمبر کا شہری:
برہمن ذاتی کے لوگوں کو پہلے نمبر کا شہری قرار دیا جا ئےگاجن کو ہر طرح کے ناگرک ادھیکار پراپت ہونگے،
(٢) second class citizens
دوسرے نمبر کا شہری:
چھتری اور ٹھاکر سماج کے لوگوں کو دوسرے نمبر کا شہری قرار دیا جا تا ہے،

(٣) Third class citizens.
تیسرے نمبر کا شہری:
ویش یا بنیا سمودائے کے لوگوں کو تیسرے نمبر کا شہری قرار دیا جا تا ہے،
(٤) fourth class citizens.
چوتھے نمبر کا شہری:
ان کے علاوہ تمام ذاتی و دھرم کے لوگوں کو چوتھے نمبر کا ناگرک گھوشت کیا جاتا ہے،
ان سب کو شودر نام سے بھی پکارا جائے گا،
اس میں بدہ،جین،سکھ، عیسائی،پارسی،مسلمان اور دیگر دھرموں کے لوگوں کو شامل کیا جائے گا اور اس میں انوسوچت ذاتی،انوسوچت جن ذاتی،پچھڑی ذاتیوں کے لوگ جیسے یادو،جاٹ،گجر،کرمی،کمہار،نائی ، وغیرہ کو بھی شامل کیے جا ئیں گے ،
اور دوسری ذاتیاں جو کسی بھی طبقہ میں نہیں ہیں،
جیسے،کایستھ،پنجابی وغیرہ ان کو بھی شودر طبقہ میں رکھا جائے گا،
عورت چاہے کسی بھی طبقہ کی ہو،اس کوشودر طبقہ میں ہی شمار کیا جائے گا،

 پہچان کا نشان،

ہر طبقہ کے ماتھے (پیشانی) پر اس کے طبقے کا نام گودوایا جاۓ گا،
جیسے برہمن کے ماتھے پر برہمن،چھتری کے ماتھے پر چھتری،ویش کے ماتھے پر ویش اور شودر کے ماتھے پر شودر لکھا جا ۓ گا،
سرکار اس کام کو چھ مہینے کے اندر مکمل کرنے کے لئے ضروری پراؤدھان کرے گی،

(3) راشٹر پتی،پردھان منتری،ایم پی،ایم ایل اے،،،

ہندوستان کے راشٹر پتی،پردھان منتری،راجوں کے مکھ منتری ومنتری،ایم پی اور ایم ایل اے
برہمن ہی ہونگے،
موجودہ پردھان منتری (نریندرمودی) جو شودر ہے اس سمیدھان کو لاگو کرنے کے بعد اپنے پدہ سے استعفی دے دیں گے،
اور طبقہ کے مطابق شودروں والے کام کریں گے،
اور اسی طرح ہندوستان کے گرہ منتری (امت شاہ)جو ویش ہیں اپنے پدہ سے استعفی دے کر ویشوں والے کام کریں گے،

(4)ووٹ ڈالنے کا حق،

(١) صرف برہمن،چھتری اور ویش کو ہی ووٹ ڈالنے کا حق حاصل ہو گا،
شودر اور عورت کوچاہے کسی بھی طبقہ کے ہو ووٹ دینے کا حق نہیں ہو گا،

(٢) برہمن کے ایک ووٹ کی قیمت چھتری کے سو ووٹوں اور ویش کے ہزار ووٹوں کے برابر ہو گی،
مثلاً کسی چناؤ میں ایک برہمن ووٹ ڈالتا ہے اور ننانوے٩٩ چھتری یا ٹھاکر ووٹ ڈالتے ہیں تو برہمن کے ووٹ کی قیمت زیادہ ہونے کی وجہ سے برہمن کا امیدوار کامیاب مانا جائے گا،اسی طرح کسی چناؤ میں ایک برہمن ووٹ کر تا ہے اورنوسو ننانوے٩٩٩,
ویش یا بنیا ووٹ کرتے ہیں تو برہمن کا امیدوار کامیاب مانا جائے گا،

