انسان کے گناہوں کی مثال ایسی ہے کہ وہ صاف شفاف راستے پہ پاکیزگی کی راہ چلتے ہوئے اچانک سے گناہوں کی دلدل میں پھنس کر خود کو بچاتے بچاتے کوشش کرتے ہوئے اُس کیچڑ سے نکلتا ہے اپنے گناہوں کو اللہ کی بارگاہ میں آنسو بہا بہا کے دھوتا ہے اور پھر سے صاف شفاف پاکیزہ ہونے کے بعد پھر سیدھے راستے پہ چلتا ہے اور پھر دلدل میں گرتا ہے بس اسی جدوجہد اور تگ و دو میں کبھی نیکیوں کا پلڑا بھاری ہوتا ہے اور کبھی گناہوں کا ۔۔۔زندگی توبہ استغفار ، معافی تلافی کے سہارے چلتی رہتی ہے رُکتی نہیں مگر اللہ بڑا کارساز ہے وہ جوڑتا بھی ہے اور توڑتا بھی ہے اپنی محبت کا احساس دلانے کے لیے کہ لوٹ آؤ تمھارا میرے سوا کوئی ہمدرد نہیں ❤️
#Samar ✍️

No comments:
Post a Comment