وادیء نلتر
آل ان ون
ایک کمپلیٹ پیکج
یہ وادی گلگت بلتستان کےشمال مغربی حصے پر مشتمل ہےجس میں نلتر پائین، بِژگیری، نلتر بالا اور بنگلہ کے خوبصورت گاؤں، مقامات ہیں ۔ یہ علاقہ چھدرے جنگلات، برفیلی چوٹیوں، تندوتیز شور مچاتےچشموں اور پانچ دلکش جھیلوں کی سر زمین ہے۔ یہاں کی جنگلی حیات کی خصوصیت یہاں کے snow leopard اور مارخور ہیں ۔ یہاں پر گلگت بلتستان کی سب سے بڑی چئیر لفٹ اور بہترین ski slope موجود ہے جہاں 2016 میں ایک انٹرنیشنل اسکیٹنگ کپ قراقرم الپائن سکای کپ کے نام سے منعقد ہو چکا ہے۔ یہاں کی ski slope مالم جبہ کی سلوپ کے بعد پاکستان میں دوسرے نمبر پر ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ فار فلنگ ایریا ہونے کے باوجود یہاں کا لٹریسی ریٹ 94% ہے۔
سطح سمندر سے تقریباً 15348 ft بلند نلتر ویلی میں ست رنگی جھیل، پری جھیل، فیروزہ جھیل، بلیو لیک اور برو لیک اپنے منفرد حسن کے ساتھ جلوہ گر ہیں اور ہر سال اپنے سحر سے ہزاروں قومی اور بین الاقوامی ٹؤرسٹس کو اپنی اور کھینچتی دکھائی پڑتی ہیں ۔ شانی پیک کا گلیشئر جس کو khal peak بھی کہتے ہیں Kotty ایریا میں برو لیک بناتا ہے اور اس سے پھر دوسری لیکس معرضِ وجود میں آتی ہیں ۔ اس کے علاوہ Palo peak اور twin peaks یہاں کی بلند ترین چوٹیاں ہیں ۔ یہاں پر وخی، گجر اور منگول نسل کے لوگ آباد ہیں جو کہ شنا اور گجری زبان بولتے ہیں ۔ ان لوگوں کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے گوجرانوالہ، سوہاواہ اور لاہور کے گجروں کے مقابلہ میں اپنے گجری کلچر اور زبان کو بہتر انداز میں محفوظ رکھا ہوا ہے۔ گلگت شہر سے شاہراہ قراقرم پر نومل گاؤں اور پھر دشوار گزار جیپ ٹریک پر اکثروبیشتر خطرناک لینڈ سلائیڈنگ ہوتی رہتی ہے جسے ہم نے بھی بونگ سلائی پل کے نزدیک ہوتے دیکھا اس لئے خراب موسم میں مقامی لوگ اس ٹریک پر سفر کرنے سے منع کر دیتے ہیں ۔لیکن یہ تمام خطرات فطری حسن کے دیوانوں کا راستہ نہیں روک پاتے۔

No comments:
Post a Comment