Tuesday, November 19, 2019

عجیب لوگ !

‏دل میں کسی غلط فہمی کی وجہ سے نفرتیں پالنا اور کینہ رکھنا انسان کو پستیوں کی طرف لے کر جاتا ہے جو لوگ ہر وقت Positivity کی باتیں کرتے ہیں وہی لوگ Nagativity کا شکار ہوتے ہیں ۔ خود کو اس غلط فہمی سے باہر نکالیے اپنے ساتھ پیش آنے والے حادثات اور رویوں کے ہم خود ذمہ دار ہوتے ہیں !

 #Samar ✍️


Saturday, November 16, 2019

سیاہ محبت سفید محبت

سیاہ محبت کا ذکر کیا تو بات سفید محبت تک چلی گئی، سفید محبت لکھتے ہوئے کئی مقامات آئے جہاں تشنگی سی محسوس ہوئی، لیکن چونکہ موقع محل نہ تھا اس لئے بوجوہ اشاروں کنایوں سے کام لیا۔
 محبت کے دیگر رنگ جو بیان کئے وہ گرچہ افلاک سے ملاتے ہیں مگر ارضی ہیں لیکن آج جس رنگ کا ذکر کررہا ہوں اس کا تعلق عرشِ بریں سے ہے اور اس رنگ کا بیان کرنا انسانی بساط و دسترس سے ماورا ہے، میں دِل پہ اُتری سوچوں کو یہ سوچ کر صفحوں پر اُتار رہا ہوں کہ شاید کسی صاحبِ رنگ و نظر کی نظر پڑ جائے اور اُن کی نظروں میں آ کر میں بھی رنگا جاؤں۔

 صبغۃ اللہ ومن احسن من اللہ صبغۃ(البقرۃ 138)
 اللہ کا رنگ اختیار کرو اور اللہ تعالٰی سے اچھا رنگ کس کا ہوگا۔

 آج ہم سب سے بلند وبالا ارفع و اعلٰی رنگ یعنی اللہ کے رنگ کی باتیں کریں گے گو کہ ہم یہ تو نہیں جان پائیں گے کہ اللہ کا رنگ ہے کیا۔ ویسے بھی ہر بات جاننا، جاننے کی کھوج کرنا ضروری نہیں ہوتا، کچھ باتیں بس ماننے کے لئے ہوتی ہیں۔
 اس عالمِ رنگ و بُو میں خدا تعالٰی نے اَن گنت رنگ نازل فرمائے ہیں، کیا خُدا کا رنگ بھی اس کائنات میں کہیں ظاہر ہے یا وہ بھی ذاتِ باری تعالٰی کی طرح پوشیدہ و پنہاں ہے۔ کچھ دوستوں کا ماننا ہے کہ سفید رنگ مجازی محبت سے تعلق نہیں رکھتا بلکہ یہ حق کا رنگ ہے، کئی لوگوں کا ماننا ہے کہ خُدا نُور ہے اور نُور سفید رنگ کا ہوتا ہے۔

 جیسا کہ ارشادِ ربّانی ہے:
 خدا آسمانوں اور زمین کا نور ہے۔ اس کے نور کی مثال ایسی ہے کہ گویا ایک طاق ہے جس میں چراغ ہے۔ اور چراغ ایک قندیل میں ہے۔ اور قندیل (ایسی صاف شفاف ہے کہ) گویا موتی کا سا چمکتا ہوا تارہ ہے اس میں ایک مبارک درخت کا تیل جلایا جاتا ہے (یعنی) زیتون کہ نہ مشرق کی طرف ہے نہ مغرب کی طرف۔ (ایسا معلوم ہوتا ہے کہ) اس کا تیل خواہ آگ اسے نہ بھی چھوئے جلنے کو تیار ہے (پڑی) روشنی پر روشنی (ہو رہی ہے) خدا اپنے نور سے جس کو چاہتا ہے سیدھی راہ دکھاتا ہے۔ اور خدا نے (جو مثالیں) بیان فرماتا ہے (تو) لوگوں کے (سمجھانے کے) لئے اور خدا ہر چیز سے واقف ہے
 (النور-35)
اس آیتِ مُبارکہ میں اللہ تعالٰی نے اپنی ذات کو نُور ارشاد فرمایا ہے، لیکن اب بھی مجھے ابہام ہے کہ یہاں جس نُور اور روشنی کا ذکر فرمایا گیاہے کیا وہ ہماری زمینی، کائناتی روشنی کی مانند ہے یا خدا کا نُور، اس کی روشنی بھی اس ذاتِ لا ریب کی طرح ہماری سوچوں، تصورات، خیالات، مُشاہدات سے ماورا ہے۔
 ہماری اس کائنات میں روشنی کے ذیادہ تر مآخذ پیلاہٹ مائل روشنی کا اخراج کرتے ہیں اور چند ایک سفید، دودھیا روشنی کے حامل ہیں۔ لیکن چونکہ پیلی روشنی میں جلالی عنصر نمایاں ہے اور چاندنی کی سفید روشنی جمالی عنصر لئے ہوتی ہے
 اسی لئے جب روشنی کا ذکر ہوتا ہے، نُور کی بات کی جاتی ہے تو لا محالہ ہمارا تصور اسے سفید روشنی سے منسلک کردیتا ہے۔
 اسی لئے جب سے تاریخِ انسانی مرتّب ہونا شروع ہوئی، دُنیا کے بیشتر مقامات پرسیاہی کو طاغوتی طاقتوں کا استعارہ اور سفیدی کو نُور کی علامت سمجھا گیا۔ گو کہ بیشتر افریقی اور ایشیائی مؤرخین اسے سفید چمڑی والی مغربی طاقتوں کی سازش قرار دیتے ہیں اور ان کے نزدیک سیاہ رنگ شیطان کے لئے مخصوص نہیں۔ لیکن آج بھی اکثریت کا ماننا ہے کہ سفید رنگ ہی خُدا کا رنگ ہے کیونکہ یہ خالص ترین ہے، یہ روشنیوں کا رنگ ہے، یہ عشقِ مجازی کا اوّلین رنگ ہے۔
 ان سب باتوں کے باعث ہم سفید کو ہی خُدا کا رنگ قرار دے دیتے ہیں اور دیگر رنگوں کو کبھی زیرِ غور بھی نہیں لاتے۔ میں ذاتی طور پر اس رائے سے اتفاق نہیں رکھتا، اگر ہم اقوامِ عالم کا مطالعہ کریں تو دُنیا کے بیشتر مقامات اور اقوام و مذاہبِ عالم سیاہ رنگ کو گناہ کا رنگ قرار دیتی ہیں، اسے رَد ہوؤں کے سردار یعنی شیطان الرجیم سے منسوب کیا جاتا ہےلیکن ہندوستان اور افریقہ کی کئی اقوام و مذاہب سیاہ رنگ کو خُدا کا رنگ قرار دیتی ہیں اور اسے سب رنگوں سے برتر مانتی ہیں۔
 سفید رنگ تمام رنگوں کے انضمام سے ظہور پذیر ہوتا ہے اس کے برعکس سیاہ رنگ تمام رنگوں کےناپید ہونے کا نام ہے، (نوٹ: پچھلے مضامین میں اپنی کم علمی کی بناء پر یہ بات بالکل اُلٹ بیان ہوگئی لیکن تصحیح فرمالیں کہ ماہرین کی اکثریت کا خیال ہے کہ جب سب رنگوں کو ملایا جاتا ہے تو سفید رنگ حاصل ہوتا ہے اور جہاں کوئی رنگ نہیں ہوتا تو سیاہ رنگ ظہور میں آتا ہے، غلطی کے لئےمعذرت خواہ ہوں)
 ایک ایسا رنگ جس میں ہر رنگ اپنا آپ کھو دیتا ہے، سفید رنگ پر کسی بھی رنگ کو چڑھانا بہت آسان ہے لیکن سیاہ رنگ پر کوئی اور رنگ چڑھے یہ ناممکن نہیں لیکن مشکل ترین امر ہے۔
 سفید رنگ کے خالص ہونے کی بناء پر ہم اسے خدا کے اخلاص سے منسلک کر دیتے ہیں، لیکن اپنی تمام مخلوق کو اپنے میں سمولینا بھی تو خدا کی صفت ہے جو کہ سیاہ رنگ کا وصف ہے، جس طرح صفر سے کسی بھی عدد کو ضرب دینے پر صفر ہی حاصل ہوتا ہے اسی طرح کالے سے کسی بھی رنگ کو ضرب دیں، حاصل کالا ہی ہوگا۔
 کالے رنگ کے بارے میں میرے بابا جی اپنی کتاب پِیا رنگ کالا میں لکھتے ہیں:
 "کالی مرچ، کالا نمک، کالا گُڑ، کالے چنے، کالا زیتون، کالی کلونجی، کالا گلاب اور مشکی گھوڑا مجھے بَھلے لگتے ہیں۔ کالے رنگ سے نسبتِ خاص رکھنے والے کے لئے رُوحانی اور باطنی علوم و اسرار جاننے سیکھنے کے لئے آسانیاں پیدا ہوجاتی ہیں۔ سیاہ رنگ کا لباس پہننے والا شیطان کی دستبرد سے بچا رہتا ہے۔ اُس میں عِجز، انکساری، خاکساری اور درویشانہ خُو، خصلت پیدا ہونا شروع
ہو جاتی ہے۔ انسان تو انسان، چرند پرند، چوپائے اور حشرات الارض تک احترام، عزت اور حفاظت کرتے ہیں۔ سیاہ لباس پہننے والا اللہ کے خوف کو محسوس کرتا ہے، عبادت و ریاضت کی جانب رغبت حاصل کرتا ہے۔ یہ رنگ اسے اپنی خواہشات اور سِفلی جذبات و خیالات کو کنٹرول کرنے میں ممدو معاون ثابت ہوتا ہے لیکن اس رنگ کے کچھ مضرّات بھی ہیں۔ قدرت نے اگر اس کے نقیض پیدا نہ کئے ہوتے تو ہر ہما شما اسے اپنا لیتا۔ آپ نے سُنا، دیکھا ہوگا کہ بہت سے گھرانوں میں خاندان کے بڑے بزرگوں کی جانب سے کالا رنگ پہننے کی اجازت نہیں ہوتی۔ کچھ لوگ اسے صرف اہلِ تشیع کا مخصوص رنگ سمجھ کر محض ضد اور جاہلیت کی بناء پہ اس سے کَد کھاتے ہیں، ویسے بِلا سوچے سمجھے ہر کسی کو اسے اپنانا بھی نہیں چاہیئے تا آنکہ کوئی صاحبِ انگ رنگ، اس رنگ کو اختیار کرنے کی اجازت نہ دے، ویسے شوقیہ طور پر پہننا اور بات ہے۔۔۔"

 ان باتوں کو بیان کرنے کا مقصد یہ تھا کہ صرف سفید ہی خُدا کے رنگ کے لئے واحد امیدوار نہیں۔سفید کے ساتھ ساتھ سیاہ اوردیگر لا تعداد رنگ اس اعزاز کے دعویدار ہیں۔ زرد، نارنجی، سبز، سُرخ، طلائی، نقرئی، وغیرہ وغیرہ۔
 سفید و سیاہ کے علاوہ ایک تیسرا رنگ بھی ہے ۔ ۔ ۔ "بے رنگ"۔۔۔
 بعض لوگ خُدا کی روشنی کو قوسِ قزح کی سی روشنی بھی قراردیتے ہیں، ایک ایسی چمک جس میں ہر رنگ موجود ہے، ہر بندے کے لئے اس کے مزاج و ضروریات کے موافق ایک رنگ، جو تَن اُجلا ہو اسے یہ روشنی سفید دکھائی دے، جو مَن جَلا ہو اسے سیاہ نظر آئے۔
 ہم اسے بے رنگ روشنی بھی کہہ سکتے ہیں،صاف شفاف اُجلے سے آئینے کی مانند، زندگی کی بُنیاد خالص پانی کی طرح کہ جس کا کوئی رنگ نہیں ہوتا، ارضی رنگوں میں کسی حد تک نقرئی رنگ کے مماثل۔
 حکایت ہے کہ ایک بادشاہ نے چینی اور رُومی رنگسازوں کو بُلایا اور انکی کاریگری کا امتحان لینے کے لئے ایک مقابلے کا انعقاد کیا، اس نے رنگ ریزوں کی ان دونوں جماعتوں کو ایک دیوار پر اپنی مہارت کا جلوہ دکھانے کا حکم دیا اور ان دونوں دیواروں کے بیچ ایک پردہ لگوادیا۔
 دونوں جماعتیں پسِ پردہ دی گئی دیوار پر رنگ بکھیرنے میں مصروف ہو گئیں، جب وقتِ مقررہ پر پہلے رومیوں کی تخلیق سے پردہ ہٹایا گیا تو لوگ عش عش کر اٹھے، بے شمار خوش نما رنگوں کی ایک بہار تھی اور نہایت ہی دلکش بیل بُوٹے تشکیل دیئے گئے تھے، عوام نے سوچا کہ بہت ہی مشکل ہے کہ چینی رنگ ریز اس شاہکار کو زیر کرسکیں بہر حال جب چینیوں کی تخلیق پر سے پردہ ہٹایا گیا تو جیسے پورے دربار کو سانپ سونگھ گیا، چینیوں کی دیوار پر بھی ہو بہو رومیوں کا رنگ، ان کے نقش و نگار موجود تھے، لوگ پریشان تھے کہ یہ کیا ماجرا ہوا، چینیوں نے پردے کے پیچھے سے کس طرح نقل تیار کرلی، جب ان سے پوچھا گیا تو وہ بولے کہ در اصل ہم نے اپنی دیوار پر کوئی رنگ نہیں بھرا کوئی نقش نہیں بنایا، ہم نے تو بس اسے آئینے کی طرح صیقل کردیا تاکہ جب دونوں دیواروں کے بیچ سے پردہ ہٹایا جائے تو ہماری دیوار رُومیوں کی مہارت کو بھی اپنے اند سمو لے۔
 جب انسان بھی اپنے دل کو گناہوں و اغراض کی سیاہی سے بچا کر، اسے مٹا کر سفید رنگ اختیار کر لیتا ہے تو بہت خالص ہو جاتا
ہے لیکن جب وہ اس سفید رنگ کو بھی رگڑ رگڑ کر صاف کرتا ہے، اپنے مَن کومانجھ مانجھ کر آئینے کی مثل صیقل کر لیتا ہے ، بے رنگ کرلیتا ہے تو سمجھیں کہ وہ عشقِ حقیقی کی طرف سفر شروع کر لیتا ہے، سفید محبت کا اوّلین اور خالص رنگ ہے، تو سیاہ رد ہوئی، لاحاصل، ادھوری و تشنہ محبت کی علامت۔ ضروری نہیں کہ بے رنگ کا سفر سفید سے ہی شروع ہو، خُدا تعالٰی کا اذن ہو تو سیاہی سے بھی انوار پُھوٹتے ہیں۔
 یہ مختلف رنگوں کی محبتیں مختلف دریاؤں، ندی، نالوں کی مانند ہیں اور عشقِ حقیقی گہرا سمندر۔ دریا بھلے وہ صاف شفاف، اجلے میٹھے، خالص پانی کا ہو یا غلاظتوں، آلائشوں سے گدلایا ہوا ہو۔ اگر سمت ٹھیک ہو تو گرنا تو سمندر میں ہی ہوتا ہے، البتّہ خالص پانی کا سفر ذرا تیزاور سُبک ہوتا ہے اور گدلا پانی بہت آہستگی سے اپنی منزل کی طرف بڑھتا ہے اور اسی بناء پر خالص پانی کے سمندر تک پہنچ جانے کے امکانات گدلے پانی کی بہ نسبت زیادہ ہوتے ہیں، لیکن کئی دفعہ مشاہدے میں یہ آیا ہے کہ گدلا پانی تو آہستہ آہستہ عجز و انکساری سے چلتا، اپنی آلائشوں و غلاظتوں پر کُڑھتا واصلِ سمندر ہوکر بارش کی بوندوں سا پاک صاف ہوجاتا ہے لیکن شفاف پانی بجائے اس کے کہ سمندر میں ڈُوبتا اسے اپنی صفائی و شفافی کا غرور لے ڈُوبا اور وہ راستے میں ہی کہیں رُک کر پہلے جھیل اور پھر کھڑے کھڑے گندے جوہڑ میں تبدیل ہوا۔

 القصہ مختصر میں نے خُدا کے نُور کو بے رنگ جانا ہے، ہم کسی روشنی کے رنگ کا اندازہ اس کے مآخذ کو دیکھ کر لگاتے ہیں لیکن نُورِ لَم یزل
 کا منبع و مآخذ لوگوں کی نظر سے پوشیدہ ہے، میرے جیسے عام عوام کے لئے تو کائنات کا ہر ذرّہ خدائی ذرّہ ہے اور اس کائنات کے چپّے چپّے، ذرّے ذرّے سے نُور کا نکاس و انعکاس ہو رہا ہے۔
 جس طرح خُدا کہیں نہیں ہے اور ہر جگہ ہے، وہ اپنا کوئی وجود نہیں رکھتا اور ہر چیز میں موجود ہے
 اسی طرح اس ذات کا کوئی رنگ نہیں اور ہر رنگ اسی کا ہے۔


Saturday, November 9, 2019

جاہل معاشرے کی چند جھلکیاں

‏سیرت النبیﷺ 💕۔

جاہل معاشرے کی چند جھلکیاں
پروفیسر عبدالحمید صدیقی اپنی کتاب " لائف آف محمد" (صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم) میں لکھتے ہیں کہ جب عرب تاجر اپنے تجارتی کارواں لےکر روم و ایران و شام اور ہندستان تک جاتے وہ واپسی پر عیش پرستی اور تمام بری عادات لے کر لوٹتے، شام و عراق سے لڑکیاں درآمد کی جاتیں جنہیں عیش پرستی کے لیے استعمال کیا جاتا، شھوانی خواہشات کے اس چٹخارے نے عربوں کو بلا کا اوباش اور نفس پرست بنا دیا تھا اور ان کے ہاں بدکاری اتنی رچ بس گئی تھی کہ اگر کوئی صالح شخص ان بدکاریوں اور بری عادات سے اجتناب برتتا تو اس کا مذاق اڑایا جاتا اور اسے کمینہ،  کنجوس اور غیر ملنسار قرار دے دیا جاتا۔

عرب معاشرے کی اخلاق باختگی کا ایک اور تاریک پہلو خاندانی نظام کی گراوٹ تھا، عرب کے متمول طبقے میں تو پھر بھی حالت کچھ بہتر تھی، مگر عمومی طور پر مرد عورت کا اختلاط سواۓ فحاشی اور بدکاری کے اور کچھ نہیں تھا، ایک ہی وقت میں کئی کئی عورتوں کو اپنے حرم میں داخل کرلیا جاتا، دو سگی بہنوں سے بیک وقت نکاح کرلینا اور باپ کے مرنے کے بعد سوتیلی ماں کو اپنی زوجیت میں لے لینے میں کوئی عار نہ تھا، دس دس لوگ ایک ہی عورت سے تعلقات قائم کرلیتے،  جگہ جگہ رنڈیوں اور طوائفوں کے گھر زنا اور بدکاری کے اڈے تھے، شراب نوشی اور جواء عام تھا۔

ان کی بے حیائی کا یہ عالم تھا کہ ان کی بیٹیاں تک نیم عریاں لباس میں قبائلی مخلوط مجالس میں شریک ہوتیں جہاں ان کے جسمانی اعضاء پر نہایت فحش شعر پڑھے جاتے، دنیا کی شاید ہی کوئی برائی ہو جو عربوں میں موجود نہ تھی، لہو و لعب، فسق و فجور اور قتل و غارتگری کے دلدادہ، زنا و بدکاری کے رسیا اور شراب نوشی اس قدر کہ جیسے ہر گھر ایک شراب خانہ تھا۔

عرب نہایت شقی القلب اور سنگدل تھے، جانوروں کو درختوں سے باندھ کر نشانہ بازی کی مشق کی جاتی، زندہ جانور کا کوئی حصہ کاٹ کر کھا جاتے، اسیران جنگ کے ساتھ غیر انسانی سلوک کیا جاتا، ایک ایک عضو کاٹ کر موت کے گھاٹ اتارا جاتا، دشمنوں کا جگر نکال کر کچا چبا لیا جاتا، ان کے کاسۂ سر میں شراب ڈال کر پی جاتی، مجرموں کو حد درجہ وحشیانہ سزائیں دی جاتیں۔

درحقیقت یہ اسلام کی حقانیت و سچائی کا ایک منہ بولتا ثبوت ہے کہ ایسی وحشی و جاہل قوم کو بدل کر تمام اقوام عالم کا پیشوا بنا دیا اور ان کو اخلاقی طور پر فرشتوں کے جیسا پاکیزہ بنا دیا، تاہم اخلاقی طور پر پستی اور گراوٹ کی اتھاہ گہرایوں میں ڈوبے اس معاشرے میں ایسے سلیم فطرت صالح انسان موجود تھے جو ان قبیح حرکات سے الگ تھلگ تھے۔

دوسری طرف جب انہی بدکار و بے حیا عربوں میں کچھ ایسی اخلاقی اچھائیاں بھی پائی جاتی تھیں جو ان عربوں کے لیے وجہ امتیاز تھیں۔ شجاعت عربوں میں اپنی معراج پر تھی، ان کی بہادری درحقیقت سفاکی کے درجہ تک پہنچی ہوئی تھی، کسی عرب کے لیے میدان جنگ میں تلوار کی دھار پر کٹ مرنا عزت اور شرافت کی بات تھی اور بستر پر ناک رگڑ رگڑ مرنا ذلت اور گالی سمجھا جاتا،  نہ صرف مرد بلکہ عورتیں بھی میدان جنگ میں مردوں کے دوش بدوش حصہ لیتیں۔

سخاوت میں ان کا کوئی ثانی نہ تھا، کبھی کبھی تو اپنے پاس کا آخری روپیہ تک سائل کے حوالے کردیا جاتا، مہمان نواز اس درجے کے تھے کہ اگر کسی کے پاس صرف ایک اونٹ گزر بسر کے لیے ہوتا تو اگر مہمان آ جاتے تو اسے ذبح کرکے مہمانوں کو کھلا دیا جاتا..

