یا لوٹ رہے ہوں۔ جنھیں تیری طرف سے توفیق
و اذن نصیب ھو گیا ھو واپسی کا ۔
جنھیں تو نے نفس کی غلامی و شیطان جن و انس
کی چالوں سےخبردار کر دیا ہو ۔
اور انھیں ھدائت نصیب ھو گئی ہو ۔
پس اے اللہ پاک تو ہم سے راضی رہنا ۔ہمیشہ ہمیشہ
کیلیے ۔اگر کوئی ہم سے بھولے میں خطا سرزد ھوجاۓ
تو ہمیں رجوع کی توفیق نصیب فرما ۔
اور ہم پر پکڑ نہ کر ۔نہ ہمیں ظالموں می سےکر۔
نہ خسارہ پانیوالوں میں سے۔نہ مظلوموں میں سےرکھ۔
۔
جو لوٹ آئیں تو کچھ کہنا نہیں
بس دیکھنا انھیں غور سے
کہ جنھیں منزلوں پر خبر ہوئی
کہ یہ راستہ کوئی اور ہے ۔
پس
ہمیں انمیں سے بھی نہ رکھ جو رجوع کر چکے جوانھیں
عار دلانےوالے ہوں۔شیطان کے ساتھی بن کر ۔نہ انمیں رکھ
جو کسی وجہ سے شیطان کے اشکنجےمیں قید یا نفس
کی برائیوں سےمحفوظ نہ ہوں۔انھیں نفرت کرکے
اعلانیہ تمسخر اڑا کر انکا انھیں مزید اس دلدل میں دھکیل دیں۔ اے اللہ ہمیں نبیﷺ کی سیرت کا عملی نمونہ بننے کی
توفیق نصیب کر ۔
اور جو آپ ﷺ نے نعمان بن انصاری ؓ کےحوالے سے
صحابہ کرام ؓ کو تنبیہ کی ناراضگی کا اظھار کیا ۔
کہ جب طنز و لعن کیا گیا انپر کہ شراب کےحرام ہونیکے
باوجود پینے پر۔
تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ کیااسکا شیطان دشمن کم ہے
جوتم اسے لعن کرکےمزید دور کر رہے۔پھر نعمان ؓ کو پیار کیا ۔
ہاں جو شرابی ہو اورظالم بھی ھو ۔اللہ کی مخلوق کو تکلیف دینیوالا ۔مکار چالباز ۔دھوکہ باز۔ حق تلفی کرنیوالا۔
پریشان کرنیوالا ۔انکا معاملہ ذاتی سےنکل کر حقوق العباد میں آ جاتا ۔انکے ساتھ نرمی سے بچنا چاہیے۔
جب تک کہ وہ ظلم سےباز نہ آ جائیں۔
جبتک کہ وہ حق ادا نہ کر دیں۔ احسن انداز میں۔
اللہ ہمیں کامل اتباع احکام النبیﷺ نصیب فرماۓ ۔
اور کسی قسم کی گمراہی پھیلانے اور اسکا حصہ بننے سے بچاۓ ۔ہم جہاں غلط ھوں رجوع کی توفیق نصیب کرے۔
پس صدا بلندکرو اور سدا بلند رکھو کہ لوٹ آؤ
اپنے پروردگار کیطرف
کہ مہلت ابھی باقی ہے ۔
یہی خود کو بھی کرنیکی کوشش کرو۔
اپنے نفس کی غلامی و عجب سے نکل کر۔
کہ اے پگلے لوٹ چل ۔اس مہربان رب کیطرف۔
جو تیری خطاؤں کےباوجود تجھے بخشنا چاہتا۔جسے
تیری توبہ کا انتظار۔ جو رب القدیر کہتاکہ میری طرف چل کر آ ۔میں دوڑ کر تیری طرف آؤنگا ۔مجھ سےمانگ کر دیکھ تیری جھولیوں کو بھردونگا۔مجھے پکار کر دیکھ۔
تیری جھولیاں بھر دونگا اور اگر وہ سب تیرے حق میں نافع نہ ہوا۔ تو اسکے متبادل تجھے عطا کردونگا ۔
مگر محروم نہ رکھونگا کسی صورت ۔
بس تو لوٹ آ۔
تو چل اے نادان چلتے اس رحیم کریم رب کی طرف۔
جسے مجھ سے زیادہ میری آخرت کا خوف ہے کہ خراب نہ کر بیٹھوں کہ جہنم کا ایندھن نہ بن جاؤں۔
میرا وہ رب کہتا ۔لوٹ آ۔
کہ مہلت ابھی باقی ہے۔
تو چل چلتے اس مہربان رب کیطرف ۔
کہ یا اللہ دیکھ میں لوٹ آیا ۔سب کچھ چھوڑ کر
گمراہی کےراستے۔ نفس کی پوجا کےراستے۔
سستیوں کےراستے۔ تجھ سے ہمت و توفیق مانگنے
عبادت کی ۔ تیری طرف رجوع کرنیکی ۔
مجھے اپنا بنا لے۔اپنی راہ پر چلنا اسان کر۔
مخلص معاونین نصیب کر و ایسے رہبر ۔
جو تیری طرف رجوع کرانےوالے ہوں۔
جو دین اسلام کی راہ پر چلائیں جو نفرتوں کومٹانے والے ہوں مسالک کی ۔جو فرقہ فرقہ نہ کھیلیں۔
بلکہ دین محمدیﷺ کے داعی ہوں۔
جو تیرا ڈر رکھنےوالے ہوں عملا ۔جو نبیﷺ کوزندہ کہنے والے نہ ہوں بلکہ مان کر انکے چہرہ انور ﷺ کو حیا کرکے
لوگوں کو تکلیف دینے سے باز رہنیوالے ہوں۔جھوٹ سےبچنے والے ۔اپنے مفادات کیلیۓ لوگوں کو گمراہ نہ کرنیوالے ہوں۔ اور سچ کو چھپانے والے نہ ہوں۔
نہ غیبت کرنیوالے ۔دھوکہ دینے والے ۔الفاظوں کا ھیر پھیر کرنیوالے ہوں۔ بلکہ سیدھے سادھے سچے مسلمان ہوں۔
جنکے دل میں امت کادرد ہو ۔ بغض و عناد و کینہ
سے عاری ہوں بچنے والے ہوں۔ عجب سےمحفوظ ہوں۔
دروغ گوئی غلط بیانی سے خیانت سےمحفوظ ہوں۔
جو ظالموں سے نہ ہوں نہ ظالموں کی مدد کرنیوالےظلم پر۔ سواۓ ظالم کی راہ روکنے کے اور مظلوم و بےبس کی مدد کرنیکے ظاھراً باطناً عملا ً ۔بغیر کسی اغراض دنیوی
و طمع و لالچ کے ۔بم
اے
اللہ ہم سے راضی ہو جا ۔اور اسانیاں نصیب کر ہمیں۔
دین پر کامل اتباع کیساتھ چلنے میں۔

No comments:
Post a Comment