Thursday, October 24, 2019

محبتوں میں انا دکھانا !

محبتوں میں انا دکھانا ،،،،، ہنسی اڑانا
،،  عجیب ہے ناں
 نشے کی حالت میں میکشی کا گلا دبانا عجیب ہے ناں

حسین چہرہ،،، گلابی آنکھیں،،، نشیلا کاجل،،،، سرکتا آنچل
 سبھی کا مل کر اداس شاعر سے دور جانا عجیب ہے ناں

وہ جس سے دوری ہو جان لیوا وہ جس کا ملنا ہو عید جیسا
 اسی بشر کا قریب رہ کر ،،، نہ دل کو بھانا عجیب ہے ناں

چھپا رکھا ہے جو خود خدا نے کبھی بھی ظاہر نہ ہو سکے گا
 مگر کسی کا ، خدا کا کوئی نشاں بنانا ،،،،، عجیب ہے ناں

قریب رہ کر بھی دور ہونا تو قسمتوں کے ہیں کھیل لیکن
 ہماری مانند کسی کو کھو کر ، کسی کو پانا عجیب ہے ناں

یہ تیری آنکھیں بتا رہی ہیں کہ پیار مجھ سے نہیں ہے تمکو
 تو بے دلی سے یہ تیرا آنا، وفا جتانا ،،، عجیب ہے ناں

میں مانتا ہوں کہ وقت کیساتھ سبز پتے ہیں زرد ہوتے
 مگر خزاں کا غرور کرنا    لہو رلانا ، عجیب ہے ناں

وہ جس کی خاطر نبھا رہے ہیں زمانے بھر کی اذیتوں سے
 اسی کا غیروں کیساتھ مل کر مزے اڑانا عجیب ہے ناں

ہماری بستی کے لوگ پاگل ہیں پیار کرتے ہیں آجکل بھی
 کہ افراتفری کے دور میں بھی قرار پانا،،، عجیب ہے ناں

پسند اس کو اگر نہیں میں تو پھر پریشان کیوں ہے رہتا
 اشارہ کرنا ادھر کو آؤ ، پلٹ بھی جانا ، عجیب ہے ناں

اسد بجا ہے کہ ضبط بھی ہے عطا خدا کی مگر کسی کا
 ہزاروں غم کو گلے لگا کے بھی مسکرانا عجیب ہے ناں
۔

No comments:

Post a Comment