(5) پڑھنے لکھنے کا ادھیکار،،

(١) برہمن کو کسی بھی سبجیکٹ پڑھنے کا اختیار ہو گا،

(٢) چھتری کو صرف دسویں کلاس تک پڑھنے کا اختیار ہو گا،

(٣) ویش کو صرف پانچویں کلاس تک پڑھنے کا اختیار ہو گا،

(٤) شودروں اور عورتوں کو کچھ پڑھنے کا اختیار نہیں ہوگا،

(6) بولنے کی آزادی،،

(١) برہمن کو کسی بھی مسںٔلہ پر،کہیں بھی اور کسی کے بھی خلاف بول سکتا ہے،
اس کو پوری آزادی ہے،

(٢) باقی تینوں طبقوں کے لوگ کسی بھی برہمن یا اس کے کاموں اور اس کے فیصلوں کے خلاف ایک لفظ بھی نہیں بول سکتا،اگر انھوں نے ایسا کیا تو ان کی زبان کاٹ لی جائے گی،

سزا کے طور پر چھتری کی ایک انچ،ویش کی دو انچ،اور شودر کی پوری زبان کاٹ لی جائے گی،

(7) گھومنے پھرنے کی آزادی،،،

(١) برہمن کو پورے ہندوستان میں اور باہر ممالک میں کہیں بھی گھومنے پھرنے کا حق حاصل ہو گا جس کا پورا خرچہ ویش سماج کے لوگوں کو اٹھا نا پڑے گا،
(٢) دیگر تمام طبقات کے لوگ صرف ہندوستان میں گھوم پھر سکتے ہیں،ان کو باہر ممالک میں جانے کی اجازت نہیں دی جائے گی،
اگر ان کا کوئی رشتے دار باہر ممالک میں رہتے ہیں توان کو ہندوستان آنے کی اجازت نہیں ہوگی اور ان کے ودیشی رشتے دار بھارت نہیں آ سکیں گے،،

(٣) ہوائی جہاز سے صرف برہمن ہی سفر کر سکتے ہیں،
چھتری ریل گاڑی سے،ویش بس سے اور شودر ساںٔیکل و تانگے سے سفر کر یں گے،اور برہمن کے سفر کا سارا خرچہ ویشوں کو اٹھا نا پڑے گا،

(8) سوچنا( پیغام رسانی کے آلات)کا ادھیکار،،

موبائل فون اور انٹرنیٹ کا استعمال صرف برہمن ہی کر سکتا ہے،باقی لوگ صرف ٹیلیویژن ہی دیکھ سکتے ہیں،

(9) سنپتی (مال و دولت) کا ادھیکار،،

(١) برہمن جہاں چاہے رہ سکتا ہے،
 اگر اس کو کسی کا گھر پسند آ جاتا ہے تو برہمن وہاں پر بنا کرایہ دئیے جب تک چاہے رہ سکتا ہے بلکہ اس دوران برہمن کے کھانے پینے کی ذمہ داری مکان مالک کی ہو گی،،

(٢) اگر برہمن کو کوئی گھر بہت زیادہ پسند آجاتی ہے اور اس کو لینا چاہیے تو مکان مالک کو وہ گھر برہمن کو دان دینا پڑے گا،

(٣) برہمن کو کسی کی گاڑی یا کوئی سامان پسند آجاتا ہے تو مالک کو وہ گاڑی یا سامان برہمن کو دان دینا پڑے گا،،

(10) سرکاری سیواؤں کا پراؤدھان،،

(١) برہمن کو ہر سرکاری وبھاگ کا پرمکھ بنایا جائے گا،جیسے ضلع کا ڈی ایم،یا ایس پی،
کسی پراںٔیویٹ سنستھا کا منیجنگ ،
ڈائریکٹر،کسی اسکول کا پردھان دھیاپک اور کسی فوج کا کمانڈر وغیرہ،
(٢) چھتریوں کی بھرتی بھارتی سینا کے نچلی پدوں پر کی جائے گی،
جس سے وہ سیما پر کھڑے ہو کر دیش کی رکچہ کریں گے،اور اپنی جان کی بازی لگا دیں گے،
(٣) ویش سماج ساری دکانیں چلا ںٔیں گے،چاہے وہ سبزی کی ریڑھی ہو،پنچر کی دکان یا کوئی بڑی دکان،
(٤) شودر طبقہ کے لوگ مزدوری اور کسانوں کا کام کریں گے اور دیش کو صاف ستھرا رکھنے میں اپنی جان جی لگا دیں گے،
ان کا کام صرف سیوا کر نا اور گندگی کی صفائی کرنا ہے،

