Friday, June 26, 2020

اپنی زندگی کو سادہ اور آسان بنائیں


How not to remain unhappy 😊😊😊

*خوشی*

ایک وقت تھا خوشی بہت آسانی سے مل جاتی تھی۔ 
دوستوں سے ملکر، 
عزیز رشتہ داروں سے ملکر، 
نیکی کرکے، 
کسی کا راستہ صاف کرکے، 
کسی کی مدد کرکے۔ 
خربوزہ میٹھا نکل آیا، 
تربوز لال نکل آیا، 
آم لیک نہیں ھوا، 
ٹافی کھا لی، 
سموسے لے آئے، 
جلیبیاں کھا لیں، 
باتھ روم میں پانی گرم مل گیا، داخلہ مل گیا، 
پاس ھوگئے، 
میٹرک کرلیا، 
ایف اے کرلیا، 
بی اے کر لیا، 
ایم اے کرلیا، 
کھانا کھالیا، 
دعوت کرلی، 
شادی کرلی، 
عمرہ اور حج کرلیا، 
چھوٹا سا گھر بنا لیا،  
امی ابا کیلئے سوٹ لے لیا، 
بہن کیلئے جیولری لے لی، 
بیوی کیلئے وقت سے پہلے گھر پہنچ گئے، 
اولاد آگئی اولاد بڑی ھوگئی، انکی شادیاں کردیں-
 نانے نانیاں بن گئے -
دادے دادیاں بن گئے -
سب کچھ آسان تھا 
اور سب خوش تھے.

پھر ہم نے پریشانی ڈھونڈنا شروع کردی، 
بچہ کونسے سکول داخل کرانا ھے، 
پوزیشن کیا آئے، 
نمبر کتنے ہیں، 
جی پی اے کیا ھے، 
لڑکا کرتا کیا ہے، 
گاڑی کونسی ہے، 
کتنے کی ہے، 
تنخواہ کیا ہے، 
کپڑے برانڈڈ چاہیئں
 یا پھر اس کی کاپی ہو، 
جھوٹ بولنا پھر اسکا دفاع کرنا، سیاست انڈسٹری بن گئی.

*ھم سے ھمارے دور ھوگئے*

شاید ہی ہمارے بچوں کو فوج کے عہدوں کا پتہ ہو 
پر ان کو ڈی ایچ اے کونسے شہر میں ہیں، سب پتہ ہے، 
گھر کتنے کنال کا ہو، 
پھر آرچرڈ سکیمز آگیئں، 
گھر اوقات سے بڑے ہو گئے، 
اور ہم دور دور ہو گئے، 
ذرائع آمدن نہیں بڑھے پر قرضوں پر گاڑیاں، موٹر سائیکل، ٹی وی، فریج، موبائل سب آگئے، 
سب کے کریڈٹ کارڈ آگئے -
پھر ان کے بل بجلی کا بل، 
پانی کا بل، گیس کا بل، موبائل کا بل، سروسز کا بل، 
پھر بچوں کی وین، 
بچوں کی ٹیکسی، 
بچوں کا ڈرائیور، 
بچوں کی گاڑی، 
بچوں کے موبائل، 
بچوں کے کمپیوٹر، 
بچوں کے لیپ ٹاپ، 
بچوں کے ٹیبلٹ، وائی فائی، گاڑیاں، 
جہاز، 
فاسٹ فوڈ، 
باھر کھانے، 
پارٹیاں،
پسند کی شادیاں، 
دوستیاں، طلاق پھر شادیاں، بیوٹی پارلر، 
جم، 
پارک، 
اس سال کہاں جائیں گے، 
یہ سب ہم نے اختیار کئے
 اور اپنی طرف سے ہم زندگی کا مزا لے رہے ہیں -
کیا آپ کو پتہ ھے آپ نے خوشی کو کھودیا ہے۔ 
جب زندگی سادہ تھی تو خوشی کی مقدار کا تعین ناممکن تھا -
اب اسی طرح دھوم دھڑکا تو بہت ھے پر پریشانی کا بھی کوئی حساب نہیں۔

*اپنی زندگی کو سادہ بنائے*

 تعلق بحال کیجئے، 
دوست بنایئے، 
دعوت گھر پر کیجئے،  
بے شک چائے پر بلائیں، 
یا پھر مولی والے پراٹھوں کا ناشتہ ساتھ کیجئے، 
دور ھونے والے سب چکر چھوڑ دیجئے، 
واٹس ایپ، فیس بک، ٹویٹر، لنکڈ ان، 
ٹی وی،خبریں، ڈرامے، میوزک، 
یہ سب دوری کے راستے ھیں آمنے سامنے بیٹھئیے، 
دل کی بات سنیئے اور سنائیے، مسکرائیے۔ 
یقین کیجئے خوشی بہت سستی مل جاتی ہے -
بلکہ مفت، 
اور پریشانی تو بہت مہنگی ملتی ہے 
جس کیلئے ہم اتنی محنت کرتے ہیں، 
اور پھر حاصل کرتے ھیں۔ 
خوشی ہرگز بھی چارٹر طیارے میں سفر کرنے میں نہیں ھے۔ کبھی نئے جوتے پہن کر بستر پر رھیئے پاوں نیچے رکھے تو جوتا گندا ھوجائے گا۔ 
بس محسوس کرنے کی بات ہے ،
چائے میں بسکٹ ڈبو کر تو دیکھئے -
ٹوٹ کر گر گیا تو کونسی قیامت آجائے گی ۔
ہمسائے کی بیل تو بجائیے  -
ملئے مسکرائیے، 
بس مسکراھٹ واپس آجائے گی، دوستوں سے ملئے دوستی کی باتیں کیجئے
 ان کو دبانے کیلئے ڈگریاں، کامیابیاں، فیکٹریوں کا ذکر ھرگز مت کیجئے۔ 
پرانے وقت میں جایئے جب ایک ٹافی کے دوحصے کرکے کھاتے تھے
،فانٹا کی بوتل آدھی آدھی پی  ، میلوڈی، آبپارہ  مl ۔ سب اپنی پرانی جگہوں پر بلائیے.
ہم نے کیا کرنا چائے خانہ کا جہاں پچاس قسم کی چائے ہے۔ 
آو وہاں چلیں جہاں سب کیلئے ایک ہی چائے بنتی ھے ملائی مارکے، چینی ہلکی پتی تیز۔

آؤ پھر سے خوش رھنا شروع کرتے ھیں۔

Thursday, June 25, 2020

My Lovely Cats 💕

مجھے کبھی جانور پالنے کا اتفاق نہیں ہوا تھا کیونکہ مجھے یہ سب چیزیں دور سے ہی پسند تھیں پاس جانا تو دور کی بات ہے اسی دوران مجھے میری ایک دوست نے بتایا کہ اس کے پاس پرشئن بلیاں ہیں اور انھوں نے بچے دیئے ہیں باتوں باتوں میں اس نے مجھے کہا کہ ایک جوڑا تمھیں دوں گی تو میں نے اسے کہا اچھا گھر پوچھ کر بتاؤں گی پہلے تو بھائی سے بات کی اس نے کہا لے لو پھر اچانک کچھ ایسا ہوا کہ اس کا موڈ بدل گیا اور میں نے بھی دوست کو منع کر دیا پھر اچانک اس سے رابطہ بھی ٹوٹ گیا پھر نہ جانے کتنے مہینوں بعد کسی نے کہا کہ وہ تمھارا پوچھ رہی تھی میں نے کہا اس کا نمبر مجھے دے دو پھر اس کا نمبر ایڈ کر کے اس سے بات کی تو اس نے پہلی بات ہی یہ کی کہ تمھاری بلیاں رکھی ہوئی ہیں جب چاہے لے لو پھر میں نے گھر میں بات کی تو سارے بچوں نے شور مچا دیا کہ ہم نے بلیاں لینی ہیں جو کہ کرونا کی چھٹیوں کی وجہ سے ہمارے گھر آئے ہوئے تھے بہن ، بھائیوں کے بچے ، پھر کیا تھا ٹائم سیٹ ہوا اور جگہ کا تعین کہ کرونا کی وجہ سے کسی کے گھر جا بھی نہی سکتے تھے میں اپنے بھتیجوں کو لیا اور پہنچ گئی بلیاں لینے پہلی بار سڑک پہ دوست سے مل کر خوشی بھی ہوئی اور کرونا کے بعد ملنے کا کہہ کر ہم بلیاں لے کر گھر پہنچے ، بچوں کو جیسے کھلونے مل گئے ہوں چینگ اور شانتی کی صورت میں چینگ چائنیز نام ہے اور بلی کو  ۔ معصوم ہونے کی وجہ سے شانتی نام سے پکارا جاتا تھا۔ پہلے دن سب نے اس کی کیئر کی میں نے دور سے ہی بس دیکھا مگر دوسرے دن وہ میرے پاؤں میں ایسے لیٹ رہی تھیں کہ جیسے کب سے مجھے جانتی ہوں میرا بھی شوق بڑھا اور اس سے مانوس ہونے لگی اپنے پاس گود میں بٹھا کر انھیں پیار کیا میرا ڈر نہ جانے کہاں گیا تھا مجھے سمجھ ہی نہی آئی اتنا پیارا تحفہ ملنے پر میں اپنی دوست کی بہت شکر گزار تھی اور بلیوں کی وجہ سے میرا وقت بھی اچھا گزرنے لگا اب وہ اتنی شرارتی ہیں کہ آپس میں لاڈ بھی کرتے ہیں اور خوب لڑتے بھی ہیں اور میں ان کے خوبصورت لمحات کو کیمرے کی آنکھ میں save کر لیتی ہوں 
ماشاءاللہ بہت پیارا جوڑا ہے اللہ نظر بد سے بچائے آمین 

Thursday, January 23, 2020

بھارت کا نیا سمیدھان

‏🧅بھارت کا نیا سمیدھان🧅
از: موہن بھاگوت،

(1)  سمیدھان کی آتما(روح)

(١) بھارت کا یہ نیا سمیدھان ہندو دھرم کے مطابق ہے،

(٢) اس سمیدھان کے مطابق بھارت کو ایک ہندو راشٹر گھوشت کیا جاتا ہے، اب بھارت کے لئے صرف ہندوستان لفظ ہی کا استعمال کیا جاۓگا،
(٣) ہندو دھرم کا عقیدہ ہے کہ ہر ایک انسان مرتبہ کے اعتبار سے دوسرے انسان سے الگ الگ ہیں، اس لئے ہر ایک آدمی کو برابر کا ناگرک قرار نہیں دیا جا سکتا ہے، ناگرکتا کا ادھیکار دھرم ہی ہو گا،
(٤) آج کل بہت ساری ذاتیاں اور دھرم ہو گیے ہیں اس لئے ان سب کو ایک ستر(دھاگے) میں پرونا بہت ضروری ہیں،

(٥) ہندو دھرم کے مطابق انسانوں میں چار طبقات ہیں.
اس سمیدھان میں تمام ذاتیوں اور دھرموں کو ان ہی چار طبقات میں بانٹا گیا ہے،
(٦) سرکاری نوکریوں میں پدوں کی تقسیم،لوک سبھا اور ودان سبھاؤں میں ممبروں کا انتخاب ان ہی چار طبقات کے ادھار پر ہی کیا جائے گا،
(٧) کسی بھی جرم کی سزا کا قانون بھی ہندو دھرم کے طبقہ وادی قانون کے مطابق ہی نافذ کیا جائے گا،
(٨) بھگوان نے عورت کو صرف بچے پیدا کرنے کے لئے بنایا ہے،اس لئے اس کے تمام ادھیکار ہندو دھرم کے مطابق ختم کیا جارہاہے،
(٩) بھارت کا راشٹریہ گانا وندے ماترم اور راشٹریہ جھنڈا بھگوا ہو گا،
(١٠) اس سمیدھان کے مطابق برہمن کو سب سے پوتر (پاک) انسان اور گاۓکو سب سے پوتر جانور قرار دیا جا تا ہے،
(١١) یہ نیا سمیدھان ٢١, مارچ ٢٠٢٠ء(ہندو کیلنڈر کا نیا سال) سے لاگو ہو گا،

(2) ناگرکتا؟

ہندو دھرم کے ادھار کے مطابق چار قسم کے ناگرک بناۓ جا ئیں گے،
(١) first class citizens,
پہلے نمبر کا شہری:
برہمن ذاتی کے لوگوں کو پہلے نمبر کا شہری قرار دیا جا ئےگاجن کو ہر طرح کے ناگرک ادھیکار پراپت ہونگے،
(٢) second class citizens
دوسرے نمبر کا شہری:
چھتری اور ٹھاکر سماج کے لوگوں کو دوسرے نمبر کا شہری قرار دیا جا تا ہے،

