#زندگی_گزر_جاتی_ھے_اپنوں_کو_اپنا_بنانے_میں
ایک سنار کے انتقال کے بعد اس کا خاندان مصیبت میں پڑ گیا۔ کھانے کے بھی لالے پڑ گئے. ایک دن اس کی بیوی نے اپنے بیٹے کو نیلم کا ایک ھار دے کر کہا،
''بیٹا ، اسے اپنے چچا کی دکان پر لے جاؤ اور کہنا یہ بیچ کر کچھ پیسے دے دیں".
بیٹا وہ ھار لے کر چچا جی کے پاس گیا. چچا نے ھار کو اچھی طرح دیکھ اور پرکھ کر کہا،
"بیٹا، ماں سے کہنا کہ ابھی مارکیٹ میں بہت مندی ھے. تھوڑا رک کر فروخت کرنا ، اچھے دام ملیں گے. اسے تھوڑے سے روپے دے کر کہا کہ تم کل سے دکان پر آ کر بیٹھنا.
اگلے دن سے وہ لڑکا روز مرہ دکان پر جانے لگا اور وھاں ھیروں و جواہرات کی پرکھ کا کام سیکھنے لگا اور کچھ ھی عرصے میں وہ بڑا ماھر بن گیا.
لوگ دور دور سے اپنے ھیرے کی پرکھ کرانے آنے لگے. ایک دن اس کے چچا نے کہا،
"بیٹا اپنی ماں سے وہ ھار لے کر آنا اور کہنا کہ اب مارکیٹ میں بہت تیزی ھے ، اس کے اچھے دام مل جائیں گے.
ماں سے ھار لے کر اس نے پرکھا تو پایا کہ وہ تو جعلی ھے. وہ اسے گھر پر ھی چھوڑ کر دکان لوٹ آیا.
چچا نے پوچھا،
"ھار نہیں لائے؟
اس نے کہا،
"وہ تو جعلی تھا".
تب چچا نے کہا،
"جب تم پہلی بار ھار لے کر آئے تھے ، اسوقت اگر میں نے اسے جعلی بتا دیا ھوتا تو تم سوچتے کہ آج ھم پر برا وقت آیا تو چچا ھماری چیز کو بھی جعلی بتانے لگے. آج جب تمہیں خود علم ھو گیا تو تمہیں پتہ چل گیا کہ ھار نقلی ھے".
سچ یہ ھے کہ علم کے بغیر اس دنیا م
یں ھم جو بھی سوچتے ، دیکھتے اور جانتے ھیں ، سب غلط ھے اور ایسے ھی غلط فہمی کا شکار ھو کر رشتے بگڑتے ھیں.
ذرا سی رنجش پر نہ چھوڑ کسی بھی اپنے کا دامن.
زندگی گزر جاتی ھے اپنوں کو اپنا بنانے میں

No comments:
Post a Comment