(11) نیایٔے (انصاف)ووستھا،،
انصاف کا ووستھا پوری طرح سے برہمن کے ہاتھوں میں رہے گا،
سپریم کورٹ سے لیکر ڈسٹرکٹ کورٹ کے سبھی جج برہمن ہو نگے،
آج کل ویش سماج کے بھی کئی لوگ جج بن گئے ہیں اور انھوں نے نیایٔے ووستھا کو ویاپار (کاروبار)بنا دیا ہے اس لیے ان سب کو ہٹا دیا جائے گا،،

(12) سزا کا قانون،
(١) قتل کی سزا:
اگر برہمن کسی کو قتل کر دیتاہے تو اس کو چتاؤنی دیکر چھوڑ دیا جا ئے گا،
اگر چھتری کسی کو قتل کر دیتاہے تو اس کو الٹا لٹکا دیا جا ئے گا جب تک کہ اس کی موت نا ہو جائے،
اگر ویش سماج کا شخص کسی کو قتل کر دیتاہے تو اس کو گاڑی میں باندھ کر تب تک گھسیٹا جائے گا جب تک کہ مر نا جائے،
اگر شودر کسی کو قتل کر ے تو اس کو سولی پر لٹکا دیا جا ئے گا،

(٢) زنا کی سزا:۔
اگر برہمن کو کسی بھی طبقہ کی کوئی لڑکی(چاہے وہ شادی شدہ ہو یا غیر شادی شدہ) پسند آجاتی ہے تو وہ اس کے ساتھ بے جھجھک رہ سکتا ہے،اور سمبندھ بنا سکتا ہے،لڑکی کے گھر میں بھی رہ سکتا ہے اور لڑکی کو اپنے گھر میں بھی رکھ سکتا ہے،اورجب تک چاہے رہ سکتا ہے،
برہمن کو اس لڑکی سے شادی پر مجبور نہیں کیا جائے گا اور نا ہی اس پر بلاتکار کا کوئی آروپ لگے گا،

اگر کوئی چھتری کسی کے ساتھ زنا کرتا ہے تو سزا کے طور پر اس کا لنگ (اعضاء تناسل)١,انچ کاٹ دیا جا ئے گا،
اگر ویش زنا کرتا ہے تو اس کا لنگ ٢,انچ کاٹ دیا جا ئے گا،اور اگر شودر زنا کرتا ہے تو اس کا پورا لنگ کاٹ دیا جا ئے گا،

(٣) چوری،ڈکیتی،،

اگر برہمن چوری کرتا ہے تو چوری کا سامان دان سمجھتے ہوئے برہمن کو معاف کر دیا جا ئے گا،
اور چھتری چوری کرتا ہے تو سو ڈنڈا مارا جائے گا،
اور ویش چوری کرے گا تو پانچ سو ڈنڈا مارا جائے گا،اور شودر چوری کرے گا تو ایک ہزار ڈنڈے مارنے کی سزا ملے گی،

(13) راشٹریہ بھاشہ،،

ہندوستان کی راشٹریہ بھاشہ ہندی ہو گی جسے ہر ہندوستانی کو سیکھنا اور بولنا ہو گا،اور سائنسکرت بھی انوواریہ (ضروری) ہو گی،اور دس سال بعد سائنسکرت کو راشٹریہ بھاشہ بنا دیا جا ئے گا.




تاریخ کبھی عذر قبول نہیں کرتی !

تاریخ کبھی عذر قبول نہیں کرتی

کتنا در ناک منظر تھا جب زنجیروں میں جکڑےخلیفہ بغداد معتصم باللہ کو چنگیزخان کے پوتے ہلاکوخان کےسامنے پیش کیا گیا!