(٣) Third class citizens.
تیسرے نمبر کا شہری:
ویش یا بنیا سمودائے کے لوگوں کو تیسرے نمبر کا شہری قرار دیا جا تا ہے،
(٤) fourth class citizens.
چوتھے نمبر کا شہری:
ان کے علاوہ تمام ذاتی و دھرم کے لوگوں کو چوتھے نمبر کا ناگرک گھوشت کیا جاتا ہے،
ان سب کو شودر نام سے بھی پکارا جائے گا،
اس میں بدہ،جین،سکھ، عیسائی،پارسی،مسلمان اور دیگر دھرموں کے لوگوں کو شامل کیا جائے گا اور اس میں انوسوچت ذاتی،انوسوچت جن ذاتی،پچھڑی ذاتیوں کے لوگ جیسے یادو،جاٹ،گجر،کرمی،کمہار،نائی ، وغیرہ کو بھی شامل کیے جا ئیں گے ،
اور دوسری ذاتیاں جو کسی بھی طبقہ میں نہیں ہیں،
جیسے،کایستھ،پنجابی وغیرہ ان کو بھی شودر طبقہ میں رکھا جائے گا،
عورت چاہے کسی بھی طبقہ کی ہو،اس کوشودر طبقہ میں ہی شمار کیا جائے گا،

 پہچان کا نشان،

ہر طبقہ کے ماتھے (پیشانی) پر اس کے طبقے کا نام گودوایا جاۓ گا،
جیسے برہمن کے ماتھے پر برہمن،چھتری کے ماتھے پر چھتری،ویش کے ماتھے پر ویش اور شودر کے ماتھے پر شودر لکھا جا ۓ گا،
سرکار اس کام کو چھ مہینے کے اندر مکمل کرنے کے لئے ضروری پراؤدھان کرے گی،

(3) راشٹر پتی،پردھان منتری،ایم پی،ایم ایل اے،،،

ہندوستان کے راشٹر پتی،پردھان منتری،راجوں کے مکھ منتری ومنتری،ایم پی اور ایم ایل اے
برہمن ہی ہونگے،
موجودہ پردھان منتری (نریندرمودی) جو شودر ہے اس سمیدھان کو لاگو کرنے کے بعد اپنے پدہ سے استعفی دے دیں گے،
اور طبقہ کے مطابق شودروں والے کام کریں گے،
اور اسی طرح ہندوستان کے گرہ منتری (امت شاہ)جو ویش ہیں اپنے پدہ سے استعفی دے کر ویشوں والے کام کریں گے،

(4)ووٹ ڈالنے کا حق،

(١) صرف برہمن،چھتری اور ویش کو ہی ووٹ ڈالنے کا حق حاصل ہو گا،
شودر اور عورت کوچاہے کسی بھی طبقہ کے ہو ووٹ دینے کا حق نہیں ہو گا،

(٢) برہمن کے ایک ووٹ کی قیمت چھتری کے سو ووٹوں اور ویش کے ہزار ووٹوں کے برابر ہو گی،
مثلاً کسی چناؤ میں ایک برہمن ووٹ ڈالتا ہے اور ننانوے٩٩ چھتری یا ٹھاکر ووٹ ڈالتے ہیں تو برہمن کے ووٹ کی قیمت زیادہ ہونے کی وجہ سے برہمن کا امیدوار کامیاب مانا جائے گا،اسی طرح کسی چناؤ میں ایک برہمن ووٹ کر تا ہے اورنوسو ننانوے٩٩٩,
ویش یا بنیا ووٹ کرتے ہیں تو برہمن کا امیدوار کامیاب مانا جائے گا،

(5) پڑھنے لکھنے کا ادھیکار،،

(١) برہمن کو کسی بھی سبجیکٹ پڑھنے کا اختیار ہو گا،

(٢) چھتری کو صرف دسویں کلاس تک پڑھنے کا اختیار ہو گا،

(٣) ویش کو صرف پانچویں کلاس تک پڑھنے کا اختیار ہو گا،

(٤) شودروں اور عورتوں کو کچھ پڑھنے کا اختیار نہیں ہوگا،

(6) بولنے کی آزادی،،

(١) برہمن کو کسی بھی مسںٔلہ پر،کہیں بھی اور کسی کے بھی خلاف بول سکتا ہے،
اس کو پوری آزادی ہے،

(٢) باقی تینوں طبقوں کے لوگ کسی بھی برہمن یا اس کے کاموں اور اس کے فیصلوں کے خلاف ایک لفظ بھی نہیں بول سکتا،اگر انھوں نے ایسا کیا تو ان کی زبان کاٹ لی جائے گی،

سزا کے طور پر چھتری کی ایک انچ،ویش کی دو انچ،اور شودر کی پوری زبان کاٹ لی جائے گی،

(7) گھومنے پھرنے کی آزادی،،،

(١) برہمن کو پورے ہندوستان میں اور باہر ممالک میں کہیں بھی گھومنے پھرنے کا حق حاصل ہو گا جس کا پورا خرچہ ویش سماج کے لوگوں کو اٹھا نا پڑے گا،
(٢) دیگر تمام طبقات کے لوگ صرف ہندوستان میں گھوم پھر سکتے ہیں،ان کو باہر ممالک میں جانے کی اجازت نہیں دی جائے گی،
اگر ان کا کوئی رشتے دار باہر ممالک میں رہتے ہیں توان کو ہندوستان آنے کی اجازت نہیں ہوگی اور ان کے ودیشی رشتے دار بھارت نہیں آ سکیں گے،،

(٣) ہوائی جہاز سے صرف برہمن ہی سفر کر سکتے ہیں،
چھتری ریل گاڑی سے،ویش بس سے اور شودر ساںٔیکل و تانگے سے سفر کر یں گے،اور برہمن کے سفر کا سارا خرچہ ویشوں کو اٹھا نا پڑے گا،

(8) سوچنا( پیغام رسانی کے آلات)کا ادھیکار،،

موبائل فون اور انٹرنیٹ کا استعمال صرف برہمن ہی کر سکتا ہے،باقی لوگ صرف ٹیلیویژن ہی دیکھ سکتے ہیں،

(9) سنپتی (مال و دولت) کا ادھیکار،،

(١) برہمن جہاں چاہے رہ سکتا ہے،
 اگر اس کو کسی کا گھر پسند آ جاتا ہے تو برہمن وہاں پر بنا کرایہ دئیے جب تک چاہے رہ سکتا ہے بلکہ اس دوران برہمن کے کھانے پینے کی ذمہ داری مکان مالک کی ہو گی،،

(٢) اگر برہمن کو کوئی گھر بہت زیادہ پسند آجاتی ہے اور اس کو لینا چاہیے تو مکان مالک کو وہ گھر برہمن کو دان دینا پڑے گا،

(٣) برہمن کو کسی کی گاڑی یا کوئی سامان پسند آجاتا ہے تو مالک کو وہ گاڑی یا سامان برہمن کو دان دینا پڑے گا،،

(10) سرکاری سیواؤں کا پراؤدھان،،

(١) برہمن کو ہر سرکاری وبھاگ کا پرمکھ بنایا جائے گا،جیسے ضلع کا ڈی ایم،یا ایس پی،
کسی پراںٔیویٹ سنستھا کا منیجنگ ،
ڈائریکٹر،کسی اسکول کا پردھان دھیاپک اور کسی فوج کا کمانڈر وغیرہ،
(٢) چھتریوں کی بھرتی بھارتی سینا کے نچلی پدوں پر کی جائے گی،
جس سے وہ سیما پر کھڑے ہو کر دیش کی رکچہ کریں گے،اور اپنی جان کی بازی لگا دیں گے،
(٣) ویش سماج ساری دکانیں چلا ںٔیں گے،چاہے وہ سبزی کی ریڑھی ہو،پنچر کی دکان یا کوئی بڑی دکان،
(٤) شودر طبقہ کے لوگ مزدوری اور کسانوں کا کام کریں گے اور دیش کو صاف ستھرا رکھنے میں اپنی جان جی لگا دیں گے،
ان کا کام صرف سیوا کر نا اور گندگی کی صفائی کرنا ہے،

(11) نیایٔے (انصاف)ووستھا،،
انصاف کا ووستھا پوری طرح سے برہمن کے ہاتھوں میں رہے گا،
سپریم کورٹ سے لیکر ڈسٹرکٹ کورٹ کے سبھی جج برہمن ہو نگے،
آج کل ویش سماج کے بھی کئی لوگ جج بن گئے ہیں اور انھوں نے نیایٔے ووستھا کو ویاپار (کاروبار)بنا دیا ہے اس لیے ان سب کو ہٹا دیا جائے گا،،

(12) سزا کا قانون،
(١) قتل کی سزا:
اگر برہمن کسی کو قتل کر دیتاہے تو اس کو چتاؤنی دیکر چھوڑ دیا جا ئے گا،
اگر چھتری کسی کو قتل کر دیتاہے تو اس کو الٹا لٹکا دیا جا ئے گا جب تک کہ اس کی موت نا ہو جائے،
اگر ویش سماج کا شخص کسی کو قتل کر دیتاہے تو اس کو گاڑی میں باندھ کر تب تک گھسیٹا جائے گا جب تک کہ مر نا جائے،
اگر شودر کسی کو قتل کر ے تو اس کو سولی پر لٹکا دیا جا ئے گا،

(٢) زنا کی سزا:۔
اگر برہمن کو کسی بھی طبقہ کی کوئی لڑکی(چاہے وہ شادی شدہ ہو یا غیر شادی شدہ) پسند آجاتی ہے تو وہ اس کے ساتھ بے جھجھک رہ سکتا ہے،اور سمبندھ بنا سکتا ہے،لڑکی کے گھر میں بھی رہ سکتا ہے اور لڑکی کو اپنے گھر میں بھی رکھ سکتا ہے،اورجب تک چاہے رہ سکتا ہے،
برہمن کو اس لڑکی سے شادی پر مجبور نہیں کیا جائے گا اور نا ہی اس پر بلاتکار کا کوئی آروپ لگے گا،

اگر کوئی چھتری کسی کے ساتھ زنا کرتا ہے تو سزا کے طور پر اس کا لنگ (اعضاء تناسل)١,انچ کاٹ دیا جا ئے گا،
اگر ویش زنا کرتا ہے تو اس کا لنگ ٢,انچ کاٹ دیا جا ئے گا،اور اگر شودر زنا کرتا ہے تو اس کا پورا لنگ کاٹ دیا جا ئے گا،

(٣) چوری،ڈکیتی،،

اگر برہمن چوری کرتا ہے تو چوری کا سامان دان سمجھتے ہوئے برہمن کو معاف کر دیا جا ئے گا،
اور چھتری چوری کرتا ہے تو سو ڈنڈا مارا جائے گا،
اور ویش چوری کرے گا تو پانچ سو ڈنڈا مارا جائے گا،اور شودر چوری کرے گا تو ایک ہزار ڈنڈے مارنے کی سزا ملے گی،

(13) راشٹریہ بھاشہ،،

ہندوستان کی راشٹریہ بھاشہ ہندی ہو گی جسے ہر ہندوستانی کو سیکھنا اور بولنا ہو گا،اور سائنسکرت بھی انوواریہ (ضروری) ہو گی،اور دس سال بعد سائنسکرت کو راشٹریہ بھاشہ بنا دیا جا ئے گا.




تاریخ کبھی عذر قبول نہیں کرتی !

تاریخ کبھی عذر قبول نہیں کرتی

کتنا در ناک منظر تھا جب زنجیروں میں جکڑےخلیفہ بغداد معتصم باللہ کو چنگیزخان کے پوتے ہلاکوخان کےسامنے پیش کیا گیا!

تاریخ گواہ ہے جب جب مسلمان جہاد کرتے رہے عزتیں پاتے رہے رفعتیں بلندیاں ان کے قدم چومتی رہیں

مسلمانوں نے ہمیشہ ملک وملت کے دفاع پر دل کھول کر خرچ کیا بھوکے رہنا پسند کرلیا لیکن دفاعی پوزیشن کو مضبوط رکھا

نبیِ مکرم امام الانبیا امام المجاہدینﷺ جب اس دنیا سے رخصت ہونے لگے تو گھرکا دیا جلانے کے لٸے تیل نہ تھا
لیکن نو مضبوط تلواریں گھرکی دیواروں کے ساتھ لٹک رہی تھیں
اسی طرح خلفاٸے راشدین پیوند لگے کپڑے پہننے میں عار محسوس نہ کرتے لیکن دفاعی اداروں اپنے سپاہیوں مجاہدین پر دل کھول کرخرچ کرتےرہے

مسلم فاتحین جنہیں تاریخ سنہرے حروف سے یاد کرتی ہے عیاش نہ تھے مال ودولت ہیرے جواہرات اور عورتوں کے رسیا نہ تھے

لیکن جہاں تاریخ مسلم فاتحین ومجاہدین کاذکر سنہرے حروف سے کرتی ہے وہیں ایسے بدبخت بھی ہیں جو تاریخ کا سیاہ باب ٹھہرے!

