Thursday, January 23, 2020

تاریخ کبھی عذر قبول نہیں کرتی !

تاریخ کبھی عذر قبول نہیں کرتی

کتنا در ناک منظر تھا جب زنجیروں میں جکڑےخلیفہ بغداد معتصم باللہ کو چنگیزخان کے پوتے ہلاکوخان کےسامنے پیش کیا گیا!

تاریخ گواہ ہے جب جب مسلمان جہاد کرتے رہے عزتیں پاتے رہے رفعتیں بلندیاں ان کے قدم چومتی رہیں

مسلمانوں نے ہمیشہ ملک وملت کے دفاع پر دل کھول کر خرچ کیا بھوکے رہنا پسند کرلیا لیکن دفاعی پوزیشن کو مضبوط رکھا

نبیِ مکرم امام الانبیا امام المجاہدینﷺ جب اس دنیا سے رخصت ہونے لگے تو گھرکا دیا جلانے کے لٸے تیل نہ تھا
لیکن نو مضبوط تلواریں گھرکی دیواروں کے ساتھ لٹک رہی تھیں
اسی طرح خلفاٸے راشدین پیوند لگے کپڑے پہننے میں عار محسوس نہ کرتے لیکن دفاعی اداروں اپنے سپاہیوں مجاہدین پر دل کھول کرخرچ کرتےرہے

مسلم فاتحین جنہیں تاریخ سنہرے حروف سے یاد کرتی ہے عیاش نہ تھے مال ودولت ہیرے جواہرات اور عورتوں کے رسیا نہ تھے

لیکن جہاں تاریخ مسلم فاتحین ومجاہدین کاذکر سنہرے حروف سے کرتی ہے وہیں ایسے بدبخت بھی ہیں جو تاریخ کا سیاہ باب ٹھہرے!

جن کی عیاشیاں ہیرے جواہرات مال ودولت اور عوتوں کے شوق نے جہاں انہیں ذلیل وخوار کیا وہیں مسلمانوں کے سرشرم سے جھکاٸے

لیکن ایسے مکروہ ذلیل وخوار نام نہاد مسلم حکمران ہمارےلٸے سبق چھوڑگٸے ہمیں ان کےکرتوتوں سے بہت سے سبق ملتے ہیں

9صفر 656ھ/7فروری1258 ٕ

کو چنگیز خان کا پوتا ہلاکوخان بغداد میں داخل ہوا،
اس نے عباسی خلیفہ معتصم باللہ کو قتل کرکے خلافت عباسیہ کاخاتمہ کردیا،

اس کی فوج کے ہاتھوں بغداداور اس کے گردو نواح میں ایک کروڑ6لاکھ مسلمان قتل ہوٸے

تاریخ کبھی عذر قبول نہیں کرتی!

تاریخِ اسلام کا کتنا عبرت ناک منظر تھا جب معتصم باللہ
آہنی زنجیروں اور بیڑیوں میں جکڑا چنگیز خان کے
پوتے ہلاکو خان کے سامنے کھڑا تھا.

کھانے کا وقت آیا تو ہلاکو خان نے خود سادہ برتن
میں کھانا کھایا اورخلیفہ کے سامنے سونے کی طشتریوں
میں ہیرےجواہرات رکھ دیئے.

پھر معتصم سے کہا!
جو سوناچاندی تم جمع کرتےتھے اُسے کھاؤ!
بغداد کا تاج دار بے چارگی و بے بسی کی تصویر بنا کھڑا
تھا بولا میں سونا کیسے کھاؤں؟

ہلاکو نے فوراً کہا!
پھر تم نے یہ سونا اور چاندی جمع کیوں کیا تھا!
وہ مسلمان جسےاُسکا دین ہتھیار بنانےاورگھوڑے
پالنےکیلئے ترغیب دیتا تھا کچھ جواب نہ دے سکا،
ہلاکو خان نےنظریں گھماکرمحل کی جالیاں اورمضبوط
دروازے دیکھے!

اور سوال کیا ؟
تم نے اِن جالیوں کو پگھلا کر آھنی تیر کیوں نہ بنائے؟
تم نے یہ جواھرات جمع کرنےکی بجائےاپنے سپاہیوں کو
رقم کیوں نہ دی تاکہ وہ جانبازی اور دلیری سے میری
افواج کا مقابلہ کرتے ؟

خلیفہ نےتاسف سے جواب دیا!
”اللہ کی یہی مرضی تھی“
ہلاکو نے کڑک دار لہجے میں کہا!
پھر جو تمہارے ساتھ ھونے والا ھےوہ بھی خدا ھی
کی مرضی ھو گی!
پھر ہلاکو خان نے معتصم باللہ کو مخصوص لبادےمیں
لپیٹ کر گھوڑوں کی ٹاپوں تلے روند ڈالاا وربغداد کوقبرستان بنا ڈالا.

ہلاکو نے کہا!
آج میں نے بغداد کو صفحہ ہستی سے مٹا ڈالا ھے اوراب دنیا کی کوئی طاقت اسے پہلے والا بغداد نہیں بنا سکتی اور ایسا ہی ہوا.

تاریخ تو فتوحات گنتی ہے!

محل، لباس، ہیرےجواہرات اور انواع و اقسام کے لذیذ کھانے نہیں!

تصور کریں ،
جب یورپ کے چپے چپے پر تجربہ گاہیں
اور تحقیقی مراکز قائم ہو رہے تھے،تب یہاں
ایک شہنشاہ دولت کا سہارا لیکر اپنی محبوبہ کی یاد میں
تاج محل تعمیر کروا رھا تھا!
 اور اسی دوران برطانیہ
کا بادشاہ اپنی ملکہ کے دوران, ڈلیوری فوت ہوجانے پرریسرچ کے لیئے،برطانیہ میں کنگ ایڈورڈ میڈیکل
سکول بنوا رہا تھا!

جب مغرب میں علوم و فنون کے بم پھٹ رہے تھے،تب
یہاں تان سین جیسےگوٸیے نت نئے راگ ایجادکر رہے تھے،
اور نوخیز خوبصورت و پر کشش رقاصائیں شاہی درباروں کی زینت و شان اور وی آئی پیز تھیں!
جب انگریزوں،فرانسیسیوں اور پرتگالیوں کے بحری بیڑے برصغیر کےدروازوں پر دستک دے رہے تھے ,, تب
ہمارے اَرباب اختیار شراب و کباب اور چنگ و رباب سےمدہوش پڑے تھے !
تن آسانی ،عیش کوشی اور عیش پسندی نےکہیں کانہیں چھوڑا  ھمارا بوسیدہ اور دیمک زدہ نظام پھیلتا چلا گیاکیونکہ تاریخ کو اِس بات سےکوئی غرض نہیں ہوتی
کہ حکمرانوں کی تجوریاں بھری ھیں  یا خالی ؟
شہنشاہوں کےتاج میں ہیرے جڑے ہیں یا نہیں ؟
درباروں میں خوشامدیوں ، مراثیوں ، طبلہ نوازوں
طوائفوں ، وظیفہ خوار شاعروں اور جی حضوریوں کا
جھرمٹ ہے یا نہیں؟
تاریخ کوصرف کامیابیوں سےغرض ہوتی ھے
اور تاریخ کبھی عذر قبول نہیں کرتی!





No comments:

Post a Comment