"اُن کے لیے جو مُشکلات میں گِھرے ہیں اور جن کی دُعا قبول نہیں ہوتی"
کچھ روز سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل نہیں ہورہی تھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم شدید بے چینی محسوس کر رہے تھے.
ادھر کفار کے ہاتھ ایک موقع آگیا تھا تمسخر کیلیئےابو لہب کی بیوی کہنے لگی:
"اے محمد! لگتا ہے تیرے شیطان (معاذ اللہ) نے تجھے چھوڑ دیا ہے؟اب وہ تجھ پر کیوں اپنی وحی نازل نہیں کرتا؟"
حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ الفاظ بجلی بن کر گرتےآپ شدید کبیدہ دل ہوچکے تھےلیکن وحی تھی کہ نازل ہی نہیں ہورہی تھی۔
آپ شدید دعائیں مانگ رہے تھے، آپ کا خیال تھا کہ شاید اللہ آپ سے ناراض ہوگیا ہے. آپ شدید معافیاں مانگ رہے تھے, اللہ سے وحی کی طلب فرمارہے تھے
لیکن آپ کا انتظار طویل ہوتا جارہا تھا، آپ بیمار ہوگئے تھے.
بیماری کے سبب رات کا قیام بھی مشکل ہوچلا تھا. ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے دنیا میں کچھ باقی نہ بچا ہو۔
سب کچھ بے مقصد و بے معنیٰ ہوچکا ہو۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کفار کے طعنوں سے کیا کم غمگین تھےکہ اللہ عزوجل کی طرف سے بھی کوئی جواب نہ آتا تھا۔
امیدیں دم توڑتی نظر آرہی تھیں
ایسے میں حضرت جبرائیل علیہ السلام اترتے ہیں, اللہ عزوجل کا پیغام لے کر:
"قسم ہے دھوپ چڑھتے وقت کی۔ قسم ہے رات کی جب وہ چھا جائے۔ نہ ہی آپ کے رب نے آپ کو چھوڑا اور نہ ہی دشمنی اختیار کی۔ اور آپ کا آنے والا دور آپ کے گزرے ہوئے دور سے بہتر ہوگا۔ اور عنقریب آپ کا رب آپ کو اتنا کچھ عطا فرمائے گا کہ آپ خوش ہوجائینگے۔"
(سورہ ضحی آیۃ 1 تا 5)
ان آیات میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو نہایت پیار سے اور قسم کی تاکید کے ساتھ تسلی دی گئی کہ آپ کبیدہ دل نہ ہوں آپ کے رب نے آپ کو ہرگز فراموش نہیں کیا۔
اگرچہ یہ آیات نازل تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دور کی اس مخصوص حالت پر ہوئیں لیکن یہ آیات ہر انسان اپنے بارے میں سوچ سکتا ہے, ہر انسان کے اوپر ایسا وقت آتا ہے جب وہ سوچنے لگتا ہے کہ اسے اس کے اللہ نے چھوڑ دیا ہے، وہ اسکی دعائیں نہیں سن رہا, جب انسان کال ملا رہا ہوتا ہےلیکن دوسری طرف سے کوئی رسپانس نہیں آرہا ہوتاتب انسان شدید کبیدگی محسوس کرتا ہے,
بے چینی انتہا پر پہنچ جاتی ہے۔ لیکن انسان کو سمجھ لینا چاہیئےکہ اس کا رب اس سے غافل نہیں ہےبلکہ وہ اس کی ساری دعائیں، گریہ و زاری سن رہا ہے,اس کی بے چینی دیکھ رہا ہے۔اور عنقریب اس کو اتنا کچھ عطا فرمائیگا کہ وہ خوش ہوجائیگا۔..!

No comments:
Post a Comment