Sunday, October 27, 2019

تم اپنے رب سے گناہوں کی معافی مانگو

حضور اقدس ﷺ  کے مبارک زمانے میں زلزلـے کا جھٹکا محسوس ہوا تو آپ ﷺ نـے زمین پر اپنا مبارک ہاتھ رکھ کر فرمایا ”اے زمین , تو ساکن ہو جا“
پھر لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا:- تمہارا رب چاہتا هــے کہ تم اپنی خطاؤں کی معافی مانگو , اس کے بعد زلزلـے کے جھٹکـے رک گئے
سیدنا عمر بن الخطاب رضی الله تعالیٰ عنہ کے زمانہ خلافت میں زلزلہ کے جھٹکـے محسوس کیے گئـے تو حضرت عمر رضی الله تعالیٰ عنہ نـے لوگوں سے مخاطب ہو کر فرمایا ”اے لوگو , یہ زلزلہ ضرور کسی بڑے گناہ کی وجہ سے آیا هــے“
فقیہ امت جلیل القدر صحابی سیدنا عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے زمانـے میں ایک مرتبہ کوفہ میں زلزلہ آیا تو انہوں نـے یہ اعلان کیا
"أيها الناس! إن ربَّكم يستعتِبُكم فأعتِبُوه"؛ أي: فاقبَلُوا عتبَه، "وتوبوا إليه قبل ألا يُبالِيَ في أي وادٍ هلكتُم"
ترجمہ:- اے لوگو! یقینا تمہارا رب تم سے ناراض ہوچکا هــے اور اپنی رضا مندی چاہتا هــے تو تم اسے راضی کرو اور اسی کی طرف رجوع کرتـے ہوئـے توبہ کرو , وگرنہ اسے یہ پرواہ نہ ہوگی کہ تم کس وادی میں ہلاک ہوتـے ہو
حضرت عمران بن حصین رضی الله تعالیٰ عنہ سے روایت هــے کہ رسول ﷺ نـے فرمایا کہ ” اُمّت میں زمین دھنسائـے جانـے اور صورتیں مسخ ہونـے کا اور پتھر برسنـے کا عذاب بھی ہو گا“ ایک شخص نـے عرض کیا کہ کب ہو گا ؟ آپ ﷺ نـے فرمایا کہ ”جب گانـے والی عورتیں اور گانـے بجانـے کا سامان ظاہر ہو جائـے گا اورشرابیں پی جانـے لگیں گی“ (سنن ترمذی)


No comments:

Post a Comment