پاکستان کا ایک گمنام ہیرو
یہ 1984ء کی بات ہے کہ سردار نصیر ترین امریکہ سے پاکستان پہنچے۔ پشین،بلوچستان میں جنم لینے والے یہ بلوچ 1959ء میں امریکہ چلے گئے تھے۔ وہاں انہوں نے فلم سازی کا کورس کیا اور دستاویزی فلمیں بنانے لگے۔ 1984ء میں انہوں نے فیصلہ کیا کہ بلوچستان پہ دستاویزی فلم بنائی جائے۔ یوں وہ زرخیز بلوچ تہذیب وثقافت کو امریکہ ویورپ میں متعارف کرانا چاہتے تھے۔ اس زمانے میں پاکستان مارشل لا کی گرفت میں تھا۔ چنانچہ فلم بنانے کے لیے فوجی حکومت کی اجازت درکار تھی۔
سردار نصیر نے درخواست دی مگر کوئی سرکاری افسر اسے داب کر بیٹھ گیا۔مجبوراً سردار صاحب نے بلوچستانی حکومت سے رجوع کیا۔ وہاں سے جواب ملا کہ پہلے بلوچستانی جنگلی حیات پہ دستاویزی فلم بنائو۔ وہ عمدہ ہوئی، تو دیگر فلمیں بھی بن سکیں گی۔ سردار نصیر نے ہامی بھرلی ۔ بلوچستانی حکومت نے صوبے کی جنگلی حیات سے متعلق کئی پمفلٹ اور تصاویر پاکستانی نژاد امریکی فلم ساز کو دیں۔ لیکن مختلف علاقوں کا دورہ کرنے پر انہیں احساس ہوا کہ بیشتر بلوچ چرند پرند سرکاری فائلوں ہی میں زندہ ہیں…حقیقتاً حد سے زیادہ شکار اور جنگلی رقبے میں کمی کے باعث وہ اپنے علاقوں میں نایاب ہوچکے۔
سردار نصیر کو خوش قسمتی سے بلوچی ضلع ،قلعہ سیف اللہ میں واقع سلسلہ ہائے کوہ توبہ کاکڑ کے تورغرپہاڑوں میں چند مارخور اور اڑیال مل گئے۔یوں وہ مناسب دستاویزی فلم بنانے میں کامیاب رہے۔ اس فلم کی تیاری کے دوران ہی سردار نصیر کو احساس ہوا کہ اگر ان قیمتی جانوروں کو تحفظ نہ دیا گیا، تو وہ جلد معدوم ہوجائیں گے۔ لہٰذا انہوں نے فیصلہ کیا کہ اس ضمن میں ٹھوس اقدامات کرنے ضروری ہیں۔
یہ واضح رہے کہ مارخور پاکستان کا قومی جانور ہے۔ یہ دنیا کا سب سے بڑا جنگلی بکرا ہے۔ 26 تا 45 انچ اونچا ، 52 تا 73 انچ لمبا اور 32 تا 110کلووزنی ہوتا ہے۔مارخور کی خصوصیت اس کے بڑے سینگ ہیں ۔ وہ نرمیں 64 انچ (5فٹ) تک لمبے ہوتے ہیں۔ مارخور کی تین اقسام ہیں: استور مارخور، بخارا مارخور اور کابلی مار خور۔ تورغرپہاڑوں میں کابلی مارخور ملتا ہے۔ یہ وہاں سلیمانی مارخور بھی کہلاتا ہے۔ یہ دیگر اقسام سے یوں ممتاز ہے کہ اس کے سینگ بالکل سیدھے ہوتے ہیں۔
اڑیال کا شمار بھی بڑی جنگلی بھیڑوں میں ہوتا ہے۔ یہ 31سے 35 انچ اونچی اور 26 انچ تک لمبی ہوتی ہے۔ اس کے لہریے دار سینگ 39انچ (سواتین فٹ) تک لمبے ہوتے ہیں۔ اڑیال کی افغانی، بلوچی، پنجابی اور لداخی اقسام پاکستان میں ملتی ہیں۔
1985ء میں سردار نصیر نے اندازہ لگایا تھا کہ تورغر پہاڑوں پہ صرف 56مارخور اور 85اڑیال زندہ بچے ہیں۔