جن کی عیاشیاں ہیرے جواہرات مال ودولت اور عوتوں کے شوق نے جہاں انہیں ذلیل وخوار کیا وہیں مسلمانوں کے سرشرم سے جھکاٸے

لیکن ایسے مکروہ ذلیل وخوار نام نہاد مسلم حکمران ہمارےلٸے سبق چھوڑگٸے ہمیں ان کےکرتوتوں سے بہت سے سبق ملتے ہیں

9صفر 656ھ/7فروری1258 ٕ

کو چنگیز خان کا پوتا ہلاکوخان بغداد میں داخل ہوا،
اس نے عباسی خلیفہ معتصم باللہ کو قتل کرکے خلافت عباسیہ کاخاتمہ کردیا،

اس کی فوج کے ہاتھوں بغداداور اس کے گردو نواح میں ایک کروڑ6لاکھ مسلمان قتل ہوٸے

تاریخ کبھی عذر قبول نہیں کرتی!

تاریخِ اسلام کا کتنا عبرت ناک منظر تھا جب معتصم باللہ
آہنی زنجیروں اور بیڑیوں میں جکڑا چنگیز خان کے
پوتے ہلاکو خان کے سامنے کھڑا تھا.

کھانے کا وقت آیا تو ہلاکو خان نے خود سادہ برتن
میں کھانا کھایا اورخلیفہ کے سامنے سونے کی طشتریوں
میں ہیرےجواہرات رکھ دیئے.

پھر معتصم سے کہا!
جو سوناچاندی تم جمع کرتےتھے اُسے کھاؤ!
بغداد کا تاج دار بے چارگی و بے بسی کی تصویر بنا کھڑا
تھا بولا میں سونا کیسے کھاؤں؟

ہلاکو نے فوراً کہا!
پھر تم نے یہ سونا اور چاندی جمع کیوں کیا تھا!
وہ مسلمان جسےاُسکا دین ہتھیار بنانےاورگھوڑے
پالنےکیلئے ترغیب دیتا تھا کچھ جواب نہ دے سکا،
ہلاکو خان نےنظریں گھماکرمحل کی جالیاں اورمضبوط
دروازے دیکھے!

اور سوال کیا ؟
تم نے اِن جالیوں کو پگھلا کر آھنی تیر کیوں نہ بنائے؟
تم نے یہ جواھرات جمع کرنےکی بجائےاپنے سپاہیوں کو
رقم کیوں نہ دی تاکہ وہ جانبازی اور دلیری سے میری
افواج کا مقابلہ کرتے ؟

خلیفہ نےتاسف سے جواب دیا!
”اللہ کی یہی مرضی تھی“
ہلاکو نے کڑک دار لہجے میں کہا!
پھر جو تمہارے ساتھ ھونے والا ھےوہ بھی خدا ھی
کی مرضی ھو گی!
پھر ہلاکو خان نے معتصم باللہ کو مخصوص لبادےمیں
لپیٹ کر گھوڑوں کی ٹاپوں تلے روند ڈالاا وربغداد کوقبرستان بنا ڈالا.

ہلاکو نے کہا!
آج میں نے بغداد کو صفحہ ہستی سے مٹا ڈالا ھے اوراب دنیا کی کوئی طاقت اسے پہلے والا بغداد نہیں بنا سکتی اور ایسا ہی ہوا.

تاریخ تو فتوحات گنتی ہے!

محل، لباس، ہیرےجواہرات اور انواع و اقسام کے لذیذ کھانے نہیں!

تصور کریں ،
جب یورپ کے چپے چپے پر تجربہ گاہیں
اور تحقیقی مراکز قائم ہو رہے تھے،تب یہاں
ایک شہنشاہ دولت کا سہارا لیکر اپنی محبوبہ کی یاد میں
تاج محل تعمیر کروا رھا تھا!
 اور اسی دوران برطانیہ
کا بادشاہ اپنی ملکہ کے دوران, ڈلیوری فوت ہوجانے پرریسرچ کے لیئے،برطانیہ میں کنگ ایڈورڈ میڈیکل
سکول بنوا رہا تھا!

جب مغرب میں علوم و فنون کے بم پھٹ رہے تھے،تب
یہاں تان سین جیسےگوٸیے نت نئے راگ ایجادکر رہے تھے،
اور نوخیز خوبصورت و پر کشش رقاصائیں شاہی درباروں کی زینت و شان اور وی آئی پیز تھیں!
جب انگریزوں،فرانسیسیوں اور پرتگالیوں کے بحری بیڑے برصغیر کےدروازوں پر دستک دے رہے تھے ,, تب
ہمارے اَرباب اختیار شراب و کباب اور چنگ و رباب سےمدہوش پڑے تھے !
تن آسانی ،عیش کوشی اور عیش پسندی نےکہیں کانہیں چھوڑا  ھمارا بوسیدہ اور دیمک زدہ نظام پھیلتا چلا گیاکیونکہ تاریخ کو اِس بات سےکوئی غرض نہیں ہوتی
کہ حکمرانوں کی تجوریاں بھری ھیں  یا خالی ؟
شہنشاہوں کےتاج میں ہیرے جڑے ہیں یا نہیں ؟
درباروں میں خوشامدیوں ، مراثیوں ، طبلہ نوازوں
طوائفوں ، وظیفہ خوار شاعروں اور جی حضوریوں کا
جھرمٹ ہے یا نہیں؟
تاریخ کوصرف کامیابیوں سےغرض ہوتی ھے
اور تاریخ کبھی عذر قبول نہیں کرتی!





سلطان شیر شاہ سوری

‏(رفاہِ عامہ کا علمبردار)

سلطان شیر شاہ سوری!

دورِ حکومت!

17 مئی 1540ء تا 22 مئی 1545ء

شیرشاہ سوری کا اصل نام فرید خان تھا،جو نسلاً سوری پٹھان تھے،شیر شاہ سوری کی پیدائش 1486 ءمیں ہوئی۔ آپ کے والد کا نام حسن خان سوری تھا۔شیر شاہ سوری کے آباء کا تعلق افغان قبیلہ سورسے تھا۔ دہلی میں جب لودھی خاندان جو کہ نسلاً افغان تھے، کی حکومت قائم ہوئی تو بہت سے افغان سردار دہلی کی طرف کھنچے چلے آئے ۔ انہی سرداروں میں شیر شاہ کے دادا ابراہیم خان سوری بھی تھے ۔ شیر شاہ کے والد حسن خان کو سکندر لودھی نے سہسرام کی جاگیر عطا کی تھی۔ شیر شاہ اپنے والد کے آٹھویں فرزند تھے۔ جب دہلی کے تخت پر قابض ہوئے تو شیر شاہ کا لقب اختیار کیا اور سوری خاندان (سوری سلطنت) کی بنیاد رکھی۔ فرید خان (شیرشاہ) کا رجحان بچپن ہی سے حاکمانہ رہا۔ وہ بچپن میں گھر سے فرار ہوکر جونپو ر کے نواب کے یہاں ملازمت کرنے چلے گئے۔ شیر شاہ کے والد نے اصرار کیا کہ تعلیم کی خاطر واپس آجائے۔ اس پرفرید خان نے واپس جانے سے منع کردیا اور جونپور میں تعلیم مکمل کرنے پر اسرار کیا۔ جونپور میں رہتے ہوئے اپنی تعلیم مکمل کی اور فن سپاہ گیری میں بھی مہارت حاصل کی ۔ بعد ازاں محکمۂ مالیات سے جاگیر کے نظم ونسق کی تربیت حاصل کی اور بہار کے ایک نواب بہار خاں لوہانی کے یہاں ملازمت اختیار کرلی۔ اسی دوران ایک دفعہ فرید خان کا سامنا ایک شیر سے ہوگیا۔ فرید خان نے تنہا ہی اس شیر کا کام تمام کردیا۔اس پر نواب بہار خان لوہانی نے انھیں
 ’’ شیر خان ‘‘
کا لقب عطا کیا اور اپنے لڑکے شہزادہ جمال خان کے لیے اتالیق کی حیثیت سے تقرر کیا۔

جب ہند میں مغلوں کی آمد ہوئی اور لودھی خاندان کا خاتمہ ہوا تب شیر شاہ مغلوں کی جنگی مہارت سے کافی متاثر ہوکر سلطنتِ مغلیہ کے بانی
 ”ظہیر الدین محمد بابر“
کی فوج میں شامل ہوگئے،شیر شاہ کی اعلیٰ صلاحیتوں کو دیکھتے ہوئے ظہیرالدن بابر نے اسے سہسرام کا نظم و نسق سنبھالنے کی ذمہ داری سونپی،کہا جاتا ہے کہ ایک دفعہ شاہی دستر خوان پر شیر شاہ نے ”بابر“ بادشاہ کےسامنے دسترخوان سے بلا تکلف تلوار سے گوشت کاٹ کا کھاناشروع کردیا جو بادشاہ بابر کو ناگوار گزرا،بابرکو اسی وقت فرید خان ( شیر شاہ) کے دل میں مغل حکمرانوں کے لیے نفرت کا اندازہ ہوچکا تھا،شیرخان کی آزادانہ طبیعت بابر کی ماتحتی زیادہ دن برداشت نہ کرسکی اور وہ جلد ہی بہار لوٹ آئے اورکم سن شہزادہ جمال خان جو کہ نواب بن چکے تھے، کی اتالیقی پر دوبارہ فائز ہوگئے۔ ریاست کا سارا نظم شیر خان کے ہاتھوں میں آگیا اور جمال خان برائے نام نواب رہ گیا، جسے دیکھ کر نواب کے بھی دل میں اندیشہ پیدا ہونے لگا۔اسی درمیان شیر خان نے چنار کے قلعہ دار کی بیوہ سے شادی کی جس کے بدلے میں چنار کا قلعہ شیر خان کے قبضہ میں آگیا۔
شیر خان کے بڑھتے رسوخ کو جمال خان اور اس کے افغان امراء برادشت نہیں کرپائے ۔انھوں نے شیر خان کے خلاف بنگال کے نواب محمود شاہ سے مدد طلب کی، لیکن قسمت شیر خان کے ساتھ رہی۔ افغان امراء و نواب بنگال شکست سے دوچار ہوئے۔ شیرخان کے جنگی جوہر میں اضافہ ہونے لگا۔ مغل بادشاہ ہمایوں جب گجرات کی مہم پر تھا تب موقع سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے شیر خان نے (1538 میں) بنگال پر حملہ کردیا۔ نواب بنگال اس کا مقابلہ نہ کرسکا اور بھاری تاوان اور کچھ اہم علاقے شیر خان کے قبضے میں دے کر صلح کرلی۔ ہمایوں کو حالات کا علم ہوا تو وہ شیرخان سے مقابلہ کرنے کے لیے آپہنچا، مگر شیر خان کے سامنے ٹک نہ پایا اور شیر خان کو بطور نواب قبول کر کے واپس چلا گیا۔ لیکن شیرخان نوابیت پر اکتفا کرنے والوں میں سے نہیں تھا۔ اس نے دسمبر 1539 میں اپنی بادشاہت کااعلان کردیا اور سلطان العادل کا لقب اختیار کیا ۔ اب فرید خان سوری شیرخان سے شیر شاہ سوری بن گیا۔ شیر شاہ نے سوری خاندان کی بنیاد رکھی۔ ایک سال بعد ہمایوں نے دوبارہ (مئی 1540) میں شیر شاہ پر حملہ کیا مگر سخت ناکامی ہاتھ آئی اور سارا شمالی ہند شیر شاہ کے زیر تسلط آگیا۔ہمایوں جان بچا کر بھاگنے پر مجبور ہوگیا۔ افغان سردار جو ایک دوسرے کو کم تر ثابت کرنے کی خاطر ہمیشہ خانہ جنگی میں مصروف رہتے تھے، شیر شاہ نے سلطان بنتے ہی تمام افغان سرداروں میں اتحاد قائم کرنے کی کو شش کی، جس میں کافی حد تک وہ کامیاب بھی ہوا۔ بادشاہ بننے کے بعد شیر شاہ کو بہت کم وقت مل پایا۔ ایک جنگی مہم کے دوران شیر شاہ کے بارود کے ذخیرہ میں آگ لگ گئی جس سے شیر شاہ شدید زخمی ہوگئے اور اسی حالت میں 22 مئی 1545 میں انتقال کر گئے۔ انھیں سہسرام (بہار) میں دفن کیا گیا۔
شیر شاہ سوری کے بعد سوری سلطنت کو کوئی بھی قابل جانشین نہ مل سکا۔ 1545 سے لے کر 1556 کے مختصر عرصہ میں اس خاندان کے چھ فرمانروا تخت نشین ہوئے، جن میں سے بعض کے حصے میں صرف چند ماہ کی حکومت آئی ۔ اس کے بعد ہمایوں نے دوبارہ حملہ کر کے سوری سلطنت سے تخت واپس حاصل کرلیا ۔

