سر ورِ کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم ______!!!
حضور اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو اﷲ تعالیٰ نے جس طرح کمال سیرت میں تمام اولین و آخرین سے ممتاز اور افضل و اعلیٰ بنایا اسی طرح آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو جمالِ صورت میں بھی بے مثل و بے مثال پیدا فرمایا۔ ہم اور آپ حضورِ اکرم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی شانِ بے مثال کو بھلا کیا سمجھ سکتے ہیں ؟ حضرات صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم جو دن رات سفر و حضر میں جمال نبوت کی تجلیاں دیکھتے رہے انہوں نے محبوب خدا صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے جمالِ بے مثال کے فضل و کمال کی جو مصوری کی ہے اس کو سن کر یہی کہنا پڑتا ہے جو کسی مداحِ رسول نے کیا خوب کہا ہے کہ
اَبَدًا وَّ عِلْمِيْ اَنَّهٗ لَا يَخْلُقُ لَمْ يَخْلُقِ الرَّحْمٰنُ مِثْلَ مُحَمَّدٍ
یعنی اﷲ تعالیٰ نے حضرت محمد صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کا مثل پیدا فرمایا ہی نہیں اور میں یہی جانتا ہوں کہ وہ کبھی نہ پیدا کرے گا۔________
صحابی رسول اور تاجدار دو عالم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے درباری شاعر حضرت حسان بن ثابت رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے اپنے قصیدۂ ہمزیہ میں جمال نبوت کی شان بے مثال کو اس شان کے ساتھ بیان فرمایا کہ
وَ اَجْمَلَ مِنْكَ لَمْ تَلِدِ النِّسَآءُ وَ اَحْسَنَ مِنْكَ لَمْ تَرَقَطُّ عَيْنِيْ !
_____
یعنی یا رسول اﷲ ! (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) آپ سے زیادہ حسن و جمال والا میری آنکھ نے کبھی کسی کو دیکھا ہی نہیں اور آپ سے زیادہ کمال والا کسی عورت نے جنا ہی نہیں۔
كَاَنَّكَ قَدْ خُلِقْتَ کَمَا تَشَآءُ خُلِقْتَ مُبَرَّئً مِّنْ کُلِ عَيْبٍ !
_____
(یا رسول اﷲ ! صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) آپ ہر عیب و نقصان سے پاک پیدا کئے گئے ہیں گویا آپ ایسے ہی پیدا کئے گئے جیسے حسین و جمیل پیدا ہونا چاہتے تھے۔
حضرت علامہ بوصیری رحمۃ اﷲ تعالیٰ علیہ نے اپنے قصیدۂ بردہ میں فرمایا کہ
فَجَوْهَرُ الْحُسْنِ فِيْهِ غَيْرُ مُنْقَسِمٖ مُنَزَّهٌ عَنْ شَرِيْكٍ فِيْ مَحَاسِنِهٖ
یعنی ____حضرت محبوب خدا صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم اپنی خوبیوں میں ایسے یکتا ہیں کہ اس معاملہ میں ان کا کوئی شریک ہی نہیں ہے۔ کیونکہ ان میں جو حسن کا جوہر ہے وہ قابل تقسیم ہی نہیں۔
اعلیٰ حضرت مولانا احمد رضا خان صاحب قبلہ بریلوی قدس سرہ العزیز نے بھی اس مضمون کی عکاسی فرماتے ہوئے کتنے نفیس انداز میں فرمایا ہے کہ
ترے خُلق کو حق نے عظیم کہا تری خَلق کو حق نے جمیل کیا
کوئی تجھ سا ہوا ہے نہ ہو گا شہا ترے خالق حسن و ادا کی قسم
بہر حال اس پر تمام امت کا ایمان ہے کہ تناسب ِ اعضاء اور حسن و جمال میں حضور نبی آخر الزمان صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم بے مثل و بے مثال ہیں۔ چنانچہ حضرات محدثین و مصنفین سیرت نے روایات صحیحہ کے ساتھ آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے ہر ہر عضو شریفہ کے تناسب اور حسن و جمال کو بیان کیا ہے۔ ہم بھی اپنی اس مختصر کتاب میں ” حلیۂ مبارکہ ” کے ذکر جمیل سے حسن و جمال پیدا کرنے کے لئے اس عنوان پر حضرت مولانا محمد کامل صاحب چراغ ربانی نعمانی ولید پوری رحمۃ اﷲ تعالیٰ علیہ کے منظوم حلیہ مبارکہ کے چند اشعار نقل کرتے ہیں تاکہ اس عالم کامل کی برکتوں سے بھی یہ کتاب سرفراز ہو جائے۔ حضرت مولانا موصوف نے اپنی کتاب ” پنجہ نور ” میں تحریر فرمایا کہ
-: حلیۂ مقدسہ
حلیہ نورِ خدا میں کیا لکھوں روحِ حق کا میں سراپا کیا لکھوں
جلوہ گر ہو گا مکانِ قبر میں پر جمالِ رحمۃٌ للعالمین
مختصر لکھ دوں جمالِ بے مثال اس لئے ہے آگیا مجھ کو خیال
اور اس کی یاد بھی آسان ہو تاکہ یاروں کو مرے پہچان ہو
پر سپید و سرخ تھا رنگ بدن تھا میانہ قد و اوسط پاک تن
تھے حسین و گول سانچے میں ڈھلے چاند کے ٹکڑے تھے اعضاء آپ کے
چاند میں ہے داغ وہ بے داغ تھی تھیں جبیں روشن کشادہ آپ کی
اور دونوں کو ہوا تھا اِتصال دونوں ابرو تھیں مثالِ دو ہلال
یاکہ ادنیٰ قرب تھا “قوسین” کا اِتصال دو مہ “عیدین” تھا
دیکھ کر قربان تھیں سب حور عیں تھیں بڑی آنکھیں حسین و سرمگیں
ساتھ خوبی کے دہن بینی بلند کان دونوں خوب صورت ارجمند
صورت اپنی اس میں ہر اک دیکھتا صاف آئینہ تھا چہرہ آپ کا
خوب تھی گنجان مو ، رنگ سیاہ تابہ سینہ ریش محبوبِ الٰہ
ہو ازار و جبہ یا پیر ہن تھا سپید اکثر لباسِ پاک تن
پر کبھی سود و سپید و صاف تھا سبز رہتا تھا عمامہ آپ کا
دونوں عالم میں نہیں ایسا کوئی میں کہوں پہچان عمدہ آپ کی
صل اللہ علیہ وآلہ وسلم

Masha Allah
ReplyDelete