Tuesday, October 22, 2019

واقعہ کربلا آخری حصہ

واقعہ کربلا آخری حصہ




تاراج کارواں اہل بیت مدینہ آمد😭

نعمان ابن بشیر بہت رقیق القلب، پاکباز اور محب اہل بیت تھے دمشق کی آبادی سے جو نہی قافلہ باہر نکلا حضرت نعمان، امام زین العابدین کی خدمت میں حاضر ہوئے اور دست بستہ عرض کیا۔ یہ نیاز بند حکم کا غلام ہے جہاں جی چاہے تشریف لے جائیے۔ میری تکلیف کا خیال نہ کیجئے۔ جہاں حکم دیجئے گا پڑاؤ کروں گا۔ جب فرمائیے گا کوچ کروں گا۔

کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ حضرت زین العابدین وہیں سے کربلا واپس ہوئے اور شہدائے اہل بیت کو دفن کیا اور کچھ لوگ کہتے ہیں کہ کربلا کے آس پاس کی آبادیوں کو جب خبرہوئی تو وہ ماتم کناں آئے اور شہیدوں کی تجہیز و تکفین کا فرض انجام دیا آخر الذکر روایت زیاد ہ قابل اعتماد ہے۔

حضرت امام عرش مقام کا سرِ مبارک اب نیزے پر نہیں تھا۔ حضرت زینب شہر بانو اور عابد بیمار کی گود میں تھا۔ پہاڑوں، صحراؤں اور ریگستانوں کو عبور کرتا ہوا قافلہ مدینے کی طرف بڑھتا رہا۔ منزلیں بدلتی رہیں اور سینے کے جذبات مچلتے رہے۔ یہاں تک کہ کئی دنوں کے بعد اب حجاز کی سرحد شروع ہوگئی۔ اچانک سویا ہوا درد جاگ اٹھا رحمت و نور کی شہزادیاں اپنے چمن کا موسم بہار یاد کرکے مچل گئیں۔ کربلا جاتے ہوئے انہی راہوں سے کبھی گزرے تھے۔ کشور امامت کی یہ رانیاں اس وقت اپنے تاجداروں اور نازبرداروں کے ظلِ عاطفت میں تھیں۔ زندگی شام و سحر اپنے تاجداروں اور نازبرداروں کے ظل عاطفت میں تھی۔ زندگی شام و سحر کی مسکراہٹوں سے معمور تھی۔ کلیوں سے لیکر غنچوں تک سارا چمن ہرا بھرا تھا۔ ذرا چہرہ اداس ہوا چارہ گروں کا ہجوم لگ گیا۔ پلکوں پہ ننھا سا قطرہ چمکا اور پیار کے ساگر میں طوفان امنڈنے لگا۔ سوتے میں ذراسا چونک گئے اور آنکھوں کی نیند اڑگئی۔ اب اسی راہ سے لوٹ رہے ہیں تو قدموں کے نیچے کانٹوں کی برچھیاں کھڑی ہیں۔ تڑپ تڑپ کر قیامت بھی سرپہ اٹھالیں تو کوئی تسکین دینے والا نہیں۔ خیمہ اجڑا جڑا ہے۔ قافلہ ویران ہوچکا ہے۔ شہزادوں اور رانیوں کی جگہ اب آشفتہ حال یتیموں اور بیواؤں کی ایک جماعت ہے جس کے سرپہ اب صرف آسمان کا سایہ رہ گیا ہے۔ لبوں کی جنبش اور ابرو کے اشاروں سے اسیروں کی زنجیر توڑنے والے آج خود اسیرِ کرب و بلا ہیں۔

مدینے کی مسافت گھٹتے گھٹتے اب چند منزل رہ گئی ہے۔ ابھی سے پہاڑوں کا جگر کانپ رہا ہے۔ زمین کی چھاتی دہل رہی ہے۔ قیامت کو پسینہ آرہا ہے کہ کربلا کے فریادی مالک کونین کے پاس جارہے ہیں۔ قافلے میں حسین نہیں ہے اس کا کٹا ہوا سر چل رہا ہے۔ استغاثے کے ثبوت کے لئے کہیں سے گواہ لانا نہیں ہے۔ بغیر دھڑکا حسین جب اپنے نانا جان کی تربت پر حاضر کیا جائے گا تو خاکدانِ گیتی کا انجام دیکھنے کے لئے کس کے ہوش سلامت رہ جائیں گے۔ 😭😭😭😭