شیر شاہ کے کارنامے:
شیرشاہ سوری کی شخصیت اور ان کی خوبیاں ان کے مخالفین کو بھی ان کا مداح بنا دیتی ہیں۔ شیر شاہ کو حکومت کے لیے بہت کم وقت مل پایا (دسمبر 1539 سے 22 مئی 1545)، یعنی تقریباً پانچ سال ایک ماہ، لیکن اس مختصر سی مدت میں بھی شیر شاہ سوری نے وہ کارنامے و اصلاحات انجام دیے جن کی مثال ہندوستان کے کسی حکمراں کے دور میں نہیں ملتی، چاہے اشوک اعظم ہویا بادشاہ اکبر، یا پھر اورنگ زیب ہی کیوں نہ ہو۔ شیر شاہ نے ریاست سے جرائم کاخاتمہ کرنے کے لیے کڑے اقدامات کیے نیز ملوث پائے گئے افراد کے لیے کڑی سزائیں تجویز کیں۔ سپاہیوں کو نقد تنخواہ دینے کا نظام قائم کیا۔ سکوں کے نظام میں بہتری لائی گئی ۔ سونے چاندی اور تانبے کے سکوں کو رواج دیا اور ہر سکے کی قیمت متعین کی۔ شیر شاہ ایک بہادر جنرل کے ساتھ انصاف پسند ، مدبر حکمراں اور رعایا پرور بادشاہ تھے۔ ان کی انہی صفات نے انھیں عوام کی نظروں میں مقبول بنا یا۔ اپنے انہی کارناموں کی بدولت وہ تاریخ میں نمایا ں مقام رکھتے ہیں۔ ان کے کارناموں کو سراہتے ہوئے حکومت ہند نے شیرشاہ سوری کے نام سے ڈاک ٹکٹ بھی جاری کیاتھا۔

شاہراہ اعظم (جی ٹی روڈ)
شیر شاہ سوری کے عظیم کارناموں میں سے ایک کارنامہ شاہراہ اعظم کی تعمیر ہے جس کی وسعت افغانستان سے بنگلہ دیش تک ہے ۔ یہ سڑک افغانستان کے شہر کابل سے شروع ہوتی ہے اور پاکستان میں پشاور ،لاہور سے ہوتی ہوئی دہلی اور دہلی سے الٰہ باد ،بنارس، مرشد آباد سے ہوتے ہوئے کلکتہ اور پھر ڈھاکہ جاتی ہے۔

شاہراہوں کی حفاظت اور مسافروں کو سہولت:
شیر شاہ نے ملک کے تمام اہم راستوں کی حفاظت کے لیے راستوں پر جگہ جگہ سرائیں تعمیر کروائی جہاں مسافروں ،قافلوں کے ٹھہرنے کا انتظام ،مسجد، پانی کے لیے کنواں ، رہزنوں سے حفاظت کے لیے حفاظتی دستہ ہمیشہ موجود رہتا تھا۔ ہر ایک کوس (تقریباً ساڑھے تین کلو میٹر) پر ایک سرا یا فوجی چھائونی ہوتی جو راہگیروں کو تحفظ فراہم کرتی تھی۔ہر سرا ئے میں ہندو مسلم دونوں عوام کے اعتبار سے مخصوص طعام کا نظم کیا جاتا۔ اس کے علاوہ انہوں نے سڑکوں کے دونوں کنارے پھل دار درخت لگوائے۔

ڈاک کے نظام کی اصلاح:
ڈاک وقت پر پہنچے اور حکومتی انتظامات میں تیزی آئے، اس کے لیے جگہ جگہ راستوں پر ڈاک کے لیے مخصوص چھائونیاں قائم کیں، جہاں ڈاک کے ذمہ داران کے لیے تازہ دم گھوڑے ہر وقت موجود رہتے تھے۔ تجارتی قافلوں کو قزاقوں کے ڈر سے نجات ملی۔

زرعی اصلاحات:
شیر شاہ نے زراعت کے میدان میں بھی کافی اصلاحات کیں۔ ملک بھر میں کسانوں کی زمین کی پیمائش کے لیے ایک پیمانہ مقرر کیا اور اسی پیمائش کی مناسبت سے فصلوں پر ٹیکس کی شرح عائد کی۔اگر کسی سال فصل اچھی نہ ہوتی یا کسانوں کو نقصان ہوتا تو ٹیکس معاف کردیا جاتا اور سرکاری خزانے سے کسانوں کو معاوضہ دیا جاتا۔ محصول کے نظام کو بہتر بنایا۔ بہتر انتظامیہ کے پیش نظر ریاست کی مختلف صوبوں، ضلعوں ،پرگنوں میں تقسیم کی اور ہر حصہ پر ایماندار عاملوں کا تقرر کیا۔

بلاشبہ شیر شاہ سوری کا دور ہندوستان کا ایک سنہری دور تھا۔شیر شاہ سوری ایسا فرماں روا تھا جس کی ستائش نامور مؤرخین اور عالمی مبصرین کرتے رہے ہیں۔ وہ ہندوستان کا پہلا حکمران تھا جس نے عوامی فلاح کی جانب اپنی بھرپور توجہ دی اور ایسے ایسے کارنامے انجام دیے جو تاریخ کی کتب میں سنہرے حروف میں تو لکھے ہی گئے، ان کے نقوش آج تک موجود ہیں جبکہ مغل بادشاہ جلال الدین محمد اکبر نے شیرشاہ سوری کے وضع کردہ نظامِ طریق حکومت اور پالیسیوؤں کو بہت پسند کیااکبرنےاپنے دور حکومت میں شیر شاہ کےکچھ اصول بھی رائج کیےتھے.

Tuesday, November 19, 2019

عجیب لوگ !

‏دل میں کسی غلط فہمی کی وجہ سے نفرتیں پالنا اور کینہ رکھنا انسان کو پستیوں کی طرف لے کر جاتا ہے جو لوگ ہر وقت Positivity کی باتیں کرتے ہیں وہی لوگ Nagativity کا شکار ہوتے ہیں ۔ خود کو اس غلط فہمی سے باہر نکالیے اپنے ساتھ پیش آنے والے حادثات اور رویوں کے ہم خود ذمہ دار ہوتے ہیں !

 #Samar ✍️


Saturday, November 16, 2019

سیاہ محبت سفید محبت

سیاہ محبت کا ذکر کیا تو بات سفید محبت تک چلی گئی، سفید محبت لکھتے ہوئے کئی مقامات آئے جہاں تشنگی سی محسوس ہوئی، لیکن چونکہ موقع محل نہ تھا اس لئے بوجوہ اشاروں کنایوں سے کام لیا۔
 محبت کے دیگر رنگ جو بیان کئے وہ گرچہ افلاک سے ملاتے ہیں مگر ارضی ہیں لیکن آج جس رنگ کا ذکر کررہا ہوں اس کا تعلق عرشِ بریں سے ہے اور اس رنگ کا بیان کرنا انسانی بساط و دسترس سے ماورا ہے، میں دِل پہ اُتری سوچوں کو یہ سوچ کر صفحوں پر اُتار رہا ہوں کہ شاید کسی صاحبِ رنگ و نظر کی نظر پڑ جائے اور اُن کی نظروں میں آ کر میں بھی رنگا جاؤں۔

 صبغۃ اللہ ومن احسن من اللہ صبغۃ(البقرۃ 138)
 اللہ کا رنگ اختیار کرو اور اللہ تعالٰی سے اچھا رنگ کس کا ہوگا۔

 آج ہم سب سے بلند وبالا ارفع و اعلٰی رنگ یعنی اللہ کے رنگ کی باتیں کریں گے گو کہ ہم یہ تو نہیں جان پائیں گے کہ اللہ کا رنگ ہے کیا۔ ویسے بھی ہر بات جاننا، جاننے کی کھوج کرنا ضروری نہیں ہوتا، کچھ باتیں بس ماننے کے لئے ہوتی ہیں۔
 اس عالمِ رنگ و بُو میں خدا تعالٰی نے اَن گنت رنگ نازل فرمائے ہیں، کیا خُدا کا رنگ بھی اس کائنات میں کہیں ظاہر ہے یا وہ بھی ذاتِ باری تعالٰی کی طرح پوشیدہ و پنہاں ہے۔ کچھ دوستوں کا ماننا ہے کہ سفید رنگ مجازی محبت سے تعلق نہیں رکھتا بلکہ یہ حق کا رنگ ہے، کئی لوگوں کا ماننا ہے کہ خُدا نُور ہے اور نُور سفید رنگ کا ہوتا ہے۔

