#کشمیری_مجاہدکاآخری_پیغام
گھر کی چھوٹی سی چاردیواری کے اس پار کوئی چہل پہل ہو رہی تھی سب لوگ دم سادھے جاگ رہے تھے رات کے گیارہ بج کر 32 منٹ پہ بنافشے کے گھر کے صحن میں کوئی پتھر آ کر گھرا تھا
اسکی ماں جائے نماز سنبھالے بیٹھی تھی بابا صبح ہی کہیں روانہ ہو گئے تھے
"یا اللہ خیر"
اس کا دل دہل کر رہ گیا
پچھلے چار دنوں سے وہ. مکمل طور پہ گھروں میں بند تھے انتہائی ضرورت کی اشیاء کے لیے بھی باہر نہ جا سکتے تھے
یہ مقبوضہ کشمیر کا ایک قصبہ تھا اور بنافشے کے بابا ایک مقامی کالج میں پروفیسر تھے
لیکن . اس وقت وہ ماں بیٹی دونوں گھر میں اکیلی تھیں
"یا اللہ"
کچھ دیر بعد دوسرا کنکر پھینکا گیا
اس نے اپنے دونوں ہاتھوں سے اپنے سینے میں موجود یہ گوشت کا لوتھڑا قابو کرنے کی کوشش کی
ساتھ ہی بنا آواز کے چلتی دروازے کی جانب آئی ماں ابھی تک نماز میں سجدے کی حالت میں تھی
اس نے لوہے کا. بیلچہ نما اوزار اٹھا لیا جو سردیوں میں برف ہٹانے کے کام آتا تھا اور گرمیوں میں یونہی دیوار پہ لٹکا رہتا
(میں مر جاوں گی لیکن ان درندوں کو بھی زندہ نہیں چھوڑوں گی)
اس نے خود سے عہد کیا
"بنافشے"
کسی نے دبی آواز میں اسکا نام. پکارا
" رحیم¿"
اسکے لبوں سے بے اختیار پھسلا
"دروازہ کھولو"
دبی آواز میں حکم صادر کیا گیا
چند پل میں دروازہ کھل. کر. بند ہو چکا تھا اور رحیم اور بنافشے چاند کی مدھم روشنی میں برآمدے کی چھت تلے کھڑے تھے اندر جلتے چراغ کی ہلکی سی لو بھی باہر کا اندھیرا مٹانے میں ناکام تھی
"کیا ہوا تم ڈر گئی تھیں" اکیس سالہ. رحیم. کے تفکر زدہ. چہرے پہ. حیرت بھری مسکان دوڑ گئی
بنافشے بہت ڈری ہوئی لگ رہی تھی
ورنہ وہ تو شیر جیسا مزاج رکھتی تھی
ڈر اسکی گھٹی میں نہ تھا
مگر اب حالات ویسے نہ رہے تھے
"نن نہیں وہ بابا بھی گھر نہیں تھے تو اس لیے" وہ وضاحت بھی دے پائی
" ہاں صبح سنا تھا کہ وہ نکل گئے ہیں"
رحیم کو بھی اطلاع تھی
"کہاں گئے ہوں گے¿"
بنافشے لاعلم. تھی اسی لیے رحیم سے پوچھا وہ دونوں برآمدے کی سیڑھیوں پہ ایک فٹ پہ فاصلے پہ بیٹھ چکے تھے
"مرکز گئے ہوں گے"
رحیم نے ٹھنڈے لہجے میں جواب دیا
" تم تو یہی ہو نا"
پتہ. نہیں اس نے پوچھا تھا یا تسلی کرنی. چاہی
"نہیں میں بھی ابھی نکل رہا ہوں "
وہ اسے آخری. دفعہ. دیکھنے کے لیے آیا تھا
"کیا مطلب کیا تم. بھی جا رہے ہو¿"
یہ. بات حیران. ہونے والی. نہیں تھی مگر پھر بھی وہ حیران ہوئی بابا کے جانے کے بعد سے وہ صبح سے خود کو تسلیاں دے رہی تھی کہ کوئی بات نہیں بابا نہیں تو رحیم تو ہے نا وہ. کسی بری صورتحال میں انکی مدد کو ضرور پہنچے گا