عرب آزادی کے دلدادہ تھے اور اپنی آزادی برقرار رکھنے میں کسی قربانی سے دریغ نہ کرتے تھے، یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ روم و ایران کی عظیم سلطنتوں کے بیچ میں ہونے کے باوجود کوئی ان کو محکوم نہ بنا سکا۔

عرب آخر درجے کے وفا پیشہ تھے، عہد و پیمان کی پابندی کو فرض سمجھا جاتا تھا اور ایفاۓ عہد میں اپنی جان و مال اور اولاد تک کو قربان کردیا جاتا تھا، جب کسی کو پناہ دے دیتے تو اپنی جان قربان کردیتے مگر اپنی پناہ میں آۓ شخص پر ایک آنچ نہ آنے دیتے۔

شاید عرب قوم کی یہ امتیازی صفات ہی تھیں کہ جن کی وجہ سے اللہ نے اس قوم کو اسلام کی داعی قوم کے طور پر فضیلت بخشی، بلاشبہ عرب قوم بدکاری و بے حیائی کی دلدل میں مکمل طور ڈوبی ہوئی تھی، مگر یہ سب وہ بری صفات تھیں جو ان کی فطرت میں شامل نہ تھیں اور انہیں ختم بھی کیا جاسکتا تھا اور اسلام کے ظہور کے بعد ختم ہو بھی گئیں، مگر کسی قوم کو نہ تو کوشش سے بہادر بنایا جاسکتا ہے نہ ہی امانت دار اور نہ ہی حریت و آزادی کا متوالا،  یہ وہ صفات ہیں جن سے عرب قوم کو اللہ نے خوب خوب نواز رکھا تھا۔


Thursday, November 7, 2019

آئی ایس آئی کا حصہ کیسے بنیں ؟

‏آئی ایس آئی کا حصہ کیسے بنیں؟

یہ سوال میرے خیال میں ایک ایسا سوال ہے جو آج اب تک مجھ سے سب سے ذیادہ پُوچھا گیا ہے بلکہ پُوچھا جاتا ہے۔

جب بھی ہمارے سامنے آئی ایس آئی کا نام آتا ہے تو ہمارے ذہن میں ‏ایک فلم سی چل پڑتی ہے جیسے آپ نےجیمز بانڈ  مُوویز دیکھی ہوں گی کہ ایک ایجنٹ ہے اسکی بڑی دہشت ہے اسکے پاس بڑی پاور ہے ،کسی کو مارتا پھرتا ہے کبھی ایک ملک کبھی دُوسرے ملک، کام کا کام اور عیش کی عیش، دولت کے انبار ہیں، دُنیا جہاں کی بہترین گاڑیاں ہیں، سب کچھ اس کے پاس ہے ‏اور بس لائف فٹ ہے اسکی واہ واہ ہورہی ہے اور دنیا اسکے کارناموں پہ حیران ہے.

نہیں پیارے ایسا نہیں ہے وہ مووی ہے ایک اسکرپٹڈ اور مکمل طور پر محفوظ ماحول میں بنائی گئی لیکن حقیقی زندگی میں ایسا نہیں ہوتا.

‏حقیقی زندگی میں سب کچھ اس کے برعکس ہوتا ہےیہاں نہ ٹھاٹھ باٹ ہے، نہ دکھاوا ،نہ واہ واہ نہ شوبازی کچھ بھی نہیں ہے.
میں جب کبھی کسی گمنام سپاہی سے متعلق لکھتا ہوں تو اسکے بعد انباکس میں اکثر پوچھا جاتا ہے کہ ہم کیسے جوائن کریں آئی ایس آئی۔

‏مجھے لکھنے میں شاید چند گھنٹے اور آپکو پڑھنے میں چند منٹ لگتے ہیں لیکن حقیقت میں ایسا نہیں حقیقت بڑی تلخ اور بڑی کربناک ہے۔جو لکھنے والے اور پڑنے والوں کے رُونگھٹےکھڑے کردےسوچیں تو جس پہ گزرتی ہے اس کا کیا حال ہوتا ہوگا۔
ہم ‏مووی میں دیکھتے ہیں کہ ایک ایجنٹ بڑی شاندار گاڑی سے  بہترین سُوٹ ، بُوٹ میں ملبوس اترتا ہے آگے پیچھے اُسکے گارڈ ہوتے ہیں واہ کمال ہے لائف ہوتو ایسی۔ لیکن رُکیے بھئی وہ مووی ہے ہُوش کی دُنیا میں آئیےحقیقت میں ایسا ہرگز نہیں ہوتا حقیقت کا یہ عالم ہے کہ ‏آپکی ہستی مستی جب تک خاک نہ ہوجائے آپ کٌندن نہیں بن سکتے۔
کہیں یہ فقیر، کہیں ملنگ گندے میلے کچیلے کپڑوں میں ملبوس ایسی حالت میں ملیں گے کہ ان کو دیکھ کر آپکو گھن آئے گی، مکھیاں انکے اُوپر بھنبھنارہی ہونگی، سڑک کنارے کبھی کچرے کے ڈھیر پر، کبھی کیچڑ میں لت ‏پت، کہیں سبزی فروش تو کہیں تپتی دھوپ میں منوں وزن اپنے کاندھوں پہ اٹھائے، کہیں مسجد کے باہر بھیک مانگتے تو کہیں دردر کی ٹویکریں کھاتے لوگوں کی گالیاں اورطعنے سہتے، نہ گرمی کی خبر نہ سردی کا ہوش، بھوک پیاس کی شدت، تپتی ہو ‏ٹھٹھرتی زمین پرجلتے جسم، کہیں گلیوں میں کُوڑا چنتے، کہیں دن بھر کاندھے پہ سامان اٹھائے گلی گلی پھرتے، یہ جاگتے ہیں انکا چین نہیں ان کا آرام نہیں، کب کھاتے ہیں کب پیتے ہیں کس کے بیٹے ہیں کس کے بھائی ہیں کس کے باپ ہیں کس کے سرکا تاج ہیں کچھ خبر نہیں
‏یہ اپنے ملک میں بھی عیش وعشرت کی زندگی تیاگ دیتےہیں ، معلوم  نہیں کب سے یہ لوگ اپنے گھروں کے پاس ہوتے ہوئے بھی اپنے گھراپنےوالدین سےدور، اپنے بہن بھائی، بچوں سے دُور ہوتے ہیں کیا کبھی آپ نے سُوچا عید کے دن جب ساری دُنیا کے مسلمان نئے کپڑے پہن کراپنی اپنی فیملز کے ساتھ عید کی

‏خوشیاں منانےمیں مگن ہوتے ہیں تو دوسری طرف کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو بذاتِ خود اور جن کا خاندان ہماری ان خوشیوں کی وجہ بنتے ہیں جس وقت ہم اپنے والدین کے گلے لگ کرعید منارہے ہوتے ہیں وہاں اس پاک وطن کی دھرتی پہ کچھ بچے کچھ والدین ایسے بھی ہوتے ہیں جن کے بچے عید کے

‏دن بھی اپنے والد کی راہ تکتے اور آنکھوں میں آنسو لیے عید گزارتے ہیں۔

وہ ماں عید کا دن بھی دروازے کو تکتے گزاردیتی ہےکہ شاید اس کا لاڈلہ بیٹا عید کے دن اسے گلے لگالے، وہ باپ جو عید کا دن اس حسرت سے گزار دیتا ہےکہ کاش عید کے دن تو اس کا بیٹا آکے اُس کاسینہ ٹھنڈا کردیتا.

‏کہیں اپنی عید کی خوشیاں ہماری خوشیوں پہ قربان کرکے عید کے دن بھی گلیوں کی خاک چھان کر اپنے بچوں کی یاد میں بس دل ہی دل میں یہ سُوچ کراپنی ساری حسرتیں دبالیتا ہے کہ ایک اُسکے بچے اپنے باپ، اسکے والدین عید کے دن اپنے ایک  بیٹے سے محروم رہیں گے لیکن پاک وطن کے کروڑوں لوگ اپنی

‏اولادوں اپنے بچوں کے ساتھ عید منائیں
بہن بھائی دستِ شفقت کے منتظرمگر وہ بیٹا دور گے،عید گزر جاتی ہے ہم خوشیاں منا کرشکر ادا کرتے ہیں کہ عید بڑی اچھی گزری کیسے اچھی گزری کبھی نہیں سُوچتے کسی نے ہماری عید کو خوبصوررت اور پرسکون بنا نے کے اپنی عید قربان کی اپنے گھروالوں کی

‏عید اور خوشیاں قربان کیں۔
ایسے بھی دیوانے ہیں کہ جب ہم اس پاک دھرتی پر خوشی سے قہقہہ لگاتے ہیں وہاں دشمن کے عقوبت خانے ہمارے اس قہقہے کی قیمت اس پاک وطن کے بیٹے سے وصول کرتے ہیں اور عقوبت خانے اس قیمت سے لرز اٹھتے ہیں.

‏جن کی مائیں جن کی سہاگن انکے منتظر ہیں وہ بیٹے وہ سہاگ کہیں کسی تاریک کوٹھڑی میں لت پت پڑا تڑپ رہا ہوتا ہے تاکہ اسکے وطن کی ماؤں کی گود ہری بھری رہے، وطن کی بہنوں بیٹیوں کا سہاگ سلامت رہے۔

‏کتنے ہی پاک وطن کے عظیم بیٹے ہیں جن کا آج نام ونشان تک نہیں ، جو عقوبت خانوں میں زندہ ہیں انکا حال صرف اللہ جانتا ہے۔ یہ وہ عظیم لوگ ہیں جنکی قبروں کے نشان تک نہیں ملتے کس گلی، کس نگر، کس کوچے میں زندگی کی آخری شام ہو جائے یہ نہیں جانتے۔

‏اپنے گھروں کو دُوبارہ دیکھ بھی پائیں گے یا نہیں یہ نہیں جانتے۔ایسے کئی بیٹے آج کے دن بھی اس پاک دھرتی پہ قربان ہوئے ہونگے لیکن ہم نہیں جانتے، ہزاروں والدین ایسے ہونگےجنہیں اپنے بیٹوں کا آخری دیدار بھی نہیں نصیب نہیں ہوا ہوگا، ہزاروں بچے آج بھی اس کشمکش میں بڑےہورہے ہونگےکہ وہ
‏سکول کالج کے فارم میں خود کو باپ کے زیرِ کفالت لکھیں یا یتیم ۔ یہ آئی ایس آئی کی داستان ہے۔جو طاقت ورکےساتھ بڑی درناک و دلخراش بھی ہے۔

آئی ایس آئی نام سننے میں بڑا دلکش اور بڑا پرکشش لگتا ہےلیکن یہ ایک درد ایک کرب اور لازوالی قربانیوں پر کھڑا ایک ایسا قلعہ ہے جس کے

‏محافظوں کی کوئی پہچان کوئی نام نہیں  کسی کو علم نہیں ،ان پہ کیا گزرتی ہے کوئی نہیں جانتا ، وہ ہر درد، ہر جدائی سہہ کر اپنے عزم پر قائم رہتے ہیں تب ہی یہ قلعہ اپنی پوری آب وتاب سے قائم اودائم اور اپنے زیرِ سایہ سرزمین کا محافظ ہے۔

‏آج تک 70 سال گزرنے کو ہیں لیکن کسی شخص نے نہیں دیکھا کہ آئی ایس آئی میں کام کرنے والے کیسے ہیں کون ہیں؟ہوسکتا ہےکہ آپکا کوئی دُوست ،رشتہ دار بھی آئی ایس آئی کا حصہ ہولیکن آپ کبھی نہیں جان پائیں گے۔

‏ان ساری ساری باتوں کا نچوڑ ایک ہی بات نکلتی ہے کہ آئی ایس آئی ایک ایسی خوشبو ہے کہ جس سے سارا جہاں تو معطر ہے لیکن ہم دیکھ نہیں سکتے اس خوشبو کا وجود نہیں بالکل ایسے ہی ائی ایس آئی ہے۔

‏نہ نام نہ دکھاوا نہ شہرت نہ واہ واہ نہ تمغے نہ ایوارڈز نہیں کچھ بھی نہیں۔ ہر شعبہ میں آپکا نام بنتا ہے آپکی قابلیت کےچرچےہوتے ہیں آپکو تمغوں سے نوازا جاتاہےلیکن آئی ایس آئی میں ایسا نہیں ہے یہاں بس کام ہے اور خاموشی ہے۔isi کی موجودگی کاعلم اسکی آواز سے نہیں دشمن کے شورسےہوتاہے

‏اس ساری تحریرکا مقصد اب شاید آپکے سامنے واضح ہوجائے کہ آئی ایس آئی میں موجود افراد بھی کسی کو نہیں بتاسکتے، کس کو نہیں جتاسکتے، کسی پہ دھونس یا دکھاوانہیں کرسکتے کہ میں آئی ایس آئی ہوں یہ ہوں وہ ہوں، نہیں یہ سب آئی ایس آئی میں نہیں چلتا.

‏توکیا 22 کروڑ عوام ساری کی ساری آئی ایس آئی میں جانے کی خواہش کرے تو اب کیا کیا جائے؟  اس کا بڑا آسان سا حل ہےآئی ایس آئی کا مقصد بھی دکھاوا اور نام کمانا نہیں صرف اسلام اور پاکستان ہےتو یہ سب کرنے کے لیے آئی ایس آئی میں جاناضروری ہے کیا؟

‏نہیں بالکل نہیں اگر کوئی خوش قسمت آئی ایس آئی کے ادارے کاحصہ بن بھی جاتا ہے تو آپ کیوں مایوس کے ہم نہیں جاسکتے اللہ کے بندو آپ جس شعبہ سے تعلق رکھتے ہیں آپ اگر اسی میں رہ کر بھی اپنے ملک کےکام آئیں تو آپ کا مقصد بھی وہی ہوا جو آئی ایس آئی کا مقصد ہے۔

‏سُوشل میڈیا پہ ہیں تو دشمن کے پروپگنڈہ کا جواب دیں.

پاکستان کے خلاف، اسلام کے خلاف، پاک فوج کے خلاف چلنے والی آئی ڈیز، گروپس اور پیجز کو رپورٹ کرکے بند کروائیں تاکہ پاکستان کے خلاف نظریا تی جنگ کا بھی توڑ کیا جاسکے۔ دشمن کو شکست دی جاسکے۔

‏آج کل فزیکل جنگ سے ذیادہ مشکل جنگ نفسیاتی جنگ ہے۔ آئی ایس آئی کامقصد بھی پاکستان کی خدمت ہےاپنے لوگوں کی خدمت ہے یہی بیڑہ آپ بھی اٹھا لیں کے جب تک آئی ایس آئی میں نہیں جاپاتا تب تک ہی سہی۔

‏اگر آئی ایس آئی میں نہیں جاسکا تو یہیں بیٹھ کے اپنے شعبے میں بیٹھ کے ایمانداری سے اس ملک کی خدمت کریں۔اگر طالبعلم ہیں، کہیں جاب کرتے ہیں فیلڈ میں کام کرتے ہیں تو سُوشل میڈیا کی جنگ تو ہمیشہ جاری  رہتی ہے۔ سُوشل میڈیا پر آپ کا نام نہیں ہوگا شاید دُنیا آپکانام نہیں جان پائے گی،

‏آپکی واہ واہ نہیں ہوگی،لیکن آپکا کام وہی ہوگا جو آئی ایس آئی کا ہے، آپکا مقام وہی ہوگا جو آئی ایس آئی کا ہے۔

دشمن یہی کہےگا کہ ہمارا پروپگنڈہ آئی ایس آئی کے ایجنٹوں نے نام بنایا ہے۔

‏ہم سے ہی اٹھ کرگئے ہیں اور آئی ایس آئی کو جوائن کرنے کا طریقہ تو آپکو کسی بھی ڈیفنس فورم پر مل جائے آپ گوگل کریں ہزاروں جگہ شاید مل جائےمگر آپکو یہ کوئی نہیں کہے گا کہ آپ جہاں بھی ہوں آپ آئی ایس آئی کا حصہ ہیں۔

‏واللہ کل جب غزوہِ ہند کے شہیدوں اور غازیوں کا نام پکارا جائے گا تو ان لوگوں کا بھی نام آئے گا جنہوں نے مجاہدوں کے حوصلے بڑھائے تھے، ان پر بھونکنے والی زبانیں بند کی تھیں۔

‏غزوہِ ہند کے لیے راہ ہموار کی تھی یہ سب کچھ آئی ایس آئی ہی کا کام تو ہے جو آپ کہیں بھی  بیٹھ کرکرسکتے ہیں وہ بھی اپنی فیملی کے ساتھ خوش باش ہوکر۔میں کسی کو مایوس نہیں کررہا بلکہ ان دوستوں کو ایک موٹیویشن دے رہا ہوں

‏جن کا مقصدشہرت نہیں، واہ واہ نہیں صرف پاکستان ہے کہ وہ بھی وہی کام کریں جو آئی ایس آئی کررہی ہے ان شاءاللہ انکے نتائج بھی ویسے ہی پاکستان کو فائدہ پہنچائیں گے جیسے آئی ایس آئی کے۔

آ‏‏پ اُستاد ہیں طالبعلموں کو دل سے محنت سے پڑھائیں ایک بہترین نسل تیار کریں انہیں پاکستانیت اور اسلام سے محبت اور وفاداری کا درس دیں۔  آپ عالم ہیں لوگوں کو تفرقے سے نکال کرمتحد کریں  انہیں حقیقی جہاد اور اسلام اور پاکستان کا درس دیں ، انہیں وطن اور مذہب کا آپس میں تعلق پڑھائیں۔

‏آپ کاروبار کرتے ہیں باقاعدگی سے ٹیکس دیں ملکی ترقی کا حصہ بنیں، آپ کہیں جاب کرتے ہیں ایمانداری سے جاب کریں دیکھیں اس کا پاکستان کی بہتری میں اثر پڑتا ہے یانہیں، آپ صاحبِ اختیار ہیں لوگوں کی خدمت کریں دیکھیں کتنے لوگ پاکستان کی طرف،پاکستان کی بہتری کے لیے کام کرتے ہیں۔

‏ہر وہ کام ہروہ مقصد جو پاکستان کو ترقی کی طرف بہتری کی طرف لے جائے وہ آئی ایس آئی کا ہی کام ہے۔

شاید میری باتیں کچھ دوستوں کے لیے مایوس کُن ہوں لیکن نہ آئی ایس آئی نظر آتی ہے نہ آپ نظر آئیں گے

‏لیکن مقصد پسِ پردہ دونوں کا ایک ہوگا تو کتنا آسان ہے نہ آئی ایس آئی کا حصہ بننا۔
پھر جس کو اللہ پاک موقع دے ذہانت دے آگے بڑھیں راستے کھلے ہیں آئی ایس آئی میں جائیں آرمی میں جائیں لیکن تب تک انتطار نہ کریں خود ہی پاکستان کے لیے کچھ کرنے کی ٹھان لیں آپ آئی ایس آئی ہی ہوں گے۔

‏کوئی بھی بات بُری لگی ہو معذرت چاہتا ہوں لیکن آپ اس نظریہ سے آگے بڑھیں گے خدا کی قسم آپ جہاں بھی ہوں گے جس شعبہ جس انداز میں بھی کام کریں گے آپ خود کو آئی ایس آئی کا حصہ ہی محسوس کریں گےکہ دنیا نہیں دیکھ رہی مگر میرا مقصد میرا کام میرے ملک کے کام آرہا ہے۔

‏پھرکون کون دُوست ہے جو آج سے ہی آئی ایس آئی ایجنٹ بن رہا ہے؟ :-)  فزیکلی آئی ایس آئی کی شمیولیت میں تو تعلیم  اور عمر کی قید بھی ہوتی ہے لیکن یہ تحریر 22 کروڑ پاکستانیوں کے لیے ہے نہ تعلیم کی قید نہ عمر کی مرد خواتین سب کے لیے یکساں اور لاتعداد مواقعے

‏میں اکثر ایک فقرہ کہتا ہوں کہ آئی ایس آئی ایک ادارے کا نہیں بلکہ ایک ارادے کا نام ہے اداروں کو جوائن کیا جاتا ہے جبکہ ارادوں کا ساتھ دیاجاتا ہے۔
از طرف میرے پیارےوطن کے ایک جانباز،گمنام کی سپاہی جانب سے
تمت بالخیر
"ملنگ" 🙂


سرورِ کائنات صل اللہ علیہ وآلہ وسلم

سر ورِ کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم ______!!!