تاریخ گواہ ہے جب جب مسلمان جہاد کرتے رہے عزتیں پاتے رہے رفعتیں بلندیاں ان کے قدم چومتی رہیں

مسلمانوں نے ہمیشہ ملک وملت کے دفاع پر دل کھول کر خرچ کیا بھوکے رہنا پسند کرلیا لیکن دفاعی پوزیشن کو مضبوط رکھا

نبیِ مکرم امام الانبیا امام المجاہدینﷺ جب اس دنیا سے رخصت ہونے لگے تو گھرکا دیا جلانے کے لٸے تیل نہ تھا
لیکن نو مضبوط تلواریں گھرکی دیواروں کے ساتھ لٹک رہی تھیں
اسی طرح خلفاٸے راشدین پیوند لگے کپڑے پہننے میں عار محسوس نہ کرتے لیکن دفاعی اداروں اپنے سپاہیوں مجاہدین پر دل کھول کرخرچ کرتےرہے

مسلم فاتحین جنہیں تاریخ سنہرے حروف سے یاد کرتی ہے عیاش نہ تھے مال ودولت ہیرے جواہرات اور عورتوں کے رسیا نہ تھے

لیکن جہاں تاریخ مسلم فاتحین ومجاہدین کاذکر سنہرے حروف سے کرتی ہے وہیں ایسے بدبخت بھی ہیں جو تاریخ کا سیاہ باب ٹھہرے!

جن کی عیاشیاں ہیرے جواہرات مال ودولت اور عوتوں کے شوق نے جہاں انہیں ذلیل وخوار کیا وہیں مسلمانوں کے سرشرم سے جھکاٸے

لیکن ایسے مکروہ ذلیل وخوار نام نہاد مسلم حکمران ہمارےلٸے سبق چھوڑگٸے ہمیں ان کےکرتوتوں سے بہت سے سبق ملتے ہیں

9صفر 656ھ/7فروری1258 ٕ

کو چنگیز خان کا پوتا ہلاکوخان بغداد میں داخل ہوا،
اس نے عباسی خلیفہ معتصم باللہ کو قتل کرکے خلافت عباسیہ کاخاتمہ کردیا،

اس کی فوج کے ہاتھوں بغداداور اس کے گردو نواح میں ایک کروڑ6لاکھ مسلمان قتل ہوٸے

تاریخ کبھی عذر قبول نہیں کرتی!

تاریخِ اسلام کا کتنا عبرت ناک منظر تھا جب معتصم باللہ
آہنی زنجیروں اور بیڑیوں میں جکڑا چنگیز خان کے
پوتے ہلاکو خان کے سامنے کھڑا تھا.

کھانے کا وقت آیا تو ہلاکو خان نے خود سادہ برتن
میں کھانا کھایا اورخلیفہ کے سامنے سونے کی طشتریوں
میں ہیرےجواہرات رکھ دیئے.

پھر معتصم سے کہا!
جو سوناچاندی تم جمع کرتےتھے اُسے کھاؤ!
بغداد کا تاج دار بے چارگی و بے بسی کی تصویر بنا کھڑا
تھا بولا میں سونا کیسے کھاؤں؟

ہلاکو نے فوراً کہا!
پھر تم نے یہ سونا اور چاندی جمع کیوں کیا تھا!
وہ مسلمان جسےاُسکا دین ہتھیار بنانےاورگھوڑے
پالنےکیلئے ترغیب دیتا تھا کچھ جواب نہ دے سکا،
ہلاکو خان نےنظریں گھماکرمحل کی جالیاں اورمضبوط
دروازے دیکھے!