ان بچے کھچے قیمتی جانوروں کو محفوظ کرنے کی خاطر وہ مقامی کاکڑ قبیلے کے سربراہ ، نواب تیمور شاہ جوگیزئی سے ملے۔ نواب صاحب نے سردار نصیر کو بتایا کہ انہوں نے حکومت بلوچستان سے بارہا درخواست کی ہے کہ یہاں محافظ متعین کیے جائیں تاکہ وہ جانوروں کو غیرقانونی شکارسے بچا سکیں۔ لیکن وہ ان کی ایک نہیں سنتی۔ مایوس ہوکر سردار نصیر واپس امریکہ چلے گئے ۔ تاہم کچھ تحقیق کے بعد آشکار ہوا کہ قلعہ سیف اللہ نیم قبائلی علاقہ ہے اور وہاں حکومت زیادہ عمل دخل نہیں رکھتی۔ لہٰذا وہ جلد واپس پاکستان پہنچے اور نواب تیمور سے ملاقات کی۔ انہوں نے نواب صاحب پہ زور دیا کہ علاقے میں قبائلی محافظ متعین کیے جائیں۔
سردار نصیر کا جوش وجذبہ اور اصرار دیکھ کر آخر نواب تیمور نے ہامی بھرلی۔ یہی نہیں انہوں نے اپنے بیٹے، نواب زادہ محبوب جوگیزئی کو ان کا معاون بنادیا۔ یوں 1985ء کے اواخر میں علاقہ تورغر میں آباد مارخور اور اڑیال بچانے کی خاطر سردار نصیر نے مقامی قبائلیوں کے تعاون سے ایک غیرسرکاری تنظیم’’تورغر تحفظ منصوبہ ‘‘(Torghar Conservation Project) کی بنیاد رکھی۔ چونکہ نیت نیک تھی لہٰذا سردار نصیر کو ابتدا ہی ایک بڑی کامیابی ملی۔ ہوا یہ کہ نواب زادہ محبوب جوگیزئی نے اعلان کیا کہ آئندہ وہ مارخور یا اڑیال کا شکار نہیں کریں گے۔ اس اعلان سے دیگر قبائیلیوں کو بھی تحریک ملی کہ وہ اپنی بندوقیں گرادیں۔ ساتھ ہی علاقے میں قبائلی محافظ بھی متعین ہوگئے۔
تورغرتحفظ منصوبے کو کامیابی ملی اور آج علاقے میں 2540 مارخور جبکہ 3145اڑیال موجود ہیں۔ دونوں شاہانہ مزاج جانوروں کی اتنی بڑی تعداد پاکستان ہی نہیں دنیا کے کسی اور خطے میں نہیں پائی جاتی۔ علاقے میں تقریباً95 محافظ ان جانوروں کی حفاظت کرتے ہیں۔ اب غیرملکی علاقے میں آتے اور لاکھوں روپے دے کر محدود تعداد میں مارخور یا اڑیال کا شکار کرتے ہیں۔
اس آمدن سے قبائلی محافظوں کو تنخواہیں ملتی اور علاقے میں ترقیاتی منصوبے انجام پاتے ہیں۔ اب علاقے کے لوگوں کو بھی احساس ہوچکا کہ جانور نہ صرف ماحول کا حصہ ہیں بلکہ وہ کسی نہ کسی طرح انسانوں کو فوائد بھی پہنچاتے ہیں۔ اسی لیے اب کوئی معدوم ہونے کے خطرے سے دوچار چرند پرند کا شکار نہیں کرتا۔ یہ سردار نصیر کا جذبہ ہمدردی ہے کہ انہوں نے امریکہ کی پرآسائش زندگی تج دی اور پاکستانی حیوانیات کو تحفظ دینے پہاڑوں پر چلے آئے۔
افسوس کہ حکومت پاکستان نے ان کی خدمات وقربانیوں کا اعتراف نہیں کیا، تاہم انہیں غیر ممالک سے اعزاز مل چکے۔
ہالینڈ نے انہیں آرڈر آف دی گولڈن آرک کے نائٹ ہڈ سے نوازا۔
فرانسیسی حکومت نے لاآرڈر نیشنل عطا کیا۔
جبکہ ملکہ برطانیہ کے شوہر، ڈیوک آف ایڈن برگ نے سرٹیفکیٹ آف میرٹ دیا۔
حال ہی میں انٹرنیشنل کونسل فار گیم اینڈ وائلڈ لائف کنزرویشن نے تورغرتحفظ منصوبہ کو مارخور کنزرویشن ایوارڈ سے نوازا۔
غرض سردار نصیر ترین ان پاکستانیوں میں شامل ہیں جنہوں نے اپنے کارناموں سے عالمی سطح پہ ملک وقوم کا نام روشن کر دیا۔ وہ وطن عزیز کے ایک گمنام ہیرو ہیں ۔۔
⚔️🇵🇰⚔️💯⚔️💚⚔️


No comments:
Post a Comment