حضور اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو اﷲ تعالیٰ نے جس طرح کمال سیرت میں تمام اولین و آخرین سے ممتاز اور افضل و اعلیٰ بنایا اسی طرح آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو جمالِ صورت میں بھی بے مثل و بے مثال پیدا فرمایا۔ ہم اور آپ حضورِ اکرم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی شانِ بے مثال کو بھلا کیا سمجھ سکتے ہیں ؟ حضرات صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم جو دن رات سفر و حضر میں جمال نبوت کی تجلیاں دیکھتے رہے انہوں نے محبوب خدا صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے جمالِ بے مثال کے فضل و کمال کی جو مصوری کی ہے اس کو سن کر یہی کہنا پڑتا ہے جو کسی مداحِ رسول نے کیا خوب کہا ہے کہ

اَبَدًا وَّ عِلْمِيْ اَنَّهٗ لَا يَخْلُقُ لَمْ يَخْلُقِ الرَّحْمٰنُ مِثْلَ مُحَمَّدٍ
یعنی اﷲ تعالیٰ نے حضرت محمد صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کا مثل پیدا فرمایا ہی نہیں اور میں یہی جانتا ہوں کہ وہ کبھی نہ پیدا کرے گا۔________

صحابی رسول اور تاجدار دو عالم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے درباری شاعر حضرت حسان بن ثابت رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے اپنے قصیدۂ ہمزیہ میں جمال نبوت کی شان بے مثال کو اس شان کے ساتھ بیان فرمایا کہ

وَ اَجْمَلَ مِنْكَ لَمْ تَلِدِ النِّسَآءُ وَ اَحْسَنَ مِنْكَ لَمْ تَرَقَطُّ عَيْنِيْ !
_____
یعنی یا رسول اﷲ ! (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) آپ سے زیادہ حسن و جمال والا میری آنکھ نے کبھی کسی کو دیکھا ہی نہیں اور آپ سے زیادہ کمال والا کسی عورت نے جنا ہی نہیں۔

كَاَنَّكَ قَدْ خُلِقْتَ کَمَا تَشَآءُ خُلِقْتَ مُبَرَّئً مِّنْ کُلِ عَيْبٍ !
_____
(یا رسول اﷲ ! صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) آپ ہر عیب و نقصان سے پاک پیدا کئے گئے ہیں گویا آپ ایسے ہی پیدا کئے گئے جیسے حسین و جمیل پیدا ہونا چاہتے تھے۔

حضرت علامہ بوصیری رحمۃ اﷲ تعالیٰ علیہ نے اپنے قصیدۂ بردہ میں فرمایا کہ

فَجَوْهَرُ الْحُسْنِ فِيْهِ غَيْرُ مُنْقَسِمٖ مُنَزَّهٌ عَنْ شَرِيْكٍ فِيْ مَحَاسِنِهٖ
یعنی ____حضرت محبوب خدا صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم اپنی خوبیوں میں ایسے یکتا ہیں کہ اس معاملہ میں ان کا کوئی شریک ہی نہیں ہے۔ کیونکہ ان میں جو حسن کا جوہر ہے وہ قابل تقسیم ہی نہیں۔

اعلیٰ حضرت مولانا احمد رضا خان صاحب قبلہ بریلوی قدس سرہ العزیز نے بھی اس مضمون کی عکاسی فرماتے ہوئے کتنے نفیس انداز میں فرمایا ہے کہ

ترے خُلق کو حق نے عظیم کہا تری خَلق کو حق نے جمیل کیا

کوئی تجھ سا ہوا ہے نہ ہو گا شہا ترے خالق حسن و ادا کی قسم

بہر حال اس پر تمام امت کا ایمان ہے کہ تناسب ِ اعضاء اور حسن و جمال میں حضور نبی آخر الزمان صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم بے مثل و بے مثال ہیں۔ چنانچہ حضرات محدثین و مصنفین سیرت نے روایات صحیحہ کے ساتھ آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے ہر ہر عضو شریفہ کے تناسب اور حسن و جمال کو بیان کیا ہے۔ ہم بھی اپنی اس مختصر کتاب میں ” حلیۂ مبارکہ ” کے ذکر جمیل سے حسن و جمال پیدا کرنے کے لئے اس عنوان پر حضرت مولانا محمد کامل صاحب چراغ ربانی نعمانی ولید پوری رحمۃ اﷲ تعالیٰ علیہ کے منظوم حلیہ مبارکہ کے چند اشعار نقل کرتے ہیں تاکہ اس عالم کامل کی برکتوں سے بھی یہ کتاب سرفراز ہو جائے۔ حضرت مولانا موصوف نے اپنی کتاب ” پنجہ نور ” میں تحریر فرمایا کہ

-: حلیۂ مقدسہ

حلیہ نورِ خدا میں کیا لکھوں روحِ حق کا میں سراپا کیا لکھوں
جلوہ گر ہو گا مکانِ قبر میں پر جمالِ رحمۃٌ للعالمین
مختصر لکھ دوں جمالِ بے مثال اس لئے ہے آگیا مجھ کو خیال
اور اس کی یاد بھی آسان ہو تاکہ یاروں کو مرے پہچان ہو
پر سپید و سرخ تھا رنگ بدن تھا میانہ قد و اوسط پاک تن
تھے حسین و گول سانچے میں ڈھلے چاند کے ٹکڑے تھے اعضاء آپ کے
چاند میں ہے داغ وہ بے داغ تھی تھیں جبیں روشن کشادہ آپ کی
اور دونوں کو ہوا تھا اِتصال دونوں ابرو تھیں مثالِ دو ہلال
یاکہ ادنیٰ قرب تھا “قوسین” کا اِتصال دو مہ “عیدین” تھا
دیکھ کر قربان تھیں سب حور عیں تھیں بڑی آنکھیں حسین و سرمگیں
ساتھ خوبی کے دہن بینی بلند کان دونوں خوب صورت ارجمند
صورت اپنی اس میں ہر اک دیکھتا صاف آئینہ تھا چہرہ آپ کا
خوب تھی گنجان مو ، رنگ سیاہ تابہ سینہ ریش محبوبِ الٰہ
ہو ازار و جبہ یا پیر ہن تھا سپید اکثر لباسِ پاک تن
پر کبھی سود و سپید و صاف تھا سبز رہتا تھا عمامہ آپ کا
دونوں عالم میں نہیں ایسا کوئی میں کہوں   پہچان عمدہ آپ کی
صل اللہ علیہ وآلہ وسلم




تین طرح کے لوگ

‏دنیا میں تین طرح کے لوگ ہیں لو کلاس ، مڈل کلاس،  ہائی کلاس
سب ہی کسی نہ کسی ڈپریشن اور پریشانیوں میں مبتلا رہتے امیرانہ طبقہ میں سب کچھ ہونے کے باوجود بے سکونی اور  ڈپریشن پایا جاتا ہے ، لو اور مڈل کلاس اپنے آنے والے کل سے زیادہ اپنے آج کے لیے زیادہ فکر مند پائے جاتے ہیں ‏مگر سوتے سکون سے ہیں وہ جانتے ہیں کہ اللہ رزاق ہے ہر کسی کو رزق دیتا ہے اور وہ کہاں کہاں سے انتظام کرتا ہے یہ کسی کے گمان میں بھی نہیں ہوتا رزق انسان کو تلاش کرتا ہوا انسان تک پہنچتا ہے ۔ زیادہ طمعہ انسان کو لالچ کے سوا کچھ نہیں دیتا اپنے آج کو جینا سیکھیں اور پرسکون زندگی
‏گذاریں اور اگر رب نے آپ کو نوازا ہے مال و دولت اور نعمت سے تو دوسروں کے کام آنے کی کوشش کریں تاکہ سب کی آخرت سنور سکے
‎#Samar✍️



چوکھٹ

ایک پرانے اور بوسیده مکان میں ایک غریب مزدور رهتا تھا _مکان کیا تھا،بس آثار قدیمہ کا کھنڈر ہی تھا__ غریب مزدور جب سرشام گھر لوٹتا اس کی بیوی معصومیت سے کہتی:
 " اب تو گھر کا دروازه لگوادیں، کب تک اس لٹکے پردے کے پیچھے رہنا پڑے گا__
اور ہاں! اب تو پرده بھی پرانا ہو کر پھٹ گیا ہے مجھے خوف ہے کہیں چور ہی گھر میں نہ گھس جائے"

شوہر مسکراتے هوئے جواب دیتا : میرے ہوتے ہوئے بھلا تمهیں کیا خوف؟ فکر نہ کرو میں ہوں نا تمهاری چوکھٹ" _______
غرض کئی سال اس طرح کے بحث ومباحثے میں گزر گئے، ایک دن بیوی نے انتہائی اصرار کیا کہ گھر کا دروازه لگوادو__

بالآخر شوہر کو ہار ماننا پڑی اور اس نے ایک اچھا سا درازه لگا دیا.اب بیوی کا خوف کم ہوا اور شوہر کے مزدوری پر جانے کے بعد گھر میں خود کو محفوظ تصور کرنے لگی___
ابھی کچھ سال گزرے تھے کہ اچانک شوہر کا انتقال ہوگیا
 اور گھر کا چراغ بجھ گیا، عورت گھر کا دروازه بند کیے پورا دن کمرے میں بیٹھی رہتی،

 ایک رات اچانک چور دیوار پھلانگ کر گھر میں داخل ہو گیا اس کے کودنے کی آواز پر عورت کی آنکھ کھل گئی،اس نے شور مچایا.محلے کے لوگ آگئے،اور چور کو پکڑ لیا.جب دیکھا تو معلوم ہوا کہ وه چور پڑوسی ہے _____
اس وقت عورت کو احساس ہوا کہ چور کے آنے میں اصل رکاوٹ دروازه نہیں میرا شوہر تھا اس چوکھٹ سے زیاده مضبوط وه چوکھٹ(شوہر) تھی ____!

شوہر میں لاکھ عیب ہوں لیکن حقیقت بھی ہے کہ مضبوط چوکھٹ یهی شوہر ہی ہیں ،  شادی شده ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کو چاہئیے کہ ان چوکھٹوں کی خوب دیکھ بھال کیا کریں ____
اور الله کا شکر ادا کیا کریں..

Wednesday, November 6, 2019

بادشاہ کے کُتے

کسی زمانے میں ایک بادشاہ تھا جس نے دس جنگلی کتے پالے ہوئے تھے, اس کے وزیروں میں سے جب بھی کوئی وزیر غلطی کرتا بادشاہ اسے ان کتوں کے آگے پھنکوا دیتا کتے اس کی بوٹیاں نوچ نوچ کر مار دیتے-
ایک بار بادشاہ کے ایک خاص وزیر نے بادشاہ کو غلط مشورہ دے دیا جو بادشاہ کو بلکل پسند نہیں آیا اس نے فیصلہ سنایا کہ وزیر کو کتوں کے آگے پھینک دیا جائے-
وزیر نے بادشاہ سے التجا کی کہ حضور میں نے دس سال آپ کی خدمت میں دن رات ایک کئے ہیں اور آپ ایک غلطی پر مجھے اتنی بڑی سزا دے رہے ہیں, آپ کا حکم سر آنکھوں پر لیکن میری بےلوث خدمت کے عوض مجھے آپ صرف دس دنوں کی مہلت دیں پھر بلاشبہ مجھے کتوں میں پھنکوا دیں-
بادشاہ یہ سن کر دس دن کی مہلت دینے پر راضی ہو گیا-
وزیر وہاں سے سیدھا رکھوالے کے پاس گیا جو ان کتوں کی حفاظت پر مامور تھا اور جا کر کہا مجھے دس دن ان کتوں کے ساتھ گزارنے ہیں اور ان کی مکمل رکھوالی میں کرونگا, رکھوالا وزیر کے اس فیصلے کو سن کر چونکا لیکن پھر اجازت دے دی-
ان دس دنوں میں وزیر نے کتوں کے کھانے پینے, اوڑھنے بچھونے, نہلانے تک کے سارے کام اپنے ذمے لیکر نہایت ہی تندہی کے ساتھ سر انجام دیئے-
دس دن مکمل ہوئے بادشاہ نے اپنے پیادوں سے وزیر کو کتوں میں پھنکوایا لیکن وہاں کھڑا ہر شخص اس منظر کو دیکھ کر حیران ہوا کہ آج تک نجانے کتنے ہی وزیر ان کتوں کے نوچنے سے اپنی جان گنوا بیٹھے آج یہی کتے اس وزیر کے پیروں کو چاٹ رہے ہیں-
بادشاہ یہ سب دیکھ کر حیران ہوا اور پوچھا کیا ہوا آج ان کتوں کو ؟
وزیر نے جواب دیا, بادشاہ سلامت میں آپ کو یہی دکھانا چاہتا تھا میں نے صرف دس دن ان کتوں کی خدمت کی اور یہ میرے ان دس دنوں میں کئے گئے احسانات بھول نہیں پا رہے, اور یہاں اپنی زندگی کے دس سال آپ کی خدمت کرنے میں دن رات ایک کر دیئے لیکن آپ نے میری ایک غلطی پر میری ساری زندگی کی خدمت گزاری کو پس پشت ڈال دیا......!

بادشاہ کو شدت سے اپنی غلطی کا احساس ہوا,
.
.
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔

.
 اس نے وزیر کو اٹھوا کر مگرمچھوں کے تالاب میں پھنکوا دیا-


Friday, November 1, 2019

آسمان کی آفتیں

آسمان کی آفتیں
خلیفہ ہارون الرشید عباسی خاندان کا پانچواں خلیفہ تھا‘ عباسیوں نے طویل عرصے تک اسلامی دنیا پر حکومت کی لیکن ان میں سے شہرت صرف ہارون الرشید کو نصیب ہوئی۔ ہارون الرشید کے دور میں ایک بار بہت بڑا قحط پڑ گیا۔ اس قحط کے اثرات سمرقند سے لے کر بغداد تک اور کوفہ سے لے کر مراکش تک ظاہر ہونے لگے۔ ہارون الرشید نے اس قحط سے نمٹنے کیلئے تمام تدبیریں آزمالیں‘اس نے غلے کے گودام کھول دئیے‘ٹیکس معاف کر دئیے‘ پوری سلطنت میں سرکاری لنگر خانے قائم کر دئیے اور تمام امراءاور تاجروں کو متاثرین کی مدد کیلئے متحرک  کر دیا لیکن اس کے باوجود عوام کے حالات ٹھیک نہ ہوئے۔ ایک رات ہارون الرشید شدید  بہت پریشانی کے عالم میں تھا‘ اسے نیند نہیں آ رہی تھی‘ پریشانی  کے اس عالم میں اس نے اپنے وزیراعظم یحییٰ بن خالد کو طلب کیا‘ یحییٰ بن خالد ہارون الرشید کےاستاد بھی تھے۔اس نے بچپن سے بادشاہ کی تربیت کی تھی۔ ہارون الرشید نے یحییٰ خالد سے کہا ”استادمحترم آپ مجھے کوئی ایسی کہانی‘ کوئی ایسی داستان سنائیں جسے سن کر مجھے قرار آ جائے“ یحییٰ بن خالدمسکرائے  اور عرض کیا ”بادشاہ سلامت میں نے اللّٰہ کے کسی نبی کی حیات طیبہ میں ایک داستان پڑھی تھی‘ یہ داستان مقدر‘ قسمت اور اللّٰہ کی رضا کی سب سے بڑی اور شاندار تشریح ہے۔ آپ اگر ۔۔اجازت دیں تو میں وہ داستان آپ کے سامنے دہرادوں“ بادشاہ نے بے چینی سے فرمایا ”یا استاد فوراً فرمائیے۔ میری جان حلق میں اٹک رہی ہے“ یحییٰ خالد نے عرض کیا ” کسی جنگل میں ایک بندریا سفر کیلئے روانہ ہونے لگی‘ اس کا ایک بچہ تھا‘ وہ بچے کو ساتھ نہیں لے جا سکتی تھی چنانچہ وہ شیر کے پاس گئی اور اس سے عرض کیا ”جناب آپ جنگل کے بادشاہ ہیں‘ میں سفر پر روانہ ہونے لگی ہوں‘ میری خواہش ہےکہ آپ میرے بچے کی حفاظت اپنے ذمے لے لیں“ شیر نے حامی بھر لی‘بندریا نے اپنا بچہ شیر کے حوالے کر دیا‘ شیر نے بچہ اپنے کندھے پر بٹھا لیا‘ بندریا سفر پر روانہ ہوگئی‘ اب شیر روزانہ بندریا کے بچے کو کندھے پر بٹھاتا اور جنگل میں اپنے روزمرہ کے کام کرتا رہتا۔ ایک دن وہ جنگل میں گھوم رہا تھا کہ اچانک آسمان سے ایک چیل نے بچے پر جھپٹنے کی غرض سے زرا نیچے اڑن  بھری‘ شیر کے قریب پہنچی‘ بندریا کا بچہ اٹھایا اور آسمان میں گم ہو گئی‘ شیر جنگل میں بھاگا دوڑا لیکن وہ چیل کو نہ پکڑ سکا“یحییٰ خالدرکے‘ انہوں  نے سانس لیا اور خلیفہ ہارون الرشید سے عرض کیا ”بادشاہ سلامت چند دن بعد بندریا واپس آئی اور شیر سے اپنے بچے کا مطالبہ کر دیا۔ شیر نے شرمندگی سے جواب دیا‘تمہارا بچہ تو چیل لے گئی ہے‘ بندریا کو غصہ آگیا اور اس نے چلا کر کہا ”تم کیسے بادشاہ ہو❓‘ تم ایک امانت کی حفاظت نہیں کر سکے‘ تم اس سارے جنگل کا نظام کیسے چلاﺅ گے❓“ شیر نے افسوس سے سر ہلایا اور بولا ”میں زمین کا بادشاہ ہوں‘اگر زمین سے کوئی آفت تمہارے بچے کی طرف بڑھتی تو میں اسے روک لیتا لیکن یہ آفت آسمان سے اتری تھی اور آسمان کی آفتیں صرف اور صرف آسمان والا روک سکتا ہے“۔ یہ کہانی سنانے کے بعد یحییٰ بن خالد نے ہارون الرشید سے عرض کیا ”بادشاہ سلامت قحط کی یہ آفت بھی اگر زمین سے نکلی ہوتی تو آپ اسے روک لیتے‘ یہ آسمان کا عذاب ہے‘ اسے صرف اللّٰہ تعالیٰ ہی روک سکتا ہے چنانچہ آپ اسے رکوانے کیلئے بادشاہ نہ بنیں‘ فقیر بنیں‘ یہ آفت رک جائے گی“۔دنیا میں آفتیں دو قسم کی ہوتی ہیں‘ آسمانی مصیبتیں اور زمینی آفتیں۔ آسمانی آفت سے بچے کیلئے اللّٰہ تعالیٰ کا راضی ہونا ضروری ہوتا ہے جبکہ زمینی آفت سے بچاﺅ کیلئے انسانوں کامتحد ہونا‘ وسائل کا بھر پور استعمال اور حکمرانوں کا اخلاص درکار ہوتا ہے۔یحییٰ بن خالد نے ہارون الرشید کو کہا تھا ”بادشاہ سلامت آسمانی آفتیں اس وقت تک ختم نہیں ہوتیں جب تک انسان اپنے رب کو راضی نہیں کر لیتا‘آپ اس آفت کامقابلہ بادشاہ بن کر نہیں کر سکیں گے چنانچہ آپ فقیر بن جائیے۔ اللّٰہ کے حضور گر جائیے‘ اس سے توبہ کیجئے‘ اس سے مدد مانگیے“۔ دنیا کے تمام مسائل اوران کے حل کے درمیان صرف اتنا فاصلہ ہوتا ہے جتنا ماتھے اور جائے نماز میں ہوتا ہے لیکن افسوس ہم اپنے مسائل کے حل کیلئے سات سمندر پار تو جا سکتے ہیں لیکن ماتھے اور جائے نماز کے درمیان موجود چند انچ کا فاصلہ طے نہیں کر سکتے۔