اور سوال کیا ؟
تم نے اِن جالیوں کو پگھلا کر آھنی تیر کیوں نہ بنائے؟
تم نے یہ جواھرات جمع کرنےکی بجائےاپنے سپاہیوں کو
رقم کیوں نہ دی تاکہ وہ جانبازی اور دلیری سے میری
افواج کا مقابلہ کرتے ؟

خلیفہ نےتاسف سے جواب دیا!
”اللہ کی یہی مرضی تھی“
ہلاکو نے کڑک دار لہجے میں کہا!
پھر جو تمہارے ساتھ ھونے والا ھےوہ بھی خدا ھی
کی مرضی ھو گی!
پھر ہلاکو خان نے معتصم باللہ کو مخصوص لبادےمیں
لپیٹ کر گھوڑوں کی ٹاپوں تلے روند ڈالاا وربغداد کوقبرستان بنا ڈالا.

ہلاکو نے کہا!
آج میں نے بغداد کو صفحہ ہستی سے مٹا ڈالا ھے اوراب دنیا کی کوئی طاقت اسے پہلے والا بغداد نہیں بنا سکتی اور ایسا ہی ہوا.

تاریخ تو فتوحات گنتی ہے!

محل، لباس، ہیرےجواہرات اور انواع و اقسام کے لذیذ کھانے نہیں!

تصور کریں ،
جب یورپ کے چپے چپے پر تجربہ گاہیں
اور تحقیقی مراکز قائم ہو رہے تھے،تب یہاں
ایک شہنشاہ دولت کا سہارا لیکر اپنی محبوبہ کی یاد میں
تاج محل تعمیر کروا رھا تھا!
 اور اسی دوران برطانیہ
کا بادشاہ اپنی ملکہ کے دوران, ڈلیوری فوت ہوجانے پرریسرچ کے لیئے،برطانیہ میں کنگ ایڈورڈ میڈیکل
سکول بنوا رہا تھا!

جب مغرب میں علوم و فنون کے بم پھٹ رہے تھے،تب
یہاں تان سین جیسےگوٸیے نت نئے راگ ایجادکر رہے تھے،
اور نوخیز خوبصورت و پر کشش رقاصائیں شاہی درباروں کی زینت و شان اور وی آئی پیز تھیں!
جب انگریزوں،فرانسیسیوں اور پرتگالیوں کے بحری بیڑے برصغیر کےدروازوں پر دستک دے رہے تھے ,, تب
ہمارے اَرباب اختیار شراب و کباب اور چنگ و رباب سےمدہوش پڑے تھے !
تن آسانی ،عیش کوشی اور عیش پسندی نےکہیں کانہیں چھوڑا  ھمارا بوسیدہ اور دیمک زدہ نظام پھیلتا چلا گیاکیونکہ تاریخ کو اِس بات سےکوئی غرض نہیں ہوتی
کہ حکمرانوں کی تجوریاں بھری ھیں  یا خالی ؟
شہنشاہوں کےتاج میں ہیرے جڑے ہیں یا نہیں ؟
درباروں میں خوشامدیوں ، مراثیوں ، طبلہ نوازوں
طوائفوں ، وظیفہ خوار شاعروں اور جی حضوریوں کا
جھرمٹ ہے یا نہیں؟
تاریخ کوصرف کامیابیوں سےغرض ہوتی ھے
اور تاریخ کبھی عذر قبول نہیں کرتی!





سلطان شیر شاہ سوری

‏(رفاہِ عامہ کا علمبردار)

سلطان شیر شاہ سوری!

دورِ حکومت!