"ہاں میں بھی جا رہا ہوں،، یہاں رکنے کا بھی تو فائدہ نہی"
وہ مایوسی سے سر جھٹک کر. بولا
"تو سید صاحب کے گھر میں کون. ہو گا"
رحیم. چند دوسرے مقامی. مجاہدین کے ساتھ سید صاحب کی. حفاظت پہ مامور دستے میں تھا اور وہ لوگ پچھلے کئ دنوں سے انکے گھر کے آس پاس ہی تھے تاکہ بوقت ضرورت موقع پہ پہنچ سکیں
" ہاں اب وہاں ضرورت نہیں ہے زیادہ لوگوں کی،،، یہ مردود انھیں گھر سے نکلنے نہیں دیں گے،،، پہلے ہمیں شک تھا کہ کہیں انھیں گرفتار نہ کر لیا جائے لیکن اب انکے گھر کے آگے ڈیڑھ دو سو سے زیادہ نفری کھڑی ہے اور وہ لوگ قریبی چوکی پہ اپنا سامان بھی لے آئے ہیں،، تو امید یہی ہے کہ انھیں ابھی گھر پر ہی نظر بند رکھا جائے گا"
اسکی آواز میں تھکاوٹ اور مایوسی تھی
" تو اب تم بھی چلے جاو گے¿
نا چاہتے ہوئے بھی آنسو اسکی آنکھوں میں جگمگانے لگے "
" ہاں ظاہری بات ہے یہاں بیٹھے رہنے کا کوئی فائدہ تو نہیں،، چند لڑکے ہیں یہاں ضرورت پڑنے پہ وہ پیغام پہنچا دیں گے"
" لیکن فون انٹرنیٹ تو بند ہے" بیرونی دنیا سے رابطہ کا کوئی زریعہ نہ تھا لینڈ لائن سے بھی شاذو نادر ہی کوئی کال. مل رہی تھی
" "ہاں اللہ کوئی نا کوئی بندو بست کر دے گا"
مطلب انکے پاس کوئی متبادل طریقہ تھا
وہ دانستہ اسے دیکھنے سے گریز کر رہا تھا
گلابی رنگت میں فکر کی زردیاں کھنڈی تھیں یہ چہرہ کبھی جدوجہد آزادی کی لگن سے چمکتا تھا اور رحیم اسے دیکھ کر سرشار ہو جاتا تھا آج اس جنت نظیر وادی کا ہر بچہ بچہ فکر مند تھا آنے والی رات پچھلی راتوں سے زیادہ سیاہ ہونے والی تھی یہ بات وہ جانتے تھے
"رحیم کیا ہم اسی طرح ختم ہوتے جائیں گے،، ہماری نسلیں یونہی تنہا لڑتے لڑتے دم. توڑ دیں گی"
رحیم. نے نگاہ کا زاویہ موڑ کر اسے دیکھا وہ اسے ہی دیکھ رہی تھی
رحیم نے مسکرانے کی کوشش کی مگر ناکام رہا
پچھلے چار دنوں میں ان گنت لوگ دفنائے جا چکے تھے اب تو جنازوں کا جلحساب بھی نہ لگایا جا رہا تھا
آزادی کی اس جدوجہد. کو روزانہ سیروں خون پہنچایا جا رہا تھا
"نہیں پگلی آج سے کشمیر کو آئینی طور پہ بھارت کا حصہ بنا دیا گیا،، اگلے چند مہینوں یا زیادہ سے زیادہ سالوں میں یہاں سہولیات اور رزق اس قدر وافر پہنچایا جائے گا کہ ہماری اگلی نسلیں آرام. پرست ہو جائیں گی پھر انھیں آزادی سے زیادہ زندگی سے پیار ہو گا،، وہ ہر قیمت پہ زندہ رہنا چا


No comments:
Post a Comment