Thursday, October 31, 2019

لکیریں

انسانی جسم کی انگلیوں میں لکیریں جب نمودار ہونے لگتی ہیں, جب انسان ماں کے شکم میں 4 ماہ تک پہنچتا ہے یہ لکیریں ایک ریڈیائی
لہر کی صورت میں گوشت پر بننا شروع ہوتی ہیں ان لہروں کو بھی پیغامات ڈی۔۔این۔۔اے دیتا ہے مگر حیرت کی بات یہ ہے کہ پڑنے والی لکیریں کسی صورت بھی اس بچے کے جد امجد اور دیگر روئے ارض پر موجود انسانوں سے میل نہیں کھاتیں گویا لکیریں بنانے والا اس قدر دانا اور حکمت رکھتا ہے کہ وہ کھربوں کی تعداد میں انسان جو اس دنیا میں ہیں اور جو دنیا میں نہیں رہے ان کی انگلیوں میں موجود لکیروں کی ساخت اور ان کے ایک, ایک ڈیزائن (نمونے) سے باخبر ہے یہی وجہ ہے کہ وہ ہر بار ایک نئے انداز کا ڈیزائن (نقشہ) اس کی انگلیوں پر نقش کر کے یہ ثابت کرتا ہے ۔۔۔۔۔
کہ ہے........
کوئی مجھ جیسا نقش کار ؟؟؟

کوئی ہے مجھ جیسا کاریگر ؟؟؟

کوئی ہے مجھ جیسا آرٹسٹ ؟؟؟

کوئی ہے مجھ جیسا مصور ؟؟؟

کوئی ہے مجھ جیسا تخلیق کار ؟؟؟
حیرانگی کی انتہاء تو اس بات پر ختم ہوجاتی ہے کہ اگر جلنے, زخم لگنے یا کسی وجوہات کی بنیاد پر یہ فنگر پرنٹ (انگلی کے نشان) مٹ بھی جائے تو دوبارہ ہو بہو وہی لکیریں جن میں ایک خلیے کی بھی کمی بیشی نہیں ہوتی ظاہر ہو جاتی ہیں ۔۔۔ پس ہم پر کھلتا ہے کہ پوری دنیا بھی جمع ہو کر انسانی انگلی پر کسی وجوہات کی بنیاد پر مٹ جانے والی ایک فنگر پرنٹ نہیں بنا سکتی تو جو چیز لاکھوں سائنسدانوں کی کوششوں سے نہیں بن پا رہی وہ خود سے کیسے بن سکتی ہے۔۔۔۔؟؟



میں تمھیں طلاق دینا چاہتا ہوں

میں تمہیں طلاق دینا چاہتا ہوں

میز پہ کھانا لگاتے ہوئے اسکا پورا دھیان پلیٹیں سجانے میں تھا اور میری آنکھیں اسکے چہرے پہ جمی تھیں۔ میں نے آہستگی سے اسکا ہاتھ تھاما تو وہ چونک سی گئی
"میں تم سے ایک ضروری بات کرنا چاہتا ہوں" کافی ہمت جتانے کے بعد بلآخر میرے منہ سے نکلا
وہ چپ چاپ کرسی پہ بیٹھ گئی، اسکی نگاہیں چاہے میز پہ مرکوز تھیں پر ان میں سے اٹھتا درد میں بخوبی محسوس کررہا تھا۔
ایک پل کے لیے میری زبان پہ تالہ سا لگ گیا پر جو میرے دماغ میں چل رہا تھا اسے بتانا بہت ضروری تھا۔
"میں تمہیں طلاق دینا چاہتا ہوں۔۔۔۔" میری آنکھیں جھک گئیں
میری امید کے برعکس اس نے کسی قسم کی حیرانی یا پریشانی کا اظہار نہ کیا بس نرم لہجے میں اتنا پوچھا
"کیوں۔۔۔۔۔؟"
میں نے اسکا سوال نظرانداز کیا۔ اسے میرا یہ رویہ گراں گزرا۔ ہاتھ میں پکڑا چمچ فرش پہ پھینک کے وہ چلانے لگی اور یہ کہہ کے وہاں سے اٹھ گئی کہ
"تم مرد نہیں ہو۔۔۔"
رات بھر ہم دونوں نے ایکدوسرے سے بات نہیں کی۔ وہ روتی رہی۔ میں جانتا تھا کہ اسکے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ آخر ہماری شادی کو ہوا کیا ہے۔۔۔ میرے پاس اس دینے کے لیے کوئی تسلی بخش جواب نہیں تھا۔ اسے کیا بتاتا کہ میرے دل میں اسکی جگہ اب کسی اور نے لے لی ہے۔۔۔ اب اسکے لیے میرے پاس محبت باقی نہیں رہی۔ مجھے اس پہ ترس تو بہت آرہا تھا اور ایک پچھتاوا بھی تھا۔ پر اب میں جو فیصلہ کر چکا تھا اس پہ ڈٹے رہنا ضروری تھا۔
طلاق کے کاغذات عدالت میں جمع کرانے سے پہلے میں نے اس کی ایک کاپی اسے تھمائی جس پہ لکھا تھا کہ وہ طلاق کے بعد گھر، گاڑی اور میرے ذاتی کاروبار کے 30 فیصد کی مالکن بن سکتی ہے۔
اس نے ایک نظر کاغذات پہ دوڑائی اور اگلے ہی لمحے اسکے ٹکڑے کرکے زمین پہ پھینک دیے۔ جس عورت کے ساتھ میں نے اپنی زندگی کے دس سال بتائے تھے وہ ایک پل میں اجنبی ہوگئی۔ مجھے افسوس تھا کہ اس نے اپنے انمول جذبات اور قیمتی لمحے مجھ پہ ضائع کیے پر میں بھی کیا کرتا میرے دل میں کوئی اور اس حد تک گھر کر چکا تھا کہ اس کھونے کا تصور ہی میرے لیے ناممکن تھا۔
بلآخر وہ ٹوٹ کے بکھری اور میرے سامنے ریزہ ریزہ ہوگئی۔ اسکی آنکھوں میں آنسوؤں کا سمندر امڈ آیا تھا۔ شائد یہی وہ چیز تھی جو اس طلاق کے بعد میں دیکھنا چاہتا تھا۔
اگلے روز پورا دن اپنی نئی محبت کے ساتھ بتا کے جب میں تھکا ہارا گھر پہنچا تو وہ میز پہ کاغذ پھیلائے کچھ لکھنے میں مصروف تھی۔ میں نے اس پہ کوئی دھیان نہ دیا اور جاتے ہی بستر پہ سو گیا۔ دیر رات جب میری آنکھ کھلی تو وہ تب بھی کچھ لکھ رہی تھی۔ اب بھی میں نے اس سے کوئی سوال نہیں کیا۔
صبح جب میں اٹھا تو اس نے طلاق کی کچھ شرائط میرے سامنے رکھ دیں۔ اسے میری دولت اور جائیداد میں سے کچھ نہیں چاہیے تھا۔ وہ بس ایک مہینہ مزید میرے ساتھ رہنا چاہتی تھی۔ اس ایک مہینے میں ہمیں اچھے میاں بیوی کی طرح رہنا تھا۔ اس شرط کی بہت بڑی وجہ ہمارا بیٹا تھا جسکے کچھ ہی دنوں میں امتحانات ہونیوالے تھے۔ والدین کی طلاق کا اسکی تعلیم پہ برا اثر نہ پڑے اس لیے میں اسکی یہ شرط ماننے کو بالکل تیار تھا۔
اسکی دوسری اور احمقانہ شرط یہ تھی کہ میں ہرصبح اسے اپنی باہوں میں اٹھا کے گھر کے دروازے تک چھوڑنے جاؤں۔ جیسا شادی کے ابتدائی دنوں میں مَیں کرتا تھا۔ وہ جب کام پہ باہر جانے لگتی تو میں خود اسے اپنی باہوں میں اٹھا کے دروازے تک چھوڑ آتا تھا۔ حالانکہ میں اسکی یہ بات ماننے کو تیار نہیں تھا لیکن ان آخری دنوں میں اسکا دل توڑنا مناسب نہیں لگ رہا تھا اس لیے میں نے یہ شرط بھی مان لی۔
اس کی ان شرائط کے بارے میں جب میں نے اپنی نئی محبت سے ذکر کیا تو وہ ہنس بولی
"وہ چاہے جو بھی کرلے ایک نہ ایک دن طلاق تو اسے ہونی ہی ہے"
میری بیوی اور میں نے اپنی طلاق کے معاملے سے متعلق کسی اور سے ذکر نہ کیا۔
شرط کے مطابق پہلے دن جب مجھے اسے اٹھا کے دروازے تک چھوڑنے جانا تھا تو وہ لمحات ہم دنوں کے لیے بے حد عجیب تھے۔ ہچکچاتے ہوئے میں نے اسے اٹھایا تو اس نے بھی اپنی آنکھیں بند کرلیں۔ اتنے میں تالیوں کی ایک گونج ہم دونوں کے کانوں میں پڑی
"پاپا نے ممی کو اٹھایا ہوا ہے۔۔۔۔۔ ہاہاہا" ہمارا بیٹا خوشی میں جھوم رہا تھا۔
اسکے الفاظوں سے میرے دل میں ایک درد سا اٹھا اور میری بیوی کی کیفیت بھی لگ بھگ میرے جیسی تھی۔
"پلیز۔۔۔ ! اسے طلاق کے بارے میں کچھ مت بتانا" وہ آہستگی سے بولی
میں نے جواباً سر ہلایا
اسے دروازے تک چھوڑ کے بعد میں اپنے آفس کی طرف نکل پڑا اور وہ بس سٹاپ کی طرف چل دی۔
اگلی صبح اسے اٹھانا میرے لیے قدرے آسان تھا، اور اسکی ہچکچاہٹ میں بھی کمی تھی۔ اس نے اپنا سر میری چھاتی سے لگا لیا۔ ایک عرصے بعد اسکے جسم کی خوشبو میرے حواس سے ٹکرائی۔ میں بغور اسکا جائزہ لینے لگا۔ چہرے کی گہری جھریاں اور سر کے بالوں میں اتری چاندی اس بات کی گواہ تھیں کہ اس نے اس شادی میں بہت کچھ کھویا ہے۔
چار دن مزید گزرے، جب میں نے اسے باہوں میں بھر کے سینے سے لگایا تو ہمارے بیچ کی وہ قربت جو کہیں کھو سی گئی تھی واپس لوٹنے لگی۔ پھر ہر گزرتے دن کے ساتھ قربت کے وہ جذبات بڑھتے گئے۔
لمحے دنوں کو پَر لگا کے اڑا لے گئے اور مہینہ پورا ہوگیا۔
اس آخری صبح میں جانے کے لیے تیار ہورہا تھا اور وہ بیڈ پہ کپڑے پھیلائے اس پریشانی میں مبتلا تھی کے آج کونسا لباس پہنے۔ کیوں کہ پرانے سارے لباس اسکے نحیف جسم پہ کھلے ہونے لگے تھے۔ اس وقت مجھے اندازہ ہوا کہ وہ کتنی کمزور ہوگئی ہے۔ شائد اسی لیے میں اسے آسانی سے اٹھا لیتا تھا۔ اسکی آنکھوں میں امڈتے درد کو دیکھ کے نہ چاہتے ہوئے بھی میں اسکے پاس چلا آیا اور اسکے کندھے پہ ہاتھ رکھا۔
"پاپا۔۔۔ ! ممی کو باہر گھمانے لے جائیں۔۔۔۔ " ہمارے بیٹے کی آواز میرے کانوں میں پڑی۔ اسکے خیال میں اس پل یہ ضروری تھا کہ میں کسی طرح اسکی ماں کا دل بہلاؤں۔
میری بیوی بیٹے کی طرف مڑی اور اسے سینے سے لگا لیا۔ یہ لمحہ مجھے کمزور نہ کردے یہ سوچ کے میں نے اپنا رخ موڑ لیا۔
آخری بار میں نے اسے اپنی باہوں میں اٹھایا اس نے بھی اپنے بازو میری گردن کے گرد حائل کردیے۔ میں نے اسے مظبوطی سے تھام لیا۔ میری آنکھوں کے سامنے شادی کا وہ دن گردش کرنے لگا جب پہلی بار میں اسے ایسے ہی اٹھا کے اپنے گھر لایا تھا اور وعدہ کیا تھا کہ مرتے دم تک ایسے ہی ہر روز اسے اپنے سینے سے لگا کے رکھوں گا۔ میرے قدم فرش سے شائد جم سے گئے تھے اسی لیے میں بامشکل دروازے تک پہنچا۔ اس نیچے اتارتے ہوئے میں نے اسکے کان میں سرگوشی کی
"شائد ہمارے درمیان قربت کی کمی تھی"
وہ میری آنکھوں میں دیکھنے لگی اور میں اسے وہیں چھوڑ کے اپنی گاڑی کی طرف بڑھا۔ تیز رفتار میں گاڑی چلاتے ہوئے بار بار ایک خوف میرے دل میں گھر کررہا تھا کہ کہیں میں کمزور نہ پڑ جاؤں، اپنا فیصلہ بدل نہ دوں۔ میں نے اس گھر کے دروازے پہ بریک لگائی جہاں نئی منزل میرا انتظار کررہی تھی۔ دروازہ کھلا اور وہ مسکراتے ہوئے میرے سامنے آئی
"مجھے معاف کردو۔ میں اپنی بیوی کو طلاق نہیں دے سکتا" میرے منہ سے نکلے یہ الفاظ اسکے لیے کسی دھماکے سے کم نہیں تھے۔ وہ میرے پاس آئی اور ماتھے پہ ہاتھ رکھ کے بولی
"شائد تمہاری طبیعت ٹھیک نہیں ہے یا پھر تم مذاق کررہے ہو"
"نہیں ۔۔۔ ! میں مذاق نہیں کررہا۔ شائد ہماری شادی شدہ زندگی بے رنگ ہوگئی ہے پر میرے دل میں اسکے لیے محبت اب بھی زندہ ہے۔ بس اتنا ہوا ہم ہر وہ چیز بھول گئے جو اس ساتھ کے لیے ضروری تھی۔ دیر سے سہی پر مجھے سب یاد آگیا ہے۔ اور ساتھ نبھانے کا وہ وعدہ بھی یاد ہے جو شادی کے پہلے دن میں نے اس سے کیا تھا"
نئے ہر بندھن کو توڑ کے بعد میں پرانے بندھن کو دوبارہ جوڑنے کے لیے واپس لوٹا۔ میرے ہاتھ میں پھولوں کا ایک گلدستہ تھا جس میں موجود پرچی پہ لکھا تھا
"میں ہر روز ایسے ہی تمہیں اپنی باہوں میں اٹھا کے دروازے تک چھوڑنے آؤں گا۔ صرف موت ہی مجھے ایسا کرنے سے روک سکتی ہے"
میں اپنے گھر میں داخل ہوا اور دوڑتے ہوئے سیڑھیاں چڑھنے لگا۔ میرے پاس اپنے بیوی کو دینے کے لیے زندگی کا سب سے بڑا تحفہ تھا۔
میں جب اس سے چند لمحوں کی دوری پہ تھا تبھی زندگی کی ڈور اسکے ہاتھوں سے سرک گئی۔
کئی مہینوں تک کینسر کی بیماری سے لڑتے لڑتے وہ ہار چکی تھی۔ نہ اس نے کبھی اپنی تکلیف کا مجھ سے ذکر کیا اور نہ ہی مصروف زندگی نے مجھے اس سے پوچھنے کا موقع دیا۔ جب اسے میری سب سے زیادہ ضرورت تھی تب میں کسی اور کے دل میں اپنے لیے محبت کھوج رہا تھا۔
وہ جانتی تھی کے اسکے پاس زیادہ وقت نہیں ہے۔ کہیں ایسا نہ ہو کے اسکی موت سے قبل طلاق کا اثر ہمارے بیٹے کے دل میں میرے لیے نفرت کا بیج بو دے۔ اس لیے بیتے ایک مہینے میں اس نے بیٹے کے سامنے انتہائی محبت کرنیوالے شوہر کا میرا روپ نقش کردیا۔۔۔ جو حقیقی تو نہیں تھا پر دائمی ضرور بن
یہ کہانی ان لوگوں کے لیے ہے جو اپنے بے رنگ رشتوں میں رنگ بھرنے کی بجائے ان سے دور بھاگنے کی کوشش کرتے ہیں۔
کئی بار یہ سمجھنے میں ہم دیر کر دیتے ہیں کہ نئے رشتے قائم کرنا زیادہ صحیح ہے یا پھر پرانے رشتوں میں رنگ بھرے جائیں۔۔۔۔؟ اسکا فیصلہ آپکے ہاتھ میں ضرور ہے لیکن ایسا نہ ہو کہ آپ وقت پہ فیصلہ نہ کر سکیں اور اس تاخیر میں ہاتھ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے خالی رہ جائیں۔ تو دیر مت کیجئے۔





زندگی کی حقیقت

پروفیسر نے ایک
 married
لڑکی کو کھڑا کیا
اور کہا کہ آپ بلیک بورڈ پہ ایسے 25- 30 لوگوں کے نام لکھو جو تمہیں سب سے زیادہ پیارے ہوں.
لڑکی نے پہلے تو اپنے خاندان کے لوگوں کے نام لکھے، پھر اپنے سگے رشتہ دار، دوستوں، پڑوسی اور ساتھیوں کے نام لکھ دیے ...
اب پروفیسر نے اس میں سے کوئی بھی کم پسند والے 5 نام مٹانے کے لیے کہا ...
لڑکی نے اپنے دوستوں کے نام مٹا دیے ..
پروفیسر نے اور 5 نام مٹانے کے لیے کہا ...
لڑکی نے تھوڑا سوچ کر اپنے پڑوسيو کے نام مٹا دیے ...
اب پروفیسر نے اور 10 نام مٹانے کے لیے کہا ...
لڑکی نے اپنے سگے رشتہ داروں کے نام مٹا دیے ...
اب بورڈ پر صرف 4 نام بچے تھے جو اس کے ممي- پاپا، شوہر اور بچے کا نام تھا ..
اب پروفیسر نے کہا اس میں سے اور 2 نام مٹا دو ...لڑکی کشمکش میں پڑ گئی بہت سوچنے کے بعد بہت دکھی ہوتے ہوئے اس نے اپنے ممي- پاپا کا نام مٹا دیا ...
تمام لوگ دنگ رہ گئے لیکن پرسکون تھے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ یہ کھیل صرف وہ لڑکی ہی نہیں کھیل رہی تھی بلکی ان کے دماغ میں بھی یہی سب چل رہا تھا.
اب صرف 2 ہی نام باقی تھے ..... شوہر اور بیٹے کا ...
پروفیسر نے کہا اور ایک نام مٹا دو ...
لڑکی اب سہمی سی رہ گئی ........ بہت سوچنے کے بعد روتے ہوئے اپنے بیٹے کا نام کاٹ دیا ...
پروفیسر نے اس لڑکی سے کہا تم اپنی جگہ پر جا کر بیٹھ جاؤ ... اور سب کی طرف غور سے دیکھا ..... اور پوچھا: کیا کوئی بتا سکتا ہےکہ ایسا کیوں ہوا کہ صرف شوہر کا ہی نام بورڈ پر رہ گیا.
سب خاموش رہے .
پھر پروفیسر نے اسی لڑکی سے پوچھا کہ اسکی کیا وجہ ھے؟
اس نے جواب دیا کہ میرا شوہر ہی مجھے میرے ماں باپ، بہن بھائی، حتا کے اپنے بیٹے سے بھی زیادہ عزیز ھے. وہ میرے ھر دکھ سکھ کا ساتھی ھے، میں اس ھر وہ بات شیئر کر سکتی ھوں جو میں اپنے بیٹے یا کسی سے بھی شیئر نہیں کر سکتی،
میں اپنی زندگی سے اپنا نام مٹا سکتی ھوں مگر اپنے شوہر کا نام کبھی نہیں مٹا سکتی.