17 مئی 1540ء تا 22 مئی 1545ء

شیرشاہ سوری کا اصل نام فرید خان تھا،جو نسلاً سوری پٹھان تھے،شیر شاہ سوری کی پیدائش 1486 ءمیں ہوئی۔ آپ کے والد کا نام حسن خان سوری تھا۔شیر شاہ سوری کے آباء کا تعلق افغان قبیلہ سورسے تھا۔ دہلی میں جب لودھی خاندان جو کہ نسلاً افغان تھے، کی حکومت قائم ہوئی تو بہت سے افغان سردار دہلی کی طرف کھنچے چلے آئے ۔ انہی سرداروں میں شیر شاہ کے دادا ابراہیم خان سوری بھی تھے ۔ شیر شاہ کے والد حسن خان کو سکندر لودھی نے سہسرام کی جاگیر عطا کی تھی۔ شیر شاہ اپنے والد کے آٹھویں فرزند تھے۔ جب دہلی کے تخت پر قابض ہوئے تو شیر شاہ کا لقب اختیار کیا اور سوری خاندان (سوری سلطنت) کی بنیاد رکھی۔ فرید خان (شیرشاہ) کا رجحان بچپن ہی سے حاکمانہ رہا۔ وہ بچپن میں گھر سے فرار ہوکر جونپو ر کے نواب کے یہاں ملازمت کرنے چلے گئے۔ شیر شاہ کے والد نے اصرار کیا کہ تعلیم کی خاطر واپس آجائے۔ اس پرفرید خان نے واپس جانے سے منع کردیا اور جونپور میں تعلیم مکمل کرنے پر اسرار کیا۔ جونپور میں رہتے ہوئے اپنی تعلیم مکمل کی اور فن سپاہ گیری میں بھی مہارت حاصل کی ۔ بعد ازاں محکمۂ مالیات سے جاگیر کے نظم ونسق کی تربیت حاصل کی اور بہار کے ایک نواب بہار خاں لوہانی کے یہاں ملازمت اختیار کرلی۔ اسی دوران ایک دفعہ فرید خان کا سامنا ایک شیر سے ہوگیا۔ فرید خان نے تنہا ہی اس شیر کا کام تمام کردیا۔اس پر نواب بہار خان لوہانی نے انھیں
 ’’ شیر خان ‘‘
کا لقب عطا کیا اور اپنے لڑکے شہزادہ جمال خان کے لیے اتالیق کی حیثیت سے تقرر کیا۔

جب ہند میں مغلوں کی آمد ہوئی اور لودھی خاندان کا خاتمہ ہوا تب شیر شاہ مغلوں کی جنگی مہارت سے کافی متاثر ہوکر سلطنتِ مغلیہ کے بانی
 ”ظہیر الدین محمد بابر“
کی فوج میں شامل ہوگئے،شیر شاہ کی اعلیٰ صلاحیتوں کو دیکھتے ہوئے ظہیرالدن بابر نے اسے سہسرام کا نظم و نسق سنبھالنے کی ذمہ داری سونپی،کہا جاتا ہے کہ ایک دفعہ شاہی دستر خوان پر شیر شاہ نے ”بابر“ بادشاہ کےسامنے دسترخوان سے بلا تکلف تلوار سے گوشت کاٹ کا کھاناشروع کردیا جو بادشاہ بابر کو ناگوار گزرا،بابرکو اسی وقت فرید خان ( شیر شاہ) کے دل میں مغل حکمرانوں کے لیے نفرت کا اندازہ ہوچکا تھا،شیرخان کی آزادانہ طبیعت بابر کی ماتحتی زیادہ دن برداشت نہ کرسکی اور وہ جلد ہی بہار لوٹ آئے اورکم سن شہزادہ جمال خان جو کہ نواب بن چکے تھے، کی اتالیقی پر دوبارہ فائز ہوگئے۔ ریاست کا سارا نظم شیر خان کے ہاتھوں میں آگیا اور جمال خان برائے نام نواب رہ گیا، جسے دیکھ کر نواب کے بھی دل میں اندیشہ پیدا ہونے لگا۔اسی درمیان شیر خان نے چنار کے قلعہ دار کی بیوہ سے شادی کی جس کے بدلے میں چنار کا قلعہ شیر خان کے قبضہ میں آگیا۔
شیر خان کے بڑھتے رسوخ کو جمال خان اور اس کے افغان امراء برادشت نہیں کرپائے ۔انھوں نے شیر خان کے خلاف بنگال کے نواب محمود شاہ سے مدد طلب کی، لیکن قسمت شیر خان کے ساتھ رہی۔ افغان امراء و نواب بنگال شکست سے دوچار ہوئے۔ شیرخان کے جنگی جوہر میں اضافہ ہونے لگا۔ مغل بادشاہ ہمایوں جب گجرات کی مہم پر تھا تب موقع سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے شیر خان نے (1538 میں) بنگال پر حملہ کردیا۔ نواب بنگال اس کا مقابلہ نہ کرسکا اور بھاری تاوان اور کچھ اہم علاقے شیر خان کے قبضے میں دے کر صلح کرلی۔ ہمایوں کو حالات کا علم ہوا تو وہ شیرخان سے مقابلہ کرنے کے لیے آپہنچا، مگر شیر خان کے سامنے ٹک نہ پایا اور شیر خان کو بطور نواب قبول کر کے واپس چلا گیا۔ لیکن شیرخان نوابیت پر اکتفا کرنے والوں میں سے نہیں تھا۔ اس نے دسمبر 1539 میں اپنی بادشاہت کااعلان کردیا اور سلطان العادل کا لقب اختیار کیا ۔ اب فرید خان سوری شیرخان سے شیر شاہ سوری بن گیا۔ شیر شاہ نے سوری خاندان کی بنیاد رکھی۔ ایک سال بعد ہمایوں نے دوبارہ (مئی 1540) میں شیر شاہ پر حملہ کیا مگر سخت ناکامی ہاتھ آئی اور سارا شمالی ہند شیر شاہ کے زیر تسلط آگیا۔ہمایوں جان بچا کر بھاگنے پر مجبور ہوگیا۔ افغان سردار جو ایک دوسرے کو کم تر ثابت کرنے کی خاطر ہمیشہ خانہ جنگی میں مصروف رہتے تھے، شیر شاہ نے سلطان بنتے ہی تمام افغان سرداروں میں اتحاد قائم کرنے کی کو شش کی، جس میں کافی حد تک وہ کامیاب بھی ہوا۔ بادشاہ بننے کے بعد شیر شاہ کو بہت کم وقت مل پایا۔ ایک جنگی مہم کے دوران شیر شاہ کے بارود کے ذخیرہ میں آگ لگ گئی جس سے شیر شاہ شدید زخمی ہوگئے اور اسی حالت میں 22 مئی 1545 میں انتقال کر گئے۔ انھیں سہسرام (بہار) میں دفن کیا گیا۔
شیر شاہ سوری کے بعد سوری سلطنت کو کوئی بھی قابل جانشین نہ مل سکا۔ 1545 سے لے کر 1556 کے مختصر عرصہ میں اس خاندان کے چھ فرمانروا تخت نشین ہوئے، جن میں سے بعض کے حصے میں صرف چند ماہ کی حکومت آئی ۔ اس کے بعد ہمایوں نے دوبارہ حملہ کر کے سوری سلطنت سے تخت واپس حاصل کرلیا ۔

