Wednesday, October 30, 2019

مجھ سے کون اپنی لڑکی کا نکاح کر سکتا ہے !

حضرت شاہ شجاع کرمانی رحمتہ الله علیہ

شاہ کرمان نے آپ کی صاحبزادی کے ساتھ نکاح کرنے کا پیغام بھیجا تو آپ نے تین یوم کی مہلت طلب کی -

اور تین دنوں میں مسجد کے اطراف اس نیت سے چکر کاٹتے رہے کہ کوئی درویش کامل مل جائے تو میں اس سے اپنی  صاحبزادی کا نکاح کر دوں -

چنانچہ  تیسرے دن ایک بزرگ خلوص قلب کے ساتھ مسجد میں نماز ادا کرتے ہوئے مل گئے - تو آپ نے دریافت کیا کہ کیا تم نکاح کے خواہشمند ہو ؟

انھوں نے کہا کہ میں تو بہت مفلوک الحال ہوں -
مجھ سے کون اپنی لڑکی کا نکاح کر سکتا ہے -

لیکن آپ نے فرمایا کہ میں اپنی لڑکی تمہارے نکاح میں دیتا ہوں چنانچہ باہمی رضامندی سے نکاح ہوگیا -

اور صاحبزادی جب اپنے شوہر کے گھر پہنچیں تو دیکھا کہ ایک کونے میں پانی اور ایک ٹکڑا سوکھی ہوئے روٹی کا رکھا ہوا ہے

اور جب شوہر سے پوچھا کہ یہ کیا ہے تو انھوں نے کہا آدھا پانی اور آدھی روٹی کل کھا لی تھی اور آدھی آج کے لیے بچا رکھی تھی -

یہ سن کر جب بیوی نے اپنے والدین کے ہاں جانے کی خواھش کی تو شوھر نے کہا کہ میں تو پہلے ہی جانتا تھا کہ شاہی خاندان کی لڑکی  فقیر کے ساتھ گزارا نہیں کر سکتی -

لیکن بیوی نے جواب دیا کے یہ بات نہیں بلکہ میں تو اپنے والد کے ساتھ شکایت کرنا چاہتی ہوں کہ انھوں نے مجھ سے دعوه کیا تھا کہ میں تیرا نکاح  متقی سے کر رہا ہوں مگر اب مجھے معلوم ہوا کہ میرا نکاح تو ایسے شخص سے کر دیا گیا ہے جو خدا پر قانع نہیں اور دوسرے دن کا کھانا بچا کے رکھتا ہے

جو توکل کے قطعاً منافی ہے  لہٰذا اس گھر میں یا تو میں رہونگی یا روٹی رہے گی -

از حضرت شیخ فریدالدین عطار تذکرۃ الاولیاء صفحہ ١٩٥


No comments:

Post a Comment