کشمیری مجاہد کا آخری پیغام

#کشمیری_مجاہدکاآخری_پیغام
گھر کی چھوٹی سی چاردیواری کے اس پار کوئی چہل پہل ہو رہی تھی سب لوگ دم سادھے جاگ رہے تھے رات کے گیارہ بج کر 32 منٹ پہ بنافشے کے گھر کے صحن میں کوئی پتھر آ کر گھرا تھا
اسکی ماں جائے نماز سنبھالے بیٹھی تھی بابا صبح ہی کہیں روانہ ہو گئے تھے
"یا اللہ خیر"
اس کا دل دہل کر رہ گیا
پچھلے چار دنوں سے وہ. مکمل طور پہ گھروں میں بند تھے انتہائی ضرورت کی اشیاء کے لیے بھی باہر نہ جا سکتے تھے
یہ مقبوضہ کشمیر کا ایک قصبہ تھا اور بنافشے کے بابا ایک مقامی کالج میں پروفیسر تھے
لیکن . اس وقت وہ ماں بیٹی دونوں گھر میں اکیلی تھیں
"یا اللہ"
کچھ دیر بعد دوسرا کنکر پھینکا گیا
اس نے اپنے دونوں ہاتھوں سے اپنے سینے میں موجود یہ گوشت کا لوتھڑا قابو کرنے کی کوشش کی
ساتھ ہی بنا آواز کے چلتی دروازے کی جانب آئی ماں ابھی تک نماز میں سجدے کی حالت میں تھی
اس نے لوہے کا. بیلچہ نما اوزار اٹھا لیا جو سردیوں میں برف ہٹانے کے کام آتا تھا اور گرمیوں میں یونہی دیوار پہ لٹکا رہتا
(میں مر جاوں گی لیکن ان درندوں کو بھی زندہ نہیں چھوڑوں گی)
اس نے خود سے عہد کیا
"بنافشے"
کسی نے دبی آواز میں اسکا نام. پکارا
" رحیم¿"
اسکے لبوں سے بے اختیار پھسلا
"دروازہ کھولو"
دبی آواز میں حکم صادر کیا گیا
چند پل میں دروازہ کھل. کر. بند ہو چکا تھا اور رحیم اور بنافشے چاند کی مدھم روشنی میں برآمدے کی چھت تلے کھڑے تھے اندر جلتے چراغ کی ہلکی سی لو بھی باہر کا اندھیرا مٹانے میں ناکام تھی
"کیا ہوا تم ڈر گئی تھیں" اکیس سالہ. رحیم. کے تفکر زدہ. چہرے پہ. حیرت بھری مسکان دوڑ گئی
بنافشے بہت ڈری ہوئی لگ رہی تھی
ورنہ وہ تو شیر جیسا مزاج رکھتی تھی
ڈر اسکی گھٹی میں نہ تھا
مگر اب حالات ویسے نہ رہے تھے
"نن نہیں وہ بابا بھی گھر نہیں تھے تو اس لیے" وہ وضاحت بھی دے پائی
" ہاں صبح سنا تھا کہ وہ نکل گئے ہیں"
رحیم کو بھی اطلاع تھی
"کہاں گئے ہوں گے¿"
بنافشے لاعلم. تھی اسی لیے رحیم سے پوچھا وہ دونوں برآمدے کی سیڑھیوں پہ ایک فٹ پہ فاصلے پہ بیٹھ چکے تھے
"مرکز گئے ہوں گے"
رحیم نے ٹھنڈے لہجے میں جواب دیا
" تم تو یہی ہو نا"
پتہ. نہیں اس نے پوچھا تھا یا تسلی کرنی. چاہی
"نہیں میں بھی ابھی نکل رہا ہوں "
وہ اسے آخری. دفعہ. دیکھنے کے لیے آیا تھا
"کیا مطلب کیا تم. بھی جا رہے ہو¿"
یہ. بات حیران. ہونے والی. نہیں تھی مگر پھر بھی وہ حیران ہوئی بابا کے جانے کے بعد سے وہ صبح سے خود کو تسلیاں دے رہی تھی کہ کوئی بات نہیں بابا نہیں تو رحیم تو ہے نا وہ. کسی بری صورتحال میں انکی مدد کو ضرور پہنچے گا
"ہاں میں بھی جا رہا ہوں،، یہاں رکنے کا بھی تو فائدہ نہی"
وہ مایوسی سے سر جھٹک کر. بولا
"تو سید صاحب کے گھر میں کون. ہو گا"
رحیم. چند دوسرے مقامی. مجاہدین کے ساتھ سید صاحب کی. حفاظت پہ مامور دستے میں تھا اور وہ لوگ پچھلے کئ دنوں سے انکے گھر کے آس پاس ہی تھے تاکہ بوقت ضرورت موقع پہ پہنچ سکیں
" ہاں اب وہاں ضرورت نہیں ہے زیادہ لوگوں کی،،، یہ مردود انھیں گھر سے نکلنے نہیں دیں گے،،، پہلے ہمیں شک تھا کہ کہیں انھیں گرفتار نہ کر لیا جائے لیکن اب انکے گھر کے آگے ڈیڑھ دو سو سے زیادہ نفری کھڑی ہے اور وہ لوگ قریبی چوکی پہ اپنا سامان بھی لے آئے ہیں،، تو امید یہی ہے کہ انھیں ابھی گھر پر ہی نظر بند رکھا جائے گا"
اسکی آواز میں تھکاوٹ اور مایوسی تھی
" تو اب تم بھی چلے جاو گے¿
نا چاہتے ہوئے بھی آنسو اسکی آنکھوں میں جگمگانے لگے "
" ہاں ظاہری بات ہے یہاں بیٹھے رہنے کا کوئی فائدہ تو نہیں،، چند لڑکے ہیں یہاں ضرورت پڑنے پہ وہ پیغام پہنچا دیں گے"
" لیکن فون انٹرنیٹ تو بند ہے" بیرونی دنیا سے رابطہ کا کوئی زریعہ نہ تھا لینڈ لائن سے بھی شاذو نادر ہی کوئی کال. مل رہی تھی
" "ہاں اللہ کوئی نا کوئی بندو بست کر دے گا"
مطلب انکے پاس کوئی متبادل طریقہ تھا
وہ دانستہ اسے دیکھنے سے گریز کر رہا تھا
گلابی رنگت میں فکر کی زردیاں کھنڈی تھیں یہ چہرہ کبھی جدوجہد آزادی کی لگن سے چمکتا تھا اور رحیم اسے دیکھ کر سرشار ہو جاتا تھا آج اس جنت نظیر وادی کا ہر بچہ بچہ فکر مند تھا آنے والی رات پچھلی راتوں سے زیادہ سیاہ ہونے والی تھی یہ بات وہ جانتے تھے
"رحیم کیا ہم اسی طرح ختم ہوتے جائیں گے،، ہماری نسلیں یونہی تنہا لڑتے لڑتے دم. توڑ دیں گی"
رحیم. نے نگاہ کا زاویہ موڑ کر اسے دیکھا وہ اسے ہی دیکھ رہی تھی
رحیم نے مسکرانے کی کوشش کی مگر ناکام رہا
پچھلے چار دنوں میں ان گنت لوگ دفنائے جا چکے تھے اب تو جنازوں کا جلحساب بھی نہ لگایا جا رہا تھا
آزادی کی اس جدوجہد. کو روزانہ سیروں خون پہنچایا جا رہا تھا
"نہیں پگلی آج سے کشمیر کو آئینی طور پہ بھارت کا حصہ بنا دیا گیا،، اگلے چند مہینوں یا زیادہ سے زیادہ سالوں میں یہاں سہولیات اور رزق اس قدر وافر پہنچایا جائے گا کہ ہماری اگلی نسلیں آرام. پرست ہو جائیں گی پھر انھیں آزادی سے زیادہ زندگی سے پیار ہو گا،، وہ ہر قیمت پہ زندہ رہنا چا



اللہ نے مرد کی پسلی سے عورت کو پیدا کیا

‏مرد کی پسلی سے عورت کو بنا کے اللہ نے مرد کو اپنی اس حکمت کااشارہ دیا کہ میں نے عورت کی تخلیق فرشتوں کی لائی مٹی سے نھیں کی,میں نے اسے تمھارے جسم کے حصے سے اس لیے نکالا کہ عورت کا تقدس اورپردہ قائم رہے,فرشتوں کوبھی خبرنہ ہونے پائے کہ زمین کی لائی ہوئی کس مٹی سے عورت کی تخلیق ہوئی‏ یعنی عورت کے تقدس کی حد تو دیکھیں کہ فرشتوں سے بھی اسکی بناوٹ کا پردہ لازمی قرار دیا گیا ۔ اور پہلی عورت اسی مرد کی پسلی سے نکلی جس کی وہ منکوحہ کہلائی ۔ اب بات آتی پسلی کی کہ عورت پسلی سے ہی کیوں نکلی کیا ٹیڑھا پن وہاں سے ملا ؟ نہیں یہاں بھی حکمت سے خالی بات نہیں انسانی جسم میں‏ دل اور بہت سے نازک پارٹس پسلی کے پیچھے چھپے ہوئے ہیں یعنی پسلی ایک ڈھال ہے ان نازک پارٹس کے لیے ۔ تو اللہ پاک نے عورت کو پسلی سے نکال کے یہ نہیں بتایا کہ عورت میں ٹیڑھا پن ہے بلکہ اس نے عورت کی پسلی سے تخلیق کر کے یہ بات سمجھا دی کہ عورت وقت پڑنے پہ ڈھال بھی بن سکتی ہے...


Wednesday, October 30, 2019

اپریل فول کی درد ناک حقیقت

اپریل فول کی درد ناک حقیقت

جب عیسائی افواج نے اسپین کو فتح کیا تو اس وقت اسپین کی زمیں پر مسلمانوں کا اتنا خون بہا یا گیا کہ فاتح فوجکے گھوڑے جب گلیوں سے گزرتے تھے تو ان کی ٹانگیں گھٹنوں تک مسلمانوں کے خون میں ڈوبی ہوتے تھیں جب قابض افواج کو یقین ہوگیا کہ اب اسپین میں کوئی بھی مسلمان زندہ نہیں بچا ہے تو انہوں نے گرفتار مسلمان فرما روا کو یہ موقع دیا کہ وہ اپنے خاندان کےساتھ واپس مراکش چلا جائے جہاں سے اسکے آباؤ اجداد آئے تھے ،قابض افواج غرناطہ سے کوئی بیس کلومیٹر دور ایک پہاڑی پر اسے چھوڑ کر واپس چلی گئی جب عیسائی افواج مسلمان حکمرانوں کو اپنے ملک سے نکال چکیں تو حکومتی جاسوس گلی گلی گھومتے رہے کہ کوئی مسلمان نظر آئے تو اسے شہید کر دیا جائے ، جو مسلمان زندہ بچ گئے وہ اپنے علاقے چھوڑ کر دوسرے علاقوں میں جا بسے اور وہاں جا کر اپنے گلوں میں صلیبیں ڈال لیں اور عیسائی نام رکھ لئے، اب بظاہر اسپین میں کوئی مسلمان نظر نہیں آرہا تھا مگر اب بھی عیسائیوں کو یقین تھا کہ سارے مسلمان قتل نہیں ہوئے کچھ چھپ کر اور اپنی شناخت چھپا کر زندہ ہیں اب مسلمانوں کو باہر نکالنے کی ترکیبیں سوچی جانے لگیں اور پھر ایک منصوبہ بنایا گیا ۔ پورے ملک میں اعلان ہوا کہ یکم اپریل کو تمام مسلمان غرناطہ میں اکٹھے ہوجائیں تاکہ انہیں انکے ممالک بھیج دیا جائے جہاں وہ جانا چاہیں۔ اب چونکہ ملک میں امن قائم ہوچکا تھا اور مسلمانوں کو خود ظاہر ہونے میں کوئی خوف محسوس نہ ہوا ، مارچ کے پورے مہینے اعلانات ہوتے رہے ، الحمراء کے نزدیک بڑے بڑے میدانوں میں خیمے نصب کردیئے گئے جہاز آکر بندرگاہ پر لنگرانداز ہوتے رہے ، مسلمانوں کو ہر طریقے سے یقین دلایا گیا کہ انہیں کچھ نہیں کہا جائے گا جب مسلمانوں کو یقین ہوگیا کہ اب ہمارے ساتھ کچھ نہیں ہوگا تو وہ سب غرناطہ میں اکٹھے ہونا شروع ہوگئے اسی طرح حکومت نے تمام مسلمانوں کو ایک جگہ اکٹھا کرلیا اور انکی بڑی خاطر مدارت کی۔ یہ کوئی پانچ سو برس پہلے یکم اپریل کا دن تھا جب تمام مسلمانوں کو بحری جہاز میں بٹھا یا گیامسلمانوں کو اپنا وطن چھوڑتے ہوئے تکلیف ہورہی تھی مگر اطمینان تھا کہ چلو جان تو بچ جائے گی جان بچھی تو لاکھوں پاے، دوسری طرف عیسائی حکمران اپنے محلات میں جشن منانے لگے ،جرنیلوں نے مسلمانوں کو الوداع کیا اور جہاز وہاں سے چلے دیئے ، ان مسلمانوں میں بوڑھے، جوان ، خواتین ، بچے اور کئی ایک مریض بھی تھے جب جہاز سمندر کے عین وسط میں پہنچے تو منصوبہ بندی کے تحت انہیں گہرے پانی میں ڈبو دیا گیا اور یوں وہ تمام مسلمان سمندر میں ابدی نیند سو گئے۔ اس کے بعد اسپین میں خوب جشن منایا گیا کہ ہم نے کس طرح اپنے دشمنوں کو بیوقوف بنایا۔ پھر یہ دن اسپین کی سرحدوں سے نکل کر پورے یورپ میں فتح کا عظیم دن بن گیا اور اسے انگریزی میں First April Fool کا نام دیدیا گیا یعنی یکم اپریل کے بیوقوف ۔آج بھی عیسائی دنیا اس دن کی یاد بڑے اہتمام سے منائی جاتی ہے اور لوگوں کو جھوٹ بول کر بیوقوف بنایا جاتا ہے۔ اس رسم کے درج ذیل نقصانات ہیں

1.۔ دشمنوں کی خوشی میں شرکت کرنا
2.۔ نفاق میں ڈوب جاتا
3.۔ جھوٹ بولنا اور ہلاکت پانا
4.۔ اللہ کی ناراضگی پانا
5.۔ مسلمان بہن بھائیوں کی تباہی و بربادی کی خوشی منانا
6.۔ مسلمان بہن بھائیوں کو مصیبت میں ڈالنا
7.۔ دنیا و آخرت میں تباہی ہی تباہی ہے۔

اللہ آپ کو پڑھنے کی اور مجھے لکھنے کا جزا دیں آمین، —
کارکن اینی صفیں باندھ لیں پوسٹ ملتے ھی شئیر کر دیا کریں آپ کا Share  ہمارا پیغام لوگوں تک پہچانے میں بہت کاریگر ثابت ہوتی ہے.

مجھ سے کون اپنی لڑکی کا نکاح کر سکتا ہے !