 جیسا کہ ارشادِ ربّانی ہے:
 خدا آسمانوں اور زمین کا نور ہے۔ اس کے نور کی مثال ایسی ہے کہ گویا ایک طاق ہے جس میں چراغ ہے۔ اور چراغ ایک قندیل میں ہے۔ اور قندیل (ایسی صاف شفاف ہے کہ) گویا موتی کا سا چمکتا ہوا تارہ ہے اس میں ایک مبارک درخت کا تیل جلایا جاتا ہے (یعنی) زیتون کہ نہ مشرق کی طرف ہے نہ مغرب کی طرف۔ (ایسا معلوم ہوتا ہے کہ) اس کا تیل خواہ آگ اسے نہ بھی چھوئے جلنے کو تیار ہے (پڑی) روشنی پر روشنی (ہو رہی ہے) خدا اپنے نور سے جس کو چاہتا ہے سیدھی راہ دکھاتا ہے۔ اور خدا نے (جو مثالیں) بیان فرماتا ہے (تو) لوگوں کے (سمجھانے کے) لئے اور خدا ہر چیز سے واقف ہے
 (النور-35)
اس آیتِ مُبارکہ میں اللہ تعالٰی نے اپنی ذات کو نُور ارشاد فرمایا ہے، لیکن اب بھی مجھے ابہام ہے کہ یہاں جس نُور اور روشنی کا ذکر فرمایا گیاہے کیا وہ ہماری زمینی، کائناتی روشنی کی مانند ہے یا خدا کا نُور، اس کی روشنی بھی اس ذاتِ لا ریب کی طرح ہماری سوچوں، تصورات، خیالات، مُشاہدات سے ماورا ہے۔
 ہماری اس کائنات میں روشنی کے ذیادہ تر مآخذ پیلاہٹ مائل روشنی کا اخراج کرتے ہیں اور چند ایک سفید، دودھیا روشنی کے حامل ہیں۔ لیکن چونکہ پیلی روشنی میں جلالی عنصر نمایاں ہے اور چاندنی کی سفید روشنی جمالی عنصر لئے ہوتی ہے
 اسی لئے جب روشنی کا ذکر ہوتا ہے، نُور کی بات کی جاتی ہے تو لا محالہ ہمارا تصور اسے سفید روشنی سے منسلک کردیتا ہے۔
 اسی لئے جب سے تاریخِ انسانی مرتّب ہونا شروع ہوئی، دُنیا کے بیشتر مقامات پرسیاہی کو طاغوتی طاقتوں کا استعارہ اور سفیدی کو نُور کی علامت سمجھا گیا۔ گو کہ بیشتر افریقی اور ایشیائی مؤرخین اسے سفید چمڑی والی مغربی طاقتوں کی سازش قرار دیتے ہیں اور ان کے نزدیک سیاہ رنگ شیطان کے لئے مخصوص نہیں۔ لیکن آج بھی اکثریت کا ماننا ہے کہ سفید رنگ ہی خُدا کا رنگ ہے کیونکہ یہ خالص ترین ہے، یہ روشنیوں کا رنگ ہے، یہ عشقِ مجازی کا اوّلین رنگ ہے۔
 ان سب باتوں کے باعث ہم سفید کو ہی خُدا کا رنگ قرار دے دیتے ہیں اور دیگر رنگوں کو کبھی زیرِ غور بھی نہیں لاتے۔ میں ذاتی طور پر اس رائے سے اتفاق نہیں رکھتا، اگر ہم اقوامِ عالم کا مطالعہ کریں تو دُنیا کے بیشتر مقامات اور اقوام و مذاہبِ عالم سیاہ رنگ کو گناہ کا رنگ قرار دیتی ہیں، اسے رَد ہوؤں کے سردار یعنی شیطان الرجیم سے منسوب کیا جاتا ہےلیکن ہندوستان اور افریقہ کی کئی اقوام و مذاہب سیاہ رنگ کو خُدا کا رنگ قرار دیتی ہیں اور اسے سب رنگوں سے برتر مانتی ہیں۔
 سفید رنگ تمام رنگوں کے انضمام سے ظہور پذیر ہوتا ہے اس کے برعکس سیاہ رنگ تمام رنگوں کےناپید ہونے کا نام ہے، (نوٹ: پچھلے مضامین میں اپنی کم علمی کی بناء پر یہ بات بالکل اُلٹ بیان ہوگئی لیکن تصحیح فرمالیں کہ ماہرین کی اکثریت کا خیال ہے کہ جب سب رنگوں کو ملایا جاتا ہے تو سفید رنگ حاصل ہوتا ہے اور جہاں کوئی رنگ نہیں ہوتا تو سیاہ رنگ ظہور میں آتا ہے، غلطی کے لئےمعذرت خواہ ہوں)
 ایک ایسا رنگ جس میں ہر رنگ اپنا آپ کھو دیتا ہے، سفید رنگ پر کسی بھی رنگ کو چڑھانا بہت آسان ہے لیکن سیاہ رنگ پر کوئی اور رنگ چڑھے یہ ناممکن نہیں لیکن مشکل ترین امر ہے۔
 سفید رنگ کے خالص ہونے کی بناء پر ہم اسے خدا کے اخلاص سے منسلک کر دیتے ہیں، لیکن اپنی تمام مخلوق کو اپنے میں سمولینا بھی تو خدا کی صفت ہے جو کہ سیاہ رنگ کا وصف ہے، جس طرح صفر سے کسی بھی عدد کو ضرب دینے پر صفر ہی حاصل ہوتا ہے اسی طرح کالے سے کسی بھی رنگ کو ضرب دیں، حاصل کالا ہی ہوگا۔
 کالے رنگ کے بارے میں میرے بابا جی اپنی کتاب پِیا رنگ کالا میں لکھتے ہیں:
 "کالی مرچ، کالا نمک، کالا گُڑ، کالے چنے، کالا زیتون، کالی کلونجی، کالا گلاب اور مشکی گھوڑا مجھے بَھلے لگتے ہیں۔ کالے رنگ سے نسبتِ خاص رکھنے والے کے لئے رُوحانی اور باطنی علوم و اسرار جاننے سیکھنے کے لئے آسانیاں پیدا ہوجاتی ہیں۔ سیاہ رنگ کا لباس پہننے والا شیطان کی دستبرد سے بچا رہتا ہے۔ اُس میں عِجز، انکساری، خاکساری اور درویشانہ خُو، خصلت پیدا ہونا شروع
ہو جاتی ہے۔ انسان تو انسان، چرند پرند، چوپائے اور حشرات الارض تک احترام، عزت اور حفاظت کرتے ہیں۔ سیاہ لباس پہننے والا اللہ کے خوف کو محسوس کرتا ہے، عبادت و ریاضت کی جانب رغبت حاصل کرتا ہے۔ یہ رنگ اسے اپنی خواہشات اور سِفلی جذبات و خیالات کو کنٹرول کرنے میں ممدو معاون ثابت ہوتا ہے لیکن اس رنگ کے کچھ مضرّات بھی ہیں۔ قدرت نے اگر اس کے نقیض پیدا نہ کئے ہوتے تو ہر ہما شما اسے اپنا لیتا۔ آپ نے سُنا، دیکھا ہوگا کہ بہت سے گھرانوں میں خاندان کے بڑے بزرگوں کی جانب سے کالا رنگ پہننے کی اجازت نہیں ہوتی۔ کچھ لوگ اسے صرف اہلِ تشیع کا مخصوص رنگ سمجھ کر محض ضد اور جاہلیت کی بناء پہ اس سے کَد کھاتے ہیں، ویسے بِلا سوچے سمجھے ہر کسی کو اسے اپنانا بھی نہیں چاہیئے تا آنکہ کوئی صاحبِ انگ رنگ، اس رنگ کو اختیار کرنے کی اجازت نہ دے، ویسے شوقیہ طور پر پہننا اور بات ہے۔۔۔"

 ان باتوں کو بیان کرنے کا مقصد یہ تھا کہ صرف سفید ہی خُدا کے رنگ کے لئے واحد امیدوار نہیں۔سفید کے ساتھ ساتھ سیاہ اوردیگر لا تعداد رنگ اس اعزاز کے دعویدار ہیں۔ زرد، نارنجی، سبز، سُرخ، طلائی، نقرئی، وغیرہ وغیرہ۔
 سفید و سیاہ کے علاوہ ایک تیسرا رنگ بھی ہے ۔ ۔ ۔ "بے رنگ"۔۔۔
 بعض لوگ خُدا کی روشنی کو قوسِ قزح کی سی روشنی بھی قراردیتے ہیں، ایک ایسی چمک جس میں ہر رنگ موجود ہے، ہر بندے کے لئے اس کے مزاج و ضروریات کے موافق ایک رنگ، جو تَن اُجلا ہو اسے یہ روشنی سفید دکھائی دے، جو مَن جَلا ہو اسے سیاہ نظر آئے۔
 ہم اسے بے رنگ روشنی بھی کہہ سکتے ہیں،صاف شفاف اُجلے سے آئینے کی مانند، زندگی کی بُنیاد خالص پانی کی طرح کہ جس کا کوئی رنگ نہیں ہوتا، ارضی رنگوں میں کسی حد تک نقرئی رنگ کے مماثل۔
 حکایت ہے کہ ایک بادشاہ نے چینی اور رُومی رنگسازوں کو بُلایا اور انکی کاریگری کا امتحان لینے کے لئے ایک مقابلے کا انعقاد کیا، اس نے رنگ ریزوں کی ان دونوں جماعتوں کو ایک دیوار پر اپنی مہارت کا جلوہ دکھانے کا حکم دیا اور ان دونوں دیواروں کے بیچ ایک پردہ لگوادیا۔
 دونوں جماعتیں پسِ پردہ دی گئی دیوار پر رنگ بکھیرنے میں مصروف ہو گئیں، جب وقتِ مقررہ پر پہلے رومیوں کی تخلیق سے پردہ ہٹایا گیا تو لوگ عش عش کر اٹھے، بے شمار خوش نما رنگوں کی ایک بہار تھی اور نہایت ہی دلکش بیل بُوٹے تشکیل دیئے گئے تھے، عوام نے سوچا کہ بہت ہی مشکل ہے کہ چینی رنگ ریز اس شاہکار کو زیر کرسکیں بہر حال جب چینیوں کی تخلیق پر سے پردہ ہٹایا گیا تو جیسے پورے دربار کو سانپ سونگھ گیا، چینیوں کی دیوار پر بھی ہو بہو رومیوں کا رنگ، ان کے نقش و نگار موجود تھے، لوگ پریشان تھے کہ یہ کیا ماجرا ہوا، چینیوں نے پردے کے پیچھے سے کس طرح نقل تیار کرلی، جب ان سے پوچھا گیا تو وہ بولے کہ در اصل ہم نے اپنی دیوار پر کوئی رنگ نہیں بھرا کوئی نقش نہیں بنایا، ہم نے تو بس اسے آئینے کی طرح صیقل کردیا تاکہ جب دونوں دیواروں کے بیچ سے پردہ ہٹایا جائے تو ہماری دیوار رُومیوں کی مہارت کو بھی اپنے اند سمو لے۔
 جب انسان بھی اپنے دل کو گناہوں و اغراض کی سیاہی سے بچا کر، اسے مٹا کر سفید رنگ اختیار کر لیتا ہے تو بہت خالص ہو جاتا
ہے لیکن جب وہ اس سفید رنگ کو بھی رگڑ رگڑ کر صاف کرتا ہے، اپنے مَن کومانجھ مانجھ کر آئینے کی مثل صیقل کر لیتا ہے ، بے رنگ کرلیتا ہے تو سمجھیں کہ وہ عشقِ حقیقی کی طرف سفر شروع کر لیتا ہے، سفید محبت کا اوّلین اور خالص رنگ ہے، تو سیاہ رد ہوئی، لاحاصل، ادھوری و تشنہ محبت کی علامت۔ ضروری نہیں کہ بے رنگ کا سفر سفید سے ہی شروع ہو، خُدا تعالٰی کا اذن ہو تو سیاہی سے بھی انوار پُھوٹتے ہیں۔
 یہ مختلف رنگوں کی محبتیں مختلف دریاؤں، ندی، نالوں کی مانند ہیں اور عشقِ حقیقی گہرا سمندر۔ دریا بھلے وہ صاف شفاف، اجلے میٹھے، خالص پانی کا ہو یا غلاظتوں، آلائشوں سے گدلایا ہوا ہو۔ اگر سمت ٹھیک ہو تو گرنا تو سمندر میں ہی ہوتا ہے، البتّہ خالص پانی کا سفر ذرا تیزاور سُبک ہوتا ہے اور گدلا پانی بہت آہستگی سے اپنی منزل کی طرف بڑھتا ہے اور اسی بناء پر خالص پانی کے سمندر تک پہنچ جانے کے امکانات گدلے پانی کی بہ نسبت زیادہ ہوتے ہیں، لیکن کئی دفعہ مشاہدے میں یہ آیا ہے کہ گدلا پانی تو آہستہ آہستہ عجز و انکساری سے چلتا، اپنی آلائشوں و غلاظتوں پر کُڑھتا واصلِ سمندر ہوکر بارش کی بوندوں سا پاک صاف ہوجاتا ہے لیکن شفاف پانی بجائے اس کے کہ سمندر میں ڈُوبتا اسے اپنی صفائی و شفافی کا غرور لے ڈُوبا اور وہ راستے میں ہی کہیں رُک کر پہلے جھیل اور پھر کھڑے کھڑے گندے جوہڑ میں تبدیل ہوا۔

 القصہ مختصر میں نے خُدا کے نُور کو بے رنگ جانا ہے، ہم کسی روشنی کے رنگ کا اندازہ اس کے مآخذ کو دیکھ کر لگاتے ہیں لیکن نُورِ لَم یزل
 کا منبع و مآخذ لوگوں کی نظر سے پوشیدہ ہے، میرے جیسے عام عوام کے لئے تو کائنات کا ہر ذرّہ خدائی ذرّہ ہے اور اس کائنات کے چپّے چپّے، ذرّے ذرّے سے نُور کا نکاس و انعکاس ہو رہا ہے۔
 جس طرح خُدا کہیں نہیں ہے اور ہر جگہ ہے، وہ اپنا کوئی وجود نہیں رکھتا اور ہر چیز میں موجود ہے
 اسی طرح اس ذات کا کوئی رنگ نہیں اور ہر رنگ اسی کا ہے۔


Saturday, November 9, 2019

جاہل معاشرے کی چند جھلکیاں

‏سیرت النبیﷺ 💕۔

جاہل معاشرے کی چند جھلکیاں
پروفیسر عبدالحمید صدیقی اپنی کتاب " لائف آف محمد" (صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم) میں لکھتے ہیں کہ جب عرب تاجر اپنے تجارتی کارواں لےکر روم و ایران و شام اور ہندستان تک جاتے وہ واپسی پر عیش پرستی اور تمام بری عادات لے کر لوٹتے، شام و عراق سے لڑکیاں درآمد کی جاتیں جنہیں عیش پرستی کے لیے استعمال کیا جاتا، شھوانی خواہشات کے اس چٹخارے نے عربوں کو بلا کا اوباش اور نفس پرست بنا دیا تھا اور ان کے ہاں بدکاری اتنی رچ بس گئی تھی کہ اگر کوئی صالح شخص ان بدکاریوں اور بری عادات سے اجتناب برتتا تو اس کا مذاق اڑایا جاتا اور اسے کمینہ،  کنجوس اور غیر ملنسار قرار دے دیا جاتا۔

