Monday, October 28, 2019

عزازیل سے ابلیس تک کا سفر

عزازیل سے ابلیس تک کا سفر
ابلیس جس کو شیطان کہا جاتا هـے, یہ فرشتہ نہیں تھا بلکہ جن تھا جو آگ سے پیدا ہوا تھا, لیکن یہ فرشتوں کے ساتھ ساتھ ملا جلا رہتا تھا اور دربارِ خداوندی میں بہت مقرب اور بڑے بڑے بلند درجات و مراتب سے سرفراز تھا, تفاسیر میں هــے کہ ابلیس سب سے پہلـے جن یعنی تمام جنات کے باپ "مارج" کے پوتے کا بیٹا تھا
حضرت کعب احبار رضی اللہ عنہ کا بیان هــے کہ ابلیس چالیس ہزار برس تک جنت کا خزانچی رہا اور اَسّی ہزار برس تک ملائکہ کا ساتھی رہا اور بیس ہزار برس تک ملائکہ کو وعظ سنا تا رہا اور تیس ہزار برس تک مقربین کا سردار رہا اور ایک ہزار برس تک روحانین کی سرداری کے منصب پر رہا اور چودہ ہزار برس تک عرش کا طواف کرتا رہا اور پہلے آسمان میں اس کا نام عابد, اور دوسرے آسمان میں زاہد, اور تیسرے آسمان میں عارف, اور چوتھے آسمان میں ولی, اور پانچویں آسمان میں تقی, اور چھٹے آسمان میں خازن, اور ساتویں آسمان میں عزازیل تھا اور لوح محفوظ میں اس کا نام ابلیس لکھا ہوا تھا اور یہ اپنـے انجام سے غافل اور خاتمہ سے بے خبر تھا, (تفسیر صاوی، ج۱،ص۵۱،پ۱، البقرۃ : ۳۴، تفسیر جمل ،ج۱ ص ۶۰ )
,
لیکن جب اللہ تعالیٰ نـے حضرت آدم علیہ السلام کو سجدہ کرنـے کا حکم دیا تو ابلیس نـے  انکار کردیا اور حضرت آدم علیہ السلام کی تحقیر اور اپنی بڑائی کا اظہار کر کے تکبر کیا اسی جرم کی سزا میں خداوند ِ عالم نـے اس کو مردود ِ بارگاہ کر کے دونوں جہان میں ملعون فرما دیا اور اس کی پیروی کرنـے والوں کو جہنم میں عذاب ِنار کا سزاوار بنادیا, چنانچہ قرآن مجید میں ارشاد ربانی ہوا کہ:- (سورہ اعراف:12۔18)
ترجمہ قرآن پاک:۔ فرمایا کس چیز نـے تجھـے روکا کہ تو نـے سجدہ نہ کیا جب میں نـے تجھـے حکم دیا تھا بولا میں اس سے بہتر ہوں تو نـے مجھـے آگ سے بنایا اور اسے مٹی سے بنایا, فرمایا تو یہاں سے اتر جا تجھـے نہیں پہنچتا کہ یہاں رہ کر غرور کرے نکل تو هــے ذلت والوں میں بولا مجھـے فرصت دے اس دن تک کہ لوگ اٹھائـے جائیں فرمایا تجھـے مہلت هــے بولا تو قسم اس کی کہ تو نـے مجھـے گمراہ کیا میں ضرور تیرے سیدھے راستہ پر ان کی تاک میں بیٹھوں گا پھر ضرور میں ان کے پاس آؤں گا ان کے آگے اور پیچھـے اور داہنے اوربائیں سے اور تو ان میں اکثر کو شکر گزار نہ پائے گا فرمایا یہاں سے نکل جا رد کیا گیا راندہ ہوا ضرور جو ان میں سے تیرے کہے پر چلا میں تم سب سے جہنم بھر دوں گا۔