شیر شاہ کے کارنامے:
شیرشاہ سوری کی شخصیت اور ان کی خوبیاں ان کے مخالفین کو بھی ان کا مداح بنا دیتی ہیں۔ شیر شاہ کو حکومت کے لیے بہت کم وقت مل پایا (دسمبر 1539 سے 22 مئی 1545)، یعنی تقریباً پانچ سال ایک ماہ، لیکن اس مختصر سی مدت میں بھی شیر شاہ سوری نے وہ کارنامے و اصلاحات انجام دیے جن کی مثال ہندوستان کے کسی حکمراں کے دور میں نہیں ملتی، چاہے اشوک اعظم ہویا بادشاہ اکبر، یا پھر اورنگ زیب ہی کیوں نہ ہو۔ شیر شاہ نے ریاست سے جرائم کاخاتمہ کرنے کے لیے کڑے اقدامات کیے نیز ملوث پائے گئے افراد کے لیے کڑی سزائیں تجویز کیں۔ سپاہیوں کو نقد تنخواہ دینے کا نظام قائم کیا۔ سکوں کے نظام میں بہتری لائی گئی ۔ سونے چاندی اور تانبے کے سکوں کو رواج دیا اور ہر سکے کی قیمت متعین کی۔ شیر شاہ ایک بہادر جنرل کے ساتھ انصاف پسند ، مدبر حکمراں اور رعایا پرور بادشاہ تھے۔ ان کی انہی صفات نے انھیں عوام کی نظروں میں مقبول بنا یا۔ اپنے انہی کارناموں کی بدولت وہ تاریخ میں نمایا ں مقام رکھتے ہیں۔ ان کے کارناموں کو سراہتے ہوئے حکومت ہند نے شیرشاہ سوری کے نام سے ڈاک ٹکٹ بھی جاری کیاتھا۔

