دو مسافر ہتھیار سے لیس گھوڑوں پر سوار کہیں سے گذر رہے تھے،ایک شمال کو جا رہا تھا تو دوسرا جنوب کو دونوں کے سامنے ایک بڑا سا درخت آگیا ، ایک نے کہا واہ اتنا چوڑا لال تنا، دوسرا بولا کہ چوڑا تو واقعی ہے پر لال نہیں بھورا ہے۔۔۔۔۔اپنے اپنے دانشورانہ مؤقف کی تائید میں دونوں مباحثہ کرتے جھگڑے پر اتر آئے ۔
ایک عمر رسیدہ خاتون یہ سب خاموشی سے دیکھ رہی تھیں ۔۔۔جھگڑا اس حد تک بڑھا کہ دونوں نے ایک دوسرے کو اپنے نیزے مار کر ختم کر دیا۔۔۔۔بوڑھی خاتون یہ دیکھ کر دل مسوس کر رہ گئیں کہ کاش یہ دونوں اپنی اپنی جگہ بدل کر دوسرے کے زاویے سے دیکھ لیتے تو جان لیتے دونوں ہی اپنی جگہ درست ہیں؛ تو یہ نوبت ہی نہ آتی۔
کہانی ختم شد۔
مگر اصل زندگی میں ایسی کہانی کیونکر ختم ہو سکتی ہے بھلا؟
اس کہانی کے مرکزی کردار گو کہ دو بے حکمت بے صبرے مسافر جتائے جا رہے ہیں ،مگر اصل منفی کردار محترمہ بوڑھی خاتون کا ہے جو ملائم گرم سمجھوتے کی چادر سے اپنے ہاتھ پاؤں اور مونہہ باندھے دو لوگوں کو جھگڑتے دیکھتی رہیں کہ پرائے پھڈے میں کون پڑے۔
گو کہ انجام دونوں مسافروں کا بہت برا دکھ رہا ہے لیکن محترمہ بوڑھی خاتون کہیں شدید خسارے میں پڑ گئ ہیں کہ اپنی مصلحت کوشی میں عاقبت اندیشی کو ہی کھودیا۔
اب یہاں ان کے ساتھ دو باتیں ہو سکتی ہیں ، پہلی یہ کہ ساری زندگی محترمہ بوڑھی خاتون بس ہل ہل کر قرآن پڑھ پڑھ کر خود کو اللہ والی سمجھتی رہی ہوں یا سرے سے قرآن پڑھا ہی نہ ہو کہ یہ والی ڈیوٹی تو ان کے مرنے کے بعد انکے عزیزوں کو نبھانی ہوگی ۔یا پھر غالب گمان یہی ہے کہ محترمہ بوڑھی خاتون مسلمان ہی نہ تھیں ورنہ اپنے نام پر تو کوئ بھی جاندار چونک کر متوجہ ہوتا ہے،خاص کر جب اسکا مالک پکارے۔
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُونُوا قَوَّامِينَ بِالْقِسْطِ شُهَدَاءَ لِلَّـهِ وَلَوْ عَلَىٰ أَنفُسِكُمْ أَوِ الْوَالِدَيْنِ وَالْأَقْرَبِينَ ۚ إِن يَكُنْ غَنِيًّا أَوْ فَقِيرًا فَاللَّـهُ أَوْلَىٰ بِهِمَا ۖ فَلَا تَتَّبِعُوا الْهَوَىٰ أَن تَعْدِلُوا ۚ وَإِن تَلْوُوا أَوْ تُعْرِضُوا فَإِنَّ اللَّـهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرًا ﴿١٣٥﴾اے لوگو جو ایمان لائے ہو، انصاف کے علمبردار اور "خدا واسطے" کے گواہ بنو اگرچہ تمہارے انصاف اور تمہاری گواہی کی زد خود "تمہاری اپنی ذات پر" یا "تمہارے والدین" اور "رشتہ داروں" پر ہی کیوں نہ پڑتی ہو "فریق معاملہ خواہ مالدار ہو یا غریب"، "اللہ تم سے زیادہ اُن کا خیر خواہ ہے" لہٰذا "اپنی خواہش نفس کی پیروی میں عدل سے باز نہ رہو" اور اگر تم نے "لگی لپٹی بات" کہی یا "سچائی سے پہلو بچایا" تو جان رکھو کہ جو کچھ تم کرتے ہو اللہ کو اس کی خبر ہے (135) النساء
آج محترمہ بوڑھی خاتون کے جیسے کتنے ہی مصلحت کوشوں کے سبب فلاح اور خیر کے کام صرف اس لیے رک جاتے ہیں کہ، وہ کونوا قوامین بالقسط پر عمل کی خود پر فرضیت و اہمیت ہی نہیں جانتے،تنازعہ نہ تو سلجھاتے ہیں نہ معاملہ ٹھنڈا کرواتے ہیں،نہ ہی انصاف سے کام لیتے ہیں جھگڑے بڑھتے اور صحتیں گرتی جاتی ہیں، معاملات ہمارے ہاں صرف کورٹ کچہری ہی میں طوالت کا شکار نہیں ہو تے بلکہ ، بال جس کے کورٹ میں آجائے وہی کورٹ مارشل کا سچا پکا حقدار بیٹھتا ہے۔

No comments:
Post a Comment