حضرت شاہ شجاع کرمانی رحمتہ الله علیہ

شاہ کرمان نے آپ کی صاحبزادی کے ساتھ نکاح کرنے کا پیغام بھیجا تو آپ نے تین یوم کی مہلت طلب کی -

اور تین دنوں میں مسجد کے اطراف اس نیت سے چکر کاٹتے رہے کہ کوئی درویش کامل مل جائے تو میں اس سے اپنی  صاحبزادی کا نکاح کر دوں -

چنانچہ  تیسرے دن ایک بزرگ خلوص قلب کے ساتھ مسجد میں نماز ادا کرتے ہوئے مل گئے - تو آپ نے دریافت کیا کہ کیا تم نکاح کے خواہشمند ہو ؟

انھوں نے کہا کہ میں تو بہت مفلوک الحال ہوں -
مجھ سے کون اپنی لڑکی کا نکاح کر سکتا ہے -

لیکن آپ نے فرمایا کہ میں اپنی لڑکی تمہارے نکاح میں دیتا ہوں چنانچہ باہمی رضامندی سے نکاح ہوگیا -

اور صاحبزادی جب اپنے شوہر کے گھر پہنچیں تو دیکھا کہ ایک کونے میں پانی اور ایک ٹکڑا سوکھی ہوئے روٹی کا رکھا ہوا ہے

اور جب شوہر سے پوچھا کہ یہ کیا ہے تو انھوں نے کہا آدھا پانی اور آدھی روٹی کل کھا لی تھی اور آدھی آج کے لیے بچا رکھی تھی -

یہ سن کر جب بیوی نے اپنے والدین کے ہاں جانے کی خواھش کی تو شوھر نے کہا کہ میں تو پہلے ہی جانتا تھا کہ شاہی خاندان کی لڑکی  فقیر کے ساتھ گزارا نہیں کر سکتی -

لیکن بیوی نے جواب دیا کے یہ بات نہیں بلکہ میں تو اپنے والد کے ساتھ شکایت کرنا چاہتی ہوں کہ انھوں نے مجھ سے دعوه کیا تھا کہ میں تیرا نکاح  متقی سے کر رہا ہوں مگر اب مجھے معلوم ہوا کہ میرا نکاح تو ایسے شخص سے کر دیا گیا ہے جو خدا پر قانع نہیں اور دوسرے دن کا کھانا بچا کے رکھتا ہے

جو توکل کے قطعاً منافی ہے  لہٰذا اس گھر میں یا تو میں رہونگی یا روٹی رہے گی -

از حضرت شیخ فریدالدین عطار تذکرۃ الاولیاء صفحہ ١٩٥


محافظ


ساری بات ہی یہی ہے کہ  مختصراً
دیکھیں دشمن 3 چیزیں ہمارے دل و دماغ سے ختم کرنا چاہتا ہے اور اس کے لیے وہ اربوں ڈالر خرچ کر رہا ہے۔ کیوں اسے پتا ہے کہ یہ 3 چیزیں پاکستانیوں کے دلوں سے نکلیں گی تب ہی ہم پاکستان کو آسانی سے توڑ سکیں گے،یا پاکستانیوں کو برباد کر سکیں گے۔۔ (لیبیا، شام، عراق، فلسطین کی طرح)
1:- نظریہ پاکستان ہمارے دماغ سے نکالنا چاہتا ہے۔۔خاص کر نئی جنریشن کے دماغ سے۔ اور قوم پرستی بھرنا چاہتا ہے۔کیوں کہ یہی نظریہ ہمیں گلگت، کشمیر سے گوادر تک جوڑے ہوئے ہے۔
2:- افواج پاکستان سے دور کرنا چاہتا ہے۔ تاکہ یہ اپنی ہی فوج کے خلاف ہو جائیں تو پھر ان کو تباہ کرنا بہت آسان ہو جائے گا۔
3:- اتحاد ختم کرنا چاہتا ہے۔ توڑنا چاہتا ہے۔ صوبائیت لسانیت فرقہ پرستی اور قوم پرستی کو فروغ دینا چاہتا ہے۔ تاکہ یہ قوم آپس میں لڑ پڑے ریزہ ریزہ ہو جائے ایک دوسرے سے نفرت کرے تو پھر انہیں تباہ کرنا آسان تر ہو جائے گا۔۔۔
اور وہ مایوسی میں مبتلا کرنا چاہتا ہے پاکستانی قوم کو۔
یہ 3 کام وہ کچھ قوم پرستوں، کچھ سیاستدانوں اور کچھ ملاوں، کچھ صحافیوں کو خرید کر ان کے ذریعے کر کر رہا ہے۔ اور باقی سب سے زیادہ کام وہ سوشل میڈیا کے ذریعہ کر رہا ہے۔۔۔
ہم نے دشمن کے ان تینوں ٹارگٹس کے خلاف کام کرنا ہے۔
وہ۔نفرتیں بڑھانا چاہتا ہے ہمارے درمیان، ہم نے جواب میں محبتیں بانٹنی ہیں۔سارے گلے شکوے اختلافات بھلا کر ہر پاکستانی کو گلے لگانا ہے۔ ایک دوسرے کی غلط فہمیاں دور کرنی ہیں جو دشمن کی پیدا کردا ہیں۔
وہ نظریہ پاکستان ختم کرنا چاہتا ہے۔ہم نے جواب میں ہر در و دیوار پر نظریہ پاکستان کا پرچار کرنا ہے۔ سکولوں کالجوں میں نظریہ پاکستان پر باقاعدہ لیکچر دینے ہیں، ہر چھوٹی بڑی محفل میں نظریہ پاکستان اجاگر کرتے رہنا ہے۔کیوں صرف اسی نظریہ نے ہمیں گلگت سے لے کر گوارد تک آپس میں بھائیوں کی طرح جوڑ رکھا ہے۔
وہ جھوٹے پروپیگنڈے اور الزامات سے ہمارے دلوں سے افواج پاکستان کی محبت نکالنے کی کوشش میں ہے۔ ہم نے ہر جگہ پاک فوج سے یکجہتی اور محبت کا اظہار کرنا ہے۔کیوں کہ ہر مشکل وقت میں اللہ کے فضل سے پاک فوج نے ہی پاکستانیوں کی مدد کی اور حفاظت کی۔ دشمن ہماری گلی محلوں میں پہنچ چکا تھا جگہ جگہ دھماکے ہوتے تھے۔ ان فوجی جوانوں نے اپنے خون سے وہ آگ بجھائی اور آج ہم سکھ کا سانس لے رہے ہیں۔ اس کے علاوہ بھی قدم قدم پر فوج کے احسانات ہیں ہم پر۔
اور مایوسی گناہ ہے۔ ہم نے عوام کو مایوس نہیں ہونے دینا۔ ہر بری خبر کو چھپانا ہے۔ اور اچھی خبر کو بڑھا کر بیان کرنا ہے۔
رحمت خزانوں میں دیر ضرور ہے لیکن اندھیر نہیں ۔کبھی بھی رحمت کے دروازے کھل سکتے ہیں ہم پر۔۔
اللہ ہم سب کا پاک فوج کا اور پاکستان کا حامی و ناصر ہو ۔۔آمین!
اسلام اور پاکستان ہمیشہ زندہ باد۔


چھوٹی چھوٹی خوشیاں

* چند دن قبل میرے ایک جاننے والے کا ٹچ موبائل سواریوں والی گاڑی میں رہ گیا. انہوں نے کسی سے موبائل لے کر اپنے نمبر پر کال کی تو ڈرائیور نے کال ریسیو کی اور موبائل ایک دکان پر رکھوا دیا. انہوں نے جا کر وہاں سے لے لیا.

* میرا اپنا موبائل ایک دفعہ گم ہو گیا تھا. دوسرے نمبر سے کال کی تو ایک بندے نے کال ریسیو کی اور جگہ بتائی. وہاں جا کر ان سے موبائل وصول کر لیا.

* تقریباً بیس سال پہلے کی بات ہے کہ بارہ تیرہ سال کے تین بچوں کو کھیلتے ہوئے ایک انگوٹھی ملی. گھر جا کر دکھائی تو پتہ چلا کہ سونے کی اور اچھی بھلی قیمت کی ہے. والدین نے آس پاس کے گھروں میں بات کی تو مالک کا پتہ چل گیا. اسے انگوٹھی لوٹا دی. ( وہ بچے میں اور میرے دو کزن تھے. )

* تیرہ سال قبل کی بات ہے کہ میرا کمپیوٹر کا کچھ سامان رکشے میں رہ گیا. رکشے والے کو گھر نہ مل سکا تو اس نے وہ سامان اس دکان پر پہنچا دیا جس دکان سے میں نے کمپیوٹر اور سامان رکشے پر رکھا تھا.

* پچھلے سال میں کالج کے طلباء کے ساتھ ٹور پر اسلام آباد گیا. وہاں ایک مسجد میں نماز پڑھی تو ہمارے ایک ساتھی کی تقریباً چالیس ہزار کی قیمتی گھڑی وضو کرتے ہوئے وہاں رہ گئی. کافی وقت کے بعد اسے یاد آیا. ہم فورًا واپس گئے. ادھر کسی نے گھڑی اٹھا کر امام صاحب کو دے دی تھی. امام صاحب نے ہم سے نشانی پوچھ کر گھڑی ہمارے حوالے کر دی.

* ایک دفعہ میرا لیپ ٹاپ والا بیگ ایک دکان پر رہ گیا. تقریباً پچپن ہزار کا لیپ ٹاپ تھا. میں واپس گیا تو دکاندار نے بیگ سنبھال کر رکھا ہوا تھا.

* میں ایک دفعہ صبح صبح اپنی گاڑی مکینک کے پاس چھوڑ آیا. جب دوپہر جو گاڑی واپس لینے گیا تو اس نے صرف تین سو روپے مانگے. حالانکہ کام کی نوعیت دیکھتے ہوئے میرا اندازہ تھا کہ کم از کم تین چار ہزار کا بل بنے گا. جب میں نے حیرانگی سے پوچھا تو اس نے بتایا کہ معمولی سا نقص تھا اور صبح ہی تھوڑی دیر میں دور ہو گیا تھا. میں اس کی امانتداری سے بڑا متاثر ہوا کہ اگر وہ چاہتا تو دھوکہ دے کر تین چار ہزار روپے لے سکتا تھا.

* رات گیارہ بجے کے لگ بھگ بائیک اور ڈیمپر آمنے سامنے ٹکرا گئے. بائیک والا شدید زخمی ہو گیا. لوگوں نے فوراً اٹھایا اور ہسپتال لے گئے. بندے کی جان بچ گئی. ڈاکٹرز نے بتایا کہ اگر مریض کو لانے میں مزید کچھ دیر ہو جاتی اور خون مزید نکل جاتا تو مریض نہ بچ پاتا. یہ لورہ چوک ہری پور کا واقعہ ہے.

* دو بائیکس آمنے سامنے ٹکرا گئیں اور چار بندے شدید زخمی ہو گئے. لوگ انہیں فوراً اٹھا کر ہسپتال لے گئے. ان پر پاس سے خرچہ بھی کیا اور خون کی ضرورت پڑی تو خون بھی دیا. چاروں کی جان بچ گئی.

* ایک بندہ حادثے میں شدید زخمی ہو گیا. لوگ اٹھا کر ہسپتال لے گئے مگر انہوں نے دیکھنے سے انکار کر دیا. وہ لوگ اسے دوسرے شہر ایبٹ آباد لے گئے. پاس سے اچھا بھلا خرچہ بھی کیا، کافی سارا وقت بھی دیا اور اپنا خون تک دیا. حالانکہ ان میں سے کوئی بھی زخمی کو نہیں جانتا تھا.

* آخری رمضان کی بات ہے. گلگت سے اسلام آباد جاتی ہوئی کار کا سرائے صالح ہری پور میں حادثہ ہو گیا. گاڑی بالکل ٹوٹ گئی مگر اللہ نے سواریوں کو بچا لیا. مقامی سات آٹھ افراد اس وقت تک ان کی مدد میں لگے رہے، جب تک ان کے سارے معاملات حل نہیں ہو گئے.

* میرے ایک جاننے والے کا اپنی غلطی سے حادثہ ہو گیا. دو دن بعد ہوش آیا. ڈاکٹروں نے بتایا کہ آپ کو کچھ لوگ بروقت ہسپتال لے آئے تھے اور آپ کے علاج کے لیے بیس ہزار روپے بھی دے گئے. میرے جاننے والے کی بعد میں اپنے ان محسنوں سے کبھی بھی ملاقات تک نہیں ہوئی.

* بائیک گاڑی سے ٹکرا گئی. گاڑی والے کی کوئی غلطی بھی بھی نہیں تھی. مگر اس نے اپنی قیمتی گاڑی ادھر ہی چھوڑی اور بائیک والے کو دوسری گاڑی میں ڈال کر ہسپتال لے گیا. زخمی بہت سیریس تھا. مگر بروقت طبی امداد ملنے سے اس کی جان بچ گئی. اسے تقریباً دس دن بعد ہوش آیا. اس دوران گاڑی والے بندے مسلسل اس کے ساتھ رہے اور اس کا لاکھوں روپے کا خرچہ بھی برداشت کیا. حالانکہ ان بیچاروں کی کسی قسم کی کوئی غلطی نہیں تھی. اور نہ ہی کسی نے انہیں ایسا کرنے پر مجبور کیا تھا. انہوں نے یہ سب محض انسانی ہمدردی سے کیا.

یقین مانیں کہ یہ ان ہزاروں میں سے صرف چند واقعات ہیں جن سے میں خود ذاتی طور پر واقف ہوں. ایسے سینکڑوں واقعات پاکستان میں روزانہ رونما ہوتے ہیں مگر ان کو کبھی بھی نمایاں نہیں کیا جاتا. ان کی کوئی کوریج بھی نہیں ہوتی. اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم اور ہمارا میڈیا صرف منفی کو دیکھنے، سننے اور بولنے کے اتنے عادی ہو چکے ہیں کہ ہمیں مثبت میں بھی منفی نظر آنے لگتا ہے.

ہمارے میڈیا نے پاکستان کی عوام کے صرف منفی پہلو دکھا دکھا کر لوگوں کے دل و دماغ میں منفیت بھر دی ہے، لہذا ہم ہر چیز کو اسی منفیت کی عینک سے دیکھتے ہیں اور دنیا بھی یہی سمجھتی ہے کہ یہ ہر خوبی سے محروم قوم ہے. حالانکہ جتنا دوسروں کی مدد کا جذبہ اس قوم میں ہے شاید ہی کسی دوسری قوم میں ہو. بس انہیں شعور دلانے، حوصلہ افزائی کرنے اور صحیح رخ پر چلانے کی ضرورت ہے.

مجھے معلوم ہے کہ بعض اوقات اس کے برعکس واقعات بھی وقوع پذیر ہوتے ہیں مگر میں ان کا ذکر نہیں کر رہا. کیونکہ ان کا دن رات اور ہر وقت ذکر کرنے کے لیے ہمارا میڈیا اور دیگر بہت سارے حضرات پہلے سے ہی موجود ہیں.




وادی ء نلتر

وادیء نلتر
آل ان ون
ایک کمپلیٹ پیکج
یہ وادی گلگت بلتستان کےشمال مغربی حصے پر مشتمل ہےجس میں نلتر پائین، بِژگیری، نلتر بالا اور بنگلہ کے خوبصورت گاؤں، مقامات ہیں ۔ یہ علاقہ چھدرے جنگلات، برفیلی چوٹیوں، تندوتیز شور مچاتےچشموں اور پانچ دلکش جھیلوں کی سر زمین ہے۔  یہاں کی جنگلی حیات کی خصوصیت یہاں کے snow leopard اور مارخور ہیں ۔   یہاں پر گلگت بلتستان کی سب سے بڑی چئیر لفٹ اور بہترین ski slope موجود ہے جہاں 2016 میں ایک انٹرنیشنل اسکیٹنگ کپ قراقرم الپائن سکای کپ کے نام سے منعقد ہو چکا ہے۔ یہاں کی ski slope مالم جبہ کی سلوپ کے بعد پاکستان میں دوسرے  نمبر پر ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ فار فلنگ ایریا ہونے کے باوجود یہاں کا لٹریسی ریٹ 94% ہے۔
سطح سمندر سے تقریباً 15348 ft بلند نلتر ویلی میں ست رنگی جھیل، پری جھیل، فیروزہ جھیل، بلیو لیک اور برو لیک اپنے منفرد حسن کے ساتھ جلوہ گر ہیں اور ہر سال اپنے سحر سے ہزاروں قومی اور بین الاقوامی ٹؤرسٹس کو اپنی اور  کھینچتی دکھائی پڑتی ہیں ۔ شانی پیک کا گلیشئر جس کو khal peak بھی کہتے ہیں Kotty ایریا میں برو لیک بناتا ہے اور اس سے پھر دوسری لیکس معرضِ وجود میں آتی ہیں ۔ اس کے علاوہ Palo peak اور twin peaks یہاں کی بلند ترین چوٹیاں ہیں ۔ یہاں پر وخی،  گجر اور منگول نسل کے لوگ آباد ہیں جو کہ شنا اور گجری زبان بولتے ہیں ۔ ان لوگوں کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے گوجرانوالہ، سوہاواہ اور لاہور کے گجروں کے مقابلہ میں  اپنے گجری کلچر اور زبان کو بہتر انداز میں محفوظ رکھا ہوا ہے۔  گلگت شہر سے شاہراہ قراقرم پر نومل گاؤں اور پھر دشوار گزار جیپ ٹریک پر اکثروبیشتر خطرناک لینڈ سلائیڈنگ ہوتی رہتی ہے جسے ہم نے بھی بونگ سلائی پل کے نزدیک ہوتے دیکھا اس لئے خراب موسم میں  مقامی لوگ اس ٹریک پر سفر کرنے سے منع کر دیتے ہیں ۔لیکن یہ تمام خطرات فطری حسن کے دیوانوں کا راستہ  نہیں روک پاتے۔


پاکستان کا ایک گمنام ہیرو

پاکستان کا ایک گمنام ہیرو

یہ 1984ء کی بات ہے کہ سردار نصیر ترین امریکہ سے پاکستان پہنچے۔ پشین،بلوچستان میں جنم لینے والے یہ بلوچ 1959ء میں امریکہ چلے گئے تھے۔ وہاں انہوں نے فلم سازی کا کورس کیا اور دستاویزی فلمیں بنانے لگے۔ 1984ء میں انہوں نے فیصلہ کیا کہ بلوچستان پہ دستاویزی فلم بنائی جائے۔ یوں وہ زرخیز بلوچ تہذیب وثقافت کو امریکہ ویورپ میں متعارف کرانا چاہتے تھے۔ اس زمانے میں پاکستان مارشل لا کی گرفت میں تھا۔ چنانچہ فلم بنانے کے لیے فوجی حکومت کی اجازت درکار تھی۔

 سردار نصیر نے درخواست دی مگر کوئی سرکاری افسر اسے داب کر بیٹھ گیا۔مجبوراً سردار صاحب نے بلوچستانی حکومت سے رجوع کیا۔ وہاں سے جواب ملا کہ پہلے بلوچستانی جنگلی حیات پہ دستاویزی فلم بنائو۔ وہ عمدہ ہوئی، تو دیگر فلمیں بھی بن سکیں گی۔ سردار نصیر نے ہامی بھرلی ۔ بلوچستانی حکومت نے صوبے کی جنگلی حیات سے متعلق کئی پمفلٹ اور تصاویر پاکستانی نژاد امریکی فلم ساز کو دیں۔ لیکن مختلف علاقوں کا دورہ کرنے پر انہیں احساس ہوا کہ بیشتر بلوچ چرند پرند سرکاری فائلوں ہی میں زندہ ہیں…حقیقتاً حد سے زیادہ شکار اور جنگلی رقبے میں کمی کے باعث وہ اپنے علاقوں میں نایاب ہوچکے۔

سردار نصیر کو خوش قسمتی سے بلوچی ضلع ،قلعہ سیف اللہ میں واقع سلسلہ ہائے کوہ توبہ کاکڑ کے تورغرپہاڑوں میں چند مارخور اور اڑیال مل گئے۔یوں وہ مناسب دستاویزی فلم بنانے میں کامیاب رہے۔ اس فلم کی تیاری کے دوران ہی سردار نصیر کو احساس ہوا کہ اگر ان قیمتی جانوروں کو تحفظ نہ دیا گیا، تو وہ جلد معدوم ہوجائیں گے۔ لہٰذا انہوں نے فیصلہ کیا کہ اس ضمن میں ٹھوس اقدامات کرنے ضروری ہیں۔

یہ واضح رہے کہ مارخور پاکستان کا قومی جانور ہے۔ یہ دنیا کا سب سے بڑا جنگلی بکرا ہے۔ 26 تا 45 انچ اونچا ، 52 تا 73 انچ لمبا اور 32 تا 110کلووزنی ہوتا ہے۔مارخور کی خصوصیت اس کے بڑے سینگ ہیں ۔ وہ نرمیں 64 انچ (5فٹ) تک لمبے ہوتے ہیں۔ مارخور کی تین اقسام ہیں: استور مارخور، بخارا مارخور اور کابلی مار خور۔ تورغرپہاڑوں میں کابلی مارخور ملتا ہے۔ یہ وہاں سلیمانی مارخور بھی کہلاتا ہے۔ یہ دیگر اقسام سے یوں ممتاز ہے کہ اس کے سینگ بالکل سیدھے ہوتے ہیں۔

اڑیال کا شمار بھی بڑی جنگلی بھیڑوں میں ہوتا ہے۔ یہ 31سے 35 انچ اونچی اور 26 انچ تک لمبی ہوتی ہے۔ اس کے لہریے دار سینگ 39انچ (سواتین فٹ) تک لمبے ہوتے ہیں۔ اڑیال کی افغانی، بلوچی، پنجابی اور لداخی اقسام پاکستان میں ملتی ہیں۔

 1985ء میں سردار نصیر نے اندازہ لگایا تھا کہ تورغر پہاڑوں پہ صرف 56مارخور اور 85اڑیال زندہ بچے ہیں۔