شاہراہ اعظم (جی ٹی روڈ)
شیر شاہ سوری کے عظیم کارناموں میں سے ایک کارنامہ شاہراہ اعظم کی تعمیر ہے جس کی وسعت افغانستان سے بنگلہ دیش تک ہے ۔ یہ سڑک افغانستان کے شہر کابل سے شروع ہوتی ہے اور پاکستان میں پشاور ،لاہور سے ہوتی ہوئی دہلی اور دہلی سے الٰہ باد ،بنارس، مرشد آباد سے ہوتے ہوئے کلکتہ اور پھر ڈھاکہ جاتی ہے۔

شاہراہوں کی حفاظت اور مسافروں کو سہولت:
شیر شاہ نے ملک کے تمام اہم راستوں کی حفاظت کے لیے راستوں پر جگہ جگہ سرائیں تعمیر کروائی جہاں مسافروں ،قافلوں کے ٹھہرنے کا انتظام ،مسجد، پانی کے لیے کنواں ، رہزنوں سے حفاظت کے لیے حفاظتی دستہ ہمیشہ موجود رہتا تھا۔ ہر ایک کوس (تقریباً ساڑھے تین کلو میٹر) پر ایک سرا یا فوجی چھائونی ہوتی جو راہگیروں کو تحفظ فراہم کرتی تھی۔ہر سرا ئے میں ہندو مسلم دونوں عوام کے اعتبار سے مخصوص طعام کا نظم کیا جاتا۔ اس کے علاوہ انہوں نے سڑکوں کے دونوں کنارے پھل دار درخت لگوائے۔

ڈاک کے نظام کی اصلاح:
ڈاک وقت پر پہنچے اور حکومتی انتظامات میں تیزی آئے، اس کے لیے جگہ جگہ راستوں پر ڈاک کے لیے مخصوص چھائونیاں قائم کیں، جہاں ڈاک کے ذمہ داران کے لیے تازہ دم گھوڑے ہر وقت موجود رہتے تھے۔ تجارتی قافلوں کو قزاقوں کے ڈر سے نجات ملی۔

زرعی اصلاحات:
شیر شاہ نے زراعت کے میدان میں بھی کافی اصلاحات کیں۔ ملک بھر میں کسانوں کی زمین کی پیمائش کے لیے ایک پیمانہ مقرر کیا اور اسی پیمائش کی مناسبت سے فصلوں پر ٹیکس کی شرح عائد کی۔اگر کسی سال فصل اچھی نہ ہوتی یا کسانوں کو نقصان ہوتا تو ٹیکس معاف کردیا جاتا اور سرکاری خزانے سے کسانوں کو معاوضہ دیا جاتا۔ محصول کے نظام کو بہتر بنایا۔ بہتر انتظامیہ کے پیش نظر ریاست کی مختلف صوبوں، ضلعوں ،پرگنوں میں تقسیم کی اور ہر حصہ پر ایماندار عاملوں کا تقرر کیا۔

بلاشبہ شیر شاہ سوری کا دور ہندوستان کا ایک سنہری دور تھا۔شیر شاہ سوری ایسا فرماں روا تھا جس کی ستائش نامور مؤرخین اور عالمی مبصرین کرتے رہے ہیں۔ وہ ہندوستان کا پہلا حکمران تھا جس نے عوامی فلاح کی جانب اپنی بھرپور توجہ دی اور ایسے ایسے کارنامے انجام دیے جو تاریخ کی کتب میں سنہرے حروف میں تو لکھے ہی گئے، ان کے نقوش آج تک موجود ہیں جبکہ مغل بادشاہ جلال الدین محمد اکبر نے شیرشاہ سوری کے وضع کردہ نظامِ طریق حکومت اور پالیسیوؤں کو بہت پسند کیااکبرنےاپنے دور حکومت میں شیر شاہ کےکچھ اصول بھی رائج کیےتھے.