بتاؤ نا. وہ تمھیں چھوڑ گئ یا تم نے اسے چھوڑ دیا
جی وہ مجھے چھوڑ گئ،
لیکن یہ بتایئں باباجی کہ اس نے مجھے کیوں چھوڑا؟’ میں نے سر اٹھا کر باباجی کی طرف دیکھا.
میں نے اس کی ہر خوشی کے لئے اپنی خوشی قربان کی. میں نے اس کی ایک مسکراہٹ کے لئے اپنی ہزار مسکراہٹوں کا خون کیا. پھر اس نے مجھے کیوں چھوڑا؟ محبّت بھی میری بڑی اور غم بھی میرا بڑا؟ ایسا کیوں ہوا؟’ مجھے اپنے گلے سے، آنسوؤں کا نمک نیچے اترتا محسوس ھوا
باباجی خاموش رہے. اپنے کرتے کی جیب میں ہاتھ ڈالا، مٹھی بھر کے جوار کے دانے نکالےاور ہاتھ سامنے کی طرف بڑھا دیا. باباجی کا ایسا کرنا تھا کبوتر جوق در جوق، مزار کے گنبد سے پر پھڑپھڑاتے اترنے لگے. دیکھتے ہی دیکھتے ہمارے سامنے میلہ لگ گیا. مزار کا مٹیالا فرش، سرمئی سفید رنگ کے پروں سے ڈھک سا گیا. ایک کے بعد ایک کبوتر، اچکتا ہوا آگے بڑھتا اور بابا جی کے ہاتھ سے دانا چگتا. میں حیرانگی سے باباجی اور کبوتروں کے لگاؤ کو دیکھتا رہا
میں یہیں رہتا ہوں نا. یہ کبوتر میرے دوست بن گئے ہیں. مجھ سے نہیں ڈرتے.’ باباجی نے میری حیرانگی کو محسوس کرتے کہا
تھوڑی ہی دیر میں دانے ختم ہوگئے اور کبوتر اڑ کے واپس مزار کے گنبد پر جا بیٹھے
دیکھو بیٹے، مرد اور عورت دونوں ہی محبّت کرتے ہیں لیکن ایک دوسرے سے نہیں.’ باباجی نے واپس میری طرف توجوہ کا رخ مبذول کرتے ہوئے کہا
ایک دوسرے سے نہیں، تو پھر کس سے؟’ میں نے کچھ نا سمجھتے ہوئے پوچھا’
مرد اور عورت دونوں، اپنی ضرورت سے محبّت کرتے ہیں. کچھ ضرورتیں دونوں کی مشترک ہیں، جیسے جسم کی ضرورتیں. لیکن انا کی ضرورتوں میں اختلاف ہے. بلکہ یوں کہنا چاہیے کے، دونوں کی اناؤں میں، ازل سے ابد تک ایک جنگ چھڑی رہتی ہے.’ باباجی نے ہاتھ جھاڑتے ہوئے کہا
انا کی ضرورتیں کیا ہیں باباجی اور جنگ کیسی؟’ میں بدستور الجھا ھوا تھا’
مرد کی پسلی سے عورت کو خدا نے کیا پیدا کیا، مرد خود کو خدا سمجھ بیٹھتا ہے. مذہب سے ڈر کر وہ، خود کو خدا تو نہیں کہلاتا، مگر مجازی خدا ضرور کہلانا پسند کرتا ہے.’ باباجی کے چہرے پر پھر ایک مسکراہٹ نے ڈیرے ڈال دیے
لیکن مرد کی بات تو کچھ کچھ ٹھیک معلوم پڑتی ہے. ظاہراً تو مرد کو، خدا نے افضل پیدا کیا ہے. عورت کو یہ بات معلوم بھی ہے، تو پھر اس کی انا جنگ پر کیوں آمادہ ہے؟’ میں نے سر کھجاتے عرض کیا، تو باباجی ہنس پڑے. میں کچھ شرمندہ سا ہوگیا