درسِ ہدایت:۔ قرآن مجید کے اس عجیب واقعہ میں عبرتوں اور نصیحتوں کی بڑی بڑی درخشندہ اور تابندہ تجلیاں ہیں اسی لئے اس واقعہ کو خداوند قدوس نـے مختلف الفاظ میں اور متعدد طرز بیان کے ساتھ قرآن مجید کے سات مقامات میں بیان فرمایا هــے یعنی سورة بقرہ, سورة اعراف, سورة حجر, سورة بنی اسرائیل, سورة کہف, سورة طٰہٰ, سورة ص میں اس دل ہلا دینـے والـے واقعہ کا تذکرہ مذکور هــے جس سے مندرجہ ذیل حقائق کا درس ہدایت ملتا هــے۔
(۱)اس سے ایک بہت بڑا درس ہدایت تو یہ ملتا هــے کہ کبھی ہرگز ہرگز اپنی عبادتوں اور نیکیوں پر گھمنڈ اور غرور نہیں کرنا چاہیے اور کسی گنہگار کو اپنی مغفرت سے کبھی مایوس نہیں ہونا چاہیے کیونکہ انجام کیا ہو گا اور خاتمہ کیسا ہو گا عام بندوں کو اس کی کوئی خبر نہیں هــے اور نجات و فلاح کا دارومدار درحقیقت خاتمہ بالخیر پر ہی هــے بڑے سے بڑا عابد اگر اس کا خاتمہ بالخیر نہ ہوا تو وہ جہنمی ہو گا اور بڑے سے بڑا گنہگار اگر اس کا خاتمہ بالخیر ہو گیا تو وہ جنتی ہو گا دیکھ لو ابلیس کتنا بڑا عبادت گزار اور کس قدر مقرب بارگاہ تھا اور کیسے کیسے مراتب و درجات کے شرف سے سرفراز تھا, مگر انجام کیا ہوا ؟ کہ اس کی ساری عبادتیں غارت و اکارت ہو گئیں اور وہ دونوں جہان میں ملعون ہو کر عذاب ِ جہنم کا حق دار بن گیا, کیونکہ اس کو اپنی عبادتوں اور درجات کی بلندی پر غرور اور تکبر ہو گیا تھا مگر وہ اپنـے انجام اور خاتمہ سے بالکل بے خبر تھا۔
حدیث شریف میں هــے کہ ایک بندہ اہل جہنم کے اعمال کرتا رہتا هــے حالانکہ وہ جنتی ہوتا هــے اور ایک بندہ اہل جنت کے عمل کرتا رہتا هــے حالانکہ وہ جہنمی ہوتا هــے۔ اِنَّمَاالْاَعْمَالُ بِالْخَوَاتِیْم یعنی عمل کا اعتبار خاتموں پر هــے۔ (مشکوٰۃالمصابیح،کتاب الایمان،باب الایمان بالقدر، الفصل الاول، ص ۲۰ )
,
خداوندکریم ہر مسلمان کو خاتمہ بالخیر کی سعادت نصیب فرمائـے  اور برے انجام اور برے خاتمہ سے محفوظ رکھے, آمین
(۲)اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ عالم ہو یا جاہل متقی ہو یا گنہگار ہر آدمی کو زندگی بھر شیطان کے وسوسوں سے ہوشیار اور اس کے فریبوں سے بچتـے رہنا چاہیے, کیونکہ شیطان نـے قسم کھا کر اللہ کے حضور میں اعلان کردیا هــے کہ میں آگے پیچھـے اور دائیں بائیں سے وسوسہ ڈال کر تیرے بندوں کو صراط مستقیم سے بہکاتا رہونگا اور بہت سے بندوں کو اللہ کا شکر گزار ہونـے سے روک دوں گا
اللہ تعالی ہمیں شیطان کے شر سے محفوظ فرمائـے اور مرتـے وقت کلمہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کی توفیق عطاء فرمائــے , ثمہ یا رب العالمین



No comments:

Post a Comment