قرآن و حدیث کی روشنی میں پسند کی شادی کا کیا حکم هـــے ؟
فَانكِحُواْ مَا طَابَ لَكُم مِّنَ النِّسَاءِ - (النِّسَآء ، 4 : 3)
تو ان عورتوں سے نکاح کرو جو تمہارے لئے پسندیدہ اور حلال ہوں
قرآن نــے پسند کی شادی کا حکم دے کر مرد و زن پر احسان عظیم کیا۔ مگر ہمارے معاشرے میں پسند یا ناپسند لڑکے لڑکی کی نہیں، صرف ماں باپ کی دیکھی جاتی هـــے۔ بلاشبہ شادی والدین کے مشورے اور رضامندی سے کرنی چاہیئــے مگر والدین کو بھی قرآن کریم کے ان احکام کو پیش نظر رکھنا چاہیئــے۔ اور اپنی مرضی کو اولاد پر ٹھونسنا نہیں چاہیئــے ۔ ان کےمستقبل کا سوال هـــے
’’اذا خطب احدکم المراة فان استطاع ان ينظر الی ما يدعوه الی نکاحها فليفعل‘‘ - (ابوداؤد : 291)
’’تم میں سے جب کوئی کسی عورت کو پیغام نکاح دے، پھر اگر وہ خوبیاں دیکھ سکے جو اس کے نکاح کا سبب بن سکیں، تو دیکھے‘‘۔
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی هـــے میں نــے ایک عورت کو پیغام نکاح بھیجا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نــے مجھ سے فرمایا : هل نظرت اليها؟ تم نــے اس عورت کو دیکھا هـــے؟ قلت لا میں نے عرض کی نہیں
’’فانظر اليها فانه اخری ان يودم بينکما‘‘
(احمد، ترمذی، ابن ماجه، دارمی)
’’فرمایا اسے دیکھ لو اس سے تمہارے درمیان مزید الفت پیدا ہو گی‘‘
’’الايم احق بنفسها من وليها والبکر تستاذن فی نفسها‘‘
بالغ لڑکی آپنـــے ولی کے بہ نسبت اپنی ذات کے متعلق زیادہ حقدار هـــے , اور کنواری لڑکی سے بھی اس کی ذات سے متعلق اجازت لی جائــے
حنساء بنت خذام بالغ لڑکی تھی، اس کے باپ نــے اس کی رضامندی کے خلاف اس کا نکاح کر دیا۔
’’فاتت رسول الله صلی الله عليه وآله وسلم فرد نکاحها‘‘
(بخاری، 2 : 772)
’’وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی آپ نــے اس کا نکاح رد کر دیا‘‘۔
’’ان جارية بکرا اتت رسول الله صلی الله عليه وآله وسلم فذکرت ان اباها زوجها وهيی کارهة فخيرها النبی صلی الله عليه وآله وسلم‘‘
(ابوداؤد)
ایک بالغ لڑکی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خدمت اقدس میں حاضر ہوئی۔ اور کہا اس کے باپ نــے اس کی مرضی کے خلاف اس کی شادی کر دی هـــے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نـے اسے اختیار دے دیا (کہ نکاح رکھو یا توڑ دو)۔

Good job
ReplyDeleteشکریہ
ReplyDelete