دیکھو بیٹے، تم ایک بات بھول رہے ہو. مرد کو الله نے اپنی بہت سی خوبیوں میں سے حصّہ دیا ہے. رازق بنایا ہے، متکبّر بنایا ہے، قابض بنایا ہے، عادل بنایا ہے. لیکن عورت کو وہ صفت دی ہے، جو مرد کو نہیں دی
وہ کونسی صفت ہے باباجی؟’ میں نے حیران ہو کے پوچھا’
عورت کو الله نے خالق بنایا ہے بیٹے. پیدا کرنے کی طاقت دی ہے. اور یہ طاقت عورت کی انا کو دوام بخشتی ہے. قوت دیتی ہے. مرد کے مقابلے پر لا کھڑا کر دیتی ہے.’ باباجی نے میرے کندھے کو دباتے ہوئے کہا
ہاں یہ تو ٹھیک فرمایا آپ نے، لیکن میرا سوال تو وہیں کا وہیں کھڑا ہے نا. میں نے تو یہ پوچھا تھا کے وہ مجھے کیوں چھوڑ گئ؟’ میں نے بےصبری سے پوچھا
باباجی مسکراے، ‘بتاتا ہوں بیٹے، بتاتا ہوں. تمہارا سوال عورت کی ایک اہم ضرورت سے متصل ہے اور وہ ضرورت ہےنام کی، پناہ گاہ کی، ٹھکانے کی، جہاں وہ زمانے بھر کے طوفانوں سے بچنے کے لئے چھپ سکے. اس کواپنی اس ضرورت سے بہت محبّت ہے. اور ہونی بھی چاہیے.’ باباجی تھوڑا سانس لینے کو رکے، ‘اب تم مجھے یہ بتاؤ کے کیا تمہاری محبّت میں وہ پناہ تھی؟
میں کچھ دیر کے لئے خاموش ہوگیا. مجھے بہت سے مواقع یاد آے، جب وہ مجھ سے شادی کے لئے اصرار کرتی تھی مگر میں کسی نا کسی مصلحت کے بہانے، اس کی بات ٹال دیتا تھا
میں اس سے شادی کرنا چاہتا تھا، لیکن مجھے تھوڑا اور وقت چاہیے تھا.’ میں نے اداس لہجے میں جواب دیا
وقت؟ وقت ہی تو عورت کا سب سے بڑا دشمن ہے. وقت ایک پاگل کتے کی طرح عورت کے پیچھے پیچھے بھاگتا ہے. اور اس کتے کے ڈر سے، عورت کو پناہ گاہ کی تلاش ہوتی ہے. تم نے اس کتے کو اس غریب کے پیچھے بھاگتے نہیں دیکھا؟’ باباجی نے شفقت سے پوچھا
مجھے یاد آیا کے کئی دفعہ اس نے مجھے کہا کے وہ میرے بچے کی ماں بننا چاہتی ہے. اس کو اپنی تیزی سے بڑھتی عمر سے، بہت ڈر لگتا تھا. باباجی کی باتوں سے میں بہت کچھ سمجھ چکا تھا. میں جان چکا تھا کے اس نے ،مجھے کیوں چھوڑا. وہ اپنی ضرورت اور ڈر کے ہاتھوں بہت مجبور تھی. مگر یہ سب کچھ سمجھنے کے باوجود میری انا کو سکون نہیں تھا. شاید مجھے اپنے آپ پر غصّہ تھا جو اس سے اتنا قریب ہونے پر بھی، اس کی ضرورت اور ڈر کو نہیں پہچان سکا
میں اپنے دکھ کو کہاں لے جاؤں باباجی؟’ میری آنکھوں سے ٹپ ٹپ آنسو گرنا شروع ہو چکے تھے. غم کے آنسو یا شاید پچھتاوے کے آنسو. دونوں کا نمک ایک جتنا ہی کڑوا ہوتا ہے

This comment has been removed by a blog administrator.
ReplyDeleteشکریہ 🙂
ReplyDelete