نانا ﷺ جی ہمارے حسینؓ آئے ہیں مدینہ😭😭😭

حضرت عقیل کے گھر کے بچے یہ پڑھ رہے تھے۔ ''قیامت کے دن وہ امت کیا جواب دے گی۔ جب اس کا رسول پوچھے گا کہ تم نے ہماری اولاد کے ساتھ یہی سلوک کیا کہ ان میں سے بعض خاک و خون میںلپٹے ہوئے ہیں تلواروں، تیروں اور نیزوں سے ان کے جسم گھائل ہیں۔ان کی لاشیں بے آب و گیاہ وادی میںپڑی ہوئی ہیں اور ان میں سے بعض قیدی ہیں، رسیوں کے بندھن سے ہاتھ نیلے پڑگئے ہیں۔

اپنے امام کا کٹا ہوا سر لئے اہل بیت کا یہ تاراج کارواں جس دم روضہ رسول پر حاضر ہوا، ہوائیں رک گئیں، گردش وقت ٹھہر گئی۔ بہتے ہوئے دھارے تھم گئے، آسمانوں میں ہلچل مچ گئی۔ پوری کائنات دم بخود تھی کہ کہیں آج ہی قیامت نہ آجائے۔

اس وقت کا دل گداز اور روح فرسا منظر ضبط تحریر سے باہر ہے۔ قلم کو یارا نہیں کہ دردوالم کی وہ تصویر کھینچ سکے جس کی یاد اہل مدینہ کو صدیوں تڑپاتی رہی۔ اہل حرم کے سوا کسی کو نہیں معلوم کہ حجرہ عائشہ میں کیا ہوا۔ کربلا کے فریادی اپنے نانا جان کی تربت سے کس طرح واپس لوٹے۔ پروردہ ناز کا سر مرقد انور کے باہر تھا۔ رحمت کی جلوہ گاہ خاص میں جب جنت کے پھول ہی ٹھہرے تو نرگس کی چشم محرم سے اہل چمن کا کیا پردہ تھا۔ برزخ کی دیوار تو غیروں پہ حائل ہوتی ہے۔ اپنی ہی گود کے پروردوں سے کیا حجاب! حضرت زینب ، حضرت شہربانو، حضرت ام رباب ۔ عابد بیمار اور ام کلثوم و سکینہ یہ سب کے سب محرم اسرار ہی تھے۔ اندرون خانہ کیا واقعہ پیش آیا کون جانے؟

اشکبار آنکھوں پہ رحمت کی آستین کس طرح رکھی گئی، کربلا کے پس منظر میں مشیت الٰہی کا سربستہ راز کن لفظوں میں سمجھایا گیا؟ پسِ یوار کھڑے رہنے والوں کو عالم غیب کی ان سرگذشتوں کا حال کیا معلوم؟

مرقدِ رسول سے سیدہ کی خواب گاہ بھی دوہی قدم کے فاصلے پر تھی۔ کون جانتا ہے۔ لاڈلے کو سینے سے لگانے اور اپنے یتیموں کے آنسو آنچل میں جذب کرنے کے لئے مامتا کے اضطراب میں وہ بھی کسی مخفی گزرگاہ سے اپنے بابا جان کی حریم پاک تک آگئی ہوں۔

تاریخ صرف اتنا بتاتی ہے کہ حضرت زینب نے بلک بلک کر کربلا کی داستان زلزلہ خیز سنائی۔ شہربانو نے کہا۔ خاندانِ رسالت کی بیوہ اپنا سہاگ لٹا کر درِ دولت پر حاضر ہے۔ عابد بیمار نے عرض کیا۔

''یتیمی کا داغ لئے حسین کی آخری نشانی ایک بیمار نیم جاں شفقت و کرم اور صبر و ضبط کی بھیک مانگتا ہے''۔

آہ و فغاں کا ابلتا ہوا ساگر تھم جانے کے بعد شہزادہ کونین حضرت امام عالی مقام کا سرِ مبارک مدرِ مشفقہ حضرت سیدہ کے پہلو میں سپردِ خاک کردیا گیا۔

دریا کا بچھڑاہ ہوا قطرہ پھر دریا میں جا ملا پھر اٹھتی ہوئی موجوں نے اسے آغوش میں لے لیا۔😭😭😭
اللہ پاک میری اس کاوش کو قبول فرمائے اور شہیدانِ کربلا کے صدقے میرا غم حسین میں رونا قبول فرما کر میری دل کو سکون عطا ہو سلامتی ہو اپ سب پر خوش رہیں آمین

No comments:

Post a Comment