ان بچے کھچے قیمتی جانوروں کو محفوظ کرنے کی خاطر وہ مقامی کاکڑ قبیلے کے سربراہ ، نواب تیمور شاہ جوگیزئی سے ملے۔ نواب صاحب نے سردار نصیر کو بتایا کہ انہوں نے حکومت بلوچستان سے بارہا درخواست کی ہے کہ یہاں محافظ متعین کیے جائیں تاکہ وہ جانوروں کو غیرقانونی شکارسے بچا سکیں۔ لیکن وہ ان کی ایک نہیں سنتی۔ مایوس ہوکر سردار نصیر واپس امریکہ چلے گئے ۔ تاہم کچھ تحقیق کے بعد آشکار ہوا کہ قلعہ سیف اللہ نیم قبائلی علاقہ ہے اور وہاں حکومت زیادہ عمل دخل نہیں رکھتی۔ لہٰذا وہ جلد واپس پاکستان پہنچے اور نواب تیمور سے ملاقات کی۔ انہوں نے نواب صاحب پہ زور دیا کہ علاقے میں قبائلی محافظ متعین کیے جائیں۔

سردار نصیر کا جوش وجذبہ اور اصرار دیکھ کر آخر نواب تیمور نے ہامی بھرلی۔ یہی نہیں انہوں نے اپنے بیٹے، نواب زادہ محبوب جوگیزئی کو ان کا معاون بنادیا۔ یوں 1985ء کے اواخر میں علاقہ تورغر میں آباد مارخور اور اڑیال بچانے کی خاطر سردار نصیر نے مقامی قبائلیوں کے تعاون سے ایک غیرسرکاری تنظیم’’تورغر تحفظ منصوبہ ‘‘(Torghar Conservation Project) کی بنیاد رکھی۔ چونکہ نیت نیک تھی لہٰذا سردار نصیر کو ابتدا ہی ایک بڑی کامیابی ملی۔ ہوا یہ کہ نواب زادہ محبوب جوگیزئی نے اعلان کیا کہ آئندہ وہ مارخور یا اڑیال کا شکار نہیں کریں گے۔ اس اعلان سے دیگر قبائیلیوں کو بھی تحریک ملی کہ وہ اپنی بندوقیں گرادیں۔ ساتھ ہی علاقے میں قبائلی محافظ بھی متعین ہوگئے۔

 تورغرتحفظ منصوبے کو کامیابی ملی اور آج علاقے میں 2540 مارخور جبکہ 3145اڑیال موجود ہیں۔ دونوں شاہانہ مزاج جانوروں کی اتنی بڑی تعداد پاکستان ہی نہیں دنیا کے کسی اور خطے میں نہیں پائی جاتی۔ علاقے میں تقریباً95 محافظ ان جانوروں کی حفاظت کرتے ہیں۔ اب غیرملکی علاقے میں آتے اور لاکھوں روپے دے کر محدود تعداد میں مارخور یا اڑیال کا شکار کرتے ہیں۔

اس آمدن سے قبائلی محافظوں کو تنخواہیں ملتی اور علاقے میں ترقیاتی منصوبے انجام پاتے ہیں۔ اب علاقے کے لوگوں کو بھی احساس ہوچکا کہ جانور نہ صرف ماحول کا حصہ ہیں بلکہ وہ کسی نہ کسی طرح انسانوں کو فوائد بھی پہنچاتے ہیں۔ اسی لیے اب کوئی معدوم ہونے کے خطرے سے دوچار چرند پرند کا شکار نہیں کرتا۔ یہ سردار نصیر کا جذبہ ہمدردی ہے کہ انہوں نے امریکہ کی پرآسائش زندگی تج دی اور پاکستانی حیوانیات کو تحفظ دینے پہاڑوں پر چلے آئے۔

 افسوس کہ حکومت پاکستان نے ان کی خدمات وقربانیوں کا اعتراف نہیں کیا، تاہم انہیں غیر ممالک سے اعزاز مل چکے۔
 ہالینڈ نے انہیں آرڈر آف دی گولڈن آرک کے نائٹ ہڈ سے نوازا۔
فرانسیسی حکومت نے لاآرڈر نیشنل عطا کیا۔
جبکہ ملکہ برطانیہ کے شوہر، ڈیوک آف ایڈن برگ نے سرٹیفکیٹ آف میرٹ دیا۔
حال ہی میں انٹرنیشنل کونسل فار گیم اینڈ وائلڈ لائف کنزرویشن نے تورغرتحفظ منصوبہ کو مارخور کنزرویشن ایوارڈ سے نوازا۔
 غرض سردار نصیر ترین ان پاکستانیوں میں شامل ہیں جنہوں نے اپنے کارناموں سے عالمی سطح پہ ملک وقوم کا نام روشن کر دیا۔ وہ وطن عزیز کے ایک گمنام ہیرو ہیں  ۔۔
⚔️🇵🇰⚔️💯⚔️💚⚔️



Tuesday, October 29, 2019

بابا فرید گنج شکر رحمتہ اللہ علیہ

ﺍﯾﮏ ﺩﻓﻌﮧ حضرت ﺑﺎﺑﺎ ﻏﻼﻡ ﻓﺮﯾﺪ گنج شکر ﺭﺣﻤﺘﮧ اللہ ﻋﻠﯿﮧ ﮐﻮ ﺟﻨﮕﻞ ﻣﯿﮟ ﭘِﮭﺮﺗﮯ ﭘِﮭﺮﺗﮯ ﭘﺎﻧﯽ ﮐﯽ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﮨﻮﺋﯽ ﺍِﺗﻔﺎﻗﺎً ﻭﮨﺎﮞ ﮐُﻨﻮﺍﮞ ﻣِﻞ ﮔﯿﺎ آﭖ ﺭﺣﻤﺘﮧ ﺍللہ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﺱ ﮐﮯ ﮈﻭﻝ ﺍﻭﺭ ﺭﺳّﯽ ﮐﮯ ﻣﺘﻼﺷﯽ ﮨﻮﺋﮯ ﺗﺎﮐﮧ ﭘﺎﻧﯽ ﻧِﮑﺎﻻ ﺟﺎ ﺳﮑﮯ ﺍِﺳﯽ ﺍﺛﻨﺎﺀ ﻣﯿﮟ ﮨﺮﻥ ﺑﮭﯽ ﺍﺱ ﮐُﻨﻮﯾﮟ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺩﻭﮌﮮ ﮨﻮﺋﮯ ﭼﻠﮯ ﺁﺋﮯ ﻗﺪﺭﺕِ ﺍِﻟٰﮩﯽ ﺳﮯ ﭘﺎﻧﯽ ﮐُﻨﻮﯾﮟ ﮐﺎ ﮐﻨﺎﺭﮦ ﺗﮏ ﺁ ﮔﯿﺎ ﺟﺲ ﮐﻮ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺧﻮﺷﯽ ﺳﮯ ﭘﯽ ﮐﺮ ﭘِﮭﺮ ﺍﭘﻨﺎ ﺭﺍﺳﺘﮧ ﻟﯿﺎ ﺁﭖ ﺭﺣﻤﺘﮧ ﺍللہ ﻋﻠﯿﮧ ﯾﮧ ﻣﺎﺟﺮﺍ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﭘﺎﻧﯽ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺗﯿﺎﺭ ﮨﻮﺋﮯ ﻣﮕﺮ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﮨﯽ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﻭﮦ ﭘﺎﻧﯽ ﻧﯿﭽﮯ ﭼﻼ ﮔﯿﺎ۔ﭘِﮭﺮ ﺁﭖ ﺭﺣﻤﺘﮧ ﺍللہ ﻋﻠﯿﮧ ﻧﮯ ﮐﻤﺎﻝِ ﻋﺠﺰ ﺳﮯ ﺟﻨﺎﺏِ ﺑﺎﺭﯼ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻣﯿﮟ عرض کی ﺍﮮ ﺧﺪﺍﻭﻧﺪ ﻣﯿﺮﺍ ﻗﺪ ﻧﻔﺴﺎﻧﯿﺖ ﮐﯽ ﺷﺎﻣﺖ ﺳﮯ ﮨﺮﻧﻮﮞ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﮐﻢ ﮨُﻮﺍ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﭘﺎﻧﯽ ﻣِﻼ ﺍﻭﺭ ﻣﺠﮭﮯ ﻧﮧ ﻣِﻼ ﭘِﮭﺮ ﻏﯿﺐ ﺳﮯ ﻧِﺪﺍ ﺁﺋﯽ ﮐﮧ ﺍﮮ ﻣﺤﻤّﺪ ﻣﺴﻌﻮﺩ ﺍﻟﺪﯾﻦ ﺗﻢ ﺗﻮﮐّﻞ ﮈﻭﻝ ﺍﻭﺭ ﺭﺳّﯽ ﮐﺎ ﺭﮐﮭﺘﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﮨﺮﻥ ﺻﺮﻑ ﻣﯿﺮﮮ ﺗﻮﮐّﻞ ﭘﺮ ﺁﺋﮯ ﺗﮭﮯ۔ﺍِﺱ ﻟﯿﮯ
ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺑﮯ ﺳﺒﺐ ﭘﺎﻧﯽ ﻣِﻼ ﺁﭖ ﻧﮯ ﺍﺳﯽ ﮐﻨﻮﯾﮟ ﭘﮧ ﻧﻤﺎﺯِ ﻣﻌﮑﻮﺱ ﺍﺩﺍ ﮐﯽ ﺟﺐ ﺁﭖ ﺭﺣﻤﺘﮧ ﺍللہ ﻋﻠﯿﮧ ﮐُﻨﻮﯾﮟ ﺳﮯ ﺑﺎﮨﺮ ﺗﺸﺮﯾﻒ ﻻﺋﮯ ﺗﻮ ﺧﺎﮎ ﭘﺮ ﮨﺎﺗﮫ ﮈﺍﻝ ﮐﺮ ﺍﻓﻄﺎﺭ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﻣﻨﮧ ﻣﯿﮟ ﮈﺍﻟﯽ ﺗﻮ ﻭﮦ ﺧﺎﮎ ﮐﮯ ﺫﺭّﮮ ﺷَﮑﺮ ﮐﯽ ﻣﺎﻧﻨﺪ ﻣﯿﭩﮭﮯ ﺗﮭﮯ ﺁﭖ ﺭﺣﻤﺘﮧ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻧﮯ ﺳﻤﺠﮭﺎ ﮐﮧ ﺷﺎﯾﺪ ﺷﯿﻄﺎﻧﯽ ﺍﺛﺮ ﮐﯽ ﺑِﻨﺎ ﭘﺮ ﻧﮧ ﮨﻮ ﺍِﺱ ﻟﯿﮯ ﺁﭖ
ﺭﺣﻤﺘﮧ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻧﮯ ﻻﺣﻮﻝ ﭘﮍﮬﺎ ﭘِﮭﺮ ﺩﻭﺑﺎﺭﮦ ﺍﺳﯽ ﻣﺠﺎﮨﺪﮦ
ﻣﯿﮟ ﻣﺸﻐﻮﻝ ﮨﻮﻧﮯ ﻟﮕﮯ ﺗﻮ ﻧِﺪﺍ ﺁﺋﯽ ﮐﮧ ﺁﭖ ﮐﺎ ﯾﮧ ﻣﺠﺎﮨﺪﮦ ﻣﻨﻈﻮﺭ ﻭ ﻣﻘﺒﻮﻝ ﮨُﻮﺍ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﻟﯿﮯ ﮔَﻨﺞ ﺳﮯ ﺷَﮑﺮ ﮨﮯ ﻭﺳﻮﺳﮧ
ﺷﯿﻄﺎﻧﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺍﺳﯽ ﺭﻭﺯ ﺳﮯ ﺁﭖ ﮐﺎ ﻟﻘﺐ ﮔَﻨﺞ ﺷَﮑﺮ ﻣﺸﮩﻮﺭ ﮨُﻮﺍ

 ﺩﯾﻮﺍﻥِ ﻓﺮﯾﺪ ﺻﻔﺤﮧ 187 188

ﻧﺎﻡ ﮐﺘﺎﺏ ﺷﺮﺡ ﺩﯾﻮﺍﻥ ﻓﺮﯾﺪ ﮔﻨﺞ ﺷﮑﺮ ﺭﺣﻤﺘﮧ ﺍللہ ﻋﻠﯿﮧ
ﺍﻟﻤﻌﺮﻭﻑ ﻓﯿﻀﺎﻥ ﺍﻟﻔﺮﯾﺪ ﺭﺣﻤﺘﮧ ﺍللہ ﻋﻠﯿﮧ ﺻﻔﺤﮧ  558


نماز میں سارا ذکر ہی انسان کا ہے

نماز میں سارا ذکر انسان کا ہے ، الحمداللہ رب العالمین الرحمن الرحیم مالک یوم الدین یہ اللہ کی تعریف ہو گئی ،
  پھر ایاک نعبد و ایاک نستعین اھدنا الصراط المستقیم یہ درخواست ہو گئی انعام والے لوگوں کے راستے کی _ صراط الذین انعمت علیھم یہاں انسانوں کا ذکر آگیاہے ۔
 پہلے خدا تھااور اب کیا ذکر آگیا ؟ انسان!
  تو انعمت علیھم والے بندے ڈھونڈے جائیں کہ یہ کون انسان ہیں !
  یعنی کہ آدمیوں کی راہ ، خدا کی راہ ہے ۔

   خدا کہتا ہے کہ میرا راستہ ، ان انسانوں کا راستہ ہے جن پر میرا انعام ہوا یعنی انعمت علیھم ۔
  پھر غیر المغضوب علیھم اور وہ لوگ بھی ہیں جن پر اُس کا غضب ہوا ۔ اور اس کے بعد التحیات شروع کر دو التحیات اللہ والصلوٰت والطیبات السلام علیک ایھاالنبی ۔۔۔
   تو نماز میں اللہ کے ساتھ حضورپاکﷺ کا ذکر ہو رہا ہے ۔ وہ لوگ کہیں گے کہ نماز اللہ کی ، اور ذکر غیر اللہ کا ۔ مگر یہ غیر نہیں ہے ، بلکہ یہی نماز ہے ۔ کہ السلام علینا وعلیٰ عباد اللہ الصالحین ۔
  اور اب نماز میں عباد الصالحین ، نیک بندے بھی شامل ہو گئے ۔

    اپنا بھی احترام تیری بندگی کے ساتھ

یہ کئی بندے ہونگے جنہیں صالحین کہا جا سکتا ہے ۔
 اشھدان لا الہ اللہ واشھدان محمداً عبدہ ورسولہ

  یہاں پھر ایک بار حضورپاکﷺ نام آگیا ۔ اور یہ نماز کے اندر آیا ہے ، یعنی کہ خدا کی نماز میں انسان کا نام ۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے ؟
 الھم صل علی محمد و علی اٰل محمد ۔
 یہ اٰل محمد کیا ہے ؟ یہ بھی انسان ہیں ۔ کما صلیت علی ابراھیم وعلی اٰل ابراھیم انک حمید مجید
حضرت ابراھیمؑ انسان اور آپ کی اٰل انسان ۔
الھم بارک علی محمد و علی آل محمد کما بارکت علی ابراھیم وعلی آل ابراھیم  انک حمید مجید

   یہ سارا انسان کا ذکر ہے ۔ پھر
رب اجعلنی مقیم الصلوٰة و من ذریتی ربنا و تقبل دعا ۔

  تو اس میں آپ اور ذریّت ، اور اولاد سارے آگئے ۔ بیٹے بیٹیاں ، نواسے نواسیاں ، پوتے پوتیاں ۔ سارے آگئے ۔

   کیونکہ پندرہ بیس سال میں آپکی ذریّت کچھ اور بن جائےگی ۔

اور کبھی آپ سوچو کہ اگر دو سو سال بعد آپ واپس آؤ تو آپ کی ذریّت جو ہے وہ کم از کم ایک شہر بنائے بیٹھے ہونگے ۔

 اور اگر پانچ سو سال بعد آ جاؤ تو آپکی ذریّت میں لاکھوں کروڑوں بندے ہونگے ۔
  تو ذریّت ، اولاد بڑھتی جائے گی ۔

 ربنا وتقبل دعاء ربنا اغفرلی ولوالدی وللمومنین یوم یقوم الحساب ۔
  میرے رب میری دعا قبول فرما، تُو مجھے بھی معاف کر اور میرے والدین کو بھی معاف فرما اور والدین کے اوپر جو قبیلہ ہے ، ان سب کی مغفرت فرما ۔

  تو نماز میں آپ خدا کی بات کر رہے تھے اور یہ غیر کہاں سے آگئے ؟ تو غیر کا ذکر اللہ کریم نے آپ کو سکھایا ہے ۔

 بس یہی خاص بات ہے اور یہی راز ہے کہ آپ عبادت میں داخل ہو جائیں ۔
    اور عبادت کے یہ الفاظ ہیں جو اللہ نے آپ کو سکھائے ہیں  کہ یااللہ ہمارے والدین کو بخش دے ۔

  تو بات یہ ہے کہ اللہ نے خود آپکو الفاظ سکھا کر بتایا ہے کہ تم والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرنا ۔

 پھر یہ دعا سکھائی کہ میری اولاد کو بھی نماز کا پابند بنا ۔

 تو آپ نے خود ان کو نماز کا پابند بنانا ہے مگر آپ اللہ سے مدد مانگتے ہیں اور حضورپاکﷺ کے حوالے سے مدد مانگتے ہیں ۔

  جو کچھ بتایا گیا ہے آپ ، وہ کام کریں۔ اسی کو آپ نے کرنا ہے اور یہی بات میں آپ کو بتا رہا  تھا۔
   یہ نہ کرنا کہ اللہ سے یہ کہو کہ

   اھدنا الصراط المستقیم صراط الذین انعمت علیھم
 کہ جن پر تیرا انعام ہوا انکا راستہ دکھا اور جب ، اس انعام والا شخص ملے ، تو آپ اسے نماز کے آداب سکھانے لگ جاؤ ، حالانکہ  وہ انعمت علیھم والوں میں شامل ہے ۔ اور اس پر اللہ کا انعام ہو گیا ہے ۔
 تو اب آپ بھی وہ راستہ ڈھونڈو     اور آپ اس کو قرآن نہ سکھانا شروع کر دینا ، کیونکہ وہ تو آپ کے لئے راستہ بن کر آگیا ہے ۔

   تو اللہ کی راہ کون سی ہے ؟ انسانوں کی راہ ،  کون سے انسان ؟
  جن پر اللہ کا انعام ہوا ۔ تو آپ اس راز کو دریافت کرو ۔


داستانِ ابلیس


ﺩﺍﺳﺘﺎﻥ ﺍﺑﻠﯿﺲ

ﺍﺑﻠﯿﺲ ﺗﻤﺎﻡ ﻓﺮﺷﺘﻮﮞ ﮐﺎ ﺳﺮﺩﺍﺭ ﺗﮭﺎ ﺁﺳﻤﺎﻥ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﺍﺑﻠﯿﺲ ﻧﮯ ﺍﯾﮏﮨﺰﺍﺭ ﺳﺎﻝ ﺗﮏ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﻋﺒﺎﺩﺕ ﮐﯽ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﻋﺎﺑﺪﮨﻮﺍ ۔ ﺩﻭﺳﺮﮮﺁﺳﻤﺎﻥ ﭘﺮ ﺍﯾﮏ ﮨﺰﺍﺭ ﺳﺎﻝ ﺗﮏ ﻋﺒﺎﺩﺕ ﮐﯽ ﺗﻮ ﺯﺍﮨﺪ ﺑﻨﺎ , ﭘﮭﺮ ﺗﯿﺴﺮﮮﺁﺳﻤﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﻋﺎﺭﻑ , ﭼﻮﺗﮭﮯ ﻣﯿﮟ ﻭﻟﯽ , ﭘﺎﻧﭽﻮﯾﮟ ﻣﯿﮟ ﺗﻘﯽ , ﭼﮭﭩﮯﻣﯿﮟ ﺧﺎﺷﻊ ﺍﻭﺭ ﺳﺎﺗﻮﯾﮟ ﻣﯿﮟ ﻋﺰﺍﺯﯾﻞ ﻧﺎﻡ ﮨﻮﺍ , ﻣﮕﺮ ﻟﻮﺡ ﻣﺤﻔﻮﻅ ﭘﺮ ﺍﺱﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﺍﺑﻠﯿﺲ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﻭﮦﺍپنےﺍﻧﺠﺎﻡ ﺳﮯ ﺑﮯ ﺧﺒﺮ ﺗﮭﺎ ﺟﺐ ﺍﻟﻠﮧ ﻧﮯﺣﻀﺮﺕ ﺁﺩﻡ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﮐﻮ ﺳﺠﺪﮦ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﺎ ﺣﮑﻢ ﺩﯾﺎ ﺗﻮ ﺳﺐ ﻓﺮﺳﺘﻮﮞﺳﮯ ﺳﺠﺪﮦ ﮐﯿﺎ