عرب معاشرے کی اخلاق باختگی کا ایک اور تاریک پہلو خاندانی نظام کی گراوٹ تھا، عرب کے متمول طبقے میں تو پھر بھی حالت کچھ بہتر تھی، مگر عمومی طور پر مرد عورت کا اختلاط سواۓ فحاشی اور بدکاری کے اور کچھ نہیں تھا، ایک ہی وقت میں کئی کئی عورتوں کو اپنے حرم میں داخل کرلیا جاتا، دو سگی بہنوں سے بیک وقت نکاح کرلینا اور باپ کے مرنے کے بعد سوتیلی ماں کو اپنی زوجیت میں لے لینے میں کوئی عار نہ تھا، دس دس لوگ ایک ہی عورت سے تعلقات قائم کرلیتے،  جگہ جگہ رنڈیوں اور طوائفوں کے گھر زنا اور بدکاری کے اڈے تھے، شراب نوشی اور جواء عام تھا۔

ان کی بے حیائی کا یہ عالم تھا کہ ان کی بیٹیاں تک نیم عریاں لباس میں قبائلی مخلوط مجالس میں شریک ہوتیں جہاں ان کے جسمانی اعضاء پر نہایت فحش شعر پڑھے جاتے، دنیا کی شاید ہی کوئی برائی ہو جو عربوں میں موجود نہ تھی، لہو و لعب، فسق و فجور اور قتل و غارتگری کے دلدادہ، زنا و بدکاری کے رسیا اور شراب نوشی اس قدر کہ جیسے ہر گھر ایک شراب خانہ تھا۔

عرب نہایت شقی القلب اور سنگدل تھے، جانوروں کو درختوں سے باندھ کر نشانہ بازی کی مشق کی جاتی، زندہ جانور کا کوئی حصہ کاٹ کر کھا جاتے، اسیران جنگ کے ساتھ غیر انسانی سلوک کیا جاتا، ایک ایک عضو کاٹ کر موت کے گھاٹ اتارا جاتا، دشمنوں کا جگر نکال کر کچا چبا لیا جاتا، ان کے کاسۂ سر میں شراب ڈال کر پی جاتی، مجرموں کو حد درجہ وحشیانہ سزائیں دی جاتیں۔

درحقیقت یہ اسلام کی حقانیت و سچائی کا ایک منہ بولتا ثبوت ہے کہ ایسی وحشی و جاہل قوم کو بدل کر تمام اقوام عالم کا پیشوا بنا دیا اور ان کو اخلاقی طور پر فرشتوں کے جیسا پاکیزہ بنا دیا، تاہم اخلاقی طور پر پستی اور گراوٹ کی اتھاہ گہرایوں میں ڈوبے اس معاشرے میں ایسے سلیم فطرت صالح انسان موجود تھے جو ان قبیح حرکات سے الگ تھلگ تھے۔

دوسری طرف جب انہی بدکار و بے حیا عربوں میں کچھ ایسی اخلاقی اچھائیاں بھی پائی جاتی تھیں جو ان عربوں کے لیے وجہ امتیاز تھیں۔ شجاعت عربوں میں اپنی معراج پر تھی، ان کی بہادری درحقیقت سفاکی کے درجہ تک پہنچی ہوئی تھی، کسی عرب کے لیے میدان جنگ میں تلوار کی دھار پر کٹ مرنا عزت اور شرافت کی بات تھی اور بستر پر ناک رگڑ رگڑ مرنا ذلت اور گالی سمجھا جاتا،  نہ صرف مرد بلکہ عورتیں بھی میدان جنگ میں مردوں کے دوش بدوش حصہ لیتیں۔

سخاوت میں ان کا کوئی ثانی نہ تھا، کبھی کبھی تو اپنے پاس کا آخری روپیہ تک سائل کے حوالے کردیا جاتا، مہمان نواز اس درجے کے تھے کہ اگر کسی کے پاس صرف ایک اونٹ گزر بسر کے لیے ہوتا تو اگر مہمان آ جاتے تو اسے ذبح کرکے مہمانوں کو کھلا دیا جاتا..

عرب آزادی کے دلدادہ تھے اور اپنی آزادی برقرار رکھنے میں کسی قربانی سے دریغ نہ کرتے تھے، یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ روم و ایران کی عظیم سلطنتوں کے بیچ میں ہونے کے باوجود کوئی ان کو محکوم نہ بنا سکا۔

عرب آخر درجے کے وفا پیشہ تھے، عہد و پیمان کی پابندی کو فرض سمجھا جاتا تھا اور ایفاۓ عہد میں اپنی جان و مال اور اولاد تک کو قربان کردیا جاتا تھا، جب کسی کو پناہ دے دیتے تو اپنی جان قربان کردیتے مگر اپنی پناہ میں آۓ شخص پر ایک آنچ نہ آنے دیتے۔

شاید عرب قوم کی یہ امتیازی صفات ہی تھیں کہ جن کی وجہ سے اللہ نے اس قوم کو اسلام کی داعی قوم کے طور پر فضیلت بخشی، بلاشبہ عرب قوم بدکاری و بے حیائی کی دلدل میں مکمل طور ڈوبی ہوئی تھی، مگر یہ سب وہ بری صفات تھیں جو ان کی فطرت میں شامل نہ تھیں اور انہیں ختم بھی کیا جاسکتا تھا اور اسلام کے ظہور کے بعد ختم ہو بھی گئیں، مگر کسی قوم کو نہ تو کوشش سے بہادر بنایا جاسکتا ہے نہ ہی امانت دار اور نہ ہی حریت و آزادی کا متوالا،  یہ وہ صفات ہیں جن سے عرب قوم کو اللہ نے خوب خوب نواز رکھا تھا۔


Thursday, November 7, 2019

آئی ایس آئی کا حصہ کیسے بنیں ؟

‏آئی ایس آئی کا حصہ کیسے بنیں؟

یہ سوال میرے خیال میں ایک ایسا سوال ہے جو آج اب تک مجھ سے سب سے ذیادہ پُوچھا گیا ہے بلکہ پُوچھا جاتا ہے۔

جب بھی ہمارے سامنے آئی ایس آئی کا نام آتا ہے تو ہمارے ذہن میں ‏ایک فلم سی چل پڑتی ہے جیسے آپ نےجیمز بانڈ  مُوویز دیکھی ہوں گی کہ ایک ایجنٹ ہے اسکی بڑی دہشت ہے اسکے پاس بڑی پاور ہے ،کسی کو مارتا پھرتا ہے کبھی ایک ملک کبھی دُوسرے ملک، کام کا کام اور عیش کی عیش، دولت کے انبار ہیں، دُنیا جہاں کی بہترین گاڑیاں ہیں، سب کچھ اس کے پاس ہے ‏اور بس لائف فٹ ہے اسکی واہ واہ ہورہی ہے اور دنیا اسکے کارناموں پہ حیران ہے.

نہیں پیارے ایسا نہیں ہے وہ مووی ہے ایک اسکرپٹڈ اور مکمل طور پر محفوظ ماحول میں بنائی گئی لیکن حقیقی زندگی میں ایسا نہیں ہوتا.

‏حقیقی زندگی میں سب کچھ اس کے برعکس ہوتا ہےیہاں نہ ٹھاٹھ باٹ ہے، نہ دکھاوا ،نہ واہ واہ نہ شوبازی کچھ بھی نہیں ہے.
میں جب کبھی کسی گمنام سپاہی سے متعلق لکھتا ہوں تو اسکے بعد انباکس میں اکثر پوچھا جاتا ہے کہ ہم کیسے جوائن کریں آئی ایس آئی۔

‏مجھے لکھنے میں شاید چند گھنٹے اور آپکو پڑھنے میں چند منٹ لگتے ہیں لیکن حقیقت میں ایسا نہیں حقیقت بڑی تلخ اور بڑی کربناک ہے۔جو لکھنے والے اور پڑنے والوں کے رُونگھٹےکھڑے کردےسوچیں تو جس پہ گزرتی ہے اس کا کیا حال ہوتا ہوگا۔
ہم ‏مووی میں دیکھتے ہیں کہ ایک ایجنٹ بڑی شاندار گاڑی سے  بہترین سُوٹ ، بُوٹ میں ملبوس اترتا ہے آگے پیچھے اُسکے گارڈ ہوتے ہیں واہ کمال ہے لائف ہوتو ایسی۔ لیکن رُکیے بھئی وہ مووی ہے ہُوش کی دُنیا میں آئیےحقیقت میں ایسا ہرگز نہیں ہوتا حقیقت کا یہ عالم ہے کہ ‏آپکی ہستی مستی جب تک خاک نہ ہوجائے آپ کٌندن نہیں بن سکتے۔
کہیں یہ فقیر، کہیں ملنگ گندے میلے کچیلے کپڑوں میں ملبوس ایسی حالت میں ملیں گے کہ ان کو دیکھ کر آپکو گھن آئے گی، مکھیاں انکے اُوپر بھنبھنارہی ہونگی، سڑک کنارے کبھی کچرے کے ڈھیر پر، کبھی کیچڑ میں لت ‏پت، کہیں سبزی فروش تو کہیں تپتی دھوپ میں منوں وزن اپنے کاندھوں پہ اٹھائے، کہیں مسجد کے باہر بھیک مانگتے تو کہیں دردر کی ٹویکریں کھاتے لوگوں کی گالیاں اورطعنے سہتے، نہ گرمی کی خبر نہ سردی کا ہوش، بھوک پیاس کی شدت، تپتی ہو ‏ٹھٹھرتی زمین پرجلتے جسم، کہیں گلیوں میں کُوڑا چنتے، کہیں دن بھر کاندھے پہ سامان اٹھائے گلی گلی پھرتے، یہ جاگتے ہیں انکا چین نہیں ان کا آرام نہیں، کب کھاتے ہیں کب پیتے ہیں کس کے بیٹے ہیں کس کے بھائی ہیں کس کے باپ ہیں کس کے سرکا تاج ہیں کچھ خبر نہیں
‏یہ اپنے ملک میں بھی عیش وعشرت کی زندگی تیاگ دیتےہیں ، معلوم  نہیں کب سے یہ لوگ اپنے گھروں کے پاس ہوتے ہوئے بھی اپنے گھراپنےوالدین سےدور، اپنے بہن بھائی، بچوں سے دُور ہوتے ہیں کیا کبھی آپ نے سُوچا عید کے دن جب ساری دُنیا کے مسلمان نئے کپڑے پہن کراپنی اپنی فیملز کے ساتھ عید کی

‏خوشیاں منانےمیں مگن ہوتے ہیں تو دوسری طرف کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو بذاتِ خود اور جن کا خاندان ہماری ان خوشیوں کی وجہ بنتے ہیں جس وقت ہم اپنے والدین کے گلے لگ کرعید منارہے ہوتے ہیں وہاں اس پاک وطن کی دھرتی پہ کچھ بچے کچھ والدین ایسے بھی ہوتے ہیں جن کے بچے عید کے

‏دن بھی اپنے والد کی راہ تکتے اور آنکھوں میں آنسو لیے عید گزارتے ہیں۔

وہ ماں عید کا دن بھی دروازے کو تکتے گزاردیتی ہےکہ شاید اس کا لاڈلہ بیٹا عید کے دن اسے گلے لگالے، وہ باپ جو عید کا دن اس حسرت سے گزار دیتا ہےکہ کاش عید کے دن تو اس کا بیٹا آکے اُس کاسینہ ٹھنڈا کردیتا.

‏کہیں اپنی عید کی خوشیاں ہماری خوشیوں پہ قربان کرکے عید کے دن بھی گلیوں کی خاک چھان کر اپنے بچوں کی یاد میں بس دل ہی دل میں یہ سُوچ کراپنی ساری حسرتیں دبالیتا ہے کہ ایک اُسکے بچے اپنے باپ، اسکے والدین عید کے دن اپنے ایک  بیٹے سے محروم رہیں گے لیکن پاک وطن کے کروڑوں لوگ اپنی

‏اولادوں اپنے بچوں کے ساتھ عید منائیں
بہن بھائی دستِ شفقت کے منتظرمگر وہ بیٹا دور گے،عید گزر جاتی ہے ہم خوشیاں منا کرشکر ادا کرتے ہیں کہ عید بڑی اچھی گزری کیسے اچھی گزری کبھی نہیں سُوچتے کسی نے ہماری عید کو خوبصوررت اور پرسکون بنا نے کے اپنی عید قربان کی اپنے گھروالوں کی

‏عید اور خوشیاں قربان کیں۔
ایسے بھی دیوانے ہیں کہ جب ہم اس پاک دھرتی پر خوشی سے قہقہہ لگاتے ہیں وہاں دشمن کے عقوبت خانے ہمارے اس قہقہے کی قیمت اس پاک وطن کے بیٹے سے وصول کرتے ہیں اور عقوبت خانے اس قیمت سے لرز اٹھتے ہیں.