ﻣﮕﺮ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﻧﮑﺎﺭ ﮐﺮﺩﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺑﮍﺍ ﺧﯿﺎﻝ ﮐﯿﺎﺍﻭﺭ ﻧﻔﺮﺕ ﺍﻭﺭ ﺗﮑﺒﺮ ﺳﮯ ﺣﻀﺮﺕ ﺁﺩﻡ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﭘﯿﭩﮫﮐﺮﻟﯽ , ﺍﻭﺭ ﺍﮐﮍ ﮐﺮ ﮐﮭﮍﺍ ﮨﻮﮔﯿﺎ , ﺁﺧﺮ ﮐﺎﺭ ﻓﺮﺷﺘﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﻣﺪﺕ ﺗﮏﺳﺠﺪﮦ ﮐﺌﮯ ﺭﮐﮭﺎ ﺟﺐ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺳﺮ ﺍﭨﮭﺎﯾﺎ ﺗﻮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮐﮧ ﺍﺑﻠﯿﺲ ﻧﮯﺳﺠﺪﮦ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺳﺠﺪﮦ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﺗﻮﻓﯿﻖ ﻣﻞ ﮔﺌﯽ ﺗﻮ ﻓﺮﺷﺘﻮﮞﻧﮯ ﺩﻭﺑﺎﺭﮦ ﺳﺠﺪﮦ ﺷﮑﺮ ﺍﺩﺍ ﮐﯿﺎ ۔ ﯾﮧ ﺑﺪ ﺑﺨﺖ ﺍﮐﮍﺍ , ﺍﻥ ﺳﮯ ﻣﻨﮫﭘﮭﯿﺮﮮ ﮐﮭﮍﺍ ﺗﮭﺎ ۔ ﻧﮧ ﮨﯽ ﺍﻃﺎﻋﺖ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺩﮬﯿﺎﻥ ﺩﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﻧﮧ ﮨﯽﻧﺎﻓﺮﻣﺎﻧﯽ ﭘﺮ ﻧﺎﺩﻡ ﮨﻮﺍ , ﺗﻮ ﺍﺏ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ ﭼﻮﭘﺎﺋﮯ ﮐﯽ ﺷﮑﻞﺩﮮ ﺩﯼ ﺍﻭﺭ ﺧﻨﺰﯾﺮ ﺑﻨﺎ ﺩﯾﺎ , ﺍﺱ ﮐﺎ ﺳﺮ ﺍﻭﺭ ﺳﯿﻨﮧ ﺑﮍﮮ ﺍﻭﻧﭧ ﺟﯿﺴﺎﮐﺮﺩﯾﺎ , ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﮐﺎ ﭼﮩﺮﮦ ﺑﻨﺪﺭ ﺟﯿﺴﺎ ﮨﻮﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﮑﮭﯿﮟ ﻟﻤﺒﻮﺗﺮﯼ ﭘﮭﭩﯽﭘﮭﭩﯽ ﻧﻈﺮ ﺁﺗﯽ ﺗﮭﯿﮟ , ﺍﺱ ﮐﮯ ﻧﺘﮭﻨﮯ ﮐﮭﻠﮯ ﺑﻨﺎ ﺩﯾﺌﮯ ﺍﺱ ﮐﮯﮨﻮﻧﭧ ﺑﯿﻞ ﮐﮯ ﮨﻮﻧﭩﻮﮞ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺩﺍﮌﮨﯽ ﺧﻨﺰﯾﺮ ﮐﮯ ﺩﺍﻧﺘﻮﮞﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺑﺎﮨﺮ ﮐﻮ ﻧﮑﻠﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﮐﺮﺩﯼ , ﭘﮭﺮ ﺩﺍﮌﮨﯽ ﻣﯿﮟ ﺳﺎﺕ ﺑﺎﻝ ﺭﮐﮫﺩﯾﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﺑﮩﺸﺖ ﺑﺪﺭ ﮐﺮﺩﯾﺎ , ﺑﻠﮑﮧ ﺁﺳﻤﺎﻥ ﺍﻭﺭ ﺁﺑﺎﺩ ﺯﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺩﻭﺭ ﮐﺮﮐﮯﻭﯾﺮﺍﻧﻮﮞ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺑﮭﮕﺎ ﺩﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﻗﯿﺎﻣﺖ ﺗﮏ ﻟﻌﻨﺖ ﻭ ﭘﮭﭩﮑﺎﺭ ﮐﺮﺩﯼ ﻭﮦﻣﻠﻌﻮﻥ ﻭ ﮐﺎﻓﺮ ﮨﻮﭼﮑﺎ ۔ ﯾﮧ ﺣﺎﻟﺖ ﺟﺐ ﺣﻀﺮﺕ ﺟﺒﺮﺍﺋﯿﻞ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﺍﻭﺭﺣﻀﺮﺕ ﻣﯿﮑﺎﺋﯿﻞ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﻧﮯ ﺩﯾﮑﮭﯽ ﺗﻮ ﺭﻭ ﭘﮍﮮ ) ﺑﺎﻭﺟﻮﺩ ﻗﺪﺭﺕﮐﮯ ﮐﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﻮ ﮨﺮ ﭼﯿﺰ ﮐﺎ ﻋﻠﻢ ﮨﮯ )ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﮔﯿﺎ ﮐﯿﻮﮞ ﺭﻭﺗﮯ ﮨﻮ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﮯ “

ﮨﻢﺗﯿﺮﯼ ﻃﺮﻑ ﺳﮯ ﻟﻌﻨﺖ ﻭ ﺑﺪﺑﺨﺘﯽ ﺁﺟﺎﻧﮯ ﭘﺮ ﺍﭘﻨﮯ ﺁﭖ ﮐﻮ ﻣﺤﻔﻮﻅﺧﯿﺎﻝ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ “ﺍﺭﺷﺎﺩ ﮨﻮﺍ ” ﺍﯾﺴﮯ ﺭﮨﻮ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﺮﯼ ﻃﺮﻑ ﺳﮯ ﺑﮯ ﻓﮑﺮﯼ ﺍﺧﺘﯿﺎﺭ ﻧﮧ ﮐﺮﻭ”ﺍﺏ ﺍﺑﻠﯿﺲ ﻧﮯ ﺁﻭﺍﺯ ﺩﯼ ﮐﮧ ” ﺍﮮ ﺍﻟﻠﮧ ! ﺗﻮﻧﮯ ﺁﺩﻡ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯﻣﺠﮭﮯ ﺟﻨﺖ ﺳﮯ ﻧﮑﺎ ﻝ ﺩﯾﺎ ﺍﺏ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﻥ ﭘﺮ ﻣﺴﻠﻂ ﮐﺮ “ﺍﺭﺷﺎﺩ ﮨﻮﺍ ” ﺗﻮ ﻣﺴﻠﻂ ﮨﮯ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺍﻭﻻﺩ ﭘﺮ ﺳﻮﺍﺋﮯ ﺍﻧﺒﯿﺎﺀ ﮐﮯ “ﺍﺑﻠﯿﺲ ﺑﻮﻻ “ﺍﻭﺭ ﺗﺴﻠﻂ ﺩﮮ ﺩﯾﺠﺌﮯ “ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ” ﺍﻥ ﮐﮯ ﮨﺎﮞ ﺍﯾﮏ ﺑﭽﮧ ﮨﻮﮔﺎ ﺗﯿﺮﮮ ﺩﻭ ﮨﻮﻧﮕﮯ “ﺑﻮﻻ ﺍﻭﺭ ﺗﺴﻠﻂ ﺩﯾﺠﺌﮯﺍﺭﺷﺎﺩ ﮨﻮﺍ “

ﺍﻥ ﮐﮯﺳﯿﻨﮯ ﻣﯿﺮﺍ ﻣﺴﮑﻦ ﮨﻮﮞ ﺟﺐ ﮐﮧ ﺗﻮ ﺧﻮﻥ ﮐﯽ ﻃﺮﺡﺑﺪﻥ ﻣﯿﮟ ﭘﮭﺮﮮ ﮔﺎ “ﺍﺱ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﺍﻭﺭ ﺩﯾﺠﺌﮯﺍﺭﺷﺎﺩ ﮨﻮﺍ ” ﺗﻮ ﺍﻥ ﭘﺮ ﺍﭘﻨﮯ ﭘﯿﺎﺭﻭﮞ ﭼﯿﻠﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺳﻮﺍﺭﻭﮞ ﮐﯿﺴﺎﺗﮫ ﮨﻮ ﺟﺎﯾﺎﮐﺮﮮ ﮔﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﮨﺮ ﻏﻠﻂ ﺣﺮﺍﻡ ﺍﻭﺭ ﺑﺪ ﻋﻤﻞ ﭘﺮ ﺁﻣﺎﺩﮦ ﮐﺮﺗﺎ ﺭﮨﮯ ﮔﺎ “ﺍﺏ ﺣﻀﺮﺕ ﺁﺩﻡ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﻧﮯ ﻋﺮﺽ ﮐﯿﺎ ” ﯾﺎ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻮﻧﮯ ﺍﺑﻠﯿﺲ ﮐﻮﻣﯿﺮﯼ ﺍﻭﻻﺩ ﭘﺮ ﻣﺴﻠﻂ ﮐﺮﺩﯾﺎ ﺍﺏ ﺗﯿﺮﯼ ﻣﺪﺩ ﮐﮯ ﺑﻐﯿﺮ ﺍﺱ ﺳﮯ ﮐﯿﺴﮯﺑﭽﺎ ﺟﺎﺋﯿﮕﺎ “ﺍﺭﺷﺎﺩ ﮨﻮﺍ ” ﺗﯿﺮﮮ ﮨﺎﮞ ﺟﻮ ﺑﭽﮧ ﮨﻮﮔﺎ

ﺍﺱ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻣﺤﺎﻓﻆ ﻓﺮﺷﺘﮧ ﺑﮭﯽﮨﻮﮔﺎ “ﻋﺮﺽ ﮐﯿﺎ ” ﻣﺰﯾﺪ ﻋﻄﺎ ﮐﯿﺠﺌﮯ “ﺍﺭﺷﺎﺩ ﮨﻮﺍ ” ﺟﺐ ﺗﮏ ﺑﻨﯽ ﺁﺩﻡ ﮐﯽ ﺍﺭﻭﺍﺡ ﺑﺪﻥ ﻣﯿﮟ ﮨﻮﻧﮕﯽ ﺗﻮﺑﮧ ﮐﺎ ﺩﺭﻭﺍﺯﮦﺍ ﻥ ﭘﺮ ﺑﻨﺪ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﮔﺎ “ﻋﺮﺽ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﻋﻄﺎ ﮐﯿﺠﺌﮯﺍﺭﺷﺎﺩ ﮨﻮﺍ ” ﻣﯿﮟ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﻣﻌﺎﻑ ﮐﺮﺗﺎ ﺭﮨﻮﮞ ﮔﺎ ﭼﺎﮨﮯ ﺟﺲ ﻗﺪﺭ ﮔﻨﺎﮦ ﮔﺎﺭﮨﻮﮞ “ﺣﻀﺮﺕ ﺁﺩﻡ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﻧﮯ ﻋﺮﺽ ﮐﯿﺎ ” ﯾﺎ ﺍﻟﻠﮧ ﺍﺏ ﮐﺎﻓﯽ ﮨﮯ۔“

“ﺍﻣﺎﻡ ﻏﺰﺍﻟﯽ ﺭﺣﻤﺖ ﺍللہ ﻋﻠﯿﮧ ﮐﯽ ﮐﺘﺎﺏ ﻣﮑﺎشفتہ ﺍﻟﻘﻠﻮﺏ ﺳﮯ ﺍﻗﺘﺒﺎﺱ


قابل رشک تربیت


💫 *قابل رشک تربیت*💫
ایک شخص کہتا ھے ۔۔۔
💞میری امی جب بھی مجھے نماز پڑھنے کا کہتیں
 ساتھ ہی میرے لئے دعا بھی کرتی جاتیں اور کہتیں :

 🤲🏻 *نماز پڑھو اللہ تمہیں عزت دیں ۔*
*اللہ تمہیں نماز کی حلاوت  نصیب کریں ،*
*اللہ تمہیں توفیق دیں ۔*

💫اسی لئے بچپن سے ہی میرے اندر نماز  کی  محبت پیدا ہو گئی ،
 مجھے نماز  پڑھنا اچھا لگنے لگا ،
💦 اور میں اپنی ماں کی اپنے لئے  دعائیں سننے کے لئے  نماز کا انتظار کرتا رہتا ۔
میں اپنی ماں کو دیکھتا تھا
وہ ہر نماز کے بعد اللہ سے دعا مانگتیں :

🤲🏻 *اے اللہ ! میرے بیٹے کو  نماز سے لطف اندوز ہونے والوں میں شامل فرما ،*
🤲🏻 *اے اللہ۔۔۔! نماز کو میرے بیٹے کی آنکھوں کی ٹھنڈک بنا دے ۔*
وہ اسی طرح دعائیں مانگتی رہیں ۔
 اور جب میں بڑا ہو گیا تو میری زندگی کے سب سے خوبصورت لمحات وہی ہوتے تھے
💞 جب میں اپنے رب کے سامنے کھڑا ہوتا تھا ۔
 مجھے نماز سے بہت محبت تھی ۔

🍃اپنے بچوں سے صرف ایک لفظ
*" نماز پڑھو "*
  یہ کہنا کافی نہیں ہوتا ،
 بلکہ انہیں ساتھ یہ بتانا بھی ضروری ہے
💦 کہ نماز کیوں پڑھی جائے ؟
 نماز پڑھنے سے کیا ہوگا ؟
جیسے قرآن پاک میں اللہ تعالی نے جب حضرت آدم و حواء علیہما السلام سے یہ فرمایا
🌱  *کہ اس درخت کے قریب نہ جانا*
 تو ساتھ اسکی وجہ بھی بیان کی ۔

*قال اللہ تبارک و تعالی :

🌾 _*{لاَ تَقرَبا هذِهِ الشَّجَرَةَ فَتَكونَا   مِنَ الظَّالِمِين}*_
*اس درخت کے قریب نہ جانا*
🥀 *ورنہ تم دونوں ظالموں میں سے ہو جاؤ گے ۔*

جب بھی اپنے بچوں کو کسی کام کا حکم کریں
 ساتھ اسکی وجہ بھی بتائیں
🌷 *جیسے نماز پڑھنے سے اللہ راضی ہوتے ہیں ۔*
🌷 *تم بھی نماز پڑھو*
 *تاکہ اللہ تم سے راضی ہو جائیں ۔* اور
🌷 *خشوع و خضوع سے نماز پڑھو کیونکہ اللہ ایسی نماز قبول کرتے ہیں ۔*
اور اسی طرح 
🌷 *وضو اچھی طرح کرو تاکہ تمہارے سارے گناہ جھڑ جائیں ۔*

ہمیشہ مسکرا کر اپنے بچے کو اپنے ساتھ نماز کے لئے بلائیں ۔

ایک منظر جو میں آج تک نہیں بھولا ۔۔۔ 
🍃 *میرے والد جب بھی نماز کا  وقت آتا وضو کرنے کے لئے اپنی آستین اوپر چڑھاتے ہوئے  ہمارے پاس سے گزرتے اور  فرماتے ۔۔۔* 
🏮 *"مومن اور کافر کے درمیان فرق نماز سے ہے" ۔*

یہی وجہ ہے کہ  نماز میری زندگی کا ایک ایسا جزو بن گیا
🍃 جس کے بغیر میری زندگی ممکن ہی نہیں ۔

💞 _*" رَبِّي اجْعَلْنِي مُقِيمَ الصّلاةِ وَ مِن ذُرِّيَّتِي " ۔*_

📝 *آج کے اس دور میں بچوں کی ایسی تربیت کی بہت ضرورت ھے بچوں کی آخرت کی فکر بھی والدین کو ایسے ہی کرنی چاھئیے جیسے اپنی آخرت کی فکر کرتے ہیں اللہ تعالٰی ہمیں حسن عمل کی توفیق عطاء فرمائیں آمین ثم آمین  یارب العالمین

💰💰 صدقہ جاریہ کے طور پر آگے شیئر کر دیں...



اپنی خامیوں پہ نظر رکھو


ایک شخص نے آئینہ دیکھا تو معلوم ہوا کہ اس نے قمیض الٹی پہنی ہوئی ہے اور ناک پر سیاہی لگی ہوئی ہے۔
آئینے کا کام تھا دکھانا سو اس نے دکها دیا۔۔۔
اب کیا وہ شخص آئینے پر خفا ہو گا کہ اس نے کیوں اس کی خامیوں سے آگاہ کیا؟
نہیں بلکہ وہ فورا اپنی بگڑی ہوئی حالت کو درست کرنے کی فکر میں لگ جائے گا...

یہی مثال ان لوگوں کی ہے جو ہمیں ہمارے عیبوں سے آگاہ کرتے ہیں پهر ہم ان پر کیوں ناراض ہوتے ہیں؟
وہ بهی تو درحقیقت ہمیں ہماری روح کا آئینہ دکها رہے ہوتے ہیں۔
بجائے ان پر غصہ ہونے کے ہمیں ان کا شکر گزار ہونا چاہیے کہ ان کے دکهائے گئے آئینے کی بدولت ہمیں اپنی غلطیوں کی اصلاح کا موقع مل رہا ہے۔“



ایک خوبصورت واقعہ

شاید اس جیسا واقعہ اس سے قبل آپ نے نہ پڑھا ہو...

مسجد نبوی میں بچے کھیلیں یا شور مجائیں تو انہیں کوئی نہیں روکتا ۔۔۔ پاکستان کا ایک فوجی افسر عمرہ کرنے کیلئے ایک مہینے کی چھٹی پر یہاں آیا تھا۔ مسجد نبوی میں اس نے دیکھا کہ بچے شور مچا رہے ہیں۔ اسے بے حد غصہ آیا، کہنے لگا، "یہ سراسر بے ادبی ہے"۔ اس نے بچوں کو ڈانٹا۔ اس پر اس کے ساتھی نے جو مدینہ منورہ کی ڈسپنسری کا ڈاکٹر تھا۔ اس کو منع کیا کہ بچوں کو نہ دانٹے۔ افسر نظم و نسق کا متوالہ تھا۔ اس نے ڈاکٹر کی سنی ان سنی کردی۔ رات کو اس موضوع پر دونوں میں بحث چھڑ گئی۔ ڈاکٹر نے کہا حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم یہ پسند نہیں کرتے کہ بچوں کو ڈانٹا جائے"۔
"اسی رات افسر نے خواب دیکھا۔ حضور اعلیٰ صلی اللہ علیہ و سلم خود تشریف لائے، خشمگیں لہجے مین فرمایا، "اگر آپ مسجد مین بچوں کی موجودگی پسند نہیں کرتے تو مدینہ سے چلے جائیے""۔ اگلے روز پاکستان کے فوجی ہیڈ کوارٹرز سے ایک تار موصول ہوا جس مین اس افسر کی چھٹی منسوخ کر دی گئی تھی اور اسے فورا” ڈیوٹی پر حاضر ہونے کا حکم دیا گیا تھا۔

"آپ کو اس واقعہ کا کیسے پتہ چلا"؟ میں نے اپنے دوست قدرت اللہ سے پوچھا۔
"مجھے ڈسپنسری کے ڈاکٹر نے بتایا جس کے پاس وہ افسر ٹھہرا ہوا تھا"۔ صلی اللہ علیہ والہ وصحبہ وازواجہ وبارک وسلم کثیراً کثیرا,

یا اللہ تو ہمیں بار بار دیدار حرمین نصیب فرما۔
امین

(ماخوذ از گوشہ ادب)