‏جن کی مائیں جن کی سہاگن انکے منتظر ہیں وہ بیٹے وہ سہاگ کہیں کسی تاریک کوٹھڑی میں لت پت پڑا تڑپ رہا ہوتا ہے تاکہ اسکے وطن کی ماؤں کی گود ہری بھری رہے، وطن کی بہنوں بیٹیوں کا سہاگ سلامت رہے۔

‏کتنے ہی پاک وطن کے عظیم بیٹے ہیں جن کا آج نام ونشان تک نہیں ، جو عقوبت خانوں میں زندہ ہیں انکا حال صرف اللہ جانتا ہے۔ یہ وہ عظیم لوگ ہیں جنکی قبروں کے نشان تک نہیں ملتے کس گلی، کس نگر، کس کوچے میں زندگی کی آخری شام ہو جائے یہ نہیں جانتے۔

‏اپنے گھروں کو دُوبارہ دیکھ بھی پائیں گے یا نہیں یہ نہیں جانتے۔ایسے کئی بیٹے آج کے دن بھی اس پاک دھرتی پہ قربان ہوئے ہونگے لیکن ہم نہیں جانتے، ہزاروں والدین ایسے ہونگےجنہیں اپنے بیٹوں کا آخری دیدار بھی نہیں نصیب نہیں ہوا ہوگا، ہزاروں بچے آج بھی اس کشمکش میں بڑےہورہے ہونگےکہ وہ
‏سکول کالج کے فارم میں خود کو باپ کے زیرِ کفالت لکھیں یا یتیم ۔ یہ آئی ایس آئی کی داستان ہے۔جو طاقت ورکےساتھ بڑی درناک و دلخراش بھی ہے۔

آئی ایس آئی نام سننے میں بڑا دلکش اور بڑا پرکشش لگتا ہےلیکن یہ ایک درد ایک کرب اور لازوالی قربانیوں پر کھڑا ایک ایسا قلعہ ہے جس کے

‏محافظوں کی کوئی پہچان کوئی نام نہیں  کسی کو علم نہیں ،ان پہ کیا گزرتی ہے کوئی نہیں جانتا ، وہ ہر درد، ہر جدائی سہہ کر اپنے عزم پر قائم رہتے ہیں تب ہی یہ قلعہ اپنی پوری آب وتاب سے قائم اودائم اور اپنے زیرِ سایہ سرزمین کا محافظ ہے۔

‏آج تک 70 سال گزرنے کو ہیں لیکن کسی شخص نے نہیں دیکھا کہ آئی ایس آئی میں کام کرنے والے کیسے ہیں کون ہیں؟ہوسکتا ہےکہ آپکا کوئی دُوست ،رشتہ دار بھی آئی ایس آئی کا حصہ ہولیکن آپ کبھی نہیں جان پائیں گے۔

‏ان ساری ساری باتوں کا نچوڑ ایک ہی بات نکلتی ہے کہ آئی ایس آئی ایک ایسی خوشبو ہے کہ جس سے سارا جہاں تو معطر ہے لیکن ہم دیکھ نہیں سکتے اس خوشبو کا وجود نہیں بالکل ایسے ہی ائی ایس آئی ہے۔

‏نہ نام نہ دکھاوا نہ شہرت نہ واہ واہ نہ تمغے نہ ایوارڈز نہیں کچھ بھی نہیں۔ ہر شعبہ میں آپکا نام بنتا ہے آپکی قابلیت کےچرچےہوتے ہیں آپکو تمغوں سے نوازا جاتاہےلیکن آئی ایس آئی میں ایسا نہیں ہے یہاں بس کام ہے اور خاموشی ہے۔isi کی موجودگی کاعلم اسکی آواز سے نہیں دشمن کے شورسےہوتاہے

‏اس ساری تحریرکا مقصد اب شاید آپکے سامنے واضح ہوجائے کہ آئی ایس آئی میں موجود افراد بھی کسی کو نہیں بتاسکتے، کس کو نہیں جتاسکتے، کسی پہ دھونس یا دکھاوانہیں کرسکتے کہ میں آئی ایس آئی ہوں یہ ہوں وہ ہوں، نہیں یہ سب آئی ایس آئی میں نہیں چلتا.

‏توکیا 22 کروڑ عوام ساری کی ساری آئی ایس آئی میں جانے کی خواہش کرے تو اب کیا کیا جائے؟  اس کا بڑا آسان سا حل ہےآئی ایس آئی کا مقصد بھی دکھاوا اور نام کمانا نہیں صرف اسلام اور پاکستان ہےتو یہ سب کرنے کے لیے آئی ایس آئی میں جاناضروری ہے کیا؟

‏نہیں بالکل نہیں اگر کوئی خوش قسمت آئی ایس آئی کے ادارے کاحصہ بن بھی جاتا ہے تو آپ کیوں مایوس کے ہم نہیں جاسکتے اللہ کے بندو آپ جس شعبہ سے تعلق رکھتے ہیں آپ اگر اسی میں رہ کر بھی اپنے ملک کےکام آئیں تو آپ کا مقصد بھی وہی ہوا جو آئی ایس آئی کا مقصد ہے۔

‏سُوشل میڈیا پہ ہیں تو دشمن کے پروپگنڈہ کا جواب دیں.

پاکستان کے خلاف، اسلام کے خلاف، پاک فوج کے خلاف چلنے والی آئی ڈیز، گروپس اور پیجز کو رپورٹ کرکے بند کروائیں تاکہ پاکستان کے خلاف نظریا تی جنگ کا بھی توڑ کیا جاسکے۔ دشمن کو شکست دی جاسکے۔

‏آج کل فزیکل جنگ سے ذیادہ مشکل جنگ نفسیاتی جنگ ہے۔ آئی ایس آئی کامقصد بھی پاکستان کی خدمت ہےاپنے لوگوں کی خدمت ہے یہی بیڑہ آپ بھی اٹھا لیں کے جب تک آئی ایس آئی میں نہیں جاپاتا تب تک ہی سہی۔

‏اگر آئی ایس آئی میں نہیں جاسکا تو یہیں بیٹھ کے اپنے شعبے میں بیٹھ کے ایمانداری سے اس ملک کی خدمت کریں۔اگر طالبعلم ہیں، کہیں جاب کرتے ہیں فیلڈ میں کام کرتے ہیں تو سُوشل میڈیا کی جنگ تو ہمیشہ جاری  رہتی ہے۔ سُوشل میڈیا پر آپ کا نام نہیں ہوگا شاید دُنیا آپکانام نہیں جان پائے گی،

‏آپکی واہ واہ نہیں ہوگی،لیکن آپکا کام وہی ہوگا جو آئی ایس آئی کا ہے، آپکا مقام وہی ہوگا جو آئی ایس آئی کا ہے۔

دشمن یہی کہےگا کہ ہمارا پروپگنڈہ آئی ایس آئی کے ایجنٹوں نے نام بنایا ہے۔

‏ہم سے ہی اٹھ کرگئے ہیں اور آئی ایس آئی کو جوائن کرنے کا طریقہ تو آپکو کسی بھی ڈیفنس فورم پر مل جائے آپ گوگل کریں ہزاروں جگہ شاید مل جائےمگر آپکو یہ کوئی نہیں کہے گا کہ آپ جہاں بھی ہوں آپ آئی ایس آئی کا حصہ ہیں۔

‏واللہ کل جب غزوہِ ہند کے شہیدوں اور غازیوں کا نام پکارا جائے گا تو ان لوگوں کا بھی نام آئے گا جنہوں نے مجاہدوں کے حوصلے بڑھائے تھے، ان پر بھونکنے والی زبانیں بند کی تھیں۔

‏غزوہِ ہند کے لیے راہ ہموار کی تھی یہ سب کچھ آئی ایس آئی ہی کا کام تو ہے جو آپ کہیں بھی  بیٹھ کرکرسکتے ہیں وہ بھی اپنی فیملی کے ساتھ خوش باش ہوکر۔میں کسی کو مایوس نہیں کررہا بلکہ ان دوستوں کو ایک موٹیویشن دے رہا ہوں

‏جن کا مقصدشہرت نہیں، واہ واہ نہیں صرف پاکستان ہے کہ وہ بھی وہی کام کریں جو آئی ایس آئی کررہی ہے ان شاءاللہ انکے نتائج بھی ویسے ہی پاکستان کو فائدہ پہنچائیں گے جیسے آئی ایس آئی کے۔

آ‏‏پ اُستاد ہیں طالبعلموں کو دل سے محنت سے پڑھائیں ایک بہترین نسل تیار کریں انہیں پاکستانیت اور اسلام سے محبت اور وفاداری کا درس دیں۔  آپ عالم ہیں لوگوں کو تفرقے سے نکال کرمتحد کریں  انہیں حقیقی جہاد اور اسلام اور پاکستان کا درس دیں ، انہیں وطن اور مذہب کا آپس میں تعلق پڑھائیں۔

‏آپ کاروبار کرتے ہیں باقاعدگی سے ٹیکس دیں ملکی ترقی کا حصہ بنیں، آپ کہیں جاب کرتے ہیں ایمانداری سے جاب کریں دیکھیں اس کا پاکستان کی بہتری میں اثر پڑتا ہے یانہیں، آپ صاحبِ اختیار ہیں لوگوں کی خدمت کریں دیکھیں کتنے لوگ پاکستان کی طرف،پاکستان کی بہتری کے لیے کام کرتے ہیں۔

‏ہر وہ کام ہروہ مقصد جو پاکستان کو ترقی کی طرف بہتری کی طرف لے جائے وہ آئی ایس آئی کا ہی کام ہے۔

شاید میری باتیں کچھ دوستوں کے لیے مایوس کُن ہوں لیکن نہ آئی ایس آئی نظر آتی ہے نہ آپ نظر آئیں گے

‏لیکن مقصد پسِ پردہ دونوں کا ایک ہوگا تو کتنا آسان ہے نہ آئی ایس آئی کا حصہ بننا۔
پھر جس کو اللہ پاک موقع دے ذہانت دے آگے بڑھیں راستے کھلے ہیں آئی ایس آئی میں جائیں آرمی میں جائیں لیکن تب تک انتطار نہ کریں خود ہی پاکستان کے لیے کچھ کرنے کی ٹھان لیں آپ آئی ایس آئی ہی ہوں گے۔

‏کوئی بھی بات بُری لگی ہو معذرت چاہتا ہوں لیکن آپ اس نظریہ سے آگے بڑھیں گے خدا کی قسم آپ جہاں بھی ہوں گے جس شعبہ جس انداز میں بھی کام کریں گے آپ خود کو آئی ایس آئی کا حصہ ہی محسوس کریں گےکہ دنیا نہیں دیکھ رہی مگر میرا مقصد میرا کام میرے ملک کے کام آرہا ہے۔

‏پھرکون کون دُوست ہے جو آج سے ہی آئی ایس آئی ایجنٹ بن رہا ہے؟ :-)  فزیکلی آئی ایس آئی کی شمیولیت میں تو تعلیم  اور عمر کی قید بھی ہوتی ہے لیکن یہ تحریر 22 کروڑ پاکستانیوں کے لیے ہے نہ تعلیم کی قید نہ عمر کی مرد خواتین سب کے لیے یکساں اور لاتعداد مواقعے

‏میں اکثر ایک فقرہ کہتا ہوں کہ آئی ایس آئی ایک ادارے کا نہیں بلکہ ایک ارادے کا نام ہے اداروں کو جوائن کیا جاتا ہے جبکہ ارادوں کا ساتھ دیاجاتا ہے۔
از طرف میرے پیارےوطن کے ایک جانباز،گمنام کی سپاہی جانب سے
تمت بالخیر
"ملنگ" 🙂


سرورِ کائنات صل اللہ علیہ وآلہ وسلم

سر ورِ کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم ______!!!

حضور اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو اﷲ تعالیٰ نے جس طرح کمال سیرت میں تمام اولین و آخرین سے ممتاز اور افضل و اعلیٰ بنایا اسی طرح آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو جمالِ صورت میں بھی بے مثل و بے مثال پیدا فرمایا۔ ہم اور آپ حضورِ اکرم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی شانِ بے مثال کو بھلا کیا سمجھ سکتے ہیں ؟ حضرات صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم جو دن رات سفر و حضر میں جمال نبوت کی تجلیاں دیکھتے رہے انہوں نے محبوب خدا صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے جمالِ بے مثال کے فضل و کمال کی جو مصوری کی ہے اس کو سن کر یہی کہنا پڑتا ہے جو کسی مداحِ رسول نے کیا خوب کہا ہے کہ

اَبَدًا وَّ عِلْمِيْ اَنَّهٗ لَا يَخْلُقُ لَمْ يَخْلُقِ الرَّحْمٰنُ مِثْلَ مُحَمَّدٍ
یعنی اﷲ تعالیٰ نے حضرت محمد صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کا مثل پیدا فرمایا ہی نہیں اور میں یہی جانتا ہوں کہ وہ کبھی نہ پیدا کرے گا۔________

صحابی رسول اور تاجدار دو عالم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے درباری شاعر حضرت حسان بن ثابت رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے اپنے قصیدۂ ہمزیہ میں جمال نبوت کی شان بے مثال کو اس شان کے ساتھ بیان فرمایا کہ

وَ اَجْمَلَ مِنْكَ لَمْ تَلِدِ النِّسَآءُ وَ اَحْسَنَ مِنْكَ لَمْ تَرَقَطُّ عَيْنِيْ !
_____
یعنی یا رسول اﷲ ! (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) آپ سے زیادہ حسن و جمال والا میری آنکھ نے کبھی کسی کو دیکھا ہی نہیں اور آپ سے زیادہ کمال والا کسی عورت نے جنا ہی نہیں۔

كَاَنَّكَ قَدْ خُلِقْتَ کَمَا تَشَآءُ خُلِقْتَ مُبَرَّئً مِّنْ کُلِ عَيْبٍ !
_____
(یا رسول اﷲ ! صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) آپ ہر عیب و نقصان سے پاک پیدا کئے گئے ہیں گویا آپ ایسے ہی پیدا کئے گئے جیسے حسین و جمیل پیدا ہونا چاہتے تھے۔

حضرت علامہ بوصیری رحمۃ اﷲ تعالیٰ علیہ نے اپنے قصیدۂ بردہ میں فرمایا کہ

فَجَوْهَرُ الْحُسْنِ فِيْهِ غَيْرُ مُنْقَسِمٖ مُنَزَّهٌ عَنْ شَرِيْكٍ فِيْ مَحَاسِنِهٖ
یعنی ____حضرت محبوب خدا صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم اپنی خوبیوں میں ایسے یکتا ہیں کہ اس معاملہ میں ان کا کوئی شریک ہی نہیں ہے۔ کیونکہ ان میں جو حسن کا جوہر ہے وہ قابل تقسیم ہی نہیں۔

اعلیٰ حضرت مولانا احمد رضا خان صاحب قبلہ بریلوی قدس سرہ العزیز نے بھی اس مضمون کی عکاسی فرماتے ہوئے کتنے نفیس انداز میں فرمایا ہے کہ

ترے خُلق کو حق نے عظیم کہا تری خَلق کو حق نے جمیل کیا

کوئی تجھ سا ہوا ہے نہ ہو گا شہا ترے خالق حسن و ادا کی قسم

بہر حال اس پر تمام امت کا ایمان ہے کہ تناسب ِ اعضاء اور حسن و جمال میں حضور نبی آخر الزمان صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم بے مثل و بے مثال ہیں۔ چنانچہ حضرات محدثین و مصنفین سیرت نے روایات صحیحہ کے ساتھ آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے ہر ہر عضو شریفہ کے تناسب اور حسن و جمال کو بیان کیا ہے۔ ہم بھی اپنی اس مختصر کتاب میں ” حلیۂ مبارکہ ” کے ذکر جمیل سے حسن و جمال پیدا کرنے کے لئے اس عنوان پر حضرت مولانا محمد کامل صاحب چراغ ربانی نعمانی ولید پوری رحمۃ اﷲ تعالیٰ علیہ کے منظوم حلیہ مبارکہ کے چند اشعار نقل کرتے ہیں تاکہ اس عالم کامل کی برکتوں سے بھی یہ کتاب سرفراز ہو جائے۔ حضرت مولانا موصوف نے اپنی کتاب ” پنجہ نور ” میں تحریر فرمایا کہ

-: حلیۂ مقدسہ

حلیہ نورِ خدا میں کیا لکھوں روحِ حق کا میں سراپا کیا لکھوں
جلوہ گر ہو گا مکانِ قبر میں پر جمالِ رحمۃٌ للعالمین
مختصر لکھ دوں جمالِ بے مثال اس لئے ہے آگیا مجھ کو خیال
اور اس کی یاد بھی آسان ہو تاکہ یاروں کو مرے پہچان ہو
پر سپید و سرخ تھا رنگ بدن تھا میانہ قد و اوسط پاک تن
تھے حسین و گول سانچے میں ڈھلے چاند کے ٹکڑے تھے اعضاء آپ کے
چاند میں ہے داغ وہ بے داغ تھی تھیں جبیں روشن کشادہ آپ کی
اور دونوں کو ہوا تھا اِتصال دونوں ابرو تھیں مثالِ دو ہلال
یاکہ ادنیٰ قرب تھا “قوسین” کا اِتصال دو مہ “عیدین” تھا
دیکھ کر قربان تھیں سب حور عیں تھیں بڑی آنکھیں حسین و سرمگیں
ساتھ خوبی کے دہن بینی بلند کان دونوں خوب صورت ارجمند
صورت اپنی اس میں ہر اک دیکھتا صاف آئینہ تھا چہرہ آپ کا
خوب تھی گنجان مو ، رنگ سیاہ تابہ سینہ ریش محبوبِ الٰہ
ہو ازار و جبہ یا پیر ہن تھا سپید اکثر لباسِ پاک تن
پر کبھی سود و سپید و صاف تھا سبز رہتا تھا عمامہ آپ کا
دونوں عالم میں نہیں ایسا کوئی میں کہوں   پہچان عمدہ آپ کی
صل اللہ علیہ وآلہ وسلم




تین طرح کے لوگ

‏دنیا میں تین طرح کے لوگ ہیں لو کلاس ، مڈل کلاس،  ہائی کلاس
سب ہی کسی نہ کسی ڈپریشن اور پریشانیوں میں مبتلا رہتے امیرانہ طبقہ میں سب کچھ ہونے کے باوجود بے سکونی اور  ڈپریشن پایا جاتا ہے ، لو اور مڈل کلاس اپنے آنے والے کل سے زیادہ اپنے آج کے لیے زیادہ فکر مند پائے جاتے ہیں ‏مگر سوتے سکون سے ہیں وہ جانتے ہیں کہ اللہ رزاق ہے ہر کسی کو رزق دیتا ہے اور وہ کہاں کہاں سے انتظام کرتا ہے یہ کسی کے گمان میں بھی نہیں ہوتا رزق انسان کو تلاش کرتا ہوا انسان تک پہنچتا ہے ۔ زیادہ طمعہ انسان کو لالچ کے سوا کچھ نہیں دیتا اپنے آج کو جینا سیکھیں اور پرسکون زندگی
‏گذاریں اور اگر رب نے آپ کو نوازا ہے مال و دولت اور نعمت سے تو دوسروں کے کام آنے کی کوشش کریں تاکہ سب کی آخرت سنور سکے
‎#Samar✍️



چوکھٹ

ایک پرانے اور بوسیده مکان میں ایک غریب مزدور رهتا تھا _مکان کیا تھا،بس آثار قدیمہ کا کھنڈر ہی تھا__ غریب مزدور جب سرشام گھر لوٹتا اس کی بیوی معصومیت سے کہتی:
 " اب تو گھر کا دروازه لگوادیں، کب تک اس لٹکے پردے کے پیچھے رہنا پڑے گا__
اور ہاں! اب تو پرده بھی پرانا ہو کر پھٹ گیا ہے مجھے خوف ہے کہیں چور ہی گھر میں نہ گھس جائے"

شوہر مسکراتے هوئے جواب دیتا : میرے ہوتے ہوئے بھلا تمهیں کیا خوف؟ فکر نہ کرو میں ہوں نا تمهاری چوکھٹ" _______
غرض کئی سال اس طرح کے بحث ومباحثے میں گزر گئے، ایک دن بیوی نے انتہائی اصرار کیا کہ گھر کا دروازه لگوادو__

بالآخر شوہر کو ہار ماننا پڑی اور اس نے ایک اچھا سا درازه لگا دیا.اب بیوی کا خوف کم ہوا اور شوہر کے مزدوری پر جانے کے بعد گھر میں خود کو محفوظ تصور کرنے لگی___
ابھی کچھ سال گزرے تھے کہ اچانک شوہر کا انتقال ہوگیا
 اور گھر کا چراغ بجھ گیا، عورت گھر کا دروازه بند کیے پورا دن کمرے میں بیٹھی رہتی،

 ایک رات اچانک چور دیوار پھلانگ کر گھر میں داخل ہو گیا اس کے کودنے کی آواز پر عورت کی آنکھ کھل گئی،اس نے شور مچایا.محلے کے لوگ آگئے،اور چور کو پکڑ لیا.جب دیکھا تو معلوم ہوا کہ وه چور پڑوسی ہے _____
اس وقت عورت کو احساس ہوا کہ چور کے آنے میں اصل رکاوٹ دروازه نہیں میرا شوہر تھا اس چوکھٹ سے زیاده مضبوط وه چوکھٹ(شوہر) تھی ____!

شوہر میں لاکھ عیب ہوں لیکن حقیقت بھی ہے کہ مضبوط چوکھٹ یهی شوہر ہی ہیں ،  شادی شده ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کو چاہئیے کہ ان چوکھٹوں کی خوب دیکھ بھال کیا کریں ____
اور الله کا شکر ادا کیا کریں..

Wednesday, November 6, 2019

بادشاہ کے کُتے

کسی زمانے میں ایک بادشاہ تھا جس نے دس جنگلی کتے پالے ہوئے تھے, اس کے وزیروں میں سے جب بھی کوئی وزیر غلطی کرتا بادشاہ اسے ان کتوں کے آگے پھنکوا دیتا کتے اس کی بوٹیاں نوچ نوچ کر مار دیتے-
ایک بار بادشاہ کے ایک خاص وزیر نے بادشاہ کو غلط مشورہ دے دیا جو بادشاہ کو بلکل پسند نہیں آیا اس نے فیصلہ سنایا کہ وزیر کو کتوں کے آگے پھینک دیا جائے-
وزیر نے بادشاہ سے التجا کی کہ حضور میں نے دس سال آپ کی خدمت میں دن رات ایک کئے ہیں اور آپ ایک غلطی پر مجھے اتنی بڑی سزا دے رہے ہیں, آپ کا حکم سر آنکھوں پر لیکن میری بےلوث خدمت کے عوض مجھے آپ صرف دس دنوں کی مہلت دیں پھر بلاشبہ مجھے کتوں میں پھنکوا دیں-
بادشاہ یہ سن کر دس دن کی مہلت دینے پر راضی ہو گیا-
وزیر وہاں سے سیدھا رکھوالے کے پاس گیا جو ان کتوں کی حفاظت پر مامور تھا اور جا کر کہا مجھے دس دن ان کتوں کے ساتھ گزارنے ہیں اور ان کی مکمل رکھوالی میں کرونگا, رکھوالا وزیر کے اس فیصلے کو سن کر چونکا لیکن پھر اجازت دے دی-
ان دس دنوں میں وزیر نے کتوں کے کھانے پینے, اوڑھنے بچھونے, نہلانے تک کے سارے کام اپنے ذمے لیکر نہایت ہی تندہی کے ساتھ سر انجام دیئے-
دس دن مکمل ہوئے بادشاہ نے اپنے پیادوں سے وزیر کو کتوں میں پھنکوایا لیکن وہاں کھڑا ہر شخص اس منظر کو دیکھ کر حیران ہوا کہ آج تک نجانے کتنے ہی وزیر ان کتوں کے نوچنے سے اپنی جان گنوا بیٹھے آج یہی کتے اس وزیر کے پیروں کو چاٹ رہے ہیں-
بادشاہ یہ سب دیکھ کر حیران ہوا اور پوچھا کیا ہوا آج ان کتوں کو ؟
وزیر نے جواب دیا, بادشاہ سلامت میں آپ کو یہی دکھانا چاہتا تھا میں نے صرف دس دن ان کتوں کی خدمت کی اور یہ میرے ان دس دنوں میں کئے گئے احسانات بھول نہیں پا رہے, اور یہاں اپنی زندگی کے دس سال آپ کی خدمت کرنے میں دن رات ایک کر دیئے لیکن آپ نے میری ایک غلطی پر میری ساری زندگی کی خدمت گزاری کو پس پشت ڈال دیا......!

بادشاہ کو شدت سے اپنی غلطی کا احساس ہوا,
.
.
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔

.
 اس نے وزیر کو اٹھوا کر مگرمچھوں کے تالاب میں